اگر كوئى شخص نماز جمعہ كى تشھد ميں ملے تو كيا كرے ؟
================
اگر كوئى مسلمان شخص نماز جمعہ كى صرف تشھد ہى پائے تو اسے كيا كرنا چاہيے ؟
اور اگر كسى شخص كو نماز جمعہ كى ادائيگى سے روك ديا جائے يا پھر كسى ايسے سبب كى بنا پر وہ نماز جمعہ ادا نہ كر سكے جس كا باعث وہ خود نہيں، مثلا جس بس اور گاڑى پرسوار تھا وہ خراب ہو گئى تو كيا اس پر كوئى گناہ ہو گا ؟
كيا اسے جو اجروثواب اور دعاء كى قبوليت كے جو لحظات حاصل ہونا تھے وہ سب ضائع ہو جائيگا ؟
الحمد للہ :
اگر امام كے ساتھ ايك ركعت ملے تو پھر نماز جمعہ حاصل ہو گى، اور ايك ركعت اس وقت ملے گى جب امام كے ساتھ ركوع سے قبل ملے اور ركوع حاصل كر لے، اور اگر وہ دوسرى ركعت ميں امام كے ساتھ ركوع سے قبل مل جائے تو اس نے نماز جمعہ پالى، تو اس وقت امام كے سلام پھيرنے كے بعد وہ اٹھ كر ايك ركعت ادا كر كے نماز جمعہ مكمل كرے گا.
ليكن اگر وہ امام كے ركوع سے اٹھنے كے بعد امام كے ساتھ ملتا ہے تو اس كى نماز جمعہ رہ جائيگى، اور اس طرح وہ ظہر كى نماز ادا كرے گا، اور امام كے سلام پھيرنے كے بعد اٹھ كر چار ركعت نماز ظہر ادا كرے گا نہ كہ نماز جمعہ، جمہور علماء كرام: امام مالك، امام شافعى، امام احمد رحمہم اللہ كا مسلك يہى ہے.
ديكھيں: المجموع للنووى ( 4 / 558 ).
ان كے دلائل يہ ہيں:
1 - نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" جس نے نماز كى ايك ركعت پالى اس نے نماز پالى "
صحيح بخارى حديث نمبر ( 580 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 607 ).
2 - نسائى رحمہ اللہ نے عبد اللہ بن عمر رضى اللہ تعالى عنہما سے بيان كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" جس نے نماز جمعہ يا دوسرى نماز كى ايك ركعت پالى تو وہ اس كے ساتھ دوسرى ركعات بھى ادا كر تو اس كى نماز مكمل ہو گئى "
علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے الارواء ( 622 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.
اور اگر انسان كسى ايسے عذر كے باعث نماز ميں شامل نہ ہو سكے جس كا باعث وہ خود نہيں بلكہ وہ غير ارادى طور پر ہوا ہو مثلا جيسا سائل نے ذكر كيا كہ گاڑى خراب ہو جائے يا كوئى اور عذر مثلا نيند يا پھر بھول جانا، تو اس ميں كوئى حرج نہيں، اور نہ ہى اس پركوئى گناہ ہے، كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:
﴿تم سے جو بھول چوك ہو جائے اس ميں تم پر كوئى حرج نہيں، ليكن گناہ اس ميں ہے ہے جو تمہارے دل كے ارادے سے ہو ﴾الاحزاب ( 5 ).
اور اس طرح كا شخص جان بوجھ كر عمدا نماز ضائع نہيں كرتا.
اور اس ليے بھى كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" يقينا اللہ تعالى نے ميرى امت سے خطاء، نسيان، اور جس پر انہيں مجبور كر ديا گيا ہو معاف كر ديا ہے "
اسے ابن ماجہ نے روايت كيا ہے، اور علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے ارواء الغليل ( 82 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.
اگر وہ اس حالت ميں نماز كى ادائيگى كا عزم ركھتا كہ اگر عذر نہ ہوتا تو وہ ضرور نماز ادا كرتا، تو اسے مكمل اجروثواب حاصل ہوگا، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" اعمال كا دارومدار نيتوں پر ہے، اور ہر شخص كے ليے وہى ہے جو اس نے نيت كى ہو "
صحيح بخارى حديث نمبر ( 1 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1907 ).
اور اس ليے بھى كہ جب رسول كريم صلى اللہ عليہ غزوہ تبوك سے واپس آرہے تھے تو آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے صحابہ كرام كو فرمايا تھا:
" بلا شبہ مدينہ ميں كچھ لوگ ايسے بھى ہيں جو مدينہ ميں رہنے كے باوجود تمہارے ساتھ ہرگھاٹى اور وادى اور سفر ميں تمہارے ساتھ رہے، اور اجروثواب ميں شريك ہوئے، انہيں بيمارى نے روك ليا تھا "
صحيح مسلح حديث نمبر ( 1911 ).
واللہ اعلم .
الشيخ محمد صالح المنجد
Showing posts with label Jumma ke din. Show all posts
Showing posts with label Jumma ke din. Show all posts
Friday, June 3, 2016
Wednesday, May 25, 2016
جمعہ کے دن سورۃ الکھف پڑھنے کا وقت کونسا ہے؟
جمعہ کے دن سورۃ الکھف پڑھنے کا وقت کونسا ہے؟
@@@@@@@@@@@@@@
السوٴال :
جمعہ کے دن سورۃ الکھف کس وقت پڑھنا سنت ہے ؟ کیافجرکے بعد اور جمعہ سے پہلے پڑھنی چاہیے یا کہ جمعہ کے دن کسی بھی وقت پڑھی جاسکتی ہے؟
اور کیا جمعہ کے دن سورۃ آل عمران پڑھنا سنت ہے ؟ اگر پڑھنی چاہیے تو کس وقت ؟
الجواب بعون الوھاب بشرط صحة السوٴال
الحمد للہ
جمعہ کے دن یا جمعۃ کی رات میں سورۃ الکھف پڑھنے کی فضیلت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح احادیث وارد ہیں جن میں سےکچھ کا ذکرذیل میں کیا جاتا ہے :
ا - ابوسعید خدری رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
( جس نے جمعہ کی رات سورۃ الکھف پڑھی اس کے اور بیت اللہ کے درمیان نورکی روشنی ہوجاتی ہے ) سنن دارمی ( 3407 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح الجامع ( 6471 ) میں اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے ۔
ب – فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :
( جس نے جمعہ کے دن سورۃ الکھف پڑھی اسے کے لیے دوجمعوں کے درمیان نورروشن ہوجاتا ہے ) مستدرک الحاکم ( 2 / 399 ) بیھقی ( 3 / 249 ) اس حدیث کے متعلق حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی " تخریج الاذکار " میں کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے ، اور ان کا کہنا ہے کہ سورۃ الکھف کے بارہ میں سب سےقوی یہی حديث ہے ۔ دیکھیں " فیض القدیر " ( 6 / 198 ) اور علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح الجامع ( 6470 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔
ج - ابن عمررضی اللہ تعالی بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
جس نے جمعہ کے دن سورۃ الکھف پڑھی اس کے قدموں کے نیچے سے لیکر آسمان تک نور پیدا ہوتا ہے جو قیامت کے دن اس کے لیے روشن ہوگا اور اس دونوں جمعوں کے درمیان والے گناہ معاف کردیۓ جاتے ہیں ۔
منذری کا کہنا ہے کہ : ابوبکر بن مردویہ نے اسے تفسیر میں روایت کیا ہے جس کی سند میں کوئ حرج نہیں ، لاباس بہ کہا ہے ۔ الترغیب والترھیب ( 1 / 298 ) ۔
سورۃ الکھف جمعہ کی رات یا پھر جمعہ کے دن پڑھنی چاہیے ، جمعہ کی رات جمعرات کومغرب سے شروع ہوتی اور جمعہ کا دن غروب شمس کے وقت ختم ہوجاتا ہے ، تو اس بناپر سورۃ الکھف پڑھنے کا وقت جمعرات والے دن غروب شمس سے جمعہ والے دن غروب شمس تک ہوگا ۔
مناوی رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے کہ :
حافظ ابن حجررحمہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب " امالیہ " میں کہا ہے کہ : کچھ روایا ت میں اسی طرح ہے کہ یوم الجمعۃ اور کچھ روایات میں لیلۃ الجمعۃ کے الفاظ ہیں، اور ان میں جمع اس طرح ممکن ہے کہ اس سے مراد یہ لیا جاۓ کہ دن اس کی رات کے ساتھ اور رات اپنے دن کے ساتھ ، ( یعنی یوم الجمعۃ کا معنی دن اوررات اورلیلۃ الجمعۃ کا معنی یہ ہوگا کہ رات اور دن ) فیض القدیر( 6 / 199 )۔
اور مناوی رحمہ اللہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ :
جمعہ کے دن سورۃ الکھف پڑھنی مندوب ہے جیسا کہ امام شافعی رحمہ اللہ تعالی �
@@@@@@@@@@@@@@
السوٴال :
جمعہ کے دن سورۃ الکھف کس وقت پڑھنا سنت ہے ؟ کیافجرکے بعد اور جمعہ سے پہلے پڑھنی چاہیے یا کہ جمعہ کے دن کسی بھی وقت پڑھی جاسکتی ہے؟
اور کیا جمعہ کے دن سورۃ آل عمران پڑھنا سنت ہے ؟ اگر پڑھنی چاہیے تو کس وقت ؟
الجواب بعون الوھاب بشرط صحة السوٴال
الحمد للہ
جمعہ کے دن یا جمعۃ کی رات میں سورۃ الکھف پڑھنے کی فضیلت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح احادیث وارد ہیں جن میں سےکچھ کا ذکرذیل میں کیا جاتا ہے :
ا - ابوسعید خدری رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
( جس نے جمعہ کی رات سورۃ الکھف پڑھی اس کے اور بیت اللہ کے درمیان نورکی روشنی ہوجاتی ہے ) سنن دارمی ( 3407 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح الجامع ( 6471 ) میں اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے ۔
ب – فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :
( جس نے جمعہ کے دن سورۃ الکھف پڑھی اسے کے لیے دوجمعوں کے درمیان نورروشن ہوجاتا ہے ) مستدرک الحاکم ( 2 / 399 ) بیھقی ( 3 / 249 ) اس حدیث کے متعلق حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی " تخریج الاذکار " میں کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے ، اور ان کا کہنا ہے کہ سورۃ الکھف کے بارہ میں سب سےقوی یہی حديث ہے ۔ دیکھیں " فیض القدیر " ( 6 / 198 ) اور علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح الجامع ( 6470 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔
ج - ابن عمررضی اللہ تعالی بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
جس نے جمعہ کے دن سورۃ الکھف پڑھی اس کے قدموں کے نیچے سے لیکر آسمان تک نور پیدا ہوتا ہے جو قیامت کے دن اس کے لیے روشن ہوگا اور اس دونوں جمعوں کے درمیان والے گناہ معاف کردیۓ جاتے ہیں ۔
منذری کا کہنا ہے کہ : ابوبکر بن مردویہ نے اسے تفسیر میں روایت کیا ہے جس کی سند میں کوئ حرج نہیں ، لاباس بہ کہا ہے ۔ الترغیب والترھیب ( 1 / 298 ) ۔
سورۃ الکھف جمعہ کی رات یا پھر جمعہ کے دن پڑھنی چاہیے ، جمعہ کی رات جمعرات کومغرب سے شروع ہوتی اور جمعہ کا دن غروب شمس کے وقت ختم ہوجاتا ہے ، تو اس بناپر سورۃ الکھف پڑھنے کا وقت جمعرات والے دن غروب شمس سے جمعہ والے دن غروب شمس تک ہوگا ۔
مناوی رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے کہ :
حافظ ابن حجررحمہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب " امالیہ " میں کہا ہے کہ : کچھ روایا ت میں اسی طرح ہے کہ یوم الجمعۃ اور کچھ روایات میں لیلۃ الجمعۃ کے الفاظ ہیں، اور ان میں جمع اس طرح ممکن ہے کہ اس سے مراد یہ لیا جاۓ کہ دن اس کی رات کے ساتھ اور رات اپنے دن کے ساتھ ، ( یعنی یوم الجمعۃ کا معنی دن اوررات اورلیلۃ الجمعۃ کا معنی یہ ہوگا کہ رات اور دن ) فیض القدیر( 6 / 199 )۔
اور مناوی رحمہ اللہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ :
جمعہ کے دن سورۃ الکھف پڑھنی مندوب ہے جیسا کہ امام شافعی رحمہ اللہ تعالی �
Subscribe to:
Posts (Atom)