بسم اللہ الرحمن الرحیم
ہمبستری سے متعلق راز افشا کرنے کی حرمت:
میاں اور بیوی دونوں کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ ہم بستری سے متعلق راز دوسرے لوگوں کو بتائیں، اس سلسلے میں دو حدیثیں وارد ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ:
قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے بدترین آدمی وہ ہوگا جو اپنی عورت کے مباشرت کرنا ہے اور وہ اس سے مباشرت کرتی ہے اور پھر وہ اس کے راز کو افشاں کر دیتا ہے۔
(۱) (مسلم)
اسماء بنت یزید فرماتی ہیں کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھیں اور مرد اور عورتیں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہوسکتا ہے کہ کوئی آدمی اپنی بیوی کے کئے گئے فعل کے بارے میں بتائے یا کوئی عورت اپنے شوہر کے ساتھ کئے ہوئے فعل کے بارے میں بتائے۔ لوگ کچھ نہ بولے اور چپ رہے۔
اسماء بنت یزید کہتی ہیں کہ میں نے کہا: یہ لوگ اس طرح کرتے ہیں اور یہ عورتیں بھی اس طرح کرتی ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا مت کرو۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ کوئی شیطان کسی شیطان عورت سے راستے میں ملے اور سب کے سامنے مباشرت شروع کر دے۔
(۲) (آداب الزفات فی السنۃ المطہرۃ، البانی ص ۱۴۳۔۱۴۴)
ان دونوں احادیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کرنے سے ڈرایا ہے کیونکہ یہ انتہائی چھپا ہوا فعل ہے جس کو بنانا ایک بہت بڑے فساد کا سبب بن سکتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ جس کے دل میں کج روی اور ٹیڑھ ہواور وہ دوسری بیوی یا شوہر کی طرف جانے کی کوشش کرے اس لئے اس طرح کی باتیں بتانا سراسر حرام ہے نیز جو شخص اس قسم کی باتیں افشاں کرتا ہے تو دوسری باتیں وہ اور زیادہ پھیلائے گا۔
نیز ایسی باتوں میں بعض اوقات انسان اعضاء کا وصف بھی بیان کر دیتا ہے یہ ایسے امور ہیں جن سے مومنین اور مؤمنات کوسوں دور رہتے ہیں۔
Sunday, October 2, 2016
فرض نماز کے بعد کے اذکار
🍁 بسم اللہ الرحمن الرحیم
🌹 *فرض نماز کے بعد کے اذکار*
سلام پھیرنےکے بعد بلند آواز سے کہے
" اللهُ أَكْبَرُ َ" (1 مرتبہ) (بخاري)
پھر آہستہ آواز میں مندرجہ ذیل اذکار کرے
" أَسْتَغْفِرُ اللهَ ". (3 مرتبہ)
" اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَام ِ". (1 مرتبہ) (مسلم)
" لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ ".
(1 مرتبہ) (بخاري - مسلم)
" لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَه النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُون َ".
(1 مرتبہ) (مسلم)
" سُبْحَانَ الله " (33 مرتبہ)
" الْحَمْدُ لله " (33 مرتبہ)
" اللهُ أَكْبَرُ " (33 مرتبہ)
" لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِير ٌ". (1 مرتبہ) (مسلم)
" اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ ".
(جو ہر نماز کے بعد 1 مرتبہ آیہ الکرسی پڑھے گا اسے جنت میں داخل ہونے سے موت کے علاوہ کوئی چیز نہیں روکے گی.)
(عمل الیوم و اللیلة للنسائی - صحیح الجامع)
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ " قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ ﴿۱﴾ اللهُ الصَّمَدُ ﴿۲﴾ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ﴿۳﴾ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدُ ﴿۴﴾ "
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم ِ " قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ﴿۱﴾ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ﴿۲﴾ وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ ﴿۳﴾ وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ ﴿۴﴾ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ ﴿۵﴾"
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم ِ " قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ﴿۱﴾ مَلِكِ النَّاسِ ﴿۲﴾ إِلَهِ النَّاسِ ﴿۳﴾ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ ﴿۴﴾ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ ﴿۵﴾ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ ﴿۶﴾ "
(سورة الاخلاص ، الفلق ، الناس نماز فجر اور مغرب کے بعد 3 مرتبہ ظہر، عصر اور عشاء کے بعد 1 مرتبہ)
(ابو داؤد - نسائی - صحيح الترمذي - فتح الباری)
" لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحَدْهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ".
(فجر اور مغرب کے بعد 10 مرتبہ) (ترمذى)
" اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْماً نَافِعاً، وَرِزْقاً طَيِّباً، وَعَمَلاً مُتَقَبَّلاً ".
(فجر 1 مرتبہ)
(ابن ماجه - صحيح ابن ماجه - مجمع الزوائد)
" بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ "
(جو شخص یہ دعا صبح و شام پڑھے گا اسے کوئی چیز تکلیف نہیں دے گی.)
(ابو داؤد - ترمذى - صحيح ابن ماجه)
بہتر ہے کہ فجر، مغرب کے بعد 3 مرتبہ یہ دعا پڑھ لی جائے.
🌹 *فرض نماز کے بعد کے اذکار*
سلام پھیرنےکے بعد بلند آواز سے کہے
" اللهُ أَكْبَرُ َ" (1 مرتبہ) (بخاري)
پھر آہستہ آواز میں مندرجہ ذیل اذکار کرے
" أَسْتَغْفِرُ اللهَ ". (3 مرتبہ)
" اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَام ِ". (1 مرتبہ) (مسلم)
" لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ ".
(1 مرتبہ) (بخاري - مسلم)
" لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَه النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُون َ".
(1 مرتبہ) (مسلم)
" سُبْحَانَ الله " (33 مرتبہ)
" الْحَمْدُ لله " (33 مرتبہ)
" اللهُ أَكْبَرُ " (33 مرتبہ)
" لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِير ٌ". (1 مرتبہ) (مسلم)
" اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ ".
(جو ہر نماز کے بعد 1 مرتبہ آیہ الکرسی پڑھے گا اسے جنت میں داخل ہونے سے موت کے علاوہ کوئی چیز نہیں روکے گی.)
(عمل الیوم و اللیلة للنسائی - صحیح الجامع)
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ " قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ ﴿۱﴾ اللهُ الصَّمَدُ ﴿۲﴾ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ﴿۳﴾ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدُ ﴿۴﴾ "
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم ِ " قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ﴿۱﴾ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ﴿۲﴾ وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ ﴿۳﴾ وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ ﴿۴﴾ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ ﴿۵﴾"
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم ِ " قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ﴿۱﴾ مَلِكِ النَّاسِ ﴿۲﴾ إِلَهِ النَّاسِ ﴿۳﴾ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ ﴿۴﴾ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ ﴿۵﴾ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ ﴿۶﴾ "
(سورة الاخلاص ، الفلق ، الناس نماز فجر اور مغرب کے بعد 3 مرتبہ ظہر، عصر اور عشاء کے بعد 1 مرتبہ)
(ابو داؤد - نسائی - صحيح الترمذي - فتح الباری)
" لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحَدْهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ".
(فجر اور مغرب کے بعد 10 مرتبہ) (ترمذى)
" اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْماً نَافِعاً، وَرِزْقاً طَيِّباً، وَعَمَلاً مُتَقَبَّلاً ".
(فجر 1 مرتبہ)
(ابن ماجه - صحيح ابن ماجه - مجمع الزوائد)
" بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ "
(جو شخص یہ دعا صبح و شام پڑھے گا اسے کوئی چیز تکلیف نہیں دے گی.)
(ابو داؤد - ترمذى - صحيح ابن ماجه)
بہتر ہے کہ فجر، مغرب کے بعد 3 مرتبہ یہ دعا پڑھ لی جائے.
کیا پورے محرم کا روزہ رکھنا مشروع ہے؟
کیا پورے محرم کا روزہ رکھنا مشروع ہے؟
===================
مقبول احمد سلفی
محرم کے مہینے میں پورے مہینے کا روزہ رکھنا جائز ہے اور بعض فقہاء نے ذکر بھی کیا ہے پورے محرم کا روزہ رکھنا چاہئے، مگر نبی ﷺ سے رمضان کے علاوہ کسی مہینے میں مکمل روزہ رکھنا ثابت نہیں ہے ۔رمضان کے علاوہ صرف شعبان میں اکثردن کا روزہ رکھتے تھے ۔
اس لئے تمام نصوص کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا جائے گاکہ حدیث :
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال قال رسول اللہ ﷺ افضل الصیام بعد رمضان شھر اللہ المحرم وافضل الصلوۃ بعد الفریضۃ صلٰوۃ اللیل (اخرجہ مسلم ص ۳۶۸ ج۱، ایضا ابو داؤد، الترمذی، النسائی)
ترجمہ : رمضان کے بعد سب سے افضل روزے ماہِ محرم کے روزے ہیں اور فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل رات کی نماز (تہجد) ہے۔
محرم کے زیادہ تر روزہ رکھنے پہ محمول کی جائے گی نہ کہ پورے محرم کے روزے پہ ۔
٭شیخ ابن بازرحمہ اللہ نے اس حدیث سے محرم کے ابتدائی دس روزے مراد لئے ہیں۔
٭ شیخ محمد صالح العثیمین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ کیا پورے محرم کا روزہ رکھنے والا بدعتی کہلائے ؟ توآپ نے کہا نہیں ، لیکن نبی ﷺ سے رمضان کے علاوہ کسی مہینے کا مکمل روزہ رکھنا ثابت نہیں ہے اور شعبان کا اکثر و بیشتر روزہ رکھتے تھے ۔ (کلام کا اختصار)
٭ شیخ محمد صالح المنجد فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ سے رمضان کے علاوہ کسی مہینے میں مکمل روزہ رکھنا ثابت نہیں ہے ، لہذا یہ حدیث محرم میں بکثرت روزہ رکھنے پہ محمول ہوگی نہ پورے مہینے پہ ۔
واللہ اعلم
===================
مقبول احمد سلفی
محرم کے مہینے میں پورے مہینے کا روزہ رکھنا جائز ہے اور بعض فقہاء نے ذکر بھی کیا ہے پورے محرم کا روزہ رکھنا چاہئے، مگر نبی ﷺ سے رمضان کے علاوہ کسی مہینے میں مکمل روزہ رکھنا ثابت نہیں ہے ۔رمضان کے علاوہ صرف شعبان میں اکثردن کا روزہ رکھتے تھے ۔
اس لئے تمام نصوص کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا جائے گاکہ حدیث :
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال قال رسول اللہ ﷺ افضل الصیام بعد رمضان شھر اللہ المحرم وافضل الصلوۃ بعد الفریضۃ صلٰوۃ اللیل (اخرجہ مسلم ص ۳۶۸ ج۱، ایضا ابو داؤد، الترمذی، النسائی)
ترجمہ : رمضان کے بعد سب سے افضل روزے ماہِ محرم کے روزے ہیں اور فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل رات کی نماز (تہجد) ہے۔
محرم کے زیادہ تر روزہ رکھنے پہ محمول کی جائے گی نہ کہ پورے محرم کے روزے پہ ۔
٭شیخ ابن بازرحمہ اللہ نے اس حدیث سے محرم کے ابتدائی دس روزے مراد لئے ہیں۔
٭ شیخ محمد صالح العثیمین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ کیا پورے محرم کا روزہ رکھنے والا بدعتی کہلائے ؟ توآپ نے کہا نہیں ، لیکن نبی ﷺ سے رمضان کے علاوہ کسی مہینے کا مکمل روزہ رکھنا ثابت نہیں ہے اور شعبان کا اکثر و بیشتر روزہ رکھتے تھے ۔ (کلام کا اختصار)
٭ شیخ محمد صالح المنجد فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ سے رمضان کے علاوہ کسی مہینے میں مکمل روزہ رکھنا ثابت نہیں ہے ، لہذا یہ حدیث محرم میں بکثرت روزہ رکھنے پہ محمول ہوگی نہ پورے مہینے پہ ۔
واللہ اعلم
Saturday, October 1, 2016
عاشوراء کا روزہ
عاشوراء کا روزہ
============
مقبول احمد سلفی
محرم حرمت و ادب والے چار مہینوں میں سے ایک ہے ۔ اس مہینے میں نبی اکرم ﷺ سے روزہ رکھنے کی ترغیب ملتی ہے ۔
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال قال رسول اللہ ﷺ افضل الصیام بعد رمضان شھر اللہ المحرم وافضل الصلوۃ بعد الفریضۃ صلٰوۃ اللیل (اخرجہ مسلم )
ترجمہ : رمضان کے بعد سب سے افضل روزے ماہِ محرم کے روزے ہیں اور فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل رات کی نماز (تہجد) ہے۔
مذکورہ بالا صحیح مسلم کی حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ محرم کا روزہ رکھنا زیادہ ثواب کا باعث ہے اور یہ ایک محرم سے دس محرم تک ہے ، اسی کو عاشوراء کہتے ہیں جو کہ حدیث سے ظاہر ہے ۔
لیکن نو اور دس محرم کے روزوں (بعض کے نزدیک گیارہ بھی) کو خصوصیت حاصل ہے کیونکہ اس کی بڑی فضیلت وارد ہے ۔
(1) حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یوم عاشوراء (محرم کی دس تاریخ) کے روزہ کے متعلق سوال کیے گئے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا:
"انی احتسب علی اللہ ان یکفر السنة التی قبلہ"۔ (مسلم) .
ترجمہ :مجھے امید ہے کہ عاشوراء کے دن کا روزہ گذشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا۔.
(2) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ما رأیتُ النبیَّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یَتَحَرّیٰ صیامَ یومٍ فضَّلَہ علی غیرِہ الّا ہذا الیومَ یومَ عاشوراءَ وہذا الشہرَ یعنی شہرَ رَمَضَان (بخاری و مسلم)
ترجمہ : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوکسی فضیلت والے دن کے روزہ کا اہتمام بہت زیادہ کرتے نہیں دیکھا، سوائے اس دن یعنی یومِ عاشوراء کے اور سوائے اس ماہ یعنی ماہِ رمضان المبارک کے۔
اس لئے نبی ﷺ نے خود بھی دسویں محرم کا روزہ رکھا اور دوسروں کو بھی اس کی تاکید کی ۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہيں کہ : جب نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم عاشوراء کا روزہ خود بھی رکھا اوردوسروں کو بھی اس کا حکم دیا تو صحابہ کرام انہیں کہنے لگے یھودی اورعیسائي تو اس دن کی تعظیم کرتے ہیں ۔
تورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے : آئندہ برس ہم ان شاء اللہ نو محرم کا روزہ رکھیں گے ، ابن عباس رضي اللہ تعالی کہتے ہیں کہ آئندہ برس آنے سے قبل ہی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوگۓ ۔(صحیح مسلم)
:::عاشوراء کے بعض مسائل :::
(1)نومحرم اوریوم عاشوراء یعنی دس محرم دونوں کا روزہ رکھنا مسنون ہے ، اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس محرم کا روزہ رکھا اورنو محرم کا روزہ رکھنے کی نیت کی ۔
(2)بعض اہل علم نے عاشوراء کے روزہ کے تین مراتب ذکر کئے ہیں :۔
٭ایک دن پہلے یا ایک دن بعد میں اس کے ساتھ روزہ رکھنا.
٭صرف عاشوراء (یعنی دس محرم) ہی کا روزہ رکھنا .
٭ایک دن اس سے پہلے اور ایک دن اس کے بعد روزہ رکھنا یعنی مسلسل تین دن .
(3)دسویں محرم کا اکیلا روزہ رکھنا جائز ہے گرچہ جمعہ یا ہفتے کا دن ہی کیوں نہ ہو ۔ یہی حکم عرفہ کے روزے کا بھی ہے ۔
(4) "صوموا یوم عاشوراءو خالفوا الیہود صوموا یوما قبلہ او یوما بعدہ" یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عاشوراء کے دن روزہ رکھو اور اس میں یہود کی مخالفت کے لیے ایک دن پہلے یا بعد کا روزہ اور ملا لو۔ یہ روایت البانی صاحب کے نزدیک ضعیف ہے ۔ اس کے باوجود اہل علم نے ضعف کی نرمی کی وجہ سے گیارہویں روزے کو ملانا جائز قرار دیا ہے ۔
(5) گرچہ محض دس محرم کا روزہ رکھنا بھی جائز ہے مگر سب سے افضل نو اور دس محرم کا روزہ رکھنا ہے تاکہ یہود کی مخالفت ہوجائے جیساکہ اوپرمذکور حضرت ابن عباس رضی اللہ کی حدیث سے واضح ہوتا ہے ۔
(6) محرم کے ایک روزہ کا ثواب تیس روزوں کے برابروالی حدیث جو طبرانی میں ہے قابل استدلال نہیں ہے ۔
(7) شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ طہارت ، نماز، رمضان کا روزہ ، صوم عرفہ اور صوم عاشوراء سے صرف گناہ صغیرہ معاف ہوتے ہیں ۔(الفتاوی الکبری جلد 5)
============
مقبول احمد سلفی
محرم حرمت و ادب والے چار مہینوں میں سے ایک ہے ۔ اس مہینے میں نبی اکرم ﷺ سے روزہ رکھنے کی ترغیب ملتی ہے ۔
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال قال رسول اللہ ﷺ افضل الصیام بعد رمضان شھر اللہ المحرم وافضل الصلوۃ بعد الفریضۃ صلٰوۃ اللیل (اخرجہ مسلم )
ترجمہ : رمضان کے بعد سب سے افضل روزے ماہِ محرم کے روزے ہیں اور فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل رات کی نماز (تہجد) ہے۔
مذکورہ بالا صحیح مسلم کی حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ محرم کا روزہ رکھنا زیادہ ثواب کا باعث ہے اور یہ ایک محرم سے دس محرم تک ہے ، اسی کو عاشوراء کہتے ہیں جو کہ حدیث سے ظاہر ہے ۔
لیکن نو اور دس محرم کے روزوں (بعض کے نزدیک گیارہ بھی) کو خصوصیت حاصل ہے کیونکہ اس کی بڑی فضیلت وارد ہے ۔
(1) حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یوم عاشوراء (محرم کی دس تاریخ) کے روزہ کے متعلق سوال کیے گئے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا:
"انی احتسب علی اللہ ان یکفر السنة التی قبلہ"۔ (مسلم) .
ترجمہ :مجھے امید ہے کہ عاشوراء کے دن کا روزہ گذشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا۔.
(2) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ما رأیتُ النبیَّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یَتَحَرّیٰ صیامَ یومٍ فضَّلَہ علی غیرِہ الّا ہذا الیومَ یومَ عاشوراءَ وہذا الشہرَ یعنی شہرَ رَمَضَان (بخاری و مسلم)
ترجمہ : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوکسی فضیلت والے دن کے روزہ کا اہتمام بہت زیادہ کرتے نہیں دیکھا، سوائے اس دن یعنی یومِ عاشوراء کے اور سوائے اس ماہ یعنی ماہِ رمضان المبارک کے۔
اس لئے نبی ﷺ نے خود بھی دسویں محرم کا روزہ رکھا اور دوسروں کو بھی اس کی تاکید کی ۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہيں کہ : جب نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم عاشوراء کا روزہ خود بھی رکھا اوردوسروں کو بھی اس کا حکم دیا تو صحابہ کرام انہیں کہنے لگے یھودی اورعیسائي تو اس دن کی تعظیم کرتے ہیں ۔
تورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے : آئندہ برس ہم ان شاء اللہ نو محرم کا روزہ رکھیں گے ، ابن عباس رضي اللہ تعالی کہتے ہیں کہ آئندہ برس آنے سے قبل ہی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوگۓ ۔(صحیح مسلم)
:::عاشوراء کے بعض مسائل :::
(1)نومحرم اوریوم عاشوراء یعنی دس محرم دونوں کا روزہ رکھنا مسنون ہے ، اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس محرم کا روزہ رکھا اورنو محرم کا روزہ رکھنے کی نیت کی ۔
(2)بعض اہل علم نے عاشوراء کے روزہ کے تین مراتب ذکر کئے ہیں :۔
٭ایک دن پہلے یا ایک دن بعد میں اس کے ساتھ روزہ رکھنا.
٭صرف عاشوراء (یعنی دس محرم) ہی کا روزہ رکھنا .
٭ایک دن اس سے پہلے اور ایک دن اس کے بعد روزہ رکھنا یعنی مسلسل تین دن .
(3)دسویں محرم کا اکیلا روزہ رکھنا جائز ہے گرچہ جمعہ یا ہفتے کا دن ہی کیوں نہ ہو ۔ یہی حکم عرفہ کے روزے کا بھی ہے ۔
(4) "صوموا یوم عاشوراءو خالفوا الیہود صوموا یوما قبلہ او یوما بعدہ" یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عاشوراء کے دن روزہ رکھو اور اس میں یہود کی مخالفت کے لیے ایک دن پہلے یا بعد کا روزہ اور ملا لو۔ یہ روایت البانی صاحب کے نزدیک ضعیف ہے ۔ اس کے باوجود اہل علم نے ضعف کی نرمی کی وجہ سے گیارہویں روزے کو ملانا جائز قرار دیا ہے ۔
(5) گرچہ محض دس محرم کا روزہ رکھنا بھی جائز ہے مگر سب سے افضل نو اور دس محرم کا روزہ رکھنا ہے تاکہ یہود کی مخالفت ہوجائے جیساکہ اوپرمذکور حضرت ابن عباس رضی اللہ کی حدیث سے واضح ہوتا ہے ۔
(6) محرم کے ایک روزہ کا ثواب تیس روزوں کے برابروالی حدیث جو طبرانی میں ہے قابل استدلال نہیں ہے ۔
(7) شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ طہارت ، نماز، رمضان کا روزہ ، صوم عرفہ اور صوم عاشوراء سے صرف گناہ صغیرہ معاف ہوتے ہیں ۔(الفتاوی الکبری جلد 5)
سمندر کی جھاگ کے برابر گناہ معاف
سمندر کی جھاگ کے برابر گناہ معاف !
======================
مقبول احمد سلفي
حدیث : حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن سمى، عن أبي صالح، عن أبي هريرة ـ رضى الله عنه ـ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من قال سبحان الله وبحمده. في يوم مائة مرة حطت خطاياه، وإن كانت مثل زبد البحر ".
ترجمہ : ہم سے عبد اللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے سمی نے بیان کیا، ان سے ابوصالح نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس نے سبحان اللہ وبحمد ہ دن میں سو مرتبہ کہا، اس کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں ، خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔
حوالہ : صحیح بخاری :حدیث نمبر : 6405
حدیث کے فوائد
1/ اس حدیث سے سبحان اللہ وبحمدہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے ۔
2/ اس کلمہ کا سوبار ذکر کرنا گناہوں کی مغفرت کا سبب ہے ۔
3/ تسبیح کا معنی : اللہ تعالی کا عیوب و نقائص اور مخلوق کی مشابہت سے پاک ہونا
4/ سبحان اللہ وبحمدہ کی فضیلت:
٭سوبار پڑھنے سے گناہوں کی مغفرت
٭یہ اللہ تعالی کے محبوب کلام میں سے ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے مسلم میں ابوذر سے نقل ہے کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبوب ترین کلام پوچھا تو آپ نے بتلایا کہ ان احب الکلام الیٰ اللہ سبحان اللہ وبحمدہ یعنی اللہ کے ہاں محبوب ترین کلام سبحان اللہ وبحمدہ ہے
٭یہ میزان میں کافی وزنی ہے ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دوکلمے جو زبان پر ہلکے ہیں ترازومیں بہت بھاری اور رحمان کو عزیز ہیں۔ سبحان اللہ العظیم سبحان اللہ وبحمدہ۔(صحیح بخاری حدیث نمبر : 6406)
5/ یہ حدیث عام ہے اس لئے یہ ذکر متفرق طور پر اور پےدر پے پڑھنا دونوں طرح صحیح ہے لیکن لگاتار پڑھاجائے تو افضل ہے ۔
6/ جمہور کے نزدیک گناہوں کی مغفرت سے مراد گناہ صغیرہ ہے جبکہ گناہ کبیرہ کے لئے توبہ شرط ہے۔
7/بعض علماء ذکرکرتے ہیں کہ اگر یہ تسبیح پڑھتے وقت
٭اخلاص اور صدق دل کے ساتھ
٭ سابقہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ
٭ اور دوبارہ گناہ نہ کرنے کے عزم کے ساتھ
جن گناہوں کے لیے بھی معافی کی نیت کی تو ان شاء اللہ تعالی وہ معاف ہو جائیں گے، چاہے صغیرہ ہوں یا کبیرۃ، تھوڑے ہوں یا زیادہ۔
واللہ اعلم بالصواب
======================
مقبول احمد سلفي
حدیث : حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن سمى، عن أبي صالح، عن أبي هريرة ـ رضى الله عنه ـ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من قال سبحان الله وبحمده. في يوم مائة مرة حطت خطاياه، وإن كانت مثل زبد البحر ".
ترجمہ : ہم سے عبد اللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے سمی نے بیان کیا، ان سے ابوصالح نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس نے سبحان اللہ وبحمد ہ دن میں سو مرتبہ کہا، اس کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں ، خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔
حوالہ : صحیح بخاری :حدیث نمبر : 6405
حدیث کے فوائد
1/ اس حدیث سے سبحان اللہ وبحمدہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے ۔
2/ اس کلمہ کا سوبار ذکر کرنا گناہوں کی مغفرت کا سبب ہے ۔
3/ تسبیح کا معنی : اللہ تعالی کا عیوب و نقائص اور مخلوق کی مشابہت سے پاک ہونا
4/ سبحان اللہ وبحمدہ کی فضیلت:
٭سوبار پڑھنے سے گناہوں کی مغفرت
٭یہ اللہ تعالی کے محبوب کلام میں سے ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے مسلم میں ابوذر سے نقل ہے کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبوب ترین کلام پوچھا تو آپ نے بتلایا کہ ان احب الکلام الیٰ اللہ سبحان اللہ وبحمدہ یعنی اللہ کے ہاں محبوب ترین کلام سبحان اللہ وبحمدہ ہے
٭یہ میزان میں کافی وزنی ہے ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دوکلمے جو زبان پر ہلکے ہیں ترازومیں بہت بھاری اور رحمان کو عزیز ہیں۔ سبحان اللہ العظیم سبحان اللہ وبحمدہ۔(صحیح بخاری حدیث نمبر : 6406)
5/ یہ حدیث عام ہے اس لئے یہ ذکر متفرق طور پر اور پےدر پے پڑھنا دونوں طرح صحیح ہے لیکن لگاتار پڑھاجائے تو افضل ہے ۔
6/ جمہور کے نزدیک گناہوں کی مغفرت سے مراد گناہ صغیرہ ہے جبکہ گناہ کبیرہ کے لئے توبہ شرط ہے۔
7/بعض علماء ذکرکرتے ہیں کہ اگر یہ تسبیح پڑھتے وقت
٭اخلاص اور صدق دل کے ساتھ
٭ سابقہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ
٭ اور دوبارہ گناہ نہ کرنے کے عزم کے ساتھ
جن گناہوں کے لیے بھی معافی کی نیت کی تو ان شاء اللہ تعالی وہ معاف ہو جائیں گے، چاہے صغیرہ ہوں یا کبیرۃ، تھوڑے ہوں یا زیادہ۔
واللہ اعلم بالصواب
سمندر کی جھاگ کے برابر گناہ معاف
سمندر کی جھاگ کے برابر گناہ معاف !
======================
مقبول احمد سلفي
حدیث : حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن سمى، عن أبي صالح، عن أبي هريرة ـ رضى الله عنه ـ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من قال سبحان الله وبحمده. في يوم مائة مرة حطت خطاياه، وإن كانت مثل زبد البحر ".
ترجمہ : ہم سے عبد اللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے سمی نے بیان کیا، ان سے ابوصالح نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس نے سبحان اللہ وبحمد ہ دن میں سو مرتبہ کہا، اس کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں ، خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔
حوالہ : صحیح بخاری :حدیث نمبر : 6405
حدیث کے فوائد
1/ اس حدیث سے سبحان اللہ وبحمدہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے ۔
2/ اس کلمہ کا سوبار ذکر کرنا گناہوں کی مغفرت کا سبب ہے ۔
3/ تسبیح کا معنی : اللہ تعالی کا عیوب و نقائص اور مخلوق کی مشابہت سے پاک ہونا
4/ سبحان اللہ وبحمدہ کی فضیلت:
٭سوبار پڑھنے سے گناہوں کی مغفرت
٭یہ اللہ تعالی کے محبوب کلام میں سے ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے مسلم میں ابوذر سے نقل ہے کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبوب ترین کلام پوچھا تو آپ نے بتلایا کہ ان احب الکلام الیٰ اللہ سبحان اللہ وبحمدہ یعنی اللہ کے ہاں محبوب ترین کلام سبحان اللہ وبحمدہ ہے
٭یہ میزان میں کافی وزنی ہے ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دوکلمے جو زبان پر ہلکے ہیں ترازومیں بہت بھاری اور رحمان کو عزیز ہیں۔ سبحان اللہ العظیم سبحان اللہ وبحمدہ۔(صحیح بخاری حدیث نمبر : 6406)
5/ یہ حدیث عام ہے اس لئے یہ ذکر متفرق طور پر اور پےدر پے پڑھنا دونوں طرح صحیح ہے لیکن لگاتار پڑھاجائے تو افضل ہے ۔
6/ جمہور کے نزدیک گناہوں کی مغفرت سے مراد گناہ صغیرہ ہے جبکہ گناہ کبیرہ کے لئے توبہ شرط ہے۔
7/بعض علماء ذکرکرتے ہیں کہ اگر یہ تسبیح پڑھتے وقت
٭اخلاص اور صدق دل کے ساتھ
٭ سابقہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ
٭ اور دوبارہ گناہ نہ کرنے کے عزم کے ساتھ
جن گناہوں کے لیے بھی معافی کی نیت کی تو ان شاء اللہ تعالی وہ معاف ہو جائیں گے، چاہے صغیرہ ہوں یا کبیرۃ، تھوڑے ہوں یا زیادہ۔
واللہ اعلم بالصواب
======================
مقبول احمد سلفي
حدیث : حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن سمى، عن أبي صالح، عن أبي هريرة ـ رضى الله عنه ـ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من قال سبحان الله وبحمده. في يوم مائة مرة حطت خطاياه، وإن كانت مثل زبد البحر ".
ترجمہ : ہم سے عبد اللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے سمی نے بیان کیا، ان سے ابوصالح نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس نے سبحان اللہ وبحمد ہ دن میں سو مرتبہ کہا، اس کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں ، خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔
حوالہ : صحیح بخاری :حدیث نمبر : 6405
حدیث کے فوائد
1/ اس حدیث سے سبحان اللہ وبحمدہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے ۔
2/ اس کلمہ کا سوبار ذکر کرنا گناہوں کی مغفرت کا سبب ہے ۔
3/ تسبیح کا معنی : اللہ تعالی کا عیوب و نقائص اور مخلوق کی مشابہت سے پاک ہونا
4/ سبحان اللہ وبحمدہ کی فضیلت:
٭سوبار پڑھنے سے گناہوں کی مغفرت
٭یہ اللہ تعالی کے محبوب کلام میں سے ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے مسلم میں ابوذر سے نقل ہے کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبوب ترین کلام پوچھا تو آپ نے بتلایا کہ ان احب الکلام الیٰ اللہ سبحان اللہ وبحمدہ یعنی اللہ کے ہاں محبوب ترین کلام سبحان اللہ وبحمدہ ہے
٭یہ میزان میں کافی وزنی ہے ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دوکلمے جو زبان پر ہلکے ہیں ترازومیں بہت بھاری اور رحمان کو عزیز ہیں۔ سبحان اللہ العظیم سبحان اللہ وبحمدہ۔(صحیح بخاری حدیث نمبر : 6406)
5/ یہ حدیث عام ہے اس لئے یہ ذکر متفرق طور پر اور پےدر پے پڑھنا دونوں طرح صحیح ہے لیکن لگاتار پڑھاجائے تو افضل ہے ۔
6/ جمہور کے نزدیک گناہوں کی مغفرت سے مراد گناہ صغیرہ ہے جبکہ گناہ کبیرہ کے لئے توبہ شرط ہے۔
7/بعض علماء ذکرکرتے ہیں کہ اگر یہ تسبیح پڑھتے وقت
٭اخلاص اور صدق دل کے ساتھ
٭ سابقہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ
٭ اور دوبارہ گناہ نہ کرنے کے عزم کے ساتھ
جن گناہوں کے لیے بھی معافی کی نیت کی تو ان شاء اللہ تعالی وہ معاف ہو جائیں گے، چاہے صغیرہ ہوں یا کبیرۃ، تھوڑے ہوں یا زیادہ۔
واللہ اعلم بالصواب
قرآن سمجھنا آسان ہے
🔺قرآن سمجھنا آسان ہے🔺
============
🖌تحریر: مقبول احمد سلفی
لوگوں میں مشہور ہوگیا ہے کہ قرآن کا سمجھنا بہت مشکل ہے ، یہ عربی زبان میں ہے اسے صرف عربی داں ہی سمجھ سکتے ہیں ۔اس کتاب کو سمجھنے کے لئے اٹھارہ علوم سیکھنے کی ضرورت ہے ۔ العیاذ باللہ یہ بھی کہاجاتاہے کہ اگر عوام قرآن کا ترجمہ پڑھیں گے تو گمراہ ہوجائیں گے ۔
یہ بات دراصل پیٹ پرست، مطلب پرست اور شہرت پسند کم علم ملاؤں کی طرف سے پھیلائی گئی ہےتاکہ ساری عوام ان ملاؤں کے زندگی بھر غلام رہے اور یہ مولوی ان سے عزت، شہرت اور دولت بیجا حاصل کرتا رہے حالانکہ قرآن سمجھنا نہایت آسان ہے ۔ اس بات کو سمجھنے سے پہلے یہ جان لینا ضروری ہے کہ قرآن کے نزول کا مقصد کیا ہے ؟
یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن کو سمجھنے اور اس پہ عمل کرنے کے لئے نازل کیا ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
من قرأ القرآنَ وتعلَّمه وعمِل به أُلبِسَ والداه يومَ القيامةِ تاجًا من نورٍ (صحيح الترغيب: 1434)
ترجمہ : جس نے قرآن پڑھا ،اسے سیکھااور اس پہ عمل کیا تو اس کے والدین کو قیامت کے دن نور کا تاج پہنایاجائے گا۔
یہ حدیث بتلاتی ہے کہ مومن کو سمجھ کر قرآن پڑھنا چاہئے تاکہ صحیح سے اس پر عمل کرے جس کا بدلہ اس کے والدین کو قیامت کے دن نور کے تاج کی شکل میں ملے گا۔
قبرمیں جب مومن بندہ تین سوالات کا جواب دے دیگا تو منکر نکیر چوتھا سوال پوچھیں گے ۔
وما يُدريكَ ؟ فيقولُ: قرأتُ كتابَ اللَّهِ فآمنتُ بِهِ وصدَّقتُ(صحيح أبي داود: 4753)
ترجمہ : تمہیں یہ بات کیسے معلوم ہوئی تو وہ کہے گا : میں نے اللہ کی کتاب پڑھی ، اس پہ ایمان لایااور اس کی تصدیق کی ۔
یہ حدیث بھی ہمیں قرآن کے نزول کا مقصد بتلاتی ہے کہ اسے سمجھ کرپڑھاجائے، اس پر ایمان لایا جائے اور اس کی تصدیق کی جائے ۔
ہمیں تو قرآن کی پہلی وحی کا پہلا لفظ ہی بتلاتا ہے کہ علم حاصل کرو۔
اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ(سورة العلق:1)
ترجمہ: پڑھو اپنے اس رب کے نام سے جس نے تمہیں پیدا کیا۔
یہی وہ علم ہے جس کے بارے میں کل قیامت میں سوال بھی کیاجائے گا۔
لا تزولُ قدَما عبدٍ يومَ القيامةِ حتَّى يُسألَ عن أربعٍ : عن عُمرِهِ فيمَ أفناهُ ؟ وعن علمِهِ ماذا عمِلَ بهِ ؟ وعن مالِهِ مِن أينَ اكتسبَهُ ، وفيمَ أنفقَهُ ؟ وعن جسمِهِ فيمَ أبلاهُ ؟ (صحيح الترغيب:3592)
ترجمہ : قیامت میں مومن کا قدم اس وقت تک ٹل نہیں سکتا جب تک چار چیزوں کے بارے میں پوچھ نہ لیا جائے ۔ عمر کے بارے میں کہ تونے کہاں گذاری،علم کے بارے میں کہ تم نے کتنا اس پہ عمل کیا، مال کے بارے میں کہ کہاں سے کمایااور کہاں صرف کیا، جسم کے بارے میں کہ کہاں خرچ کیا۔
ان باتوں سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ عمل کرنے سے پہلے علم کا حصول ضروری ہے ، بایں سبب اسلام میں علم حاصل کرنا فرض قرار دیا ہے ۔
طلبُ العلمِ فريضةٌ على كلِّ مسلم ٍ(صحيح الجامع:3914)
ترجمہ : علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے ۔
❇قرآن سمجھنا آسان ہے اس کے منطقی دلائل :
اب چلتے ہیں اس طرف کہ قرآن سمجھنا کس قدر آسان ہے ؟۔ اس بات کو پہلے منطقی اور عقلی طورپہ ثابت کرتاہوں ۔
1⃣ابھی میں نے بتلایاہے کہ قرآن کے نزول کا مقصد سمجھنا اور اس پہ عمل کرنا ہے اور یہ قرآن ساری کائنات کے لئے نازل کی گئی ہے ۔ ہندو،مسلم،سکھ ۔عیسائی۔خواہ اس کی زبان ہندی،اردو،انگریزی،فارسی کچھ بھی ہو۔اور وہ کسی بھی علاقے کا رہنے والاہو۔بھلا اللہ تعالی ایسی کتاب کیوں نازل فرمائے گا جو دنیاوالوں کی سمجھ سے باہر ہواور لوگ جس کے سمجھنے سے قاصرہوں؟۔
اگر ایسا ہے تو پھر قرآن کے نزول کا مقصد فوت ہوجائے گا اور آخرت میں علم وعمل کے متعلق سوال کرنا بندوں پہ ظلم ٹھہرے گاجبکہ ہمیں معلوم ہے کہ نہ تو قرآن کانزول بلامقصدہے اور نہ ہی اللہ بندہ پر ذرہ برابر ظلم کرنے والاہے ۔
رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَٰذَا بَاطِلًا(سورة آل عمران : 191)
ترجمہ : اے ہمارے تونے (یہ کائنات) بلامقصد نہیں بنائی ۔
اسی طرح اللہ کافرمان ہے :
وَمَا أَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ (سورة ق:29)
ترجمہ: اور ہم ذرہ برابر بھی بندوں پرظلم کرنے والوں میں سے نہیں ہیں۔
2⃣دنیا میں ہزاروں غیرمسلم اسلام قبول کرتے ہیں ۔ یہ سب قرآن سے متاثرہوکراسلام قبول کرتے ہیں اور اسلام لانے کے بعد بھی قرآن ہی کا زیادہ سے زیادہ مطالعہ کرتے ہیں تاکہ اسلام پہ مضبوطی کے ساتھ جم جائے ۔
بی بی سی کے سابقہ ڈاریکٹر جنرل جان بٹ کا بیٹا یحی بٹ آکسفورڈ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرتاتھا اس نے اسلام قبول کرلیا۔اس کے پی ایچ ڈی کا موضوع تھا
" یورپ میں پچھلے دس سالوں میں ایسے کتنے لوگ مسلمان ہوئے جو یورپین نسل کے تھے اور کیوں ہوئے ؟ "
چنانچہ انہوں نےدوتین سال تک اس بات کی تحقیق کی اور پھر اس نے اپنی رپورٹ پیش کی جس میں بتلایاگیاتھاکہ پچھلے دس سالوں میں تیرہ ہزاریورپین نسل کے لوگوں نے اسلام قبول کیا جن میں سے اسی (80 ) فیصد لوگ قرآن سے متاثرہوکراسلام کو گلے لگایاتھا۔ ان نئے مسلموں میں ایک امریکی خاتون تھی جس کا نام ایم کے ہرمینسن تھا ۔ اس نے اپنے اسلام لانے کی وجہ بتلائی کہ میں اسپین میں تعلیم حاصل کرتی تھی ، ایک دن ہاسٹل میں ریڈیوکی سوئی گھماتے گھماتے ایک ایسی آواز پہ اٹک گئی جہاں سے ایسی آواز آرہی تھی جسے سن کا میں مبہوت ہوگئی ۔ لگاتار کئی دنوں تک اس آواز کوسنتی رہی ۔ مجھے لگایہ میرے دل کی آوازہے ۔ پھر کسی سے اس آواز کے متعلق دریافت کیا تو پتہ چلا کہ یہ مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کی آواز(تلاوت) ہے ۔
پس میں نے قرآن کا انگریزی ترجمہ حاصل کیا اور مکمل پڑھ لیا ۔ پھر سوچا کیوں نہ اس کتاب کو اس کی اصل زبان عربی کے ذریعہ پڑھی جائے؟ چنانچہ مصر کی قاہرہ یونیورسٹی سے عربی میں دوسالہ ڈپلومہ کورس کیا۔ اس کےبعد اب اصل عربی قرآن کو سمجھ کرپڑھی تو قرآن نے مجھے مسلمان کردیا۔ سبحان اللہ
آج مسلمانوں میں شرک و بدعت کی گرم بارازی اور اختلاف وانتشارکے بادسموم کی بڑی وجہ عوام کا قرآنی تعلیمات سے دوری اور اسے سمجھ کر نہ پڑھناہے۔اگر لوگ اسے سمجھ کرپڑھنے لگ جائیں تو امت ایک پلیٹ فارم اور کتاب وسنت کے ایک ہی شاہ راہ پہ جمع ہوجائیں ۔ اے کاش ایسا ہوتا۔
3⃣جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ جیسے دنیاوی علوم کے الگ الگ ماہرین ہیں ۔ طب کے اندر جسم کے الگ الگ حصے کے الگ الگ ماہرین ہوتے ہیں اسی طرح قرآنی علوم کے بھی الگ الگ ماہرین ہوتے ہیں کوئی قرات کا ماہر،کوئی علم نحووصرف کاماہر،کوئی لغت کاماہر تو تفسیرکاماہروغیرہ ۔
ایسے لوگوں کی خدمت میں عرض ہے کہ میرے بھائی مولویوں کی ایسی باتوں پہ نہ جائیں ۔اگر وہ آپ کے خیرخواہ ہوتے توکہتے کہ قرآن کی تعلیم مجھ سے سیکھ لومگر وہ ایسانہیں کہتے بلکہ الٹاقرآن سے ڈراتے ہیں۔ یہ زمانہ سائنس وٹکنالوجی کاہے ۔ اس وقت اندھا ،بہرااور گونگاسب کی تعلیم کا بندوبست ہے تو پھرمسلمانوں کے لئے قرآن سمجھنا دشوار کیوں؟ آرٹ اور کمرس کے بالمقابل سائنسی علوم زیادہ سخت ہیں ۔باوجودسائنسی علوم سخت ومشکل ہونے کے اسی فیلڈ میں لوگوں کی بہتات ہے ۔اور یہاں مسلمانوں کے لئے قرآن سمجھنا مشکل لگ رہاہے ،کیوں؟
نبی ﷺ نے تو قرآن کی مکمل تعلیم سے امت کو آراستہ کردیا ۔ قرآن کی آیت " لتبین للناس ما نزل الیھم" (آپ کی شان یہ ہے کہ جس بات کی آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے اس کو کھول کھول کر بیان کردیں)۔ نبی ﷺ نے ہپ فریضہ بحسن وخوبی انجام دے دیا ۔ اب کس بات کی ضرورت ہے ؟ مزید برآں اہل علم نے سارے علوم کو یکجا کردیا ۔اب کس بات کی ضرورت ہے ؟
آپ کوئی تفسیر اٹھالیں ۔ آیت پڑھیں اس کا ترجمہ پڑھیں ۔آیت کا معنی معلوم ہوجائے گا۔اور آیت کے ساتھ تفسیر پڑھ لیں تو آپ کو آیت کا مکمل معنی ومفہوم معلوم ہوجائے گا۔
آپ سے میں سوال کرتاہوں کہ اس کام کے لئےآپ کو کن علوم کی ضرورت ہے ؟ بلاشبہ کسی علم کی ضرورت نہیں ۔صرف اس زبان کی ضرورت ہے جس زبان میں قرآن کا ترجمہ اور تفسیر پڑھیں گے ۔
4⃣اگر قرآن سمجھنا مشکل ہوتا تو اولا اس پہ عمل کرنا اس سے بھی مشکل ہوتا۔ ثانتا قرآن سمجھنے کی ضرورت نہیں ہوتی صرف پڑھنا مقصود ہوتا تو قرآن کی تعلیم ، نبی ﷺ كا اس کی تعلیم پہ ابھارنا، قرآن کی تعلیم حاصل کرنے والےکو افضل قرار دینا لغوٹھہرتا۔ اس کو مثال سے یوں سمجھیں ۔ حدیث میں آیا ہے کہ سورہ اخلاص ثلث قرآن ہے ۔اس کا مطلب یہ ہواکہ تین مرتبہ سورہ اخلاص پڑھنے سے قرآن پڑھنا حاصل ہوگیا۔مکمل قرآن پڑھنے کی کیاضرورت؟ اور احادیث میں ایسے ایسے اذکار مسنونہ بتلائے گئے ہیں جن کے پڑھنے سے لاکھوں کروڑوں ثواب قرآن پڑھے بغیر مل جائے گا ۔
ان باتوں سے حاصل ہوتا ہے کہ قرآن کا مقصد سمجھ کر پڑھنا اور اس پہ عمل کرنا ہے ۔
🔴قرآن سمجھنا آسان ہے اس پہ قرآن وحدیث کے دلائل :
✅پہلی دلیل : اللہ کا فرمان ہے :
الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ أُولَٰئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ ۗ(سورةالبقرة:121)
ترجمہ : وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی وہ اس کتاب کی اس طرح تلاوت نہیں کرتے جس طرح اس کی تلاوت کا حق ہے ، ایسے لوگ ہی اس پر صحیح معنوں میں ایمان لاتے ہیں۔
اس آیت میں تلاوت کی شرط "حق تلاوتہ " بتلائی گئی ہے اور ایسے ہی تلاوت کرنے والوں کو صحیح ایمان لانے والا قراردیاہے ۔ تلاوت کا حق یہ ہے کہ قرآن کو غوروخوض کے ساتھ سمجھ کر پڑھاجائے تاکہ اس پہ عمل کیاجائے ۔ لسان العرب میں تلاوت کا ایک معنی یہ بتلایاگیاہے "پڑھنا عمل کرنے کی نیت سے " ۔ عمل کرنے کی نیت سے قرآن پڑھنا اس وقت ممکن ہوگا جب اسے سمجھ کر پڑھاجائے ۔
✅دوسری دلیل : اللہ تعالی نے خود ہی واضح کردیا کہ قرآن نصیحت کے واسطے آسان ہے ۔
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ(سورة القمر:17)
ترجمہ : اور ہم نے قرآن کو آسان بنایاہے ، ہے کوئی جو اس سے نصیحت حاصل کرے ۔
یہ آیت سورہ قمر میں چارمقامات میں آئی ہے ۔وہ آیت17، آیت 22، آیت 32اور آیت 40 ہیں۔
✅تیسری دلیل : قرآن سمجھنے کی کتاب ہے اور جو کتاب سمجھنے کی ہو اسے ہرکوئی سمجھ سکتا ہے ۔ فرمان الہی ہے :
لَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ ۖ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (سورة الانبياء :10)
ترجمہ : تحقیق کے ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب بھیجی جس میں تمہارا ہی ذکر ہے ، کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے ؟
✅چوتھی دلیل : اللہ تعالی نے قرآن کو عربی زبان میں نازل کیا تاکہ اسے سمجھاجاسکے ۔اللہ نے فرمایا:
إِنَّا أَنزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ (سورة يوسف:2)
ترجمہ : ہم نے اس قرآن کوعربی زبان میں نازل کیاتاکہ تم سمجھ سکو۔
✅پانچویں دلیل : قرآن کے نزول کا مقصد تاریکی سے روشنی کی طرف لے جاناہے اور یہ مقصد اسی وقت پورا ہوسکتا ہے اسے سمجھ کرپڑھاجائے تاکہ اس کی طرف دعوت دی جائے۔ فرمان رب ذوالجلال ہے:
كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ(سورة ابراهيم:1)
ترجمہ : یہ عالیشان کتاب ہم نے آپ پر نازل کیاکہ آپ لوگوں کو تاریکی سے روشنی کی طرف لائیں ۔
✅چھٹی دلیل : یہ ہدایت کی کتاب ہے ، یہ کتاب اسی وقت ساری کائنات کے لئے ہدایت کا سبب بن سکتی ہے جب اس کا سمجھنا آسان ہو۔ اللہ کا فرمان ہے :
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ(سورة البقرة : 185)
ترجمہ : رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیاجولوگوں کے لئے ہدایت کا سرچشمہ ہے ۔
✅ساتویں دلیل : اللہ نے قرآن پاک اس لئے نازل کیاتاکہ اس میں غورکیاجائے ۔ فرمان احکم الحاکمین ہے:
كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ (سورة ص :29)
ترجمہ : یہ بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف اس لئے نازل کیاہے کہ لوگ اس کی آیتوں پہ غوروفکر کریں اور عقلمند اس سے نصیحت حاصل کریں ۔
دوسری جگہ اللہ کاارشاد ہے :
أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا (سورة محمد :24)
ترجمہ : کیایہ لوگ قرآن میں غورنہیں کرتے ؟
✅آٹھویں دلیل : اللہ تعالی نے قرآن کوپہاڑ پہ نازل نہیں کیاکیونکہ اس میں سمجھ نہیں ہے ، انسان کے اندر سمجھ بوجھ ہے اس لئے اللہ نے ان پہ نازل کیا۔
لَوْ أَنزَلْنَا هَٰذَا الْقُرْآنَ عَلَىٰ جَبَلٍ لَّرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللَّهِ(سورة الحشر:21)
ترجمہ : اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پہ اتارتے تو تودیکھتا کہ خوف الہی سے وہ پست ہوکر ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا ۔
✅نویں دلیل : نبی ﷺ کا فرمان ہے :
لاَ يفقَهُ من قرأَهُ في أقلَّ من ثلاثٍ(صحيح أبي داود:1390)
ترجمہ : جس نے قرآن تین دن سے کم میں پڑھا اس نے قرآن سمجھا ہی نہیں۔
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن سمجھ کر پڑھنا چاہئے اور اس میں یہ دلیل بھی ہے کہ قرآن تین دن میں بھی سمجھ کر ختم کیاجاسکتاہے ۔
✅دسویں دلیل : نبی ﷺ کا عام فرمان ہے :
إنَّ هذا الدينَ يسرٌ(صحيح النسائي:5049)
ترجمہ : بے شک یہ دین آسان ہے ۔
یوں تو اس پہ بے شماردلائل ہیں مگر میں نے قرآن وحدیث سے دس ادلہ پیش کردیاتاکہ اپنی حجت ان لوگوں پہ تمام کروں جو قرآن سمجھنے کو مشکل خیال کرتے ہیں۔
آپ تصور کریں کہ جس دین کی بنیاد آسانی پر ہو اور جس دین کی پہلی وحی کا آغاز لفظ "اقرا "سے ہوبھلا وہ کتاب کیسے مشکل ہوسکتی ہے ؟ عقل میں بھی یہ بات نہیں آتی اور کتاب وسنت کے دلائل بھی اس کی تردید کرتے ہیں۔
❇چند علماء کے اقوال :
1⃣مولوی انیس احمد دیوبندی انوارالقرآن صفحہ نمبر35 پر لکھتے ہیں کہ جو لوگ عربی جانتے ہیں وہ اس کو سمجھ سکتے ہیں اور جو لوگ عربی نہیں جانتے ان کے لئے بہترین ترجمے موجود ہیں وہ ان کے ذریعہ سمجھ سکتے ہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ لوگوں نے سمجھ لیا ہے کہ ہم قرآن کوبالکل سمجھ نہیں سکتے ، اس کے سمجھنے کے لئے بہت سے علوم وفنون کی ضرورت ہے اور بڑے جیدعالم ہونے کی ضرورت ہے ۔
2⃣شاہ اسماعیل شہیدؒ تقویۃ الایمان میں لکھتے ہیں کہ عوام الناس میں یہ بہت مشہور ہے کہ اللہ ورسول ﷺ کا کلام سمجھنا بہت مشکل ہے ، اس کے لئے بڑا علم چاہئے تویہ بات بہت غلط ہے اس واسطے کہ اللہ نے فرمایاہے کہ قرآن مجید میں باتیں صاف اور صریح ہیں ۔ ان کاسمجھنا مشکل نہیں اور اس کو سمجھنے کے لئے بڑا علم نہیں چاہئے ۔
3⃣شاہ ولی اللہ ؒ فتح الرحمن میں لکھتے ہیں کہ جس طرح لوگ مثنوی مولاناجلال الدین،گلستاں شیخ سعدی، منطق الطیر شیخ فریدالدین عطار،قصص فارابی ، نفحات مولاناعبدالرحمن اور اسی قسم کی کتابیں پڑھتے ہیں ، اسی طرح طرح قرآن شریف کا ترجمہ پڑھ اور سمجھ سکتے ہیں ۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں سمجھ کر قرآن مجید پڑھنے کی توفیق دے ۔ آمین
♻نوٹ : عوام کے لئے ایک اہم مضمون ہے اسے کثرت سے شیئر کیاجائے..
〰➖〰➖〰➖〰
============
🖌تحریر: مقبول احمد سلفی
لوگوں میں مشہور ہوگیا ہے کہ قرآن کا سمجھنا بہت مشکل ہے ، یہ عربی زبان میں ہے اسے صرف عربی داں ہی سمجھ سکتے ہیں ۔اس کتاب کو سمجھنے کے لئے اٹھارہ علوم سیکھنے کی ضرورت ہے ۔ العیاذ باللہ یہ بھی کہاجاتاہے کہ اگر عوام قرآن کا ترجمہ پڑھیں گے تو گمراہ ہوجائیں گے ۔
یہ بات دراصل پیٹ پرست، مطلب پرست اور شہرت پسند کم علم ملاؤں کی طرف سے پھیلائی گئی ہےتاکہ ساری عوام ان ملاؤں کے زندگی بھر غلام رہے اور یہ مولوی ان سے عزت، شہرت اور دولت بیجا حاصل کرتا رہے حالانکہ قرآن سمجھنا نہایت آسان ہے ۔ اس بات کو سمجھنے سے پہلے یہ جان لینا ضروری ہے کہ قرآن کے نزول کا مقصد کیا ہے ؟
یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن کو سمجھنے اور اس پہ عمل کرنے کے لئے نازل کیا ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
من قرأ القرآنَ وتعلَّمه وعمِل به أُلبِسَ والداه يومَ القيامةِ تاجًا من نورٍ (صحيح الترغيب: 1434)
ترجمہ : جس نے قرآن پڑھا ،اسے سیکھااور اس پہ عمل کیا تو اس کے والدین کو قیامت کے دن نور کا تاج پہنایاجائے گا۔
یہ حدیث بتلاتی ہے کہ مومن کو سمجھ کر قرآن پڑھنا چاہئے تاکہ صحیح سے اس پر عمل کرے جس کا بدلہ اس کے والدین کو قیامت کے دن نور کے تاج کی شکل میں ملے گا۔
قبرمیں جب مومن بندہ تین سوالات کا جواب دے دیگا تو منکر نکیر چوتھا سوال پوچھیں گے ۔
وما يُدريكَ ؟ فيقولُ: قرأتُ كتابَ اللَّهِ فآمنتُ بِهِ وصدَّقتُ(صحيح أبي داود: 4753)
ترجمہ : تمہیں یہ بات کیسے معلوم ہوئی تو وہ کہے گا : میں نے اللہ کی کتاب پڑھی ، اس پہ ایمان لایااور اس کی تصدیق کی ۔
یہ حدیث بھی ہمیں قرآن کے نزول کا مقصد بتلاتی ہے کہ اسے سمجھ کرپڑھاجائے، اس پر ایمان لایا جائے اور اس کی تصدیق کی جائے ۔
ہمیں تو قرآن کی پہلی وحی کا پہلا لفظ ہی بتلاتا ہے کہ علم حاصل کرو۔
اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ(سورة العلق:1)
ترجمہ: پڑھو اپنے اس رب کے نام سے جس نے تمہیں پیدا کیا۔
یہی وہ علم ہے جس کے بارے میں کل قیامت میں سوال بھی کیاجائے گا۔
لا تزولُ قدَما عبدٍ يومَ القيامةِ حتَّى يُسألَ عن أربعٍ : عن عُمرِهِ فيمَ أفناهُ ؟ وعن علمِهِ ماذا عمِلَ بهِ ؟ وعن مالِهِ مِن أينَ اكتسبَهُ ، وفيمَ أنفقَهُ ؟ وعن جسمِهِ فيمَ أبلاهُ ؟ (صحيح الترغيب:3592)
ترجمہ : قیامت میں مومن کا قدم اس وقت تک ٹل نہیں سکتا جب تک چار چیزوں کے بارے میں پوچھ نہ لیا جائے ۔ عمر کے بارے میں کہ تونے کہاں گذاری،علم کے بارے میں کہ تم نے کتنا اس پہ عمل کیا، مال کے بارے میں کہ کہاں سے کمایااور کہاں صرف کیا، جسم کے بارے میں کہ کہاں خرچ کیا۔
ان باتوں سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ عمل کرنے سے پہلے علم کا حصول ضروری ہے ، بایں سبب اسلام میں علم حاصل کرنا فرض قرار دیا ہے ۔
طلبُ العلمِ فريضةٌ على كلِّ مسلم ٍ(صحيح الجامع:3914)
ترجمہ : علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے ۔
❇قرآن سمجھنا آسان ہے اس کے منطقی دلائل :
اب چلتے ہیں اس طرف کہ قرآن سمجھنا کس قدر آسان ہے ؟۔ اس بات کو پہلے منطقی اور عقلی طورپہ ثابت کرتاہوں ۔
1⃣ابھی میں نے بتلایاہے کہ قرآن کے نزول کا مقصد سمجھنا اور اس پہ عمل کرنا ہے اور یہ قرآن ساری کائنات کے لئے نازل کی گئی ہے ۔ ہندو،مسلم،سکھ ۔عیسائی۔خواہ اس کی زبان ہندی،اردو،انگریزی،فارسی کچھ بھی ہو۔اور وہ کسی بھی علاقے کا رہنے والاہو۔بھلا اللہ تعالی ایسی کتاب کیوں نازل فرمائے گا جو دنیاوالوں کی سمجھ سے باہر ہواور لوگ جس کے سمجھنے سے قاصرہوں؟۔
اگر ایسا ہے تو پھر قرآن کے نزول کا مقصد فوت ہوجائے گا اور آخرت میں علم وعمل کے متعلق سوال کرنا بندوں پہ ظلم ٹھہرے گاجبکہ ہمیں معلوم ہے کہ نہ تو قرآن کانزول بلامقصدہے اور نہ ہی اللہ بندہ پر ذرہ برابر ظلم کرنے والاہے ۔
رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَٰذَا بَاطِلًا(سورة آل عمران : 191)
ترجمہ : اے ہمارے تونے (یہ کائنات) بلامقصد نہیں بنائی ۔
اسی طرح اللہ کافرمان ہے :
وَمَا أَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ (سورة ق:29)
ترجمہ: اور ہم ذرہ برابر بھی بندوں پرظلم کرنے والوں میں سے نہیں ہیں۔
2⃣دنیا میں ہزاروں غیرمسلم اسلام قبول کرتے ہیں ۔ یہ سب قرآن سے متاثرہوکراسلام قبول کرتے ہیں اور اسلام لانے کے بعد بھی قرآن ہی کا زیادہ سے زیادہ مطالعہ کرتے ہیں تاکہ اسلام پہ مضبوطی کے ساتھ جم جائے ۔
بی بی سی کے سابقہ ڈاریکٹر جنرل جان بٹ کا بیٹا یحی بٹ آکسفورڈ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرتاتھا اس نے اسلام قبول کرلیا۔اس کے پی ایچ ڈی کا موضوع تھا
" یورپ میں پچھلے دس سالوں میں ایسے کتنے لوگ مسلمان ہوئے جو یورپین نسل کے تھے اور کیوں ہوئے ؟ "
چنانچہ انہوں نےدوتین سال تک اس بات کی تحقیق کی اور پھر اس نے اپنی رپورٹ پیش کی جس میں بتلایاگیاتھاکہ پچھلے دس سالوں میں تیرہ ہزاریورپین نسل کے لوگوں نے اسلام قبول کیا جن میں سے اسی (80 ) فیصد لوگ قرآن سے متاثرہوکراسلام کو گلے لگایاتھا۔ ان نئے مسلموں میں ایک امریکی خاتون تھی جس کا نام ایم کے ہرمینسن تھا ۔ اس نے اپنے اسلام لانے کی وجہ بتلائی کہ میں اسپین میں تعلیم حاصل کرتی تھی ، ایک دن ہاسٹل میں ریڈیوکی سوئی گھماتے گھماتے ایک ایسی آواز پہ اٹک گئی جہاں سے ایسی آواز آرہی تھی جسے سن کا میں مبہوت ہوگئی ۔ لگاتار کئی دنوں تک اس آواز کوسنتی رہی ۔ مجھے لگایہ میرے دل کی آوازہے ۔ پھر کسی سے اس آواز کے متعلق دریافت کیا تو پتہ چلا کہ یہ مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کی آواز(تلاوت) ہے ۔
پس میں نے قرآن کا انگریزی ترجمہ حاصل کیا اور مکمل پڑھ لیا ۔ پھر سوچا کیوں نہ اس کتاب کو اس کی اصل زبان عربی کے ذریعہ پڑھی جائے؟ چنانچہ مصر کی قاہرہ یونیورسٹی سے عربی میں دوسالہ ڈپلومہ کورس کیا۔ اس کےبعد اب اصل عربی قرآن کو سمجھ کرپڑھی تو قرآن نے مجھے مسلمان کردیا۔ سبحان اللہ
آج مسلمانوں میں شرک و بدعت کی گرم بارازی اور اختلاف وانتشارکے بادسموم کی بڑی وجہ عوام کا قرآنی تعلیمات سے دوری اور اسے سمجھ کر نہ پڑھناہے۔اگر لوگ اسے سمجھ کرپڑھنے لگ جائیں تو امت ایک پلیٹ فارم اور کتاب وسنت کے ایک ہی شاہ راہ پہ جمع ہوجائیں ۔ اے کاش ایسا ہوتا۔
3⃣جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ جیسے دنیاوی علوم کے الگ الگ ماہرین ہیں ۔ طب کے اندر جسم کے الگ الگ حصے کے الگ الگ ماہرین ہوتے ہیں اسی طرح قرآنی علوم کے بھی الگ الگ ماہرین ہوتے ہیں کوئی قرات کا ماہر،کوئی علم نحووصرف کاماہر،کوئی لغت کاماہر تو تفسیرکاماہروغیرہ ۔
ایسے لوگوں کی خدمت میں عرض ہے کہ میرے بھائی مولویوں کی ایسی باتوں پہ نہ جائیں ۔اگر وہ آپ کے خیرخواہ ہوتے توکہتے کہ قرآن کی تعلیم مجھ سے سیکھ لومگر وہ ایسانہیں کہتے بلکہ الٹاقرآن سے ڈراتے ہیں۔ یہ زمانہ سائنس وٹکنالوجی کاہے ۔ اس وقت اندھا ،بہرااور گونگاسب کی تعلیم کا بندوبست ہے تو پھرمسلمانوں کے لئے قرآن سمجھنا دشوار کیوں؟ آرٹ اور کمرس کے بالمقابل سائنسی علوم زیادہ سخت ہیں ۔باوجودسائنسی علوم سخت ومشکل ہونے کے اسی فیلڈ میں لوگوں کی بہتات ہے ۔اور یہاں مسلمانوں کے لئے قرآن سمجھنا مشکل لگ رہاہے ،کیوں؟
نبی ﷺ نے تو قرآن کی مکمل تعلیم سے امت کو آراستہ کردیا ۔ قرآن کی آیت " لتبین للناس ما نزل الیھم" (آپ کی شان یہ ہے کہ جس بات کی آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے اس کو کھول کھول کر بیان کردیں)۔ نبی ﷺ نے ہپ فریضہ بحسن وخوبی انجام دے دیا ۔ اب کس بات کی ضرورت ہے ؟ مزید برآں اہل علم نے سارے علوم کو یکجا کردیا ۔اب کس بات کی ضرورت ہے ؟
آپ کوئی تفسیر اٹھالیں ۔ آیت پڑھیں اس کا ترجمہ پڑھیں ۔آیت کا معنی معلوم ہوجائے گا۔اور آیت کے ساتھ تفسیر پڑھ لیں تو آپ کو آیت کا مکمل معنی ومفہوم معلوم ہوجائے گا۔
آپ سے میں سوال کرتاہوں کہ اس کام کے لئےآپ کو کن علوم کی ضرورت ہے ؟ بلاشبہ کسی علم کی ضرورت نہیں ۔صرف اس زبان کی ضرورت ہے جس زبان میں قرآن کا ترجمہ اور تفسیر پڑھیں گے ۔
4⃣اگر قرآن سمجھنا مشکل ہوتا تو اولا اس پہ عمل کرنا اس سے بھی مشکل ہوتا۔ ثانتا قرآن سمجھنے کی ضرورت نہیں ہوتی صرف پڑھنا مقصود ہوتا تو قرآن کی تعلیم ، نبی ﷺ كا اس کی تعلیم پہ ابھارنا، قرآن کی تعلیم حاصل کرنے والےکو افضل قرار دینا لغوٹھہرتا۔ اس کو مثال سے یوں سمجھیں ۔ حدیث میں آیا ہے کہ سورہ اخلاص ثلث قرآن ہے ۔اس کا مطلب یہ ہواکہ تین مرتبہ سورہ اخلاص پڑھنے سے قرآن پڑھنا حاصل ہوگیا۔مکمل قرآن پڑھنے کی کیاضرورت؟ اور احادیث میں ایسے ایسے اذکار مسنونہ بتلائے گئے ہیں جن کے پڑھنے سے لاکھوں کروڑوں ثواب قرآن پڑھے بغیر مل جائے گا ۔
ان باتوں سے حاصل ہوتا ہے کہ قرآن کا مقصد سمجھ کر پڑھنا اور اس پہ عمل کرنا ہے ۔
🔴قرآن سمجھنا آسان ہے اس پہ قرآن وحدیث کے دلائل :
✅پہلی دلیل : اللہ کا فرمان ہے :
الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ أُولَٰئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ ۗ(سورةالبقرة:121)
ترجمہ : وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی وہ اس کتاب کی اس طرح تلاوت نہیں کرتے جس طرح اس کی تلاوت کا حق ہے ، ایسے لوگ ہی اس پر صحیح معنوں میں ایمان لاتے ہیں۔
اس آیت میں تلاوت کی شرط "حق تلاوتہ " بتلائی گئی ہے اور ایسے ہی تلاوت کرنے والوں کو صحیح ایمان لانے والا قراردیاہے ۔ تلاوت کا حق یہ ہے کہ قرآن کو غوروخوض کے ساتھ سمجھ کر پڑھاجائے تاکہ اس پہ عمل کیاجائے ۔ لسان العرب میں تلاوت کا ایک معنی یہ بتلایاگیاہے "پڑھنا عمل کرنے کی نیت سے " ۔ عمل کرنے کی نیت سے قرآن پڑھنا اس وقت ممکن ہوگا جب اسے سمجھ کر پڑھاجائے ۔
✅دوسری دلیل : اللہ تعالی نے خود ہی واضح کردیا کہ قرآن نصیحت کے واسطے آسان ہے ۔
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ(سورة القمر:17)
ترجمہ : اور ہم نے قرآن کو آسان بنایاہے ، ہے کوئی جو اس سے نصیحت حاصل کرے ۔
یہ آیت سورہ قمر میں چارمقامات میں آئی ہے ۔وہ آیت17، آیت 22، آیت 32اور آیت 40 ہیں۔
✅تیسری دلیل : قرآن سمجھنے کی کتاب ہے اور جو کتاب سمجھنے کی ہو اسے ہرکوئی سمجھ سکتا ہے ۔ فرمان الہی ہے :
لَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ ۖ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (سورة الانبياء :10)
ترجمہ : تحقیق کے ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب بھیجی جس میں تمہارا ہی ذکر ہے ، کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے ؟
✅چوتھی دلیل : اللہ تعالی نے قرآن کو عربی زبان میں نازل کیا تاکہ اسے سمجھاجاسکے ۔اللہ نے فرمایا:
إِنَّا أَنزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ (سورة يوسف:2)
ترجمہ : ہم نے اس قرآن کوعربی زبان میں نازل کیاتاکہ تم سمجھ سکو۔
✅پانچویں دلیل : قرآن کے نزول کا مقصد تاریکی سے روشنی کی طرف لے جاناہے اور یہ مقصد اسی وقت پورا ہوسکتا ہے اسے سمجھ کرپڑھاجائے تاکہ اس کی طرف دعوت دی جائے۔ فرمان رب ذوالجلال ہے:
كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ(سورة ابراهيم:1)
ترجمہ : یہ عالیشان کتاب ہم نے آپ پر نازل کیاکہ آپ لوگوں کو تاریکی سے روشنی کی طرف لائیں ۔
✅چھٹی دلیل : یہ ہدایت کی کتاب ہے ، یہ کتاب اسی وقت ساری کائنات کے لئے ہدایت کا سبب بن سکتی ہے جب اس کا سمجھنا آسان ہو۔ اللہ کا فرمان ہے :
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ(سورة البقرة : 185)
ترجمہ : رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیاجولوگوں کے لئے ہدایت کا سرچشمہ ہے ۔
✅ساتویں دلیل : اللہ نے قرآن پاک اس لئے نازل کیاتاکہ اس میں غورکیاجائے ۔ فرمان احکم الحاکمین ہے:
كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ (سورة ص :29)
ترجمہ : یہ بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف اس لئے نازل کیاہے کہ لوگ اس کی آیتوں پہ غوروفکر کریں اور عقلمند اس سے نصیحت حاصل کریں ۔
دوسری جگہ اللہ کاارشاد ہے :
أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا (سورة محمد :24)
ترجمہ : کیایہ لوگ قرآن میں غورنہیں کرتے ؟
✅آٹھویں دلیل : اللہ تعالی نے قرآن کوپہاڑ پہ نازل نہیں کیاکیونکہ اس میں سمجھ نہیں ہے ، انسان کے اندر سمجھ بوجھ ہے اس لئے اللہ نے ان پہ نازل کیا۔
لَوْ أَنزَلْنَا هَٰذَا الْقُرْآنَ عَلَىٰ جَبَلٍ لَّرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللَّهِ(سورة الحشر:21)
ترجمہ : اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پہ اتارتے تو تودیکھتا کہ خوف الہی سے وہ پست ہوکر ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا ۔
✅نویں دلیل : نبی ﷺ کا فرمان ہے :
لاَ يفقَهُ من قرأَهُ في أقلَّ من ثلاثٍ(صحيح أبي داود:1390)
ترجمہ : جس نے قرآن تین دن سے کم میں پڑھا اس نے قرآن سمجھا ہی نہیں۔
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن سمجھ کر پڑھنا چاہئے اور اس میں یہ دلیل بھی ہے کہ قرآن تین دن میں بھی سمجھ کر ختم کیاجاسکتاہے ۔
✅دسویں دلیل : نبی ﷺ کا عام فرمان ہے :
إنَّ هذا الدينَ يسرٌ(صحيح النسائي:5049)
ترجمہ : بے شک یہ دین آسان ہے ۔
یوں تو اس پہ بے شماردلائل ہیں مگر میں نے قرآن وحدیث سے دس ادلہ پیش کردیاتاکہ اپنی حجت ان لوگوں پہ تمام کروں جو قرآن سمجھنے کو مشکل خیال کرتے ہیں۔
آپ تصور کریں کہ جس دین کی بنیاد آسانی پر ہو اور جس دین کی پہلی وحی کا آغاز لفظ "اقرا "سے ہوبھلا وہ کتاب کیسے مشکل ہوسکتی ہے ؟ عقل میں بھی یہ بات نہیں آتی اور کتاب وسنت کے دلائل بھی اس کی تردید کرتے ہیں۔
❇چند علماء کے اقوال :
1⃣مولوی انیس احمد دیوبندی انوارالقرآن صفحہ نمبر35 پر لکھتے ہیں کہ جو لوگ عربی جانتے ہیں وہ اس کو سمجھ سکتے ہیں اور جو لوگ عربی نہیں جانتے ان کے لئے بہترین ترجمے موجود ہیں وہ ان کے ذریعہ سمجھ سکتے ہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ لوگوں نے سمجھ لیا ہے کہ ہم قرآن کوبالکل سمجھ نہیں سکتے ، اس کے سمجھنے کے لئے بہت سے علوم وفنون کی ضرورت ہے اور بڑے جیدعالم ہونے کی ضرورت ہے ۔
2⃣شاہ اسماعیل شہیدؒ تقویۃ الایمان میں لکھتے ہیں کہ عوام الناس میں یہ بہت مشہور ہے کہ اللہ ورسول ﷺ کا کلام سمجھنا بہت مشکل ہے ، اس کے لئے بڑا علم چاہئے تویہ بات بہت غلط ہے اس واسطے کہ اللہ نے فرمایاہے کہ قرآن مجید میں باتیں صاف اور صریح ہیں ۔ ان کاسمجھنا مشکل نہیں اور اس کو سمجھنے کے لئے بڑا علم نہیں چاہئے ۔
3⃣شاہ ولی اللہ ؒ فتح الرحمن میں لکھتے ہیں کہ جس طرح لوگ مثنوی مولاناجلال الدین،گلستاں شیخ سعدی، منطق الطیر شیخ فریدالدین عطار،قصص فارابی ، نفحات مولاناعبدالرحمن اور اسی قسم کی کتابیں پڑھتے ہیں ، اسی طرح طرح قرآن شریف کا ترجمہ پڑھ اور سمجھ سکتے ہیں ۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں سمجھ کر قرآن مجید پڑھنے کی توفیق دے ۔ آمین
♻نوٹ : عوام کے لئے ایک اہم مضمون ہے اسے کثرت سے شیئر کیاجائے..
〰➖〰➖〰➖〰
Subscribe to:
Posts (Atom)