Showing posts with label اتباع سنت. Show all posts
Showing posts with label اتباع سنت. Show all posts

Thursday, August 4, 2016

نیک عمل وه ہے جو سنت کے مطابق ہے

نیک عمل وه ہے جو سنت کے مطابق ہے . 🌹🌴🌱🍀🌹🍀🌱🌴🌹
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ تین حضرات
 ( علی بن ابی طالب ، عبداللہ بن عمرو بن العاص اور عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہم ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے گھروں کی طرف آپ کی (سری)عبادت کے متعلق پوچھنے آئے ،
 جب انہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بتایا گیاتو جیسے انہوں نے اسے کم سمجھا
 اور کہا کہ ہمارا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا مقابلہ ! آپ کی تو تمام اگلی پچھلی لغزشیں معاف کر دی گئی ہیں ۔

 ان میں سے ایک نے کہا کہ آج سے میں ہمیشہ رات بھر نماز پڑھا کروں گا ۔
 دوسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ روزے سے رکهوں گا اور کبھی ناغہ نہیں ہونے دوں گا ۔

تیسرے نے کہا کہ میں عورتوں سے جدائی اختیار کر لوں گا اور کبھی نکاح نہیں کروں گا ۔

 پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان سے پوچھا کیا تم نے ہی یہ باتیں کہی ہیں ؟

📚📢 سن لو ! اللہ تعالیٰ کی قسم !

 ⭐1📢اللہ رب العالمین سے میں تم سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں ۔

⭐2📢 میں تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں

⭐3📢 لیکن میں اگر روزے رکھتا ہوں تو افطار بھی کرتا ہوں ۔

⭐4📢نماز پڑھتا ہوں ( رات میں ) اور سوتا بھی ہوں

⭐5📢اور میں عورتوں سے نکاح بهی  کرتا ہوں ۔
⭐6📢 میرے طریقے(میری سنت) سے جس نے بےرغبتی کی وہ مجھ میں سے نہیں ہے ۔
     🌹🍀صحیح بخاري 5063🍀🌹
✨سوچیں،
✨سمجهیں ،
✨دین میں اضافہ سے بچیں .
 ✨بدعات سے دور رہیں .

اندازه کریں کہ اتنے جلیل القدر صحابہ کرام کو بهی سنت میں اضافہ کرنے سے روک دیا گیا تها .

Tuesday, August 2, 2016

سنت اور حدیث میں فرق

سنت اور حدیث میں فرق===================
سنت کے لغوی معنی طریقہ یا راستہ کے ہیں (النھایہ فی غریب الحدیث جلد ٢ص٣٦٨)اور جبکہ حدیث کو لغت میں جدت کے معنی میں لیا جانا اور حدیث کو لغت میں کسی کلام یا کوئی بات بھی کہا جاتا ہے ۔(السنة قبل التدوین ص٢٠)
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے :اللہ نزل احسن الحدیث (الزمر آیت ٢٣)
اللہ تعالیٰ نے بہترین حدیث نازل کی ہے ۔
حدیث کے معنی اصطلاح میں ہر اس قول ،فعل ،تقریر اور صفت کو کہتے ہیں جس کی نسبت حضورۖ کی طرف کی جاتی ہو ۔
(اصطلاح الحدیث کی تعریف وتشریح اذ ڈاکٹر محمود الطحان)
محدثین کے نزدیک سنت کی بھی اصطلاحی تعریف یہی ہے جو حدیث کی بیان ہوئی ہے (ارشاد الفحول للشوکانی مع تحقیق صبحی بن حلاق)
ڈاکٹر صبحی صالح فرماتے ہیں اگر ہم محدثین بالعموم اور متاخرین محدثین بالخصوص کی غالب رائے پر عمل کریں تو ہم حدیث وسنت کے الفاظ کو مترادف ومساوی پائیں گے یہ دونوں لفظ ایک دوسرے کی جگہ استعمال کئے جاتے ہیں اور ان دونوںکا مفہوم کسی قول فعل تقریر یا صفت کو سرورکائنات ۖ کی جانب منسوب کرنا ہے البتہ اگر حدیث وسنت کے الفاظ کو ان اصول تاریخ کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ حقیقت نکھر سامنے آتی ہے کہ ان دونوں کے استعمال میں لغت واصطلاح کے پیش نظر کچھ دقیق سا فرق بھی پایا جاتا ہے (علوم الحدیث ومصطلحہ للصبحی الصالح ۔ص١١٣)
اگر حدیث وسنت کے لفظ کا انفرادی طور پر استعمال کیا جائے تو سنت سے مراد حدیث اور حدیث سے مراد سنت ہوتی ہے ۔
ابن اثیر فرماتے ہیں ']یقال فی ادلة الشرع الکتاب والسنة ،ای القرآن والحدیث ''شرعی دلائل میں کہا جاتا ہے کہ قرآن وسنت تو اس سے
مراد ہوتا ہے قرآن وحدیث ''(النھایہ فی غریب الحدیث ،ص٣٦٨)
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ سنت سے مراد وہ عمل ہے جو صدر اوّل(پچھلے انبیاء سے چلا آرہا ہو ۔اور اگر غامدی صاحب کے مبادی سنت کا کا غور سے مطالعہ کیا جائے تو انکی سنت سے مراد بھی کچھ اسی طرح ہے لیکن میں کہتا ہوں کہ سنت کی اسی تعریف کو مان لیا جائے تو بھی حدیث اور سنت میں زیادہ فرق نہیں آتا۔کیونکہ ہمیں کس طرح معلوم ہوگا کہ کہ یہ عمل صدر اوّل سے چلا آرہا ہے ؟ تو اس کا معقول جواب یہی ہوسکتا ہے کہ اس کی معرفت ہمیں حدیث ہی کے ذریعے ہوگی اور صدر اوّل کے اسی عمل کو تسلیم کیا جائے گا جس پر نبی ۖ نے عمل کیا ہو یاعمل کرنے کا حکم دیا ہو ۔اور یہ بھی ہمیں حدیث سے معلو ہوگا ۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے ''لکل جعلنا منکم شرعة ومنھا جا''(المائدہ ۔آیت ٤٨)
''ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لئے الگ الگ شریعت اور طریقہ مقرر کیا ہے ۔

اتباع اور تقلید میں فرق

اتباع اور تقلید میں فرق

ابوالاسجدصدیق رضا۔کراچی​

اس مضمون میں اتباع اور تقلید میں جوبنیادی فرق ہے وہ واضح کیا گیا ہے۔

سردست اس مضمون کا مقصد یہ بتانا ہے کہ اللہ تعالی کے مقرر کردہ آخری امام محمد رسول اللہﷺ کی اطاعت اور لوگوں کے اپنے بنائے ہوئے اماموں کی تقلید میں کیا فرق ہے؟مضمون میں مختلف پہلو سے فرق کو واضح کیا گیا ہے۔


پہلا فرق:اطاعت رسولﷺ کا حکم الہی


اللہ تعالی فرماتے ہیں
’’واطيعوا الله واطيعوا الرسول واحذروا فان توليتم فاعلموا انما علي رسولنا البلغ المبين‘‘( المائدہ:92)


اور تم اللہ کی اطاعت کرتے رہو اور رسول ﷺ کی اطاعت کرتے رہو اور احتیاط رکھو،

اگر تم (ان کی اطاعت سے) روگردانی کروگے تو جان لو کہ ہمارے رسول ﷺ

کی ذمہ داری تو بس صاف صاف پہنچادینا ہے۔


دوسرا فرق:اللہ تعالی کی محبت اور مغفرت کی ضمانت


اللہ تعالی فرماتے ہیں
’’قل ان كنتم تحبون الله فاتبعوني يحببكم الله ويغفرلكم ذنوبكم والله غفوررحيم‘‘(آل عمران:31)


اے نبیﷺ آپ کہہ دیجیے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو اللہ تم سے محبت کرنے لگے گا اور

 تمہارے گناہوں کو معاف کردے گا،بےشک اللہ تعالی معاف کرنے والا اور بڑا رحم کرنے والا ہے۔


کس قدر فضیلت ہے،اتباع رسولﷺ کی کہ آپ ﷺ کی اتباع کے بغیر اللہ تعالی کی محبت کا دعوی قابل قبول نہیں ۔

اس دعویٰ کے صدق کےلیے جس دلیل کی ضرورت ہے وہ دلیل رسو ل اللہ ﷺ کی اتباع ہے۔


تیسرا فرق:اطاعت رسولﷺ اللہ تعالی کی اطاعت ہے


اللہ تعالی فرماتے ہیں
’’من يطع الرسول فقد اطاع الله‘‘(النساء:80)


جس نے رسول ﷺ کی اطاعت کی پس اس نے اللہ کی اطاعت کی۔
یہ ایک عظیم فضیلت ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے رسول ﷺ

کی اطاعت کو اپنی ہی اطاعت وفرمانبرداری قرار دیا ہے۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں یا احادیث مبارکہ میں لوگوں کے

مقرر کردہ امام کی تقلید کو اپنی اطاعت وفرمانبرداری نہیں کہا۔
معلوم ہوا کہ اللہ کی اطاعت کا بس صرف ایک ہی ذریعہ ہے ،


ایک ہی راستہ ہے،ایک ہی طریقہ ہے کہ رسولﷺ کی اطاعت کی جائے۔


چوتھا فرق:قبولیت عمل کی یقین دہانی


يايها اللذي امنوا اطيعوا الله واطيعوا الرسول ولا تبطلوا عمالكم (محمد33)


اے ایمان والو! تم اللہ کی اطاعت کرو اور رسولﷺ کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال برباد مت کرو۔
جو عمل اللہ اور

 رسولﷺ کی اطاعت کے مطابق نہ ہو وہ عمل باطل ہے،اس کی کوئی فضیلت ہے نہ کوئی ثواب ،

ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’من عمل عملاً ليس عليه امرنا فهو رد‘‘ (صحیح مسلم)


جس کسی نے کوئی ایسا عمل یا جس پر ہمارا حکم نہیں تو وہ عمل مردود ہے،یعنی نامقبول ہے اسے رد کر دیا جائے گا۔


پانچواں فرق:فیصلۂ رسول اللہﷺ کاحتمی و ابدی ہونا

Saturday, May 28, 2016

رسول ﷺ کے جونافرمانی کرے گا وہ صریح گمراہی میں ہے

رسول ﷺ کے جونافرمانی کرے گا وہ صریح گمراہی میں ہے

@@@@@@@@@@@@@@@@@

33 : سورة الأحزاب 36

وَ مَا کَانَ  لِمُؤۡمِنٍ وَّ لَا مُؤۡمِنَۃٍ  اِذَا قَضَی اللّٰہُ  وَ رَسُوۡلُہٗۤ  اَمۡرًا اَنۡ  یَّکُوۡنَ  لَہُمُ الۡخِیَرَۃُ  مِنۡ اَمۡرِہِمۡ ؕ وَ مَنۡ یَّعۡصِ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ  فَقَدۡ  ضَلَّ  ضَلٰلًا  مُّبِیۡنًا ﴿ؕ۳۶﴾

اور (دیکھو) کسی مومن مرد و عورت کو اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کے بعد کسی امر کا کا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا (یاد رکھو) اللہ تعالٰی اور اس کے رسول کی بھی جونافرمانی کرے گا وہ صریح گمراہی میں پڑے گا۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو رد کرنا گناہ عظیم ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زید بن حارث رضی اللہ عنہ کا پیغام لے کر حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس گئے۔ انہوں نے کہا میں اس سے نکاح نہیں کروں گی آپ نے فرمایا! ایسا نہ کہو اور ان سے نکاح کر لو ۔ حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جواب دیا کہ اچھا پھر کچھ مہلت دیجئے میں سوچ لوں ۔ ابھی یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ وحی نازل ہوئی اور یہ آیت اتری۔ اسے سن کر حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا۔ یا رسول اللہ! کیا آپ اس نکاح سے رضامند ہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں ۔ تو حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جواب دیا کہ بس پھر مجھے کوئی انکار نہیں، میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہیں کروں گی۔ میں نے اپنا نفس ان کے نکاح میں دے دیا اور روایت میں ہے کہ وجہ انکار یہ تھی کہ نسب کے اعتبار سے یہ بہ نسبت حضرت زید کے زیادہ شریف تھیں ۔ حضرت زید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے ۔ حضرت عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت عقبہ بن ابو معیط کی صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ صلح حدیبیہ کے بعد سب سے پہلے مہاجر عورت یہی تھی۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنا نفس آپ کو ہبہ کرتی ہوں ۔ آپ نے فرمایا مجھے قبول ہے۔ پھر حضرت زید بن حارث رضی اللہ عنہ سے ان کا نکاح کرا دیا۔ غالباً یہ نکاح حضرت زینب رضی اللہ عنہ کی علیحدگی کے بعد ہوا ہو گا۔ اس سے حضرت ام کلثوم ناراض ہوئیں اور ان کے بھائی بھی بگڑ بیٹھے کہ ہمارا اپنا ارادہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کا تھا نہ کہ آپ کے غلام سے نکاح کرنے کا، اس پر یہ آیت اتری بلکہ اس سے بھی زیادہ معاملہ صاف کر دیا گیا اور فرما دیا گیا کہ ( اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَاَزْوَاجُهٗٓ اُمَّهٰتُهُمْ ۭ وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُهٰجِرِيْنَ اِلَّآ اَنْ تَفْعَلُوْٓا اِلٰٓى اَوْلِيٰۗىِٕكُمْ مَّعْرُوْفًا ۭ كَانَ ذٰلِكَ فِي الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا Č۝) 33- الأحزاب:6) نبی صلی اللہ علیہ وسلم مومنوں کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ اولیٰ ہیں ۔ پس آیت ( وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗٓ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِـيَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ ۭ وَمَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيْنًا 36؀ۭ) 33- الأحزاب:36) خاص ہے اور اس سے بھی جامع آیت یہ ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک انصاری کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنی لڑکی کا نکاح جلیبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کردو ۔ انہوں نے جواب دیا کہ اچھی بات ہے۔ میں اس کی ماں سے بھی مشورہ کرلوں ۔ جا کر ان سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا یہ نہیں ہوسکتا ، ہم نے فلاں فلاں ان سے بڑے بڑے آدمیوں کے پیغام کو رد کردیا اور اب جلیبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نکاح کر دیں ۔ انصاری اپنی بیوی کا یہ جواب سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جانا چاہتے ہی تھے کہ لڑکی جو پردے کے پیچھے سے یہ تمام گفتگو سن رہی تھی بول پڑی کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو رد کرتے ہو؟جب حضور اس سے خوش ہیں تو تمہیں انکار نہ کرنا چاہیے۔ اب دونوں نے کہا کہ بچی ٹھیک کہہ رہی ہے۔ بیچ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اس نکاح سے انکار کرنا گویا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام اور خواہش کو رد کرنا ہے، یہ ٹھیک نہیں ۔ چنانچہ انصاری سیدھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ کیا آپ اس بات سے خوش ہیں؟ آپ نے فرمایا! ہاں میں تو اس سے رضامند ہوں ۔ کہا پھر آپ کو اختیار ہے آپ نکاح کر دیجئے، چنانچہ نکاح ہو گیا۔ ایک مرتبہ اہل اسلام مدینہ والے دشمنوں کے مقابلے کے لئے نکلے، لڑائی ہوئی جس میں حضرت جلیبیب رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے انہوں نے بھی بہت سے کافروں کو قتل کیا تھا جن کی لاشیں ان کے آس پاس پڑی ہوئی تھیں ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے خود دیکھا ان کا گھر بڑا آسودہ حال تھا۔ تمام مدینے میں ان سے زیادہ خرچیلا کوئی نہ تھا۔ ایک اور روایت میں حضرت ابو بردہ اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت جلیبیب رضی اللہ عنہ کی طبیعت خوش مذاق تھی اس لئے میں نے اپنے گھر میں کہہ دیا تھا کہ یہ تمہارے پاس نہ آئیں ۔ انصاریوں کی عادت تھی کہ وہ کسی عورت کا نکاح نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ یہ معلوم کرلیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بابت کچھ نہیں فرماتے۔ پھر وہ واقعہ بیان فرمایا جو اوپر مذکور ہوا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ حضرت جلیبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سات کافروں کو اس غزوے میں قتل کیا تھا۔ پھر کافروں نے یک مشت ہو کر آپ کو شہید کر دیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کو تلاش کرتے ہوئے جب ان کی نعش کے پاس آئے تو فرمایا سات کو مار کر پھر شہید ہوئے ہیں ۔ یہ میرے ہیں اور میں ان کا ہوں ۔ دو یا تین مرتبہ یہی فرمایا پھر قبر کھدوا کر اپنے ہاتھوں پر انہیں اٹھا کر قبر میں اتارا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک ہی ان کا جنازہ تھا اور کوئی چار پائی وغیرہ نہ تھی۔ یہ بھی مذکور نہیں کہ انہیں غسل دیا گیا ہو ۔ اس نیک بخت انصاریہ عورت کے لئے جنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کی عزت رکھ کر اپنے ماں باپ کو سمجھایا تھا کہ انکار نہ کرو ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی تھی کہ اللہ اس پر اپنی رحمتوں کی بارش برسا اور اسے زندگی کے پورے لطف عطا فرما۔ تمام انصار میں ان سے زیادہ خرچ کرنے والی عورت نہ تھی۔ انہوں نے جب پردے کے پیچھے سے اپنے والدین سے کہا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بات رد نہ کرو اس وقت یہ آیت ( وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗٓ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِـيَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ ۭ وَمَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيْنًا 36؀ۭ) 33- الأحزاب:36) نازل ہوئی تھی۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حضرت طاؤس نے پوچھا کہ عصر کے بعد دو رکعت پڑھ سکتے ہیں؟ آپ نے منع فرمایا اور اسی آیت کی تلاوت کی پس یہ آیت گو شان نزول کے اعتبار سے مخصوص ہے لیکن حکم کے اعتبار سے عام ہے۔ اللہ اور اس کے رسول کے فرمان کے ہوتے ہوئے نہ تو کوئی مخالفت کر سکتا ہے نہ اسے ماننے نہ ماننے کا اختیار کسی کو باقی رہتا ہے۔ نہ رائے اور قیاس کرنے کا حق، نہ کسی اور بات کا۔ جیسے فرمایا ( فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَــرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا 65؀) 4- النسآء:65)، یعنی قسم ہے تیرے رب کی لوگ ایمان دار نہ ہوں گے جب تک کہ وہ آپس کے تمام اختلافات میں تجھے حاکم نہ مان لیں ۔ پھر تیرے فرمان سے اپنے دل میں کسی قسم کی تنگی نہ رکھیں بلکہ کھلے دل سے تسلیم کر لیا۔ صحیح حدیث میں ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو گا جب تک کہ اس کی خواہش اس چیز کی تابعدار نہ بن جائے جسے میں لایا ہوں ۔ اسی لئے یہاں بھی اس کی نافرمانی کی برائی بیان فرما دی کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرنے والا کھلم کھلا گمراہ ہے۔ جیسے فرمان ہے (فَلْيَحْذَرِ الَّذِيْنَ يُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖٓ اَنْ تُصِيْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ يُصِيْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ 63؀) 24- النور:63) یعنی جو لوگ ارشاد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خلاف کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہئے کہ ایسا نہ ہو ان پر کوئی فتنہ آپڑے یا انہیں درد ناک عذاب ہو ۔

Friday, May 20, 2016

سنت و مستحب اور نفل مع واجب

سنت و مستحب اور نفل مع واجب

سنت و مستحب اور نفل مع واجب

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سنت ،مستحب اور نفل ایک ہی چیز کے تین نام ہیں۔یعنی ہر وہ عمل جس کا شارع نے حکم دیا ہو ،لیکن اس کی تاکید نہ فرمائی ہو۔

رہا معاملہ فرض وواجب کا ، تولغت میں واجب ’ثابت ‘ اور ’لازم‘ کو کہتے ہیں،

اور اصطلاح میں واجب اس حکم کو کہتے ہیں جس کے سرانجام دینے والے کو فرمانبرداری کی وجہ سے ثواب ملے اور چھوڑنے والا سزا کا مستحق ٹھہرے۔

فرض اور واجب میں جمہور اہل علم کے ہاں کوئی فرق نہیں ہے۔صرف احناف فرق کرتے ہیں۔احناف کے ہاں ہر وہ حکم جو قطعی ذریعہ سے حاصل ہو وہ فرض ہے اور جو ظنی ذریعہ سے حاصل ہو واجب ہے۔

واللہ اعلم بالصواب



WEDNESDAY, 28 MAY 2014

کتاب وسنت پر عمل کرنا واجب ہے

کتاب وسنت پر عمل  کرنا واجب ہے

س۱:- الله تعالیٰ نے قرآن مجید کو کیوں نازل فرمایا؟
ج۱:- تاکہ اس کی تعلیمات پر عمل کیا جائے ۔ بدلیل:فرمان الٰہی:- اتَّبِعُوْا مَا أُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِنْ رَبِّکُمْ ۔ (اعراف:۳)لوگو! جو کچھ تمہارے رب کی طر ف سے تمہاری طرف نازل کیا گیا ہے اس کی پیروی کرو۔ ودلیل :حدیث نبوی:- اقرأوٴا القراٰن واعملوا بہ ولا تأکلوا بہ۔ (صحیح ،احمد)قرآن پڑھواور اس پر عمل کرو ،اور اسے ذریعہ معاش نہ بناوٴ۔

س۲:- لوگوں کے لیے قرآن نے سب سے اہم کون سی چیز کو بیان کیا ہے ؟
ج۲:- قرآن کی بیان کروہ سب سے اہم چیز خالقِ کائنات کی معرفت ہے ،(جو نعمتوں سے نوازتا ہے ،تن تنہا عبادت کا مستحق ہے) نیز ان مشرکین کی تردید ہے ،جو اپنے اولیاء کے بت بناکر انہیں پکارتے تھے۔
فرمان الٰہی:- قُلْ اِنَّمَا اَدْعُوا رَبِّی وَلَا اُشْرِکُ بِہ أَحَدًا ۔ (جن:۲۰)اے نبی: کہو کہ ”میں تو اپنے رب کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا“۔
س۳:- تلاوت قرآن کی غرض وغایت کیا ہے؟
ج۳:- ہم قرآن کی تلاوت اس لیے کرتے ہیں تاکہ اسے سمجھیں ،اس میں غور وفکر کریں ،اور اس پر عمل کریں ۔ بدلیل:فرمان الٰہی:- کِتَٰبٌ أَنْزَلْنَٰہُ مُبَٰرَکٌ لِّیَدَّبَّرُوٓا ءَ ایَٰتِہ وَلِیَتَذَکَّرَ أُوْلُوا الأَلْبَٰبِ ۔(سورةص:۲۹)یہ ایک بڑی برکت والی کتاب ہے جو (اے نبی )ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ یہ لوگ اس کی آیات پر غور کریں اور عقل وفکر رکھنے والے اس سے سبق لیں حضرت علی رضی الله عنہ سے مرفوعا وموقوفا ضعیف سند سے مروی ہے لیکن معنی صحیح ہے اور وہ درج ذیل فرمان نبوی ہے ۔
ألا انہا ستکون فتن قلت وما المخرج منھا؟ قال کتاب الله ، فیہ نبأما قبلکم وخبر بعدکم وحکم ما بینکم ھو الفصل لیس بالہزل ، وھوالذی من ترکہ من جبار قصمہ الله ومن ابتغی الھدی بغیرہ أضلہ الله ، فھو حبل الله المتین وھوالذکر الحکیم وھوالصراط الستقیم وھوالذی لاتزیغ بہ الأھواء ولا تلبس بہ الألسن ، ولا یشبع منہ العلماء ، ولا یخلق عن کثرة الرد ولا تنقضی عجائبہ وھوالذی لم ینتہ الجن اذ سمعتہ أن قالوا : اِنَّا سَمِعْنَا قُراٰنًا عَجَبًا۔(جن:۱)
(
آپ نے فرمایا ) خبردار! آگے چل کر بہت سے فتنے کھڑے ہونگے میں نے کہا ،ان سے ذریعہ نجات کیا ہوگا ،آپ نے فرمایا ،الله کی کتاب اس میں متقدمین ومتاخرین کی خبریں ہیں ،تمہارے معاملات کے فیصلے ہیں،وہ فیصلہ کن ہے ،خلاف حقیقت نہیں ،جس جابر وظالم نے اسے چھوڑا ،اسے الله نے برباد کردیا ،جس نے غیر قرآن سے ہدایت چاہی ،اسے الله تعالیٰ نے گمراہ کردیا،وہ الله کی مضبوط رسی ہے ،حکمتوں سے پرنصیحت ہے وہی صراط مستقیم ہے ،اسی کے ذریعہ خواہشات بہکتیں نہیں ،زبانیں بآسانی اسے پڑھ لیتی ہیں ،علماء اس سے بیزا ر نہیں ہوتے ،باربار دہرانے سے پرانی نہیں ہوتی ،اس کے عجائبات نہیں ختم ہونگے ‘وہی ہے جسے سن کرجنات یہ کہنے سے باز نہیں رہے اِنَّا سَمِعْنَا قُراٰنًا عَجَبًا۔(جن:۱)“ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے ،جس نے قرآن کی روشنی میں کوئی بات کہی ،سچ کہا ،جس نے اس کے ذریعہ فیصلہ کیا ،انصاف کیا جس نے اس پر عمل کیا مستحق اجر ہوا جس نے اس کی جانب دعوت دی ،صراط مستقیم کو پالیا۔
س۴:- قرآن مجید زندوں کے لیے ہے یا مُردوں کے لیے ؟
ج۴:- الله تعالیٰ نے قرآن مجید کو مُردوں کے بجائے زندوں کے لیے نازل فرمایا ہے تاکہ اپنی زندگی میں اس پر عمل کریں ،اس لیے کہ مُردوں کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں وہ اسے پڑھ نہیں سکتے ،نہ عمل کرسکتے ہیں اور اگر ان کے لیے قرآن مجید کی تلاوت کی جائے ،تو اس کا ثواب بھی نہیں ملے گا ،ہاں اگر پڑھنے والا مُردے کا لڑکا ہو تو دوسری بات ہے ،اس لیے کہ لڑکا باپ کی کوشش کا نتیجہ ہوتا ہے۔
قرآن مجید کے بارے میں فرمان الٰہی ہے:لِّیَنْذِرَ مَنْ کَانَ حَیًّا وَ یَحِقَّ القَوْلُ عَلَی الکَٰفِرِیْنَ ۔ (یٰسٓ)تاکہ وہ ہر اس شخص کو خبردار کردے جو زندہ ہو اور انکار کرنے والوں پرحجت قائم ہوجائے َ بدلیل:فرمان الٰہی:- وَأَنَّ لَیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعَیٰ ۔ (نجم :۳۹)اور یہ کہ انسان کیلئے کچھ نہیں ہے ،مگر وہ جس کی اس نے کوشش کی ہے امام شافعی رحمہ الله نے اس آیات سے یہ مسئلہ استنباط کیا ہے کہ مردوں کو قرآن خوانی کا ثواب نہیں ملے گا ، اس لیے کہ وہ نہ تو ان کا عمل ہے اور نہ ہی ان کی کمائی۔ دلیل:حدیث نبوی:- اِذا مات الانسان انقطع عملہ الا من ثلاث صدقة جاریة أو علم ینتفع بہ أو ولد صالح یدعو لہ ۔
جب انسان مرجاتاہے تو تین چیزوں کو چھوڑ کر اس کے اعمال کا سلسلہ ختم ہوجاتا ہے ۔صدقہ جاریہ یا نفع بخش علم یا نیک لڑکا جو باپ کیلئے دعاء کرے۔ (مسلم)رہی میت کیلئے دعاء اور صدقہ کرنے کی بات، تو ان کا ثواب میّت کو پہونچے گا،جیسا کہ صاحب شریعت نے آیات واحادیث کے ذریعہ اس کی صراحت کردی ہے۔
س۵:- صحیح حدیث پر عمل کرنے کی کیا حیثیت ہے ؟
ج۵:- صحیح حدیث پر عمل کرنا واجب ہے ۔ بدلیل:فرمان الٰہی:- وَمَا آتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَھَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوا ۔ (حشر:۷)اور جو چیز رسول تمہیں دے دیں اُسے لے لو ، اور جس چیز سے روک دیں اُس سے رک جاوٴ۔
حدیث نبوی:- علیکم بسنّتی وسنّة الخلفاء الراشدین المہدین تمسکوا بھا ۔(احمد)میرے طریقے کو لازم پکڑلو ،اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریق کار کو مضبوطی سے تھام لو ،(بشرطیکہ سنت نبوی کے خلاف نہ ہو
س:- کیا قرآن کریم کو کافی سمجھتے ہوئے حدیث پاک کو نظرانداز کیا جاسکتا ہے ؟
ج:- ہرگز نہیں، اس لیے کہ حدیث نبوی قرآن کریم کی شارح ہے۔
فرمان الٰہی:- وَأَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْہِمْ وَلَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ ۔ (سورة النحل)اور اب یہ ذکر تم پر نازل کیا گیا ہے تاکہ تم لوگوں کے سامنے اس تعلیم کی تشریح وتوضیح کرتے جاوٴ،جوان کے لیے اتاری گئی ہے اور تاکہ لوگ خود بھی غوروفکر کریں۔
حدیث نبوی:- ألا وانّی أوتیت القرآن ومثلہ معہ ۔ (صحیح ابوداوٴد)خبردار! مجھے قرآن دیا گیا ہے ،ا ور اس کے ساتھ اس جیسی اور چیز بھی (حدیث پاک)۔
س۷:- کیا الله اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم کے اقوال پر کسی قول کو ترجیح دی جاسکتی ہے۔
ج۷:- ہرگز نہیں!فرمان الٰہی:- یَٰٓأَیُّہَاالَّذِیْنَ ءَ امَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَیْنَ یَدَیِ اللهِ وَرَسُولہِ ۔ (حجرات:۱)ایمان والو! الله اور اس کے رسول کے آگے پیش قدمی نہ کرو۔
جب الله کی نافرمانی ہورہی ہو تو کسی دوسرے کی بات نہ مانی جائے عبدالله ا بن عباس رضی الله عنہ کا قول ہے:أخشی أن تنزل علیکم حجارة من السماء أقول لکم قال رسول الله ﷺ وتقولون قال أبوبکر وعمر۔
مجھے خطرہ ہے کہ کہیں تم پر پتھروں کی بارش نہ ہوجائے ،کیونکہ میں تمہیں احادیث نبوی کا حوالہ دیتاہوں ،اور تم ابوبکر وعمر رضی الله عنہم کی باتیں پیش کرتے ہو۔ (دارمی)
س۸:- زندگی میں کتاب وسنت کو فیصل بنانے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
ج۸:- کتاب وسنت کو فیصل بنانا واجب ہے ۔
فرمان الٰہی:- فَلَا وَرَبِّکَ لَایُوٴمِنُونَ حَتَّیٰ یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَھُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوا فِیٓ أَنْفُسِھِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوا تَسْلِیْمًا ۔ (النساء)
(
اے محمد) تمہارے رب کی قسم ،یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے ،جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ محسوس کریں،بلکہ سربسرتسلیم کرلیں۔
حدیث نبوی:- وما لم تحکم أئمتھم بکتاب الله ویتخیروا مما أنزل الله الا جعل الله بأسھم بینھم ۔(ابن ماجة،حسن)حُکام کاکتاب الله کے مطابق فیصلہ نہ کرنا ، اور الله کے نازل کردہ قوانین میں اپنے اختیارات کو استعمال کرنا باہمی اختلاف ونزاع کا باعث ہے ۔
س۹:- باہمی اختلاف ونزاع کاکیاحل ہے ؟
ج۹:- ان حالات میں قرآن مجید اور سنت صحیحہ کی طرف رجوع کیا جائے ۔
فرمان الٰہی:- فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِی شَیٴٍ فَرُدُّوہُ اِلَی اللهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ کُنْتُمْ تُوٴمِنُوْنَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الآَخِرِ ذٰلِکَ خَیْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِیْلًا ۔ (نساء:۵۹)اگر تمہارے درمیان کسی معاملہ میں نزاع ہوجائے تو اسے الله اور رسول کی طرف پھیر دو ،اگر تم واقعی الله اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔یہی ایک صحیح طریق کار ہے۔اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے۔
حدیث نبوی:- ترکت فیکم أمرین لن تضلوا ما تمسکتم بھما کتاب الله وسنة رسولہ۔ (رواہ مالک وصححہ البانی فی الجامع الصحیح)۔
میں تم میں دوچیزیں چھوڑے جارہاہوں جن پر عمل کرتے ہوئے تم ہرگز گمراہ نہ ہوگے ،وہ الله کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت ہیں 
س۱۰:- جو اپنے لیے شرعی امر ونواہی کو لازم نہ سمجھے اس کا کیا حکم ہے ؟
ج۱۰:- ایسا سمجھنے والا کافر ومرتد اور خارج ازاسلام ہوگا۔ اس لیے کہ بندگی صرف الله کے لیے ہے ۔شہادتین کے اقرار کا یہ مفہوم فی الواقع پایا ہی نہیں جاسکتا ہے ،جب تک کہ الله کی ہمہ جہتی عبادت نہ کی جائے ،اس عباد ت میں بنیادی عقائد ،مراسم عبادت ،زندگی کے ہر معاملے میں شریعت الٰہیہ کو حَکَم ماننا اورمنہج الٰہی کی تطبیق وغیرہ سب کی سب داخل ہے ۔شریعت الٰہیہ کو چھوڑ کر کسی دوسری چیز کوحلت وحرمت کا معیار بنانا ،شرک ہے ،جو کسی صورت میں عبادت سے متعلق شرک سے مختلف نہیں۔ (دوسری کی کتاب ”الاجوبة المفیدہ “سے ماخوذ)
س۱۱:- الله اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم سے محبت کا معیار کیا ہونا چاہئے ؟
ج۱۱:- محبت کا معیار ان کی اطاعت اور ان کے احکامات کی پیروی ہے۔
فرمان الٰہی:- قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُوْنِی یُحْبِبْکُمُ اللهُ وَیَغفِرْ لَکُمْ ذُنُوبَکُمْ وَاللهُ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ ۔ (آل عمران)اے نبی! لوگوں سے کہہ دو کہ اگرتم حقیقت میں الله سے محبت رکھتے ہو تومیری پیروی اختیار کرو ،الله تم سے محبت کرے گااورتمہاری خطاوٴں سے درگذر فرمائے گا ،وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے ۔
حدیث نبوی:- لا یوٴمن أحدکم حتی أکون أحب الیہ من والدہ وولدہ والناس اجمعین ۔ (بخاری ومسلم)اس وقت تک کسی کا ایمان مکمل نہیں ہوسکتا ۔جب تک میں اسے اس کے والدین اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاوٴں۔
س۱۲:- الله اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم سے محبت کے کیا شرائط ہیں؟
ج۱۲:- ان کی محبت کے بہت سارے شرائط ہیں،جیسے:۱۔ محبوب کی پسندیدہ چیزوں سے موافقت ۔
۲۔ اس کی ناپسندیدہ چیزوں کا انکار۔
۳۔ اس کے محبوبوں سے محبت ،اس کے دشمنوں سے بغض رکھنا۔
۴۔ اس کے دوستوں سے دوستی ، اس کے دشمنوں سے دشمنی۔
۵۔ اس کا تعاون کرنا ، اس کے طریق کار پر عمل پیرا ہونا۔
جو بھی ان امور کا پابند نہ ہوگا ،وہ اپنی محبت کے دعوے میں جھوٹا ہوگا اس پر شاعر کا یہ شعر صادق آئے گا #لو حبک صادقًا لأطعتہ         ............ انّ المحب لمن یحب مطیع
اگر تمہاری محبت سچی ہوتی تو تم محبوب کی اطاعت کرتے اس لیے کہ محبت کرنے والا محبوب کا مطیع ہوتا ہے
س۱۳:- خشوع وخضوع پر مشتمل محبت کس کے لیے ہونی چاہئے؟
ج۱۳:- ایسی محبت صرف الله کے لیے ہونی چاہئے۔ بدلیل:فرمان الٰہی:- وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللهِ اَنْدَادًا یُحِبُّوْنَھُمْ کَحُبِّ اللهِ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوا اَشَدُّ حُبًّا لِلّٰہِ ۔ (بقرہ:۱۶۵)کچھ لوگ ایسے ہیں جو الله کے سوا دوسروں کو اس کا ہمسر اورمدمقابل بناتے ہیں اور ان کے ایسے گرویدہ ہیں،جیسی الله کے ساتھ گرویدگی ہونی چاہئے ۔حالانکہ ایمان رکھنے والے لوگ سب سے بڑھ کر الله کومحبوب رکھتے ہیں۔

جمیل زینو کی کتاب سے ماخوذ