نماز میں رفع یدین کرنا سنت ہے
=================
نماز میں رفع یدین کرنا نبی ﷺ کی سنت ہے ، لہذا اسے اپنانا چاہئے جو اسے نہیں اپناتے وہ سنت کی مخالفت کرتے ہیں ۔
(1) نمازرفع یدین کرنے کے دلایل
http://www.urdumajlis.net/threads/%D8%B1%D9%81%D8%B9-%D8%A7%D9%84%DB%8C%D8%AF%DB%8C%D9%86-%DA%A9%DB%92-%D8%AF%D9%84%D8%A7%D8%A6%D9%84.19001/
(2) ہم نماز میں کیوں رفع یدین کرتے ہیں ؟
https://plus.google.com/107241036654492185419/posts/3vum6APV7jL
(3) تمام محدثین رفع یدین کرتے تھے ۔
http://maquboolahmad.blogspot.com/2015/10/blog-post_70.html
(4) رفع یدین نہ کرنےکے سلسلے میں احناف کے دلائل کا جائزہ
http://maquboolahmad.blogspot.com/2014/06/blog-post_9407.html
(5) عدم رفع یدین سے متعلق گھمن کے دلائل کا جزئزہ
http://zeeshan316.blogspot.com/2013/03/blog-post_9816.html
(6) رفع یدین کے بارے میں سوالات اور ان کے جوابات
http://maquboolahmad.blogspot.com/2015/10/blog-post_68.html
(7)کیا رفع یدین کی وجہ بغل میں مورتی؟
http://maquboolahmad.blogspot.com/2015/03/blog-post_62.html
(8) رفع یدین اور احناف کا تذبذب
http://www.ahnafexpose.com/index.php/en/answer/article/148-ap-ka-jota-ap-ka-sar
(9) رفع یدین کرنا سنت ہے اس پہ چند کتابوں کا لنک
http://kitabosunnat.com/kutub-library/isbat-raful-yadain.html
http://kitabosunnat.com/kutub-library/raf-ul-yadain-masail-o-ahkamdalaile-o-tehqiq.html
http://kitabosunnat.com/kutub-library/masla-rafa-ul-yadain-aik-ilmi-w-tahqiqi-kawash.html
http://kitabosunnat.com/kutub-library/noor-ul-ainain-fi-isbat-raful-yadain.html
http://kitabosunnat.com/kutub-library/kiarafa-al-yadain-mansookh-he.html
اس سلسلے میں بہت ساری کتابیں ہیں مگر صرف چند کتابوں کا لنک دیا گیا ہے میرے خیال سے کسی کی تسلی کے لئے یہی کافی ہیں ۔
تیارکردہ مقبول احمد سلفی
Showing posts with label Naamaz awor emaam. Show all posts
Showing posts with label Naamaz awor emaam. Show all posts
Tuesday, October 25, 2016
Sunday, October 23, 2016
قضا نماز
قضا نماز
@@@@@@@@@@@@@@@@@
قضا نمازوں کے حوالے سے سعودی مفتی اعظم الشیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ کا فتوٰی ملاحظہ کیجیے:
“علماء کے صحیح ترین قول کے مطابق جان بوجھ کر نماز چھوڑنے والے پر اس کی قضا واجب نہیں ہے۔ کیونکہ جان بوجھ کر نماز چھوڑنا کفر ہے جو آدمی کو اسلام سے نکال کر زمرہ کفار میں داخل کر دیتا ہے۔ اور کافر پر حالت کفر میں چھوڑے ہوئے کاموں کی قضا نہیں ہوتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان ہے:
“آدمی اور کفر و شرک کے درمیان نماز کو چھوڑ دینے (کا فرق) ہے۔
(صحيح مسلم الإيمان (82),سنن الترمذي الإيمان (2620),سنن أبو داود السنة (467
,سنن ابن ماجه إقامة الصلاة والسنة فيها (107,مسند أحمد بن حنبل (3/370),سنن الدارمي الصلاة (1233).
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسلام قبول کرنے والوں سے کبھی یہ مطالبہ نہیں کیا تھا کہ وہ سابقہ نمازیں دہرائیں جو ان پر حالتِ کفر میں فرض تھیں نہ ان کے بعد صحابہ نے ان لوگوں سے یہ مطالبہ کیا جو مرتد ہونے کے بعد دوبارہ اسلام میں داخل ہوئے۔
بھول جانے،سوئے رہنے کی وجہ سےاور بے ہوشی کی وجہ سے رہ جانے والی نمازوں کو قضا کیا جائے گا۔
بہت سے لوگ سابقہ نمازوں کی قضا کے خوف سے نماز کی باقاعدہ ادائیگی شروع نہیں کرتے۔دین آسان ہے، اسے اسی طرح رہنا چاہیے جیسے اللہ کے نبی ﷺ نے پیش کیا تھا۔ ادھر تو یہ حال ہے کہ کوئی مسجد میں چلا جائے تو آسانی پیدا کرنے کی بجائے اسے کہا جاتا ہے کہ میاں پچھلے بیس تیس برس کدھر تھے، سابقہ نمازوں کی گنتی پوری کرو، پھر آگے چلنا۔ یہ بات عقل کے بھی خلاف ہے کہ توبہ کرنے والے انسان کو حوصلہ دینے کی بجائے الٹا پچاس سال کی نمازوں کی قضا کا مژدہ سنا دیا جائے۔
فرمان رسول ﷺ ہے:
"بَشِّرُوا، وَلاَ تُنَفِّرُوا
“خوشخبری سناؤ اور نفرت نہ دلاؤ”
"يَسِّرُوا وَلاَ تُعَسِّرُوا
“لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرو مشکلات نہ بناؤ”
صحيح بخارى:69
قضا نمازوں کی ادائیگی یا عدم ادائیگی کا مسئلہ کفر اسلام کا مسئلہ نہیں ہے۔ صحیح قول یہی ہے کہ ان کی ادائیگی ضروری نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَئِكَ يُبَدِّل اللَّه سَيِّئَاتهمْ حَسَنَات (الفرقان:70)
“ الا یہ کہ کوئی (ان گناہوں کے بعد) توبہ کرے اور ایمان لا کر عملِ صالح کرنے لگے، ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ نیکی سے بدل دے گا”۔
اور فرمایا:
وَإنّي لَغَفَّار لمَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَملَ صَالحًا ثُمَّ اهْتَدَى (طہ:82)
“ جو توبہ کر لے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے، پھر سیدھا چلتا رہے، اُس کے لیے میں بہت درگزر کرنے والا ہوں”
اگر كسى شخص نے شرعى عذر كى بنا پر نماز ترک كى مثلا نيند يا بھول كر تو اس كا كفارہ يہ ہے كہ جب اسے ياد آئے اور سويا ہوا بيدار ہو تو اسى وقت نماز ادا كر لے، اس كے علاوہ كوئى اور كفارہ نہيں.
جيسا كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" جو كوئى بھى نماز بھول جائے يا اس سے سويا رہے تو جب اسے ياد آئے وہ نماز ادا كر لے، اس كا كفارہ يہى ہے "
صحيح بخارى حديث نمبر :572 صحيح مسلم:1564
کوئی فدیہ چھوڑی ہوئی نماز کے لیے نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ یہ بات دین میں ثابت نہیں ہے۔
جس نے ايک يا زيادہ فرض نمازيں بغير كسى عذر كے ترک كرديں اسے اللہ تعالى كے ہاں سچى توبہ كرنى چاہيے، اور اس كے ذمہ كوئى قضاء اور كفارہ نہيں، كيونكہ فرضى نماز جان بوجھ كر ترک كرنا كفر ہے.
كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" ہمارے اور ان كے مابين عہد نماز ہے، جس نے بھى نماز ترك كى اس نے كفر كيا "
مسند احمد حديث نمبر ( 22428 ) سنن ترمذى حديث نمبر ( 2621 ) سنن نسائى حديث نمبر ( 462 ).
اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" آدمى اور شرک اور كفر كے مابين نماز كا ترك كرنا ہے "
صحيح مسلم حديث نمبر ( 242 ).
اور اس ميں سچى اور پكى توبہ كے علاوہ كوئى كفارہ نہيں.
والله اعلم بالصواب
@@@@@@@@@@@@@@@@@
قضا نمازوں کے حوالے سے سعودی مفتی اعظم الشیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ کا فتوٰی ملاحظہ کیجیے:
“علماء کے صحیح ترین قول کے مطابق جان بوجھ کر نماز چھوڑنے والے پر اس کی قضا واجب نہیں ہے۔ کیونکہ جان بوجھ کر نماز چھوڑنا کفر ہے جو آدمی کو اسلام سے نکال کر زمرہ کفار میں داخل کر دیتا ہے۔ اور کافر پر حالت کفر میں چھوڑے ہوئے کاموں کی قضا نہیں ہوتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان ہے:
“آدمی اور کفر و شرک کے درمیان نماز کو چھوڑ دینے (کا فرق) ہے۔
(صحيح مسلم الإيمان (82),سنن الترمذي الإيمان (2620),سنن أبو داود السنة (467
,سنن ابن ماجه إقامة الصلاة والسنة فيها (107,مسند أحمد بن حنبل (3/370),سنن الدارمي الصلاة (1233).
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسلام قبول کرنے والوں سے کبھی یہ مطالبہ نہیں کیا تھا کہ وہ سابقہ نمازیں دہرائیں جو ان پر حالتِ کفر میں فرض تھیں نہ ان کے بعد صحابہ نے ان لوگوں سے یہ مطالبہ کیا جو مرتد ہونے کے بعد دوبارہ اسلام میں داخل ہوئے۔
بھول جانے،سوئے رہنے کی وجہ سےاور بے ہوشی کی وجہ سے رہ جانے والی نمازوں کو قضا کیا جائے گا۔
بہت سے لوگ سابقہ نمازوں کی قضا کے خوف سے نماز کی باقاعدہ ادائیگی شروع نہیں کرتے۔دین آسان ہے، اسے اسی طرح رہنا چاہیے جیسے اللہ کے نبی ﷺ نے پیش کیا تھا۔ ادھر تو یہ حال ہے کہ کوئی مسجد میں چلا جائے تو آسانی پیدا کرنے کی بجائے اسے کہا جاتا ہے کہ میاں پچھلے بیس تیس برس کدھر تھے، سابقہ نمازوں کی گنتی پوری کرو، پھر آگے چلنا۔ یہ بات عقل کے بھی خلاف ہے کہ توبہ کرنے والے انسان کو حوصلہ دینے کی بجائے الٹا پچاس سال کی نمازوں کی قضا کا مژدہ سنا دیا جائے۔
فرمان رسول ﷺ ہے:
"بَشِّرُوا، وَلاَ تُنَفِّرُوا
“خوشخبری سناؤ اور نفرت نہ دلاؤ”
"يَسِّرُوا وَلاَ تُعَسِّرُوا
“لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرو مشکلات نہ بناؤ”
صحيح بخارى:69
قضا نمازوں کی ادائیگی یا عدم ادائیگی کا مسئلہ کفر اسلام کا مسئلہ نہیں ہے۔ صحیح قول یہی ہے کہ ان کی ادائیگی ضروری نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَئِكَ يُبَدِّل اللَّه سَيِّئَاتهمْ حَسَنَات (الفرقان:70)
“ الا یہ کہ کوئی (ان گناہوں کے بعد) توبہ کرے اور ایمان لا کر عملِ صالح کرنے لگے، ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ نیکی سے بدل دے گا”۔
اور فرمایا:
وَإنّي لَغَفَّار لمَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَملَ صَالحًا ثُمَّ اهْتَدَى (طہ:82)
“ جو توبہ کر لے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے، پھر سیدھا چلتا رہے، اُس کے لیے میں بہت درگزر کرنے والا ہوں”
اگر كسى شخص نے شرعى عذر كى بنا پر نماز ترک كى مثلا نيند يا بھول كر تو اس كا كفارہ يہ ہے كہ جب اسے ياد آئے اور سويا ہوا بيدار ہو تو اسى وقت نماز ادا كر لے، اس كے علاوہ كوئى اور كفارہ نہيں.
جيسا كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" جو كوئى بھى نماز بھول جائے يا اس سے سويا رہے تو جب اسے ياد آئے وہ نماز ادا كر لے، اس كا كفارہ يہى ہے "
صحيح بخارى حديث نمبر :572 صحيح مسلم:1564
کوئی فدیہ چھوڑی ہوئی نماز کے لیے نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ یہ بات دین میں ثابت نہیں ہے۔
جس نے ايک يا زيادہ فرض نمازيں بغير كسى عذر كے ترک كرديں اسے اللہ تعالى كے ہاں سچى توبہ كرنى چاہيے، اور اس كے ذمہ كوئى قضاء اور كفارہ نہيں، كيونكہ فرضى نماز جان بوجھ كر ترک كرنا كفر ہے.
كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" ہمارے اور ان كے مابين عہد نماز ہے، جس نے بھى نماز ترك كى اس نے كفر كيا "
مسند احمد حديث نمبر ( 22428 ) سنن ترمذى حديث نمبر ( 2621 ) سنن نسائى حديث نمبر ( 462 ).
اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" آدمى اور شرک اور كفر كے مابين نماز كا ترك كرنا ہے "
صحيح مسلم حديث نمبر ( 242 ).
اور اس ميں سچى اور پكى توبہ كے علاوہ كوئى كفارہ نہيں.
والله اعلم بالصواب
Sunday, October 2, 2016
فرض نماز کے بعد کے اذکار
🍁 بسم اللہ الرحمن الرحیم
🌹 *فرض نماز کے بعد کے اذکار*
سلام پھیرنےکے بعد بلند آواز سے کہے
" اللهُ أَكْبَرُ َ" (1 مرتبہ) (بخاري)
پھر آہستہ آواز میں مندرجہ ذیل اذکار کرے
" أَسْتَغْفِرُ اللهَ ". (3 مرتبہ)
" اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَام ِ". (1 مرتبہ) (مسلم)
" لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ ".
(1 مرتبہ) (بخاري - مسلم)
" لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَه النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُون َ".
(1 مرتبہ) (مسلم)
" سُبْحَانَ الله " (33 مرتبہ)
" الْحَمْدُ لله " (33 مرتبہ)
" اللهُ أَكْبَرُ " (33 مرتبہ)
" لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِير ٌ". (1 مرتبہ) (مسلم)
" اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ ".
(جو ہر نماز کے بعد 1 مرتبہ آیہ الکرسی پڑھے گا اسے جنت میں داخل ہونے سے موت کے علاوہ کوئی چیز نہیں روکے گی.)
(عمل الیوم و اللیلة للنسائی - صحیح الجامع)
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ " قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ ﴿۱﴾ اللهُ الصَّمَدُ ﴿۲﴾ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ﴿۳﴾ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدُ ﴿۴﴾ "
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم ِ " قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ﴿۱﴾ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ﴿۲﴾ وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ ﴿۳﴾ وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ ﴿۴﴾ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ ﴿۵﴾"
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم ِ " قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ﴿۱﴾ مَلِكِ النَّاسِ ﴿۲﴾ إِلَهِ النَّاسِ ﴿۳﴾ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ ﴿۴﴾ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ ﴿۵﴾ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ ﴿۶﴾ "
(سورة الاخلاص ، الفلق ، الناس نماز فجر اور مغرب کے بعد 3 مرتبہ ظہر، عصر اور عشاء کے بعد 1 مرتبہ)
(ابو داؤد - نسائی - صحيح الترمذي - فتح الباری)
" لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحَدْهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ".
(فجر اور مغرب کے بعد 10 مرتبہ) (ترمذى)
" اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْماً نَافِعاً، وَرِزْقاً طَيِّباً، وَعَمَلاً مُتَقَبَّلاً ".
(فجر 1 مرتبہ)
(ابن ماجه - صحيح ابن ماجه - مجمع الزوائد)
" بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ "
(جو شخص یہ دعا صبح و شام پڑھے گا اسے کوئی چیز تکلیف نہیں دے گی.)
(ابو داؤد - ترمذى - صحيح ابن ماجه)
بہتر ہے کہ فجر، مغرب کے بعد 3 مرتبہ یہ دعا پڑھ لی جائے.
🌹 *فرض نماز کے بعد کے اذکار*
سلام پھیرنےکے بعد بلند آواز سے کہے
" اللهُ أَكْبَرُ َ" (1 مرتبہ) (بخاري)
پھر آہستہ آواز میں مندرجہ ذیل اذکار کرے
" أَسْتَغْفِرُ اللهَ ". (3 مرتبہ)
" اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَام ِ". (1 مرتبہ) (مسلم)
" لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ ".
(1 مرتبہ) (بخاري - مسلم)
" لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَه النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُون َ".
(1 مرتبہ) (مسلم)
" سُبْحَانَ الله " (33 مرتبہ)
" الْحَمْدُ لله " (33 مرتبہ)
" اللهُ أَكْبَرُ " (33 مرتبہ)
" لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِير ٌ". (1 مرتبہ) (مسلم)
" اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ ".
(جو ہر نماز کے بعد 1 مرتبہ آیہ الکرسی پڑھے گا اسے جنت میں داخل ہونے سے موت کے علاوہ کوئی چیز نہیں روکے گی.)
(عمل الیوم و اللیلة للنسائی - صحیح الجامع)
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ " قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ ﴿۱﴾ اللهُ الصَّمَدُ ﴿۲﴾ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ﴿۳﴾ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدُ ﴿۴﴾ "
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم ِ " قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ﴿۱﴾ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ﴿۲﴾ وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ ﴿۳﴾ وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ ﴿۴﴾ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ ﴿۵﴾"
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم ِ " قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ﴿۱﴾ مَلِكِ النَّاسِ ﴿۲﴾ إِلَهِ النَّاسِ ﴿۳﴾ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ ﴿۴﴾ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ ﴿۵﴾ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ ﴿۶﴾ "
(سورة الاخلاص ، الفلق ، الناس نماز فجر اور مغرب کے بعد 3 مرتبہ ظہر، عصر اور عشاء کے بعد 1 مرتبہ)
(ابو داؤد - نسائی - صحيح الترمذي - فتح الباری)
" لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحَدْهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ".
(فجر اور مغرب کے بعد 10 مرتبہ) (ترمذى)
" اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْماً نَافِعاً، وَرِزْقاً طَيِّباً، وَعَمَلاً مُتَقَبَّلاً ".
(فجر 1 مرتبہ)
(ابن ماجه - صحيح ابن ماجه - مجمع الزوائد)
" بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ "
(جو شخص یہ دعا صبح و شام پڑھے گا اسے کوئی چیز تکلیف نہیں دے گی.)
(ابو داؤد - ترمذى - صحيح ابن ماجه)
بہتر ہے کہ فجر، مغرب کے بعد 3 مرتبہ یہ دعا پڑھ لی جائے.
Thursday, September 8, 2016
مردہ پیدا ہونے والے بچے کی نماز جنازہ
مردہ پیدا ہونے والے بچے کی نماز جنازہ
======================
مقبول احمد سلفی
اس میں سب کا اتفاق ہے کہ زندہ پیدا ہوکر مرنے والے بچے کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی ، اسی طرح اس بچے کی بھی نماز ادا کی جائے گی جس نے پیدائش کے وقت آواز نکالی ہو۔
اختلاف اس میں ہے کہ جو بچہ مرا ہوا پیدا ہوا اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی یا نہیں ؟
اختلافی پہلو سے بچتے ہوئے موضوع کا نچوڑ پیش کرتا ہوں ۔
اگر بچہ روح پھونکنے کے بعد یعنی چار ماہ کے بعد پیدا ہو تواسے غسل دیا جائے گا، اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور اسے قبر میں دفن بھی کیا جائے گا چاہے مرا ہوا پیدا ہو۔
دلیل :
والسقط يصلى عليه ، ويدعى لوالديه بالمغفرة والرحمة (رواه أبو داوود صححه الألباني في صحيح الجامع/3525) .
ترجمہ : ساقط شدہ (یعنی نامکمل حمل گر جانے والے بچے)كى نماز جنازہ ادا كى جائيگى، اور اس كے والدين كے ليے مغفرت و رحمت كى دعا كى جائيگى ۔
لیکن جوحمل ( بچہ ) چار ماہ سے پہلے گر جائے تو اسے نہ غسل دیا جائے گا اور نہ ہی اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی بلکہ اسے کسی کپڑے میں لپیٹ کر دفن کردیا جائے گا کیونکہ اس میں روح ہی نہیں ۔
دلیل :
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:إِذَا اسْتَهَلَّ الصَّبِيُّ، صُلِّيَ عَلَيْهِ وَوُرِثَ(سنن الترمذی و ابن ماجہ)
ترجمہ: جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب بچہ (پیدائش کے وقت) زندگی کے آثار پائے جائیں ،تو اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی، اور وہ وارث بھی ہو گا۔
٭ اس حدیث کو علامہ البانی نے صحیح قرار دیا ہے ۔
وجہ استدلال : چونکہ چار ماہ سے قبل بچے میں روح ہی نہیں ہوتی تو پھر زندگی کے آثار کہاں سے پائے جائیں گے ، اس لئے چار ماہ سے پہلے گرنے والے بچے کی نماز جنازہ نہیں ۔
چند علماء کا موقف:
(1)عبد اللہ كہتے ہيں كہ ميرے والد سے مولود كے متعلق دريافت كيا گيا كہ اس كى نماز جنازہ كب ادا كى جائيگى ؟
تو ان كا جواب تھا:اگر چار ماہ كا حمل ساقط ہو جائے تو اس كى نماز جنازہ ادا كى جائيگى۔
كہا گيا: اگر وہ چيخ و پكار نہ بھى كرے تو پھر بھى اس كى نماز جنازہ ادا كى جائيگى ؟
انہوں نے جواب ديا: جى ہاں۔
(مسائل امام احمد التى رواھا ابنھا عبد اللہ 2 / 482 ،مسئلہ نمبر : 673 ).
(2)شیخ ابن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں جب بچہ روح پھونکنے کے بعد ماں کے پیٹ سے مردہ پیدا ہو اسے غسل وکفن دیا جائے اور اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے، دفن کیا جائے اور اس کا نام رکھا جائے۔(دائمی کمیٹی فتوی نمبر: 4884)
(3)شیخ صالح فوزان بن فوزان رحمہ اللہ لکھتے ہیں ماں کے پیٹ سے حمل اگر چار مہینے یا اس سے زیادہ پہ ساقط ہو تو اسے غسل دیا جائے گا ، اسے کفن دیا جائے گا اور اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی کیونکہ اس میں روح پھونکی جاچکی ہے ۔ (فقہ العبادات)
واللہ اعلم
======================
مقبول احمد سلفی
اس میں سب کا اتفاق ہے کہ زندہ پیدا ہوکر مرنے والے بچے کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی ، اسی طرح اس بچے کی بھی نماز ادا کی جائے گی جس نے پیدائش کے وقت آواز نکالی ہو۔
اختلاف اس میں ہے کہ جو بچہ مرا ہوا پیدا ہوا اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی یا نہیں ؟
اختلافی پہلو سے بچتے ہوئے موضوع کا نچوڑ پیش کرتا ہوں ۔
اگر بچہ روح پھونکنے کے بعد یعنی چار ماہ کے بعد پیدا ہو تواسے غسل دیا جائے گا، اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور اسے قبر میں دفن بھی کیا جائے گا چاہے مرا ہوا پیدا ہو۔
دلیل :
والسقط يصلى عليه ، ويدعى لوالديه بالمغفرة والرحمة (رواه أبو داوود صححه الألباني في صحيح الجامع/3525) .
ترجمہ : ساقط شدہ (یعنی نامکمل حمل گر جانے والے بچے)كى نماز جنازہ ادا كى جائيگى، اور اس كے والدين كے ليے مغفرت و رحمت كى دعا كى جائيگى ۔
لیکن جوحمل ( بچہ ) چار ماہ سے پہلے گر جائے تو اسے نہ غسل دیا جائے گا اور نہ ہی اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی بلکہ اسے کسی کپڑے میں لپیٹ کر دفن کردیا جائے گا کیونکہ اس میں روح ہی نہیں ۔
دلیل :
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:إِذَا اسْتَهَلَّ الصَّبِيُّ، صُلِّيَ عَلَيْهِ وَوُرِثَ(سنن الترمذی و ابن ماجہ)
ترجمہ: جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب بچہ (پیدائش کے وقت) زندگی کے آثار پائے جائیں ،تو اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی، اور وہ وارث بھی ہو گا۔
٭ اس حدیث کو علامہ البانی نے صحیح قرار دیا ہے ۔
وجہ استدلال : چونکہ چار ماہ سے قبل بچے میں روح ہی نہیں ہوتی تو پھر زندگی کے آثار کہاں سے پائے جائیں گے ، اس لئے چار ماہ سے پہلے گرنے والے بچے کی نماز جنازہ نہیں ۔
چند علماء کا موقف:
(1)عبد اللہ كہتے ہيں كہ ميرے والد سے مولود كے متعلق دريافت كيا گيا كہ اس كى نماز جنازہ كب ادا كى جائيگى ؟
تو ان كا جواب تھا:اگر چار ماہ كا حمل ساقط ہو جائے تو اس كى نماز جنازہ ادا كى جائيگى۔
كہا گيا: اگر وہ چيخ و پكار نہ بھى كرے تو پھر بھى اس كى نماز جنازہ ادا كى جائيگى ؟
انہوں نے جواب ديا: جى ہاں۔
(مسائل امام احمد التى رواھا ابنھا عبد اللہ 2 / 482 ،مسئلہ نمبر : 673 ).
(2)شیخ ابن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں جب بچہ روح پھونکنے کے بعد ماں کے پیٹ سے مردہ پیدا ہو اسے غسل وکفن دیا جائے اور اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے، دفن کیا جائے اور اس کا نام رکھا جائے۔(دائمی کمیٹی فتوی نمبر: 4884)
(3)شیخ صالح فوزان بن فوزان رحمہ اللہ لکھتے ہیں ماں کے پیٹ سے حمل اگر چار مہینے یا اس سے زیادہ پہ ساقط ہو تو اسے غسل دیا جائے گا ، اسے کفن دیا جائے گا اور اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی کیونکہ اس میں روح پھونکی جاچکی ہے ۔ (فقہ العبادات)
واللہ اعلم
Tuesday, August 30, 2016
نماز کی قدر و منزلت
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نماز کی قدر و منزلت
فرمانِ باری تعالیٰ ہے: وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اﷲِ فَاِنَّھَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوْبِ
جو شخص اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کی تعظیم کرتا ہے تو گویا اس کا دِل بہت متقی ہے(الحج)۔
علماء کرام کا اس بات پر اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ظاہر نشانیوں میں سے ایک بڑی نشانی نماز ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی بڑی اہمیت اور مقام ہے۔ یہ عبادت دیگر تمام عبادات سے بڑھ کر امتیازات و خصائص کی حامل ہے۔ کچھ خصوصیات ذیل میں درج ہیں:
1۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید پر ایمان رکھنے کے حکم کے بعد سب سے پہلے نماز کو فرض کیا تھا۔
2۔ توحید الٰہی کے بعد سب سے بڑھ کر عظمت نماز کو حاصل ہے۔ ارکانِ اسلام میں توحید کے بعد سب سے بڑا رکن نماز ہے۔ حج زکوٰۃ، روزہ کا نمبر نماز کے بعد آتا ہے۔
3۔ مسلمان کا سب سے بہترین عمل نماز ہے۔ فرمانِ نبویصلی اللہ علیہ و سلم ہے کہ ’’خوب جان لو تمہارا بہترین عمل نماز ہے‘‘۔ (مسند احمد۔ صححہ الالبانی)۔
4۔ معراج کے موقع پر آسمانوں میں نماز فرض کی گئی تھی۔ دیگر تمام ارکان زمین پر فرض کئے گئے تھے۔
5۔ نماز کو تمام رسولوں اور نبیوں پر فرض کیا گیا ہے بلکہ آسمانوں اور زمین دونوں پر عبادت اسی طریقے سے کی جاتی ہے۔
6۔ بچوں کو چھوٹی عمر میں نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جس طرح کہ حدیث ہے: ’’اپنی اولاد کو سات برس کی عمر میں نماز پڑھنے کا حکم دو‘‘ (ابوداؤد،مسند احمد)۔
7۔ پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی آخری وصیت بھی نماز کے متعلق تھی۔ جیسا کہ مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے آخری حکم جو دیا تو وہ یہ تھا کہ ’’نماز، نماز اور غلاموں کا خیال کرنا‘‘۔ (نسائی، مسند احمد وغیرہ)۔
8۔ یہ ایسا فریضہ ہے جو کسی مسلم پر کبھی بھی ساقط نہیں ہوتا۔ علاوہ حائضہ اور نفاس والی عورت کے۔ مسافر، بیمار اور حالت خوف والے کو حسب استطاعت نماز پڑھنے کا حکم ہے۔ اس کے برعکس روزے، زکوٰۃ اور حج، عذر کی حالت میں فرض نہیں رہتے۔
9۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے نماز کے ترک کے علاوہ کفر کا حکم کسی اور چیز کے ترک پر مروی نہیں ہے۔
10۔ نماز ایک ایسا عمل ہے جو دین میں آخر تک چلے گا۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ ’’لوگوں کا آخری دینی عمل نماز باقی رہے گا‘‘ (صحیح الجامع۔ البانی)۔
11۔ اللہ تعالیٰ نے نماز کا نام ایمان رکھا ہے۔ جیسا کہ فرمانِ الٰہی ہے:
وَ مَا کَانَ اﷲُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَکُمْ
اور اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان کو ضائع نہیں کرے گا۔ (البقرۃ:)۔
12۔ انسان سجدے کی حالت میں اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔
13۔ جنت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ساتھ پانے کا ذریعہ، سب سے بڑھ کر نماز ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے جنت میں رفاقت کا سوال کرنے والے کو فرمایا گیا کہ ’’تم میری مدد کثرتِ سجود سے کرو‘‘ (مسلم)
14۔ قیامت کے دن مومنوں اور منافقوں کا فرق سجدے سے واضح ہو گا۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:
یَوْمَ یُکْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّ یُدْعَوْنَ اِلَی السُّجُوْدِ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ
جس دن اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی ظاہر کرے گا تو (لوگوں کو) سجدے کی دعوت دی جائے گی (تو منافق لوگ) سجدہ نہ کر سکیں گے۔ (القلم)۔
15۔ اُمت محمدیہ کی سب سے واضح ترین علامت نماز ہو گی۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’بے شک میری اُمت کو قیامت کے دن پکارا جائے گا۔ ان کے وضو کے اعضاء چمک رہے ہوں گے‘‘ (بخاری و مسلم)۔
16۔ نمازی کو نماز جہنم کی آگ سے بچائے گی۔ اگرچہ یہ نمازی جہنم میں داخل کیوں نہ ہو جائے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کا اِرشاد ہے کہ: ’’اللہ تعالیٰ نے آگ پر حرام کر دیا ہے کہ وہ سجدے کے نشانات کو کھائے‘‘ (متفق علیہ)۔
17۔ مسلمانوں کو فواحش، برائیوں اور جرائم سے روکنے کا بڑا سبب نماز ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْکَرِ
بے شک نماز، فحاشی اور برائی سے روکتی ہے (العنکبوت:)۔
18۔ جان و مال کی حفاظت، ایمان لانے کے بعد سب سے زیادہ نماز سے ہوتی ہے۔ فرمان الٰہی ہے:
فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ ٰاتَوُا الزَّکٰوۃَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَھُمْ
اگر یہ توبہ کر لیں اور نماز کو قائم کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو (التوبہ:)۔
اور اسی طرح حدیث میں فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم ہے: ’’بے شک مجھے نمازیوں کے قتل سے منع کیا گیا ہے‘‘ (ابوداؤد، مسند احمد)۔
19۔ اللہ تعالیٰ نے نماز کے ذریعے مدد طلب کرنے کا حکم دیا ہے۔ فرمان ہے:
وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوۃِ وَ اِنَّھَا لَکَبِیْرَۃٌ اِلَّا عَلَی الْخٰشِعِیْنَ (البقرہ)
اور تم مدد طلب کرو، صبر اور نماز کے ساتھ، بے شک یہ بھاری ہے مگر ڈرنے والوں کے لئے نہیں۔
20۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو جب کبھی کوئی بڑا معاملہ پیش آتا یا آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر گبھراہٹ طاری ہوتی تو آپ نماز کی طرف فوراً چلے جاتے تھے (ابوداؤد۔ مسند احمد)۔
21۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم جب بلال رضی اللہ عنہ کو نماز کا حکم دیتے تو یوں فرماتے تھے: ’’اے بلال: کھڑے ہو جاؤ اور ہمیں نماز سے سکون پہنچاؤ (یعنی اذان دو)‘‘۔ (ابوداؤد، مسند احمد)۔
22۔ فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم ہے: ’’میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز ہے‘‘۔ (احمد)۔
23۔ نماز، تمام اعمال کے مقابلے میں ایک ترازو کی حیثیت رکھتی ہے۔ سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ کا اِرشاد ہے کہ: ’’جو شخص نماز کی حفاظت کرتا ہے تو وہ دیگر اعمال کی بھی حفاظت کرے گا۔ اور جو شخص نماز کو ضائع کرتا ہے تو وہ دیگر اعمال کو بھی ضائع کرے گا۔
24۔ جو شخص اپنا مقام و منزلت، اللہ تعالیٰ کے حضور دیکھنا چاہے تو وہ اپنا مقام نماز کے مطابق دیکھئے۔( قولِ امام احمد)۔
25۔ اللہ تعالیٰ کی توحید، تعظیم، تکبیر اور حمد و ثنائ، انسان کی عاجزی و انکساری ان تمام اُمور کا مجموعہ نماز ہے۔
26۔ نماز میں بندے اور پروردگار میں مناجات کا سلسلہ بھی رکھا گیا ہے۔ جب بندہ کہتا ہے کہ ’’الرحمن الرحیم‘‘ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’میرے بندے نے میری تعریف بیان کی‘‘۔ ’’مالک یوم الدین‘‘ کہنے پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’’میرے بندے نے میری عظمت بیان کی‘‘ (مفہوم صحیح مسلم)۔ اور ایک مقام پر فرمایا: ’’بے شک تم میں سے کوئی جب ایک نماز پڑھتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کر رہا ہوتا ہے‘‘۔ (بخاری و مسلم)۔
27۔ قیامت کے دن سب سے پہلے حساب و کتاب نماز کی بابت ہو گا۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ ’’اگر نماز کا معاملہ درست ہوا تو سارے اعمال درست ہو جائیں گے اور اگر نماز کا معاملہ بگڑا تو سارے اعمال بگڑ جائیں گے‘‘ (ابوداؤد)۔
28۔ نماز گناہوں سے بخشش کا بڑا سبب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ’’جو بھی مسلمان، فرض نماز پڑھنے کے لئے اچھے طریقے سے وضو کرے اور خشوع و خضوع سے رکوع سجود کرے تو اس کا یہ عمل اس کے تمام گذشتہ گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔ بشرطیکہ وہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرے۔ اور یہ (ثواب) تمام عمر کے لئے ہے‘‘ـ (ابوداؤد)۔
29۔ دنیا و آخرت کی فلاح و خیر کا بڑا سبب نماز ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے کہ: ’’تحقیق وہ مومن فلاح پا گئے جو اپنی نمازوں میں خشوع و خضوع کرتے ہیں‘‘ (المومنون)۔
30۔ تزکیہ نفس کے لئے نماز بڑا اہم ذریعہ ہے۔ انسان کو جزع فزع، بخیلی اور برے اخلاق سے بچاتی ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے: ’’بے شک انسان بڑا بے صبرا ہے۔ جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو وہ جزع فزع کرنے لگتا ہے۔ اور جب خیر ملتی ہے تو (لوگوں کو دینے) سے منع کر دیتا ہے۔ مگر نماز پڑھنے والے (ایسے نہیں ہوتے) ۔ (سورہ معارج)۔
31۔ رزق کی کنجیوں میں ایک بڑی کنجی نماز ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے: ’’اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور اس پر ڈٹے رہو۔ ہم تم سے رزق کا سوال نہیں کرتے بلکہ رزق دینے والے ہم ہیں۔ اور عاقبت تو تقوی والوں کے لئے ہے‘‘۔ (سورہ طہ)۔
32۔ جو شخص نماز کی محافظت کرتا ہے تو اس کا اللہ پر حق ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’پانچ نمازیں اللہ تعالیٰ نے فرض کی ہیں۔ جو شخص ان نمازوں میں، بہترین وضو کرے۔ اپنے اپنے اوقات پر نماز پڑھے۔ مکمل رکوع کرے۔ عاجزی کے ساتھ پڑھے۔ تو اس کا اللہ تعالیٰ پر حق بنتا ہے کہ اللہ اس کو معاف فرما دے۔ اور جو ایسا نہ کرے گا تو اس کا کوئی حق نہیں بنے گا۔ اگر اللہ چاہے تو بخش دے، نہ چاہے تو نہ بخشے‘‘۔ (ابوداؤد مسند احمد)۔
33۔ نماز پڑھتے وقت کسی دوسرے کام میں مشغول نہیں ہوا جا سکتا۔ فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم ہے کہ ’’بے شک نماز کی اپنی ایک خاص مشغولیت ہے‘‘ (بخاری و مسلم)۔
34۔ فرمان ہے کہ ’’رأس الامر اسلام ہے، ستون نماز ہے اور کوہان کی بلندی جہاد سے ہے‘‘۔(سنن ترمذی، مسند احمد)۔ یعنی اس دین کا بنیادی معاملہ تو اسلام ہے اور ستون کی حیثیت نماز کو حاصل ہے۔ اور دین کی سربلندی جہاد سے حاصل ہوتی ہے۔
35۔ اس عبادت کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو شرائط رکھی ہیں وہ کسی اور عبادت میں نہیں پائی جاتیں مثلاً مکمل پاکیزگی، صاف ستھرا لباس، قبلہ کی طرف منہ کرنا وغیرہ۔
36۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو اس عبادت پر ڈٹے رہنے کا حکم دیا ہے۔
37۔ دنیا میں آنے والے بچے کو سب سے پہلے نماز کی خبر ملتی ہے یعنی اس کی کان میں اذان دی جاتی ہے۔ اور مسلم کا دنیا سے آخری الوداعی معاملہ بھی نماز سے ہوتا ہے۔ یعنی کہ نمازِ جنازہ ادا کی جاتی ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ؎
اذان بعد ولادت، نماز بعد وفات
بس اتنی سی زندگی ہے اس جہان کے لئے
38۔ قیامت کے دن جہنمیوں کی پہلی حسرت نماز چھوڑنے کے بارے میں ہوگی۔ فرمانِ الٰہی ہے:
مَا سَلَکَکُمْ فِیْ سَقَرَ قَالُوْا لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَ (المدثر)
ان سے پوچھا جائے گا کہ کس وجہ سے تم جہنم میں ڈالے گئے تو یہ کہیں گے کہ ہم نماز نہیں پڑھتے تھے۔
39۔ جو نماز کی حفاظت کرے گا تو یہ نماز اس کے لئے نور، برھان اور باعث نجات ہو گی۔ فرمانِ رسول : ’’جو شخص نماز کی حفاظت کرتا ہے تو یہ نماز اس کے لئے نور، برھان اور قیامت کے دن نجات کا ذریعہ ہو گی۔ جو حفاظت نہ کرے گا تو یہ نماز نہ تو اس کے لئے نور بنے گی نہ دلیل اور نہ باعث نجات ہو گی بلکہ بے نمازی قیامت کے دن قارون، فرعون، ہامان، ابی بن خلف کے ساتھ ہو گا‘‘۔ (مسند احمد، ابن حبان) ۔
ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں سچا پکا نمازی بنائے آمین۔
نماز کی قدر و منزلت
فرمانِ باری تعالیٰ ہے: وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اﷲِ فَاِنَّھَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوْبِ
جو شخص اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کی تعظیم کرتا ہے تو گویا اس کا دِل بہت متقی ہے(الحج)۔
علماء کرام کا اس بات پر اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ظاہر نشانیوں میں سے ایک بڑی نشانی نماز ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی بڑی اہمیت اور مقام ہے۔ یہ عبادت دیگر تمام عبادات سے بڑھ کر امتیازات و خصائص کی حامل ہے۔ کچھ خصوصیات ذیل میں درج ہیں:
1۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید پر ایمان رکھنے کے حکم کے بعد سب سے پہلے نماز کو فرض کیا تھا۔
2۔ توحید الٰہی کے بعد سب سے بڑھ کر عظمت نماز کو حاصل ہے۔ ارکانِ اسلام میں توحید کے بعد سب سے بڑا رکن نماز ہے۔ حج زکوٰۃ، روزہ کا نمبر نماز کے بعد آتا ہے۔
3۔ مسلمان کا سب سے بہترین عمل نماز ہے۔ فرمانِ نبویصلی اللہ علیہ و سلم ہے کہ ’’خوب جان لو تمہارا بہترین عمل نماز ہے‘‘۔ (مسند احمد۔ صححہ الالبانی)۔
4۔ معراج کے موقع پر آسمانوں میں نماز فرض کی گئی تھی۔ دیگر تمام ارکان زمین پر فرض کئے گئے تھے۔
5۔ نماز کو تمام رسولوں اور نبیوں پر فرض کیا گیا ہے بلکہ آسمانوں اور زمین دونوں پر عبادت اسی طریقے سے کی جاتی ہے۔
6۔ بچوں کو چھوٹی عمر میں نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جس طرح کہ حدیث ہے: ’’اپنی اولاد کو سات برس کی عمر میں نماز پڑھنے کا حکم دو‘‘ (ابوداؤد،مسند احمد)۔
7۔ پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی آخری وصیت بھی نماز کے متعلق تھی۔ جیسا کہ مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے آخری حکم جو دیا تو وہ یہ تھا کہ ’’نماز، نماز اور غلاموں کا خیال کرنا‘‘۔ (نسائی، مسند احمد وغیرہ)۔
8۔ یہ ایسا فریضہ ہے جو کسی مسلم پر کبھی بھی ساقط نہیں ہوتا۔ علاوہ حائضہ اور نفاس والی عورت کے۔ مسافر، بیمار اور حالت خوف والے کو حسب استطاعت نماز پڑھنے کا حکم ہے۔ اس کے برعکس روزے، زکوٰۃ اور حج، عذر کی حالت میں فرض نہیں رہتے۔
9۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے نماز کے ترک کے علاوہ کفر کا حکم کسی اور چیز کے ترک پر مروی نہیں ہے۔
10۔ نماز ایک ایسا عمل ہے جو دین میں آخر تک چلے گا۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ ’’لوگوں کا آخری دینی عمل نماز باقی رہے گا‘‘ (صحیح الجامع۔ البانی)۔
11۔ اللہ تعالیٰ نے نماز کا نام ایمان رکھا ہے۔ جیسا کہ فرمانِ الٰہی ہے:
وَ مَا کَانَ اﷲُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَکُمْ
اور اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان کو ضائع نہیں کرے گا۔ (البقرۃ:)۔
12۔ انسان سجدے کی حالت میں اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔
13۔ جنت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ساتھ پانے کا ذریعہ، سب سے بڑھ کر نماز ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے جنت میں رفاقت کا سوال کرنے والے کو فرمایا گیا کہ ’’تم میری مدد کثرتِ سجود سے کرو‘‘ (مسلم)
14۔ قیامت کے دن مومنوں اور منافقوں کا فرق سجدے سے واضح ہو گا۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:
یَوْمَ یُکْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّ یُدْعَوْنَ اِلَی السُّجُوْدِ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ
جس دن اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی ظاہر کرے گا تو (لوگوں کو) سجدے کی دعوت دی جائے گی (تو منافق لوگ) سجدہ نہ کر سکیں گے۔ (القلم)۔
15۔ اُمت محمدیہ کی سب سے واضح ترین علامت نماز ہو گی۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’بے شک میری اُمت کو قیامت کے دن پکارا جائے گا۔ ان کے وضو کے اعضاء چمک رہے ہوں گے‘‘ (بخاری و مسلم)۔
16۔ نمازی کو نماز جہنم کی آگ سے بچائے گی۔ اگرچہ یہ نمازی جہنم میں داخل کیوں نہ ہو جائے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کا اِرشاد ہے کہ: ’’اللہ تعالیٰ نے آگ پر حرام کر دیا ہے کہ وہ سجدے کے نشانات کو کھائے‘‘ (متفق علیہ)۔
17۔ مسلمانوں کو فواحش، برائیوں اور جرائم سے روکنے کا بڑا سبب نماز ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْکَرِ
بے شک نماز، فحاشی اور برائی سے روکتی ہے (العنکبوت:)۔
18۔ جان و مال کی حفاظت، ایمان لانے کے بعد سب سے زیادہ نماز سے ہوتی ہے۔ فرمان الٰہی ہے:
فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ ٰاتَوُا الزَّکٰوۃَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَھُمْ
اگر یہ توبہ کر لیں اور نماز کو قائم کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو (التوبہ:)۔
اور اسی طرح حدیث میں فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم ہے: ’’بے شک مجھے نمازیوں کے قتل سے منع کیا گیا ہے‘‘ (ابوداؤد، مسند احمد)۔
19۔ اللہ تعالیٰ نے نماز کے ذریعے مدد طلب کرنے کا حکم دیا ہے۔ فرمان ہے:
وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوۃِ وَ اِنَّھَا لَکَبِیْرَۃٌ اِلَّا عَلَی الْخٰشِعِیْنَ (البقرہ)
اور تم مدد طلب کرو، صبر اور نماز کے ساتھ، بے شک یہ بھاری ہے مگر ڈرنے والوں کے لئے نہیں۔
20۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو جب کبھی کوئی بڑا معاملہ پیش آتا یا آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر گبھراہٹ طاری ہوتی تو آپ نماز کی طرف فوراً چلے جاتے تھے (ابوداؤد۔ مسند احمد)۔
21۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم جب بلال رضی اللہ عنہ کو نماز کا حکم دیتے تو یوں فرماتے تھے: ’’اے بلال: کھڑے ہو جاؤ اور ہمیں نماز سے سکون پہنچاؤ (یعنی اذان دو)‘‘۔ (ابوداؤد، مسند احمد)۔
22۔ فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم ہے: ’’میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز ہے‘‘۔ (احمد)۔
23۔ نماز، تمام اعمال کے مقابلے میں ایک ترازو کی حیثیت رکھتی ہے۔ سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ کا اِرشاد ہے کہ: ’’جو شخص نماز کی حفاظت کرتا ہے تو وہ دیگر اعمال کی بھی حفاظت کرے گا۔ اور جو شخص نماز کو ضائع کرتا ہے تو وہ دیگر اعمال کو بھی ضائع کرے گا۔
24۔ جو شخص اپنا مقام و منزلت، اللہ تعالیٰ کے حضور دیکھنا چاہے تو وہ اپنا مقام نماز کے مطابق دیکھئے۔( قولِ امام احمد)۔
25۔ اللہ تعالیٰ کی توحید، تعظیم، تکبیر اور حمد و ثنائ، انسان کی عاجزی و انکساری ان تمام اُمور کا مجموعہ نماز ہے۔
26۔ نماز میں بندے اور پروردگار میں مناجات کا سلسلہ بھی رکھا گیا ہے۔ جب بندہ کہتا ہے کہ ’’الرحمن الرحیم‘‘ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’میرے بندے نے میری تعریف بیان کی‘‘۔ ’’مالک یوم الدین‘‘ کہنے پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’’میرے بندے نے میری عظمت بیان کی‘‘ (مفہوم صحیح مسلم)۔ اور ایک مقام پر فرمایا: ’’بے شک تم میں سے کوئی جب ایک نماز پڑھتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کر رہا ہوتا ہے‘‘۔ (بخاری و مسلم)۔
27۔ قیامت کے دن سب سے پہلے حساب و کتاب نماز کی بابت ہو گا۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ ’’اگر نماز کا معاملہ درست ہوا تو سارے اعمال درست ہو جائیں گے اور اگر نماز کا معاملہ بگڑا تو سارے اعمال بگڑ جائیں گے‘‘ (ابوداؤد)۔
28۔ نماز گناہوں سے بخشش کا بڑا سبب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ’’جو بھی مسلمان، فرض نماز پڑھنے کے لئے اچھے طریقے سے وضو کرے اور خشوع و خضوع سے رکوع سجود کرے تو اس کا یہ عمل اس کے تمام گذشتہ گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔ بشرطیکہ وہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرے۔ اور یہ (ثواب) تمام عمر کے لئے ہے‘‘ـ (ابوداؤد)۔
29۔ دنیا و آخرت کی فلاح و خیر کا بڑا سبب نماز ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے کہ: ’’تحقیق وہ مومن فلاح پا گئے جو اپنی نمازوں میں خشوع و خضوع کرتے ہیں‘‘ (المومنون)۔
30۔ تزکیہ نفس کے لئے نماز بڑا اہم ذریعہ ہے۔ انسان کو جزع فزع، بخیلی اور برے اخلاق سے بچاتی ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے: ’’بے شک انسان بڑا بے صبرا ہے۔ جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو وہ جزع فزع کرنے لگتا ہے۔ اور جب خیر ملتی ہے تو (لوگوں کو دینے) سے منع کر دیتا ہے۔ مگر نماز پڑھنے والے (ایسے نہیں ہوتے) ۔ (سورہ معارج)۔
31۔ رزق کی کنجیوں میں ایک بڑی کنجی نماز ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے: ’’اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور اس پر ڈٹے رہو۔ ہم تم سے رزق کا سوال نہیں کرتے بلکہ رزق دینے والے ہم ہیں۔ اور عاقبت تو تقوی والوں کے لئے ہے‘‘۔ (سورہ طہ)۔
32۔ جو شخص نماز کی محافظت کرتا ہے تو اس کا اللہ پر حق ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’پانچ نمازیں اللہ تعالیٰ نے فرض کی ہیں۔ جو شخص ان نمازوں میں، بہترین وضو کرے۔ اپنے اپنے اوقات پر نماز پڑھے۔ مکمل رکوع کرے۔ عاجزی کے ساتھ پڑھے۔ تو اس کا اللہ تعالیٰ پر حق بنتا ہے کہ اللہ اس کو معاف فرما دے۔ اور جو ایسا نہ کرے گا تو اس کا کوئی حق نہیں بنے گا۔ اگر اللہ چاہے تو بخش دے، نہ چاہے تو نہ بخشے‘‘۔ (ابوداؤد مسند احمد)۔
33۔ نماز پڑھتے وقت کسی دوسرے کام میں مشغول نہیں ہوا جا سکتا۔ فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم ہے کہ ’’بے شک نماز کی اپنی ایک خاص مشغولیت ہے‘‘ (بخاری و مسلم)۔
34۔ فرمان ہے کہ ’’رأس الامر اسلام ہے، ستون نماز ہے اور کوہان کی بلندی جہاد سے ہے‘‘۔(سنن ترمذی، مسند احمد)۔ یعنی اس دین کا بنیادی معاملہ تو اسلام ہے اور ستون کی حیثیت نماز کو حاصل ہے۔ اور دین کی سربلندی جہاد سے حاصل ہوتی ہے۔
35۔ اس عبادت کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو شرائط رکھی ہیں وہ کسی اور عبادت میں نہیں پائی جاتیں مثلاً مکمل پاکیزگی، صاف ستھرا لباس، قبلہ کی طرف منہ کرنا وغیرہ۔
36۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو اس عبادت پر ڈٹے رہنے کا حکم دیا ہے۔
37۔ دنیا میں آنے والے بچے کو سب سے پہلے نماز کی خبر ملتی ہے یعنی اس کی کان میں اذان دی جاتی ہے۔ اور مسلم کا دنیا سے آخری الوداعی معاملہ بھی نماز سے ہوتا ہے۔ یعنی کہ نمازِ جنازہ ادا کی جاتی ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ؎
اذان بعد ولادت، نماز بعد وفات
بس اتنی سی زندگی ہے اس جہان کے لئے
38۔ قیامت کے دن جہنمیوں کی پہلی حسرت نماز چھوڑنے کے بارے میں ہوگی۔ فرمانِ الٰہی ہے:
مَا سَلَکَکُمْ فِیْ سَقَرَ قَالُوْا لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَ (المدثر)
ان سے پوچھا جائے گا کہ کس وجہ سے تم جہنم میں ڈالے گئے تو یہ کہیں گے کہ ہم نماز نہیں پڑھتے تھے۔
39۔ جو نماز کی حفاظت کرے گا تو یہ نماز اس کے لئے نور، برھان اور باعث نجات ہو گی۔ فرمانِ رسول : ’’جو شخص نماز کی حفاظت کرتا ہے تو یہ نماز اس کے لئے نور، برھان اور قیامت کے دن نجات کا ذریعہ ہو گی۔ جو حفاظت نہ کرے گا تو یہ نماز نہ تو اس کے لئے نور بنے گی نہ دلیل اور نہ باعث نجات ہو گی بلکہ بے نمازی قیامت کے دن قارون، فرعون، ہامان، ابی بن خلف کے ساتھ ہو گا‘‘۔ (مسند احمد، ابن حبان) ۔
ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں سچا پکا نمازی بنائے آمین۔
Monday, August 8, 2016
امام کے پیچھے سرہ فاتحہ کو دل میں پڑھو
امام کے پیچھے سرہ فاتحہ کو دل میں پڑھو
^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^
Book Name
صحیح مسلم
Kitab Name
نماز کا بیان
Baab
ہر رکعت میں سورت فاتحہ پڑھنے کے وجوب اور جب تک فاتحہ کا پڑھنا یا سیکھنا ممکن نہ ہو تو اس کو جو آسان ہو فاتحہ کے علاوہ پڑھ لینے کے بیان میں
Hadees Number
778
حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَلَّی صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ ثَلَاثًا غَيْرُ تَمَامٍ فَقِيلَ لِأَبِي هُرَيْرَةَ إِنَّا نَکُونُ وَرَائَ الْإِمَامِ فَقَالَ اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِکَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَالَ اللَّهُ تَعَالَی قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ فَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ قَالَ اللَّهُ تَعَالَی حَمِدَنِي عَبْدِي وَإِذَا قَالَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَی أَثْنَی عَلَيَّ عَبْدِي وَإِذَا قَالَ مَالِکِ يَوْمِ الدِّينِ قَالَ مَجَّدَنِي عَبْدِي وَقَالَ مَرَّةً فَوَّضَ إِلَيَّ عَبْدِي فَإِذَا قَالَ إِيَّاکَ نَعْبُدُ وَإِيَّاکَ نَسْتَعِينُ قَالَ هَذَا بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ فَإِذَا قَالَ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ قَالَ هَذَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ قَالَ سُفْيَانُ حَدَّثَنِي بِهِ الْعَلَائُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ مَرِيضٌ فِي بَيْتِهِ فَسَأَلْتُهُ أَنَا عَنْه
ترجمہ
ُ
اسحاق بن ابرہیم، سفیان بن عیینہ، علاء بن عبدالرحمن، ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے نماز ادا کی اور اس میں ام القرآن نہ پڑھی تو اس کی نماز ناقص ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ یہی فرمایا اور ناتمام ہے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا گیا ہے ہم بعض اوقات امام کے پیچھے ہوتے ہیں تو آپ نے فرمایا فاتحہ کو دل میں پڑھو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے کہ اللہ عز وجل فرماتے ہیں کہ نماز یعنی سورت فاتحہ میرے اور میرے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کر دی گئی ہے اور میرے بندے کے لئے وہ ہے جو وہ مانگے جب بندہ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے نے میری حمد بیان کی اور جب وہ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ کہتا ہے تو اللہ فرماتا ہے میرے بندے نے میری تعریف بیان کی اور جب وہ مَالِکِ يَوْمِ الدِّينِ کہتا ہے تو اللہ فرماتا ہے میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی اور ایک بار فرماتا ہے میرے بندے نے اپنے سب کام میرے سپرد کر دئیے اور جب وہ إِيَّاکَ نَعْبُدُ وَإِيَّاکَ نَسْتَعِينُ کہتا ہے تو اللہ فرماتا ہے کہ یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور بندے کے لئے وہ ہے جو اس نے مانگا ہے جب وہ (اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ) کہتا ہے تو اللہ عزوجل فرماتا ہے یہ میرے بندے کے لئے ہے اور میرے بندے کے لئے وہ ہے جو اس نے مانگا۔
^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^
Book Name
صحیح مسلم
Kitab Name
نماز کا بیان
Baab
ہر رکعت میں سورت فاتحہ پڑھنے کے وجوب اور جب تک فاتحہ کا پڑھنا یا سیکھنا ممکن نہ ہو تو اس کو جو آسان ہو فاتحہ کے علاوہ پڑھ لینے کے بیان میں
Hadees Number
778
حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَلَّی صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ ثَلَاثًا غَيْرُ تَمَامٍ فَقِيلَ لِأَبِي هُرَيْرَةَ إِنَّا نَکُونُ وَرَائَ الْإِمَامِ فَقَالَ اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِکَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَالَ اللَّهُ تَعَالَی قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ فَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ قَالَ اللَّهُ تَعَالَی حَمِدَنِي عَبْدِي وَإِذَا قَالَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَی أَثْنَی عَلَيَّ عَبْدِي وَإِذَا قَالَ مَالِکِ يَوْمِ الدِّينِ قَالَ مَجَّدَنِي عَبْدِي وَقَالَ مَرَّةً فَوَّضَ إِلَيَّ عَبْدِي فَإِذَا قَالَ إِيَّاکَ نَعْبُدُ وَإِيَّاکَ نَسْتَعِينُ قَالَ هَذَا بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ فَإِذَا قَالَ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ قَالَ هَذَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ قَالَ سُفْيَانُ حَدَّثَنِي بِهِ الْعَلَائُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ مَرِيضٌ فِي بَيْتِهِ فَسَأَلْتُهُ أَنَا عَنْه
ترجمہ
ُ
اسحاق بن ابرہیم، سفیان بن عیینہ، علاء بن عبدالرحمن، ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے نماز ادا کی اور اس میں ام القرآن نہ پڑھی تو اس کی نماز ناقص ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ یہی فرمایا اور ناتمام ہے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا گیا ہے ہم بعض اوقات امام کے پیچھے ہوتے ہیں تو آپ نے فرمایا فاتحہ کو دل میں پڑھو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے کہ اللہ عز وجل فرماتے ہیں کہ نماز یعنی سورت فاتحہ میرے اور میرے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کر دی گئی ہے اور میرے بندے کے لئے وہ ہے جو وہ مانگے جب بندہ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے نے میری حمد بیان کی اور جب وہ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ کہتا ہے تو اللہ فرماتا ہے میرے بندے نے میری تعریف بیان کی اور جب وہ مَالِکِ يَوْمِ الدِّينِ کہتا ہے تو اللہ فرماتا ہے میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی اور ایک بار فرماتا ہے میرے بندے نے اپنے سب کام میرے سپرد کر دئیے اور جب وہ إِيَّاکَ نَعْبُدُ وَإِيَّاکَ نَسْتَعِينُ کہتا ہے تو اللہ فرماتا ہے کہ یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور بندے کے لئے وہ ہے جو اس نے مانگا ہے جب وہ (اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ) کہتا ہے تو اللہ عزوجل فرماتا ہے یہ میرے بندے کے لئے ہے اور میرے بندے کے لئے وہ ہے جو اس نے مانگا۔
Sunday, August 7, 2016
چھ یا سات سال کے عمرمیں امامت کرانا
چھ یا سات سال کے عمرمیں امامت کرانا
/^^^^^^^^^^^^^^^^^^^'
Book Name
صحیح بخاری شریف
Kitab Name
کتاب غزوات کے بیان میں
Baab
۔ ۔ ۔
Hadees Number
4302
حدثنا سليمان بن حرب ، حدثنا حماد بن زيد ، عن أيوب ، عن أبي قلابة ، عن عمرو بن سلمة ، قال قال لي أبو قلابة ألا تلقاه فتسأله ، قال فلقيته فسألته فقال كنا بماء ممر الناس ، وكان يمر بنا الركبان فنسألهم ما للناس ما للناس ما هذا الرجل فيقولون يزعم أن الله أرسله أوحى إليه ، أو أوحى الله بكذا. فكنت أحفظ ذلك الكلام ، وكأنما يغرى في صدري ، وكانت العرب تلوم بإسلامهم الفتح ، فيقولون اتركوه وقومه ، فإنه إن ظهر عليهم فهو نبي صادق. فلما كانت وقعة أهل الفتح بادر كل قوم بإسلامهم ، وبدر أبي قومي بإسلامهم ، فلما قدم قال جئتكم والله من عند النبي صلى الله عليه وسلم حقا فقال " صلوا صلاة كذا في حين كذا ، وصلوا كذا في حين كذا ، فإذا حضرت الصلاة ، فليؤذن أحدكم ، وليؤمكم أكثركم قرآنا ". فنظروا فلم يكن أحد أكثر قرآنا مني ، لما كنت أتلقى من الركبان ، فقدموني بين أيديهم ، وأنا ابن ست أو سبع ، سنين وكانت على بردة ، كنت إذا سجدت تقلصت عني ، فقالت امرأة من الحى ألا تغطوا عنا است قارئكم. فاشتروا فقطعوا لي قميصا ، فما فرحت بشىء فرحي بذلك القميص.
ترجمہ
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ایوبسختیانی نے اور ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے عمروبنسلمہ رضی اللہ عنہ نے ‘ ایوب نے کہا کہ مجھ سے ابوقلابہ نے کہا ‘ عمروبنسلمہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ قصہ کیوں نہیں پوچھتے ؟ ابوقلابہ نے کہا کہ پھر میں ان کی خدمت میں گیا اور ان سے سوال کیا ‘ انہوں نے کہا کہ جاہلیت میں ہمارا قیام ایک چشمہ پر تھا جہاں عام راستہ تھا ۔ سوار ہمارے قریب سے گزرتے تو ہم ان سے پوچھتے ‘ لوگوں کا کیا خیال ہے ‘ اس شخص کا کیا معاملہ ہے ؟ ( یہ اشارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہوتا تھا ۔ ) لوگ بتاتے کہ وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے انہیں اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے اور اللہ ان پر وحی نازل کرتا ہے ‘ یا اللہ نے ان پر وحی نازل کی ہے ( وہ قرآن کی کوئی آیت سناتے ) میں وہ فوراً یاد کر لیتا ‘ ان کی باتیں میرے دل کو لگتی تھیں ۔ ادھر سارے عرب والے فتح مکہ پر اپنے اسلام کو موقوف کئے ہوئے تھے ۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ اس نبی کو اور اس کی قوم ( قریش ) کو نمٹنے دو ‘ اگر وہ ان پر غالب آ گئے تو پھر واقعی وہ سچے نبی ہیں ۔ چنانچہ جب مکہ فتح ہو گیا توہر قوم نے اسلام لانے میں پہل کی اور میرے والد نے بھی میری قوم کے اسلام میں جلدی کی ۔ پھر جب ( مدینہ ) سے واپس آئے تو کہا کہ میں خدا کی قسم ایک سچے نبی کے پاس سے آ رہا ہوں ۔ انہوں نے فرمایا ہے کہ فلاں نماز اس طرح فلاں وقت پڑھاکرو اور جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے کوئی ایک شخص اذان دے اور امامت وہ کرے جسے قرآن سب سے زیادہ یاد ہو ۔ لوگوں نے اندازہ کیا کہ کسے قرآن سب سے زیادہ یاد ہے تو کوئی شخص ان کے قبیلے میں مجھ سے زیادہ قرآن یادکرنے والاا نہیں نہیں ملا ۔ کیونکہ میں آنے جانے والے سواروں سے سن کر قرآنمجید یاد کر لیا کرتا تھا ۔ اس لیے مجھے لوگوں نے امام بنایا ۔ حالانکہ اس وقت میری عمر چھ یا سات سال کی تھی اور میرے پاس ایک ہی چادر تھی ‘ جب میں ( اسے لپیٹ کر ) سجدہ کرتا تو اوپر ہو جاتی ( اور پیچھے کی جگہ ) کھل جاتی ۔ اس قبیلہ کی ایک عورت نے کہا ‘ تم اپنے قاری کا چو تڑ تو پہلے چھپا دو ۔ آ خر انہوں نے کپڑا خریدا اور میرے لیے ایک قمیص بنائی ، میں جتنا خوش اس قمیص سے ہوا اتنا کسی اور چیز سے نہیں ہوا تھا ۔
/^^^^^^^^^^^^^^^^^^^'
Book Name
صحیح بخاری شریف
Kitab Name
کتاب غزوات کے بیان میں
Baab
۔ ۔ ۔
Hadees Number
4302
حدثنا سليمان بن حرب ، حدثنا حماد بن زيد ، عن أيوب ، عن أبي قلابة ، عن عمرو بن سلمة ، قال قال لي أبو قلابة ألا تلقاه فتسأله ، قال فلقيته فسألته فقال كنا بماء ممر الناس ، وكان يمر بنا الركبان فنسألهم ما للناس ما للناس ما هذا الرجل فيقولون يزعم أن الله أرسله أوحى إليه ، أو أوحى الله بكذا. فكنت أحفظ ذلك الكلام ، وكأنما يغرى في صدري ، وكانت العرب تلوم بإسلامهم الفتح ، فيقولون اتركوه وقومه ، فإنه إن ظهر عليهم فهو نبي صادق. فلما كانت وقعة أهل الفتح بادر كل قوم بإسلامهم ، وبدر أبي قومي بإسلامهم ، فلما قدم قال جئتكم والله من عند النبي صلى الله عليه وسلم حقا فقال " صلوا صلاة كذا في حين كذا ، وصلوا كذا في حين كذا ، فإذا حضرت الصلاة ، فليؤذن أحدكم ، وليؤمكم أكثركم قرآنا ". فنظروا فلم يكن أحد أكثر قرآنا مني ، لما كنت أتلقى من الركبان ، فقدموني بين أيديهم ، وأنا ابن ست أو سبع ، سنين وكانت على بردة ، كنت إذا سجدت تقلصت عني ، فقالت امرأة من الحى ألا تغطوا عنا است قارئكم. فاشتروا فقطعوا لي قميصا ، فما فرحت بشىء فرحي بذلك القميص.
ترجمہ
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ایوبسختیانی نے اور ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے عمروبنسلمہ رضی اللہ عنہ نے ‘ ایوب نے کہا کہ مجھ سے ابوقلابہ نے کہا ‘ عمروبنسلمہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ قصہ کیوں نہیں پوچھتے ؟ ابوقلابہ نے کہا کہ پھر میں ان کی خدمت میں گیا اور ان سے سوال کیا ‘ انہوں نے کہا کہ جاہلیت میں ہمارا قیام ایک چشمہ پر تھا جہاں عام راستہ تھا ۔ سوار ہمارے قریب سے گزرتے تو ہم ان سے پوچھتے ‘ لوگوں کا کیا خیال ہے ‘ اس شخص کا کیا معاملہ ہے ؟ ( یہ اشارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہوتا تھا ۔ ) لوگ بتاتے کہ وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے انہیں اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے اور اللہ ان پر وحی نازل کرتا ہے ‘ یا اللہ نے ان پر وحی نازل کی ہے ( وہ قرآن کی کوئی آیت سناتے ) میں وہ فوراً یاد کر لیتا ‘ ان کی باتیں میرے دل کو لگتی تھیں ۔ ادھر سارے عرب والے فتح مکہ پر اپنے اسلام کو موقوف کئے ہوئے تھے ۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ اس نبی کو اور اس کی قوم ( قریش ) کو نمٹنے دو ‘ اگر وہ ان پر غالب آ گئے تو پھر واقعی وہ سچے نبی ہیں ۔ چنانچہ جب مکہ فتح ہو گیا توہر قوم نے اسلام لانے میں پہل کی اور میرے والد نے بھی میری قوم کے اسلام میں جلدی کی ۔ پھر جب ( مدینہ ) سے واپس آئے تو کہا کہ میں خدا کی قسم ایک سچے نبی کے پاس سے آ رہا ہوں ۔ انہوں نے فرمایا ہے کہ فلاں نماز اس طرح فلاں وقت پڑھاکرو اور جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے کوئی ایک شخص اذان دے اور امامت وہ کرے جسے قرآن سب سے زیادہ یاد ہو ۔ لوگوں نے اندازہ کیا کہ کسے قرآن سب سے زیادہ یاد ہے تو کوئی شخص ان کے قبیلے میں مجھ سے زیادہ قرآن یادکرنے والاا نہیں نہیں ملا ۔ کیونکہ میں آنے جانے والے سواروں سے سن کر قرآنمجید یاد کر لیا کرتا تھا ۔ اس لیے مجھے لوگوں نے امام بنایا ۔ حالانکہ اس وقت میری عمر چھ یا سات سال کی تھی اور میرے پاس ایک ہی چادر تھی ‘ جب میں ( اسے لپیٹ کر ) سجدہ کرتا تو اوپر ہو جاتی ( اور پیچھے کی جگہ ) کھل جاتی ۔ اس قبیلہ کی ایک عورت نے کہا ‘ تم اپنے قاری کا چو تڑ تو پہلے چھپا دو ۔ آ خر انہوں نے کپڑا خریدا اور میرے لیے ایک قمیص بنائی ، میں جتنا خوش اس قمیص سے ہوا اتنا کسی اور چیز سے نہیں ہوا تھا ۔
Monday, August 1, 2016
حرمین کے اندر بیس رکعت تراویح
حرمین کے اندر بیس رکعت تراویح فتنہ و فساد سے بچنے کے لئے رکهی گئی.
اس لئے سعودی کے کوئی بهی عالم اس پر تنقید نہیں کرسکتے.
اسی میں اس ملک کی سلامتی ہے. لیکن فتاوے سے بالکل عیاں ہے کہ یہاں کے علماء 8 رکعت مانتے ہیں اور عمل بهی اسی پر کرتے ہیں، ماسوا حرمین کے.
یہاں کے علماء پر سخت پابندی ہے وہ ملک کی سلامتی کے خلاف نہیں جاسکتے.
آپ کے سامنے ہے شیخ عریفی پر مسجد نبوی میں شیعہ کے خلاف بولنے کی وجہ سے کئی بار پابندی لگائی گئی.
یہی وجہ ہے کہ علماء اس پر تنقید نہیں کرتے.
تنقید نہ کرنے کی ایک وجہ یہ بهی ہے کہ قیام اللیل کے سلسلے میں وسعت ہے 8 سے زیادہ بهی پڑه سکتے ہیں.
واللہ اعلم بالصواب
اس لئے سعودی کے کوئی بهی عالم اس پر تنقید نہیں کرسکتے.
اسی میں اس ملک کی سلامتی ہے. لیکن فتاوے سے بالکل عیاں ہے کہ یہاں کے علماء 8 رکعت مانتے ہیں اور عمل بهی اسی پر کرتے ہیں، ماسوا حرمین کے.
یہاں کے علماء پر سخت پابندی ہے وہ ملک کی سلامتی کے خلاف نہیں جاسکتے.
آپ کے سامنے ہے شیخ عریفی پر مسجد نبوی میں شیعہ کے خلاف بولنے کی وجہ سے کئی بار پابندی لگائی گئی.
یہی وجہ ہے کہ علماء اس پر تنقید نہیں کرتے.
تنقید نہ کرنے کی ایک وجہ یہ بهی ہے کہ قیام اللیل کے سلسلے میں وسعت ہے 8 سے زیادہ بهی پڑه سکتے ہیں.
واللہ اعلم بالصواب
♦اگر نفل ادا كرتے ہوئے نماز كى اقامت ہو جائے
♦اگر نفل ادا كرتے ہوئے نماز كى اقامت ہو جائے ؟ -
===================
🔴اگر ميں سنتيں ادا كر رہا ہوں اور نماز كى اقامت ہو جائے تو كيا ميں سلام پھير كر جماعت كے ساتھ مل جاؤں، يا سنتيں مكمل كروں ؟
🔵الحمد للہ:
امام مسلم رحمہ اللہ تعالى نے ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے روايت كيا ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" جب نماز كى اقامت ہو جائے تو فرضى نماز كے علاوہ كوئى نماز نہيں ہوتى "
صحيح مسلم حديث نمبر ( 710 ).
يہ حديث اس كى دليل ہے كہ جب نماز كى اقامت ہو جائے تو كسى بھى شخص كے ليے نفل ادا كرنے جائز نہيں.
ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:
( جب نماز كى اقامت ہو جائے تو اسے چھوڑ كر نفل ادا نہيں كيے جا سكتے، چاہے پہلى ركعت جانے كا خدشہ ہو يا نہ ہو، ابو ہريرہ، ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہم، اور عروہ، ابن سيرين، سعيد بن جبير، امام شافعى، اسحاق، اور ابو ثور رحمہم اللہ كا يہى قول ہے ) اھـ
ديكھيں: المغنى ( 1 / 272 ).
اور بعض علماء كرام نے اس حديث سے يہ استدلال كيا ہے كہ جو شخص نفل اور سنت ادا كر رہا ہو اور نماز كى اقامت ہو جائے تو وہ نفل توڑ دے.
حافظ عراقى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:
( نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا يہ قول: " كوئى نماز نہيں "
احتمال ہے كہ اس سے يہ مراد ہو كہ جب نماز كى اقامت ہو جائے تو وہ شروع نہ كرے.
اور يہ بھى احتمال ہے كہ اس سے مراد يہ ہو كہ وہ نماز ميں مشغول نہ ہو اور اگر اس نے اقامت ہونے سے قبل نماز شروع كر لى تو وہ تكبير تحريمہ كى فضيلت حاصل كرنے كے ليے نماز توڑ دے.
يا پھر اگر نمازى نماز نہيں توڑتا تو وہ خود ہى باطل ہو جائيگى، دونوں كا ہى احتمال ہے ).
شافعيہ ميں سے ابو حامد سے منقول ہے كہ: اگر نفلى نماز مكمل كرنے ميں تكبير تحريمہ كى فضيلت فوت ہونے كا خدشہ ہو تو نفلى نماز ختم كرنا افضل ہے.
عراقى رحمہ اللہ تعالى كى كلام شوكانى رحمہ اللہ تعالى نے نيل الاوطار ( 3 / 91 ) ميں نقل كى ہے.
جب مستقل فتوى كميٹى سے اس كے متعلق دريافت كيا گيا تو اس كا بھى فتوى يہى تھا:
سوال يہ تھا:
كيا ميں سنتيں ختم كر كے تكبير تحريمہ ميں امام كے ساتھ ملوں يا كہ سنتيں مكمل كروں ؟
كميٹى كا جواب تھا:
جى ہاں جب فرضى نماز كى اقامت ہو جائے تو جو نفل اور سنتيں آپ ادا كر رہے ہيں اسے توڑ ديں تا كہ امام كے ساتھ تكبير تحريمہ ميں مل سكيں، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" جب نماز كى اقامت ہو جائے تو فرضى نماز كے علاوہ كوئى نماز نہيں "
ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ العلميۃ والافتاء ( 7 / 312 ).
اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى نے اسے راجح قرار ديا ہے كہ جب نماز كى اقامت ہو اور وہ سنتوں يا نفل كى پہلى ركعت ميں ہو تو نماز توڑ دے، اور جب اقامت ہو جائے اور وہ دوسرى ركعت ميں ہو تو اسے ہلكى اور تخفيف كے ساتھ ادا كرلينى چاہيے
===================
🔴اگر ميں سنتيں ادا كر رہا ہوں اور نماز كى اقامت ہو جائے تو كيا ميں سلام پھير كر جماعت كے ساتھ مل جاؤں، يا سنتيں مكمل كروں ؟
🔵الحمد للہ:
امام مسلم رحمہ اللہ تعالى نے ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے روايت كيا ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" جب نماز كى اقامت ہو جائے تو فرضى نماز كے علاوہ كوئى نماز نہيں ہوتى "
صحيح مسلم حديث نمبر ( 710 ).
يہ حديث اس كى دليل ہے كہ جب نماز كى اقامت ہو جائے تو كسى بھى شخص كے ليے نفل ادا كرنے جائز نہيں.
ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:
( جب نماز كى اقامت ہو جائے تو اسے چھوڑ كر نفل ادا نہيں كيے جا سكتے، چاہے پہلى ركعت جانے كا خدشہ ہو يا نہ ہو، ابو ہريرہ، ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہم، اور عروہ، ابن سيرين، سعيد بن جبير، امام شافعى، اسحاق، اور ابو ثور رحمہم اللہ كا يہى قول ہے ) اھـ
ديكھيں: المغنى ( 1 / 272 ).
اور بعض علماء كرام نے اس حديث سے يہ استدلال كيا ہے كہ جو شخص نفل اور سنت ادا كر رہا ہو اور نماز كى اقامت ہو جائے تو وہ نفل توڑ دے.
حافظ عراقى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:
( نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا يہ قول: " كوئى نماز نہيں "
احتمال ہے كہ اس سے يہ مراد ہو كہ جب نماز كى اقامت ہو جائے تو وہ شروع نہ كرے.
اور يہ بھى احتمال ہے كہ اس سے مراد يہ ہو كہ وہ نماز ميں مشغول نہ ہو اور اگر اس نے اقامت ہونے سے قبل نماز شروع كر لى تو وہ تكبير تحريمہ كى فضيلت حاصل كرنے كے ليے نماز توڑ دے.
يا پھر اگر نمازى نماز نہيں توڑتا تو وہ خود ہى باطل ہو جائيگى، دونوں كا ہى احتمال ہے ).
شافعيہ ميں سے ابو حامد سے منقول ہے كہ: اگر نفلى نماز مكمل كرنے ميں تكبير تحريمہ كى فضيلت فوت ہونے كا خدشہ ہو تو نفلى نماز ختم كرنا افضل ہے.
عراقى رحمہ اللہ تعالى كى كلام شوكانى رحمہ اللہ تعالى نے نيل الاوطار ( 3 / 91 ) ميں نقل كى ہے.
جب مستقل فتوى كميٹى سے اس كے متعلق دريافت كيا گيا تو اس كا بھى فتوى يہى تھا:
سوال يہ تھا:
كيا ميں سنتيں ختم كر كے تكبير تحريمہ ميں امام كے ساتھ ملوں يا كہ سنتيں مكمل كروں ؟
كميٹى كا جواب تھا:
جى ہاں جب فرضى نماز كى اقامت ہو جائے تو جو نفل اور سنتيں آپ ادا كر رہے ہيں اسے توڑ ديں تا كہ امام كے ساتھ تكبير تحريمہ ميں مل سكيں، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" جب نماز كى اقامت ہو جائے تو فرضى نماز كے علاوہ كوئى نماز نہيں "
ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ العلميۃ والافتاء ( 7 / 312 ).
اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى نے اسے راجح قرار ديا ہے كہ جب نماز كى اقامت ہو اور وہ سنتوں يا نفل كى پہلى ركعت ميں ہو تو نماز توڑ دے، اور جب اقامت ہو جائے اور وہ دوسرى ركعت ميں ہو تو اسے ہلكى اور تخفيف كے ساتھ ادا كرلينى چاہيے
Saturday, July 30, 2016
نماز کی زبانی نیت کرنا
- 💫نماز کی زبانی نیت کرنا
〰〰〰〰〰〰〰〰
بے شمار نمازیوں کی یہ بڑی مشہور بدعت ہے کہ وہ نماز سے پہلے مختلف الفاظ کے ساتھ زبانی نیت کرنا شروع کر دیتے ہیں مثلاََ
❌((نویت ان اصلی کذا رکعۃ فرضاََ للظھرائو۔۔۔۔و نحوہ))
''میں نیت کرتا ہوں اتنی رکعت نماز پڑھوں گا۔یا ظہر کی۔۔۔۔
اس جیسے الفاظ ہوتے ہیں۔
''یہ پرانی بدعت ہے۔شریعت اسلامیہ میں اسکی کوئی دلیل نہیں حتی کہ کوئی ضعیف حدیث بھی اس کی موید نہیں ہے۔بلکہ نیت کا مقام دل ہے جیسا کہ کتاب و سنت سے ثابت ہے اور اسی پر عقل والوں کا اجماع ہے۔زبان کے ساتھ نماز یا دوسری عبادات میں نیت کرنا نہ تو نبی کریم ۖ سے ثابت ہے اور نہ کسی صحابی سے،نہ کسی تابعی سے اور نہ کسی معتبر امام سے۔
اس مسئلہ پر نہ کوئی صحیح سند ہے اور نہ ضعیف'آپ ۖ کا افتتاح نماز میں صرف یہی طریقہ ہوتا تھا کہ ''اللہ اکبر''کہتے تھے۔
امام ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں۔''رسول اللہ ۖ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اللہ کہتے 'اس (تکبیر) سے پہلے آپ کچھ بھی نہیں کہتے اور نہ زبانی نیت کرتے۔ نہ یہ فرماتے کہ:میں ایسے،چار رکعتیں،قبلہ رخ ہو کر پڑھتا ہوں، امام یا مقتدی کی حثیت سے،اور نہ یہ فرماتے کہ اداء ہے یا قضاء ہے یا (میری یہ نماز)فرض وقت(میں) ہے۔ 👆یہ سب بدعات ہیں۔
آپ ۖ سے اس کا ثبوت نہ صحیح سند سے ہے اور نہ ضعیف سند سے۔ان میں سے ایک لفظ بھی با سند (متصل)یا مرسل(یعنی منقطع) مروی نہیں ہے۔اور نہ کسی صحابی سے یہ (عمل) منقول ہے۔تابعین کرام اور آئمہ اربعہ میں سے بھی کسی نے اسے (مستحب و) مستحسن قرار نہیں دیا۔
(زاد المعاد ج١ص٢٠١فصل فی ھدیہ ۖ فی الصلاۃ)
➰➰➰➰➰➰
〰〰〰〰〰〰〰〰
بے شمار نمازیوں کی یہ بڑی مشہور بدعت ہے کہ وہ نماز سے پہلے مختلف الفاظ کے ساتھ زبانی نیت کرنا شروع کر دیتے ہیں مثلاََ
❌((نویت ان اصلی کذا رکعۃ فرضاََ للظھرائو۔۔۔۔و نحوہ))
''میں نیت کرتا ہوں اتنی رکعت نماز پڑھوں گا۔یا ظہر کی۔۔۔۔
اس جیسے الفاظ ہوتے ہیں۔
''یہ پرانی بدعت ہے۔شریعت اسلامیہ میں اسکی کوئی دلیل نہیں حتی کہ کوئی ضعیف حدیث بھی اس کی موید نہیں ہے۔بلکہ نیت کا مقام دل ہے جیسا کہ کتاب و سنت سے ثابت ہے اور اسی پر عقل والوں کا اجماع ہے۔زبان کے ساتھ نماز یا دوسری عبادات میں نیت کرنا نہ تو نبی کریم ۖ سے ثابت ہے اور نہ کسی صحابی سے،نہ کسی تابعی سے اور نہ کسی معتبر امام سے۔
اس مسئلہ پر نہ کوئی صحیح سند ہے اور نہ ضعیف'آپ ۖ کا افتتاح نماز میں صرف یہی طریقہ ہوتا تھا کہ ''اللہ اکبر''کہتے تھے۔
امام ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں۔''رسول اللہ ۖ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اللہ کہتے 'اس (تکبیر) سے پہلے آپ کچھ بھی نہیں کہتے اور نہ زبانی نیت کرتے۔ نہ یہ فرماتے کہ:میں ایسے،چار رکعتیں،قبلہ رخ ہو کر پڑھتا ہوں، امام یا مقتدی کی حثیت سے،اور نہ یہ فرماتے کہ اداء ہے یا قضاء ہے یا (میری یہ نماز)فرض وقت(میں) ہے۔ 👆یہ سب بدعات ہیں۔
آپ ۖ سے اس کا ثبوت نہ صحیح سند سے ہے اور نہ ضعیف سند سے۔ان میں سے ایک لفظ بھی با سند (متصل)یا مرسل(یعنی منقطع) مروی نہیں ہے۔اور نہ کسی صحابی سے یہ (عمل) منقول ہے۔تابعین کرام اور آئمہ اربعہ میں سے بھی کسی نے اسے (مستحب و) مستحسن قرار نہیں دیا۔
(زاد المعاد ج١ص٢٠١فصل فی ھدیہ ۖ فی الصلاۃ)
➰➰➰➰➰➰
نماز میں ٹخنہ سے نیچے شلوار
نماز میں ٹخنہ سے نیچے شلوار
==================
مقبول احمد سلفی
شلوار کا ٹخنے سے نیچے لٹکانا حرام ہے اور شدید گناہ کا باعث ہے ، اس سے متعلق بہت ساری روایات ہیں ۔ایک روایت میں ہے ۔
مَا أَسْفَلَ مِنْ الْكَعْبَيْنِ مِنْ الْإِزَارِ فَفِي النَّارِ ۔(رواه البخاري :5787)
"یعنی کپڑے کا وہ حصہ جو ٹخنوں سے نیچے لٹک رہا ہے وہ آگ میں ہے ۔''
ایک دوسری روایت میں ہے ۔
لا ينظر الله إلى من جر إزاره بطراً" (رواه أحمد وأبو داود وابن ماجه عن أبي سعيد )
'' جو شخص اپنا کپڑا غرور و تکبر سے لٹکائے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظر نہیں کرے گا ''۔
گویا ٹخنہ سے نیچے شلوار لٹکانا سخت گناہ ہے چاہے نماز کی حالت ہو یا غیر نماز کی ۔
اگر کسی نے ٹخنہ سے نیچے شلوار کرکے نماز پڑھ لی تو اس کی نماز ہوجائے گی۔ شیخ ابن عثیمین ؒ اور شیخ ابن باز ؒ کا بھی یہی رجحان ہے ۔
بعض علماء نے ٹخنہ سے نیچے شلوار ہونے کو ناقض وضو بتلایا اور نماز بھی درست نہ ہونے کا فتوی دیا ۔ حالانکہ یہ موقف احادیث کی روشنی میں صحیح نظر نہیں آتا۔
کیونکہ کسی بھی فقیہ یا محدث نے اسبال کو نواقض وضو میں نہیں شمار کیا۔ جس روایت سے ناقض وضو اور نماز کی عدم صحت کی دلیل پکڑتے ہیں وہ روایت یہ ہے ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يُصَلِّي مُسْبِلًا إِزَارَهُ إِذْ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ ثُمَّ قَالَ اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ أَمَرْتَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ ثُمَّ سَكَتَّ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ مُسْبِلٌ إِزَارَهُ وَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَا يَقْبَلُ صَلَاةَ رَجُلٍ مُسْبِلٍ إِزَارَهُ
(سنن أبی داود کتاب الصلاۃ باب الإصبال فی الصلاۃ)
آپ ﷺ نے ایک آدمی کو اس حالت میں نماز پڑھتے دیکھا کہ اس کا کپڑا ٹخنوں سے نیچے تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا (اذھب فتو ضا)جااور وضو کر، تو وہ گیا اور وضو کیا، پھر وہ آیا ، تو آپ نے پھر کہا جاؤ اور وضو کرو، تو وہ گیا اور وضو کیا ۔ پھر وہ آیا۔ تو آپ سے ایک آدمی نے پوچھا اے اللہ کے رسول ! آپ نے اسے کیوں وضو کرنے کا حکم دیا ۔ پس خاموش ہوگئے ۔ پھر فرمائے : وہ ازار (شلوار) لٹکاکر نماز پڑھ رہا تھا۔ اور اللہ تعالی ازار لٹکانے والے کی نماز قبول نہیں کرتا۔
اس روایت سے استدلال نہیں کیا جائے گا کیونکہ یہ روایت ضعیف ہے اِ س کی سند میں ابو جعفر غیر معروف راوی ہے۔ امام منذری نے مختصر سنن ا بی دا
==================
مقبول احمد سلفی
شلوار کا ٹخنے سے نیچے لٹکانا حرام ہے اور شدید گناہ کا باعث ہے ، اس سے متعلق بہت ساری روایات ہیں ۔ایک روایت میں ہے ۔
مَا أَسْفَلَ مِنْ الْكَعْبَيْنِ مِنْ الْإِزَارِ فَفِي النَّارِ ۔(رواه البخاري :5787)
"یعنی کپڑے کا وہ حصہ جو ٹخنوں سے نیچے لٹک رہا ہے وہ آگ میں ہے ۔''
ایک دوسری روایت میں ہے ۔
لا ينظر الله إلى من جر إزاره بطراً" (رواه أحمد وأبو داود وابن ماجه عن أبي سعيد )
'' جو شخص اپنا کپڑا غرور و تکبر سے لٹکائے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظر نہیں کرے گا ''۔
گویا ٹخنہ سے نیچے شلوار لٹکانا سخت گناہ ہے چاہے نماز کی حالت ہو یا غیر نماز کی ۔
اگر کسی نے ٹخنہ سے نیچے شلوار کرکے نماز پڑھ لی تو اس کی نماز ہوجائے گی۔ شیخ ابن عثیمین ؒ اور شیخ ابن باز ؒ کا بھی یہی رجحان ہے ۔
بعض علماء نے ٹخنہ سے نیچے شلوار ہونے کو ناقض وضو بتلایا اور نماز بھی درست نہ ہونے کا فتوی دیا ۔ حالانکہ یہ موقف احادیث کی روشنی میں صحیح نظر نہیں آتا۔
کیونکہ کسی بھی فقیہ یا محدث نے اسبال کو نواقض وضو میں نہیں شمار کیا۔ جس روایت سے ناقض وضو اور نماز کی عدم صحت کی دلیل پکڑتے ہیں وہ روایت یہ ہے ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يُصَلِّي مُسْبِلًا إِزَارَهُ إِذْ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ ثُمَّ قَالَ اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ أَمَرْتَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ ثُمَّ سَكَتَّ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ مُسْبِلٌ إِزَارَهُ وَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَا يَقْبَلُ صَلَاةَ رَجُلٍ مُسْبِلٍ إِزَارَهُ
(سنن أبی داود کتاب الصلاۃ باب الإصبال فی الصلاۃ)
آپ ﷺ نے ایک آدمی کو اس حالت میں نماز پڑھتے دیکھا کہ اس کا کپڑا ٹخنوں سے نیچے تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا (اذھب فتو ضا)جااور وضو کر، تو وہ گیا اور وضو کیا، پھر وہ آیا ، تو آپ نے پھر کہا جاؤ اور وضو کرو، تو وہ گیا اور وضو کیا ۔ پھر وہ آیا۔ تو آپ سے ایک آدمی نے پوچھا اے اللہ کے رسول ! آپ نے اسے کیوں وضو کرنے کا حکم دیا ۔ پس خاموش ہوگئے ۔ پھر فرمائے : وہ ازار (شلوار) لٹکاکر نماز پڑھ رہا تھا۔ اور اللہ تعالی ازار لٹکانے والے کی نماز قبول نہیں کرتا۔
اس روایت سے استدلال نہیں کیا جائے گا کیونکہ یہ روایت ضعیف ہے اِ س کی سند میں ابو جعفر غیر معروف راوی ہے۔ امام منذری نے مختصر سنن ا بی دا
Monday, July 25, 2016
تمام مسجدوں میں نماز سے ایک ہزار درجہ زیادہ
تمام مسجدوں میں نماز سے ایک ہزار درجہ زیادہ
حدثنا عبد الله بن يوسف ، قال أخبرنا مالك ، عن زيد بن رباح ، وعبيد الله بن أبي عبد الله الأغر ، عن أبي عبد الله الأغر ، عن أبي هريرة ـ رضى الله عنه ـ أن النبي صلى الله عليه وسلم قال " صلاة في مسجدي هذا خير من ألف صلاة فيما سواه إلا المسجد الحرام "
ترجمہ
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے زید بن رباح اور عبیداللہ بن ابی عبداللہ اغرسے خبر دی ، انہیں ابوعبدللہ اغر نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اس مسجد میں نماز مسجدالحرام کے سوا تمام مسجدوں میں نماز سے ایک ہزار درجہ زیادہ افضل ہے ۔
صحیح بخاری 1190
عظمت علی
حدثنا عبد الله بن يوسف ، قال أخبرنا مالك ، عن زيد بن رباح ، وعبيد الله بن أبي عبد الله الأغر ، عن أبي عبد الله الأغر ، عن أبي هريرة ـ رضى الله عنه ـ أن النبي صلى الله عليه وسلم قال " صلاة في مسجدي هذا خير من ألف صلاة فيما سواه إلا المسجد الحرام "
ترجمہ
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے زید بن رباح اور عبیداللہ بن ابی عبداللہ اغرسے خبر دی ، انہیں ابوعبدللہ اغر نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اس مسجد میں نماز مسجدالحرام کے سوا تمام مسجدوں میں نماز سے ایک ہزار درجہ زیادہ افضل ہے ۔
صحیح بخاری 1190
عظمت علی
عصر کے بعد کی دو رکعات کو کبھی ترک نہیں فرمایا
عصر کے بعد کی دو رکعات کو کبھی ترک نہیں فرمایا ،
صحیح بخاری 590
حدثنا أبو نعيم ، قال حدثنا عبد الواحد بن أيمن ، قال حدثني أبي أنه ، سمع عائشة ، قالت والذي ذهب به ما تركهما حتى لقي الله ، وما لقي الله تعالى حتى ثقل عن الصلاة ، وكان يصلي كثيرا من صلاته قاعدا ـ تعني الركعتين بعد العصر ـ وكان النبي صلى الله عليه وسلم يصليهما ، ولا يصليهما في المسجد مخافة أن يثقل على أمته ، وكان يحب ما يخفف عنهم.
ترجمہ
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا ، کہ کہا ہم سے عبدالواحد بن ایمن نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے میرے باپ ایمن نے حدیث بیان کی کہ انھوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ۔ آپ نے فرمایا کہ خدا کی قسم ! جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے یہاں بلا لیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد کی دو رکعات کو کبھی ترک نہیں فرمایا ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ پاک سے جا ملے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات سے پہلے نماز پڑھنے میں بڑی دشواری پیش آتی تھی ۔ پھر اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز ادا فرمایا کرتے تھے ۔ اگرچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پوری پابندی کے ساتھ پڑھتے تھے لیکن اس خوف سے کہ کہیں ( صحابہ بھی پڑھنے لگیں اور اس طرح ) امت کو گراں باری ہو ، انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں نہیں پڑھتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کا ہلکا رکھنا پسند تھا ۔
صحیح بخاری 590
حدثنا أبو نعيم ، قال حدثنا عبد الواحد بن أيمن ، قال حدثني أبي أنه ، سمع عائشة ، قالت والذي ذهب به ما تركهما حتى لقي الله ، وما لقي الله تعالى حتى ثقل عن الصلاة ، وكان يصلي كثيرا من صلاته قاعدا ـ تعني الركعتين بعد العصر ـ وكان النبي صلى الله عليه وسلم يصليهما ، ولا يصليهما في المسجد مخافة أن يثقل على أمته ، وكان يحب ما يخفف عنهم.
ترجمہ
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا ، کہ کہا ہم سے عبدالواحد بن ایمن نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے میرے باپ ایمن نے حدیث بیان کی کہ انھوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ۔ آپ نے فرمایا کہ خدا کی قسم ! جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے یہاں بلا لیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد کی دو رکعات کو کبھی ترک نہیں فرمایا ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ پاک سے جا ملے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات سے پہلے نماز پڑھنے میں بڑی دشواری پیش آتی تھی ۔ پھر اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز ادا فرمایا کرتے تھے ۔ اگرچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پوری پابندی کے ساتھ پڑھتے تھے لیکن اس خوف سے کہ کہیں ( صحابہ بھی پڑھنے لگیں اور اس طرح ) امت کو گراں باری ہو ، انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں نہیں پڑھتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کا ہلکا رکھنا پسند تھا ۔
Tuesday, July 5, 2016
نماز میں خیال پیدا ہونا
- نماز میں خیال پیدا ہونا
@@@@@@@@@@@@@@@@
Sahih Bukhari Hadees # 1135
حدثنا سليمان بن حرب ، قال حدثنا شعبة ، عن الأعمش ، عن أبي وائل ، عن عبد الله ـ رضى الله عنه ـ قال صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم ليلة ، فلم يزل قائما حتى هممت بأمر سوء. قلنا وما هممت قال هممت أن أقعد وأذر النبي صلى الله عليه وسلم.
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مرتبہ رات کو نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا لمبا قیام کیا کہ میرے دل میں ایک غلط خیال پیدا ہو گیا۔ ہم نے پوچھا کہ وہ غلط خیال کیا تھا تو آپ نے بتایا کہ میں نے سوچا کہ بیٹھ جاؤں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑ دوں۔
Friday, July 1, 2016
عصر کے بعد کی دو رکعات کو کبھی ترک نہیں فرمایا ،
عصر کے بعد کی دو رکعات کو کبھی ترک نہیں فرمایا ،
صحیح بخاری 590
حدثنا أبو نعيم ، قال حدثنا عبد الواحد بن أيمن ، قال حدثني أبي أنه ، سمع عائشة ، قالت والذي ذهب به ما تركهما حتى لقي الله ، وما لقي الله تعالى حتى ثقل عن الصلاة ، وكان يصلي كثيرا من صلاته قاعدا ـ تعني الركعتين بعد العصر ـ وكان النبي صلى الله عليه وسلم يصليهما ، ولا يصليهما في المسجد مخافة أن يثقل على أمته ، وكان يحب ما يخفف عنهم.
ترجمہ
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا ، کہ کہا ہم سے عبدالواحد بن ایمن نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے میرے باپ ایمن نے حدیث بیان کی کہ انھوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ۔ آپ نے فرمایا کہ خدا کی قسم ! جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے یہاں بلا لیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد کی دو رکعات کو کبھی ترک نہیں فرمایا ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ پاک سے جا ملے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات سے پہلے نماز پڑھنے میں بڑی دشواری پیش آتی تھی ۔ پھر اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز ادا فرمایا کرتے تھے ۔ اگرچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پوری پابندی کے ساتھ پڑھتے تھے لیکن اس خوف سے کہ کہیں ( صحابہ بھی پڑھنے لگیں اور اس طرح ) امت کو گراں باری ہو ، انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں نہیں پڑھتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کا ہلکا رکھنا پسند تھا ۔
صحیح بخاری 590
حدثنا أبو نعيم ، قال حدثنا عبد الواحد بن أيمن ، قال حدثني أبي أنه ، سمع عائشة ، قالت والذي ذهب به ما تركهما حتى لقي الله ، وما لقي الله تعالى حتى ثقل عن الصلاة ، وكان يصلي كثيرا من صلاته قاعدا ـ تعني الركعتين بعد العصر ـ وكان النبي صلى الله عليه وسلم يصليهما ، ولا يصليهما في المسجد مخافة أن يثقل على أمته ، وكان يحب ما يخفف عنهم.
ترجمہ
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا ، کہ کہا ہم سے عبدالواحد بن ایمن نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے میرے باپ ایمن نے حدیث بیان کی کہ انھوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ۔ آپ نے فرمایا کہ خدا کی قسم ! جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے یہاں بلا لیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد کی دو رکعات کو کبھی ترک نہیں فرمایا ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ پاک سے جا ملے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات سے پہلے نماز پڑھنے میں بڑی دشواری پیش آتی تھی ۔ پھر اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز ادا فرمایا کرتے تھے ۔ اگرچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پوری پابندی کے ساتھ پڑھتے تھے لیکن اس خوف سے کہ کہیں ( صحابہ بھی پڑھنے لگیں اور اس طرح ) امت کو گراں باری ہو ، انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں نہیں پڑھتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کا ہلکا رکھنا پسند تھا ۔
Monday, May 30, 2016
سینے پر ہاته باندهنے کی دلیل بخاری شریف سے -
سینے پر ہاته باندهنے کی دلیل بخاری شریف سے -
➖➖➖➖➖➖➖➖
جناب سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:لوگوں کو حکم دیا جاتا تھا کہ ہر شخص نماز میں اپنا دایاں ہاتھ اپنی بائیں ’’ذراع‘‘ پر رکھے
📔(صحیح البخاری ج ۱ ص ۱۰۲ ح ۷۴۰) ۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز میں سینہ پر ہاتھ باندھنے چاہئیں۔
▪اگر آپ اپنا دایاں ہاتھ اپنی ذراع پر رکھیں گے تو خود بخود سینہ پر آ جائیں گے۔
ذراع ، ہاتھ کی انگلیوں سے لے کر کہنی تک کے حصہ کو کہتے ہیں۔
ایک حدیث میں آیا ہے کہ :آپ ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ اپنی بائیں ہتھیلی کی پشت ، رسغ (کلائی) اور ساعد (کلائی سے لے کر کہنی تک) پر رکھا۔
(سنن نسائی مع حاشیہ السندھی ج ۱ ص ۱۴۱، ابوداوٗد ج ۱ ص ۱۱۲، ح ۷۲۷، اسے ابن خزیمہ ج ۱ ص۲۴۳ ح ۴۸۰ اورابن حبان موارد ح ۴۸۵ نے صحیح کہا ہے)
اس استدلال کی تصدیق اس روایت سے بھی ہوتی ہے جس میں آیا ہے کہ :’’یضع ھذہ علی صدرہ‘‘ الخ ۔ آپ ﷺ یہ (ہاتھ) اپنے سینہ پر رکھتے تھے … الخ۔ (مسند احمد ج ۵ ص ۲۲۶ واللفظ ، التحقیق لابن حبان الجوزی ج ۱ ص۲۸۳ ح ۴۷۷۔ وفی نسخۃ ج ۱ ص ۳۳۸) ۔
اس کی تائید بہت سی روایات میں آئی ہے .
〰〰〰〰〰〰
➖➖➖➖➖➖➖➖
جناب سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:لوگوں کو حکم دیا جاتا تھا کہ ہر شخص نماز میں اپنا دایاں ہاتھ اپنی بائیں ’’ذراع‘‘ پر رکھے
📔(صحیح البخاری ج ۱ ص ۱۰۲ ح ۷۴۰) ۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز میں سینہ پر ہاتھ باندھنے چاہئیں۔
▪اگر آپ اپنا دایاں ہاتھ اپنی ذراع پر رکھیں گے تو خود بخود سینہ پر آ جائیں گے۔
ذراع ، ہاتھ کی انگلیوں سے لے کر کہنی تک کے حصہ کو کہتے ہیں۔
ایک حدیث میں آیا ہے کہ :آپ ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ اپنی بائیں ہتھیلی کی پشت ، رسغ (کلائی) اور ساعد (کلائی سے لے کر کہنی تک) پر رکھا۔
(سنن نسائی مع حاشیہ السندھی ج ۱ ص ۱۴۱، ابوداوٗد ج ۱ ص ۱۱۲، ح ۷۲۷، اسے ابن خزیمہ ج ۱ ص۲۴۳ ح ۴۸۰ اورابن حبان موارد ح ۴۸۵ نے صحیح کہا ہے)
اس استدلال کی تصدیق اس روایت سے بھی ہوتی ہے جس میں آیا ہے کہ :’’یضع ھذہ علی صدرہ‘‘ الخ ۔ آپ ﷺ یہ (ہاتھ) اپنے سینہ پر رکھتے تھے … الخ۔ (مسند احمد ج ۵ ص ۲۲۶ واللفظ ، التحقیق لابن حبان الجوزی ج ۱ ص۲۸۳ ح ۴۷۷۔ وفی نسخۃ ج ۱ ص ۳۳۸) ۔
اس کی تائید بہت سی روایات میں آئی ہے .
〰〰〰〰〰〰
Thursday, May 26, 2016
جوتے پہن کر نماز پڑھنا
جوتے پہن کر نماز پڑھنا
===============
اللہ عزوجل کا ارشاد ہے کہ :
{لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيراً }الأحزاب21
یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم میں عمده نمونہ (موجود) ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے
1- انس بن مالک رضی اللہ عنہ سوال کیا گیا ؟
أكان النبي ـ صلى الله عليه وسلم ـ يصلي في نعليه؟ قال: (( نعم )) [ رواه البخاري: 386 ]
’’کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جوتوں میں نماز پڑھتے تھے ، کہنے لگے ہاں۔‘‘
2- سیدنا ابوسعیدالخدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ :
بينما رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي بأصحابه إذ خلع نعليه فوضعهما عن يساره فلما رأى ذلك القوم ألقوا نعالهم فلما قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاته قال ما حملكم على إلقاء نعالكم قالوا رأيناك ألقيت نعليك فألقينا نعالنا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن جبريل صلى الله عليه وسلم أتاني فأخبرني أن فيهما قذرا أو قال أذى وقال إذا جاء أحدكم إلى المسجد فلينظر فإن رأى في نعليه قذرا أو أذى فليمسحه وليصل فيهما
ایک مرتبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ علیھم اجمعین کو نماز پڑھا رہے تھے کہ اچانک نعلین مبارک اتار کر بائیں طرف رکھ دیں ـ یہ دیکھتے ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی اپنے جوتے اتار دئیے ـنماز ختم ہونے پر رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا :''آپ کو کون سی چیز نے جوتے اتارنے پر آمادہ کیا ہے ؟'' عرض کرنے لگے ـ'' ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو دیکھا ، آپ نے اپنےجوتے مبارک اتار دیے ہیں تو ہم نے بھی اپنے جوتے اتار دیے ''تو اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے فرمایا :'' کہ مجھے جبریل نے آکر بتایا ہے کہ آپ کے جوتوں کے نیچے گندگی لگی ہے ـ''(تو میں نے جوتے اتار دیے )پھرفرمایا :'' جب بھی تم میں سے کوئی مسجد کو آئے ، تو اپنے جوتے دیکھ لے ـ اگر کوئی گندگی وغیرہ لگی ہو تو صاف کرلے! اور جوتوں کے ساتھ نماز پڑھ لے ـ ''
صحيح سنن أبي داود
اس حدیث سے معلوم ہوا ہے کہ اگر جوتے صاف ہوں تو نماز پڑھنے کی اجازت ہے ، اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم مسجد میں جوتے پہن کر جماعت کرایا کرتے تھے ـ
3-سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا :
(خَالِفُوا الْيَهُودَ فَإِنَّهُمْ لَا يُصَلُّونَ فِي نِعَالِهِمْ وَلاَخِفَافِهِم)
یہودیوں کی مخالفت کرو ! وہ جوتے اور موزے پہن کر نماز نہیں پڑھتے "
صحيح سنن أبي داود
4-عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ـ
رأيت رسول ﷲ يصلي حافيا منتعلاً
’’ میں نے اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم کو ننگے پاؤں اور جوتے سمیت نماز پڑھتے دیکھا ہے۔‘‘
صحيح سنن أبي داود
ان احادیث سے ثابت ہوا ہے کہ جوتوں میں نماز پڑھ سکتے ہیں ـ صاف جوتوں میں نماز جائز ہے تو طواف اور صفا مروہ کی سعی بھی کر سکتے ہیں۔ بعض مذاہب میں ہے کہ حالت جنگ اور ایمرجنسی میں جوتے پہن کرنمازپڑھ سکتے ہیں ورنہ نہیں ـ یہ شرط صحیح نہیں ـ احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عام حالات میں بھی جوتے پہن کر نماز پڑھتے تھے ـ
اللہ اعلم ـ
===============
اللہ عزوجل کا ارشاد ہے کہ :
{لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيراً }الأحزاب21
یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم میں عمده نمونہ (موجود) ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے
1- انس بن مالک رضی اللہ عنہ سوال کیا گیا ؟
أكان النبي ـ صلى الله عليه وسلم ـ يصلي في نعليه؟ قال: (( نعم )) [ رواه البخاري: 386 ]
’’کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جوتوں میں نماز پڑھتے تھے ، کہنے لگے ہاں۔‘‘
2- سیدنا ابوسعیدالخدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ :
بينما رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي بأصحابه إذ خلع نعليه فوضعهما عن يساره فلما رأى ذلك القوم ألقوا نعالهم فلما قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاته قال ما حملكم على إلقاء نعالكم قالوا رأيناك ألقيت نعليك فألقينا نعالنا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن جبريل صلى الله عليه وسلم أتاني فأخبرني أن فيهما قذرا أو قال أذى وقال إذا جاء أحدكم إلى المسجد فلينظر فإن رأى في نعليه قذرا أو أذى فليمسحه وليصل فيهما
ایک مرتبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ علیھم اجمعین کو نماز پڑھا رہے تھے کہ اچانک نعلین مبارک اتار کر بائیں طرف رکھ دیں ـ یہ دیکھتے ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی اپنے جوتے اتار دئیے ـنماز ختم ہونے پر رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا :''آپ کو کون سی چیز نے جوتے اتارنے پر آمادہ کیا ہے ؟'' عرض کرنے لگے ـ'' ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو دیکھا ، آپ نے اپنےجوتے مبارک اتار دیے ہیں تو ہم نے بھی اپنے جوتے اتار دیے ''تو اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے فرمایا :'' کہ مجھے جبریل نے آکر بتایا ہے کہ آپ کے جوتوں کے نیچے گندگی لگی ہے ـ''(تو میں نے جوتے اتار دیے )پھرفرمایا :'' جب بھی تم میں سے کوئی مسجد کو آئے ، تو اپنے جوتے دیکھ لے ـ اگر کوئی گندگی وغیرہ لگی ہو تو صاف کرلے! اور جوتوں کے ساتھ نماز پڑھ لے ـ ''
صحيح سنن أبي داود
اس حدیث سے معلوم ہوا ہے کہ اگر جوتے صاف ہوں تو نماز پڑھنے کی اجازت ہے ، اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم مسجد میں جوتے پہن کر جماعت کرایا کرتے تھے ـ
3-سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا :
(خَالِفُوا الْيَهُودَ فَإِنَّهُمْ لَا يُصَلُّونَ فِي نِعَالِهِمْ وَلاَخِفَافِهِم)
یہودیوں کی مخالفت کرو ! وہ جوتے اور موزے پہن کر نماز نہیں پڑھتے "
صحيح سنن أبي داود
4-عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ـ
رأيت رسول ﷲ يصلي حافيا منتعلاً
’’ میں نے اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم کو ننگے پاؤں اور جوتے سمیت نماز پڑھتے دیکھا ہے۔‘‘
صحيح سنن أبي داود
ان احادیث سے ثابت ہوا ہے کہ جوتوں میں نماز پڑھ سکتے ہیں ـ صاف جوتوں میں نماز جائز ہے تو طواف اور صفا مروہ کی سعی بھی کر سکتے ہیں۔ بعض مذاہب میں ہے کہ حالت جنگ اور ایمرجنسی میں جوتے پہن کرنمازپڑھ سکتے ہیں ورنہ نہیں ـ یہ شرط صحیح نہیں ـ احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عام حالات میں بھی جوتے پہن کر نماز پڑھتے تھے ـ
اللہ اعلم ـ
ٹوپی بغیر نماز کا حکم
ٹوپی بغیر نماز کا حکم
================
نماز میں اور نماز سے باہر ہمیشہ یا کبھی صرف ٹوپی استعمال کرنا بلاشبہ جائز اور مباح ہے پگڑی باندھنی نہ فرض ہے نہ واجب نہ سنت مؤکدہ اور حدیث :ان فرق ما بیننا وبین المشرکین العمائم علی القلانس (ترمذی ابوداؤد) ضعیف ہے۔ اور اگر صحیح بھی مان لی جائے تو ابن الملک وغیرہ شراح کے بیان کردہ معنی کے مطابق اس حدیث سے صرف ٹوپی پہننے کی کراہت نہیں ثابت ہوتی۔ آنحضرتﷺ بغیر عمامہ کے صرف ٹوپی بھی استعمال فرمایا کرتے تھے۔ امام ابن القیم زاد المعاد میں فرماتے ہیں:
وکان یلبسھا (ای العمامۃ) ویلبس تحتھا القلنسوۃ وکان یلبس القلنسوۃ بغیر عمامۃ ویلبس العمامۃ بغیر قلنسوۃ انتھٰی۔ (ص۳۴ج۱)
اور جامع ترمذی (ص ۲۱۱، جلد ۱ ) میں ہے:
عن ابی یزید الخولانی انہ سمع فضالۃ بن عبید یقول سمعت عمر بن الخطابؓ یقول سمعت رسول اللّٰہ ﷺ یقول الشھداء اربعۃ جل مومن جید الایمان لقی العدو فصدق اللّٰہ حتی قتل فذالک الذییرفع الناس الیہ اعینھم یوم القیمۃ ھکذا ورفع راسہ حتی وقعت قلنسوتہ فلا ادری قلنسوۃ عمر ارادام قلنسوۃ النبی ﷺ الحدیث۔
اور جامع صغیر للسیوطی میں ہے:
کان (ﷺ) یلبس القلانس تحت العمائم وبغیر العمائم ویلبس العمائم بغیر القلانس وکان یلبس القلانس الیمانیۃ الحدیث (الرویانی وابن عساکر عن ابن عباس)
اور صحیح بخاری شریف میں ہے:
وضع ابو اسحق قلنسونہ فی الصلوٰۃ ورفعھا۔
اس اثر سے معلوم ہوا کہ ابو اسحق سبیعی جوکتبار تابعین سے ہیںاور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے استاذ ہیں اور اڑتیس صحابیوں سے حدیث روایت کی ہے۔ نماز بھی صرف ٹوپی کے ساتھ ادا فرماتے تھے۔
(محدث دہلی جلد ۱۰، ش ۳)
فتاویٰ علمائے حدیث
جلد 04 ص 295
================
نماز میں اور نماز سے باہر ہمیشہ یا کبھی صرف ٹوپی استعمال کرنا بلاشبہ جائز اور مباح ہے پگڑی باندھنی نہ فرض ہے نہ واجب نہ سنت مؤکدہ اور حدیث :ان فرق ما بیننا وبین المشرکین العمائم علی القلانس (ترمذی ابوداؤد) ضعیف ہے۔ اور اگر صحیح بھی مان لی جائے تو ابن الملک وغیرہ شراح کے بیان کردہ معنی کے مطابق اس حدیث سے صرف ٹوپی پہننے کی کراہت نہیں ثابت ہوتی۔ آنحضرتﷺ بغیر عمامہ کے صرف ٹوپی بھی استعمال فرمایا کرتے تھے۔ امام ابن القیم زاد المعاد میں فرماتے ہیں:
وکان یلبسھا (ای العمامۃ) ویلبس تحتھا القلنسوۃ وکان یلبس القلنسوۃ بغیر عمامۃ ویلبس العمامۃ بغیر قلنسوۃ انتھٰی۔ (ص۳۴ج۱)
اور جامع ترمذی (ص ۲۱۱، جلد ۱ ) میں ہے:
عن ابی یزید الخولانی انہ سمع فضالۃ بن عبید یقول سمعت عمر بن الخطابؓ یقول سمعت رسول اللّٰہ ﷺ یقول الشھداء اربعۃ جل مومن جید الایمان لقی العدو فصدق اللّٰہ حتی قتل فذالک الذییرفع الناس الیہ اعینھم یوم القیمۃ ھکذا ورفع راسہ حتی وقعت قلنسوتہ فلا ادری قلنسوۃ عمر ارادام قلنسوۃ النبی ﷺ الحدیث۔
اور جامع صغیر للسیوطی میں ہے:
کان (ﷺ) یلبس القلانس تحت العمائم وبغیر العمائم ویلبس العمائم بغیر القلانس وکان یلبس القلانس الیمانیۃ الحدیث (الرویانی وابن عساکر عن ابن عباس)
اور صحیح بخاری شریف میں ہے:
وضع ابو اسحق قلنسونہ فی الصلوٰۃ ورفعھا۔
اس اثر سے معلوم ہوا کہ ابو اسحق سبیعی جوکتبار تابعین سے ہیںاور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے استاذ ہیں اور اڑتیس صحابیوں سے حدیث روایت کی ہے۔ نماز بھی صرف ٹوپی کے ساتھ ادا فرماتے تھے۔
(محدث دہلی جلد ۱۰، ش ۳)
فتاویٰ علمائے حدیث
جلد 04 ص 295
کرسی پر بیٹھ کر نماز ادا کرنااور اس کا شرعی حکم:
کرسی پر بیٹھ کر نماز ادا کرنااور اس کا شرعی حکم:
📼📼📼📼📼📼📼📼
اس مختصر مضمون میں نمازیوں کا کرسی پر نماز پڑھنا، خصوصا ًباجماعت نماز کے احکام پر بحث کی گئی ہے۔اس کی غرض و غایت نمازیوں کو نماز کی اصلاح اور اس کے منافی امور سے اجتناب کی رغبت دلانا ہے۔ نماز دین کا ستون ہے اور شہاد تین کے بعد اہم ترین ہے۔ تمام اعمال کی اصلاح کا دارو مدار اور انحصار نماز کی درستگی پرہے۔اگر نماز درست ہو گی تو باقی تمام اعمال صحیح ہو ں گے۔ اگر نماز درست نہ ہو گی تو باقی تمام اعمال بھی ناقص ہو جائیں گے۔ اس لئے نماز کو اس کے کامل حسن کے ساتھ ادا کرنا اور اس کے تمام ارکان کی اہمیت و فضیلت کو بیان کرنا عین دین ہے۔آج کل نمازیوں کی کثیر تعداد کرسی پر بیٹھ کر نماز ادا کرتی ہے اور کوئی مسجد بھی ایسے لوگوں سے خالی نہیں ہے۔ان میں بعض لوگ غیر شعوری طور پر غلطی کاارتکاب کرتے ہیں۔ بسا اوقات نمازی آدمی رکوع تو نہیں کرسکتامگر قیام کی استطاعت رکھتا ہوتا ہے لیکن وہ استطاعت کے باوجود کھڑا نہیں ہوتا جب کہ قیام نماز کا رکن ہے۔ ذیل میں ہم انہی کوتاہیوں اور حالات کو بالتفصیل بیان کریں گے۔
1⃣پہلی صورت:
جو لوگ قیام،رکوع،سجود کی استطاعت موٹاپے یا کسی اور وجہ سے نہیں رکھتے،وہ کرسی پراس کیفیت میں نماز ادا کریں جو ان کےلئے ممکن وآسان ہوجیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔"فاتقوا اللہ مااستطعتم"حسب استطاعت اللہ سے ڈرتے رہو۔ اور اللہ تعالی کافرمان ہے"لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا" ۔"اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا"
▪افضل عمل یہ ہے کہ کرسی پر بیٹھ کرنماز ادا کرنے والا امام کے بالکل پیچھے کھڑا نہ ہو تاکہ اگر باوقت ضرورت امام کی نیابت میں امامت کروانا پڑے تو کوئی مشکل پیش نہ آئے۔اور کرسی پر بیٹھنے والا شخص دروس و محاضرات کے موقع پر امام وسامعین کے درمیان حائل بھی نہ ہو۔
▪بہتر یہ ہےکہ ہمیشہ چھوٹی کرسی ہی استعمال کی جائے جو صرف ضرورت کو پورا کرے اور صف بندی میں بھی سہولت رہے۔
2⃣دوسری صورت:
جوشخص قیام اور رکوع تو کرسکتا ہو لیکن سجدہ کی طاقت نہ رکھتا ہو،تو وہ معمول کے مطابق نماز ادا کرےمگر سجدے کے وقت کرسی پر بیٹھ جائےاور بہ قدر طاقت سجدہ کرے۔
3⃣تیسری صورت:
اگر کوئی شخص قیام کی طاقت تو رکھتا ہو مگر رکوع اور سجود کی ہمت نہ پاتاہو تو وہ کھڑے ہو کر نماز ادا کرے لیکن رکوع اور سجود کے وقت کرسی پر بیٹھ جائے اور سجدوں میں رکوع کی نسبت زیادہ جھکاؤ ہو۔
4⃣چوتھی صورت:
جو شخص رکوع و سجود کا متحمل تو ہو لیکن قیام میں اسے مشکل پیش آتی ہوتووہ بیٹھ کرنماز ادا کرے،رکوع کرسی کے بغیر اور سجدہ زمین پر کرے۔ اسے چاہئے کہ حسب ضرورت ہی رخصت سے فائدہ اٹھائے۔اور بغیر عذر �
📼📼📼📼📼📼📼📼
اس مختصر مضمون میں نمازیوں کا کرسی پر نماز پڑھنا، خصوصا ًباجماعت نماز کے احکام پر بحث کی گئی ہے۔اس کی غرض و غایت نمازیوں کو نماز کی اصلاح اور اس کے منافی امور سے اجتناب کی رغبت دلانا ہے۔ نماز دین کا ستون ہے اور شہاد تین کے بعد اہم ترین ہے۔ تمام اعمال کی اصلاح کا دارو مدار اور انحصار نماز کی درستگی پرہے۔اگر نماز درست ہو گی تو باقی تمام اعمال صحیح ہو ں گے۔ اگر نماز درست نہ ہو گی تو باقی تمام اعمال بھی ناقص ہو جائیں گے۔ اس لئے نماز کو اس کے کامل حسن کے ساتھ ادا کرنا اور اس کے تمام ارکان کی اہمیت و فضیلت کو بیان کرنا عین دین ہے۔آج کل نمازیوں کی کثیر تعداد کرسی پر بیٹھ کر نماز ادا کرتی ہے اور کوئی مسجد بھی ایسے لوگوں سے خالی نہیں ہے۔ان میں بعض لوگ غیر شعوری طور پر غلطی کاارتکاب کرتے ہیں۔ بسا اوقات نمازی آدمی رکوع تو نہیں کرسکتامگر قیام کی استطاعت رکھتا ہوتا ہے لیکن وہ استطاعت کے باوجود کھڑا نہیں ہوتا جب کہ قیام نماز کا رکن ہے۔ ذیل میں ہم انہی کوتاہیوں اور حالات کو بالتفصیل بیان کریں گے۔
1⃣پہلی صورت:
جو لوگ قیام،رکوع،سجود کی استطاعت موٹاپے یا کسی اور وجہ سے نہیں رکھتے،وہ کرسی پراس کیفیت میں نماز ادا کریں جو ان کےلئے ممکن وآسان ہوجیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔"فاتقوا اللہ مااستطعتم"حسب استطاعت اللہ سے ڈرتے رہو۔ اور اللہ تعالی کافرمان ہے"لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا" ۔"اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا"
▪افضل عمل یہ ہے کہ کرسی پر بیٹھ کرنماز ادا کرنے والا امام کے بالکل پیچھے کھڑا نہ ہو تاکہ اگر باوقت ضرورت امام کی نیابت میں امامت کروانا پڑے تو کوئی مشکل پیش نہ آئے۔اور کرسی پر بیٹھنے والا شخص دروس و محاضرات کے موقع پر امام وسامعین کے درمیان حائل بھی نہ ہو۔
▪بہتر یہ ہےکہ ہمیشہ چھوٹی کرسی ہی استعمال کی جائے جو صرف ضرورت کو پورا کرے اور صف بندی میں بھی سہولت رہے۔
2⃣دوسری صورت:
جوشخص قیام اور رکوع تو کرسکتا ہو لیکن سجدہ کی طاقت نہ رکھتا ہو،تو وہ معمول کے مطابق نماز ادا کرےمگر سجدے کے وقت کرسی پر بیٹھ جائےاور بہ قدر طاقت سجدہ کرے۔
3⃣تیسری صورت:
اگر کوئی شخص قیام کی طاقت تو رکھتا ہو مگر رکوع اور سجود کی ہمت نہ پاتاہو تو وہ کھڑے ہو کر نماز ادا کرے لیکن رکوع اور سجود کے وقت کرسی پر بیٹھ جائے اور سجدوں میں رکوع کی نسبت زیادہ جھکاؤ ہو۔
4⃣چوتھی صورت:
جو شخص رکوع و سجود کا متحمل تو ہو لیکن قیام میں اسے مشکل پیش آتی ہوتووہ بیٹھ کرنماز ادا کرے،رکوع کرسی کے بغیر اور سجدہ زمین پر کرے۔ اسے چاہئے کہ حسب ضرورت ہی رخصت سے فائدہ اٹھائے۔اور بغیر عذر �
مسافر کی نمازکے احکام
- مسافر کی نمازکے احکام
📼📼📼📼📼📼📼📼
-------------------------
سفر میں مسافر کے لیے یہ رخصت دی گئی ہے کہ وہ چار رکعت والی نماز وںکو دو رکعت پڑھے ،اس کو قصر کہتے ہیں ۔ (بخاری مسلم)۔البتہ مسافر اگر مقیم کے پیچھے نماز پڑھے تو مسافر کو پوری نماز پڑھنی چاہیے ۔ (احمد ، مالک)۔
۰چار رکعت والی نمازیں تین ہیں: ظہر ، عصر اور عشاء۔ مغرب اور فجر کی نمازوں میں قصر نہیں ہے ۔
♻مسافتِ سفر :
---------------
اونٹ کے ذریعہ یا پیدل ایک دن اور ایک رات کی مسافت کو سفر کہاجاتاہے جو تقریبا اَسی (80) کلو میٹر کے برابرہے۔ لہذا جو شخص اَسی (80) کلو میٹریا اس سے زیادہ کاسفر کرے تواسے قصر کرنے کی اجازت ہے ۔
♻مدتِ قصر :
------------
چار دن تک اگر کسی جگہ قیام کا ارادہ ہے تو قصر کرسکتے ہیں ۔ اگر چاردن سے زیادہ قیام کا ارادہ ہے تو پوری نماز پڑھنی چاہیے ۔
(تحفہ الاخوان باجوبة مھمة فی ارکان الاسلام لابن باز، ص: ۳۲۱) ۔
( شرح بلوغ المرام ازصفی الرحمن مبارکپوری، فقہ الحدیث ج۱، ص:۸۷۵) ۔
۰اگر مسافر حالت تردد میں ہے کہ آج واپس ہوجاؤگا ، کل واپس ہوجاؤں گاتو جب تک وہ اپنے وطن واپس نہ لوٹے اس وقت تک قصر کرسکتاہے ۔ امام ترمذی نے اس سلسلہ میں اہل علم کا اجماع نقل کیا ہے ۔
دیکھیے : جامع ترمذی : ۸۴۵بحوالہ فقہ الحدیث ج۱،ص:۷۷۵)۔
▪ وضاحت :
------------
قصر کے لیے سفر کی مسافت اور مدت کی تعیین : اہل علم کا ایک اجتہادی مسئلہ ہے نبی کریم ا سے قطعی طورپر کوئی تعیین وارد نہیں ہے لہذا اہل علم کے جو بھی اقوال اقرب الی الحدیث ہیں انہیں اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ مذکورہ تعیین علامہ ابن باز وغیرہ جیسے اہل علم کی تحقیق ہے جو اقرب الی الحدیث ہے ۔
♻جمع بین الصلاتین
-----------------
یعنی دو نمازوں کو ایک وقت میں جمع کرکے پڑھنا۔ سفر میں جمع بین الصلوتین جائز ہے ، مثلاً: ظہر اور عصر کو ظہر کے وقت یا عصر کے وقت ملا کر پڑھنا ، اسی طرح مغرب اور عشاءکو مغرب کے وقت یا عشاءکے وقت ملا کر پڑھنا ۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺغزوہ تبوک کے(سفر ) میں اگر سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ کرتے تو ظہر کو موخر کرتے اور عصر کے وقت دونوں کو ایک ساتھ جمع کرکے پڑھتے ، اور اگر سورج ڈھلنے کے بعد کوچ کرتے توعصرکو مقدم کرتے اور ظہر کے وقت دونوں کو جمع کرکے پڑھتے، پھر نکل پڑتے ، اور آپ مغرب اور عشاءمیں بھی اسی طرح کرتے ۔
اور اگر مغرب سے پہلے کوچ کرتے تو مغرب کو موخر کرتے اور عشاءکے وقت دونوں کو جمع کرکے پڑھ لیتے اور اگر مغرب کے بعد کوچ کرتے تو عشاءکومقدم کرتے اورمغرب کے وقت دونوں کو جمع کرکے پڑھ لیتے ۔ (ابوداود، ترمذی : صحیح ) ۔
اختصار از ماهنامه "مصباح" كويت
✳✳✳✳✳✳✳✳
📼📼📼📼📼📼📼📼
-------------------------
سفر میں مسافر کے لیے یہ رخصت دی گئی ہے کہ وہ چار رکعت والی نماز وںکو دو رکعت پڑھے ،اس کو قصر کہتے ہیں ۔ (بخاری مسلم)۔البتہ مسافر اگر مقیم کے پیچھے نماز پڑھے تو مسافر کو پوری نماز پڑھنی چاہیے ۔ (احمد ، مالک)۔
۰چار رکعت والی نمازیں تین ہیں: ظہر ، عصر اور عشاء۔ مغرب اور فجر کی نمازوں میں قصر نہیں ہے ۔
♻مسافتِ سفر :
---------------
اونٹ کے ذریعہ یا پیدل ایک دن اور ایک رات کی مسافت کو سفر کہاجاتاہے جو تقریبا اَسی (80) کلو میٹر کے برابرہے۔ لہذا جو شخص اَسی (80) کلو میٹریا اس سے زیادہ کاسفر کرے تواسے قصر کرنے کی اجازت ہے ۔
♻مدتِ قصر :
------------
چار دن تک اگر کسی جگہ قیام کا ارادہ ہے تو قصر کرسکتے ہیں ۔ اگر چاردن سے زیادہ قیام کا ارادہ ہے تو پوری نماز پڑھنی چاہیے ۔
(تحفہ الاخوان باجوبة مھمة فی ارکان الاسلام لابن باز، ص: ۳۲۱) ۔
( شرح بلوغ المرام ازصفی الرحمن مبارکپوری، فقہ الحدیث ج۱، ص:۸۷۵) ۔
۰اگر مسافر حالت تردد میں ہے کہ آج واپس ہوجاؤگا ، کل واپس ہوجاؤں گاتو جب تک وہ اپنے وطن واپس نہ لوٹے اس وقت تک قصر کرسکتاہے ۔ امام ترمذی نے اس سلسلہ میں اہل علم کا اجماع نقل کیا ہے ۔
دیکھیے : جامع ترمذی : ۸۴۵بحوالہ فقہ الحدیث ج۱،ص:۷۷۵)۔
▪ وضاحت :
------------
قصر کے لیے سفر کی مسافت اور مدت کی تعیین : اہل علم کا ایک اجتہادی مسئلہ ہے نبی کریم ا سے قطعی طورپر کوئی تعیین وارد نہیں ہے لہذا اہل علم کے جو بھی اقوال اقرب الی الحدیث ہیں انہیں اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ مذکورہ تعیین علامہ ابن باز وغیرہ جیسے اہل علم کی تحقیق ہے جو اقرب الی الحدیث ہے ۔
♻جمع بین الصلاتین
-----------------
یعنی دو نمازوں کو ایک وقت میں جمع کرکے پڑھنا۔ سفر میں جمع بین الصلوتین جائز ہے ، مثلاً: ظہر اور عصر کو ظہر کے وقت یا عصر کے وقت ملا کر پڑھنا ، اسی طرح مغرب اور عشاءکو مغرب کے وقت یا عشاءکے وقت ملا کر پڑھنا ۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺغزوہ تبوک کے(سفر ) میں اگر سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ کرتے تو ظہر کو موخر کرتے اور عصر کے وقت دونوں کو ایک ساتھ جمع کرکے پڑھتے ، اور اگر سورج ڈھلنے کے بعد کوچ کرتے توعصرکو مقدم کرتے اور ظہر کے وقت دونوں کو جمع کرکے پڑھتے، پھر نکل پڑتے ، اور آپ مغرب اور عشاءمیں بھی اسی طرح کرتے ۔
اور اگر مغرب سے پہلے کوچ کرتے تو مغرب کو موخر کرتے اور عشاءکے وقت دونوں کو جمع کرکے پڑھ لیتے اور اگر مغرب کے بعد کوچ کرتے تو عشاءکومقدم کرتے اورمغرب کے وقت دونوں کو جمع کرکے پڑھ لیتے ۔ (ابوداود، ترمذی : صحیح ) ۔
اختصار از ماهنامه "مصباح" كويت
✳✳✳✳✳✳✳✳
Subscribe to:
Posts (Atom)