عورت اپنے مال كى زكاۃ خاوند كو دے سكتى ہے
====================
ميرى بيوى كے پاس زيور ہے جس پر زكاۃ واجب ہے، ميرى بيوى ملازمت نہيں كرتى اور نہ ہى اس كا كوئى اور ذريعہ آمدن ہے، اس كى طرف سے مجھ پر ادائيگى واجب ہے، ليكن ميں مقروض ہوں، تو كيا بيوى مجھے اپنے مال كى زكاۃ دے سكتى ہے تا كہ ميں اپنا قرض ادا كرسكوں ؟
Published Date: 2014-08-31
الحمد للہ:
اول:
بيوى كے مال كى زكاۃ كى ادائيگى خاوند كے ذمہ واجب نہيں، كيونكہ زكاۃ مالك پر واجب ہوتى ہے، اور زكاۃ اس نفقہ ميں شامل نہيں ہوتى جو بيوى كا اپنے خاوند كے ذمہ واجب ہے۔
دوم:
اور رہا مسئلہ بيوى كا اپنے مال كى زكاۃ خاوند كو دينا تو اس ميں اكثر اہل علم جواز كے قائل ہيں، اور انہوں نے مندرجہ ذيل بخارى اور مسلم كى حديث سے استدلال كيا ہے:
ابو سعيد خدری رضى اللہ عنہ بيان كرتے ہيں كہ جب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے عورتوں كو صدقہ كرنے كا حكم ديا تو عبد اللہ بن مسعود رضى اللہ عنہ كى بيوى زينب رضى اللہ تعالى عنہا آئىں اور كہنے لگى:
اے اللہ تعالى نبى !آپ نے آج صدقہ و خيرات كرنے كا حكم ديا ہے، اور ميرے پاس ميرا زيور ہے ميں اسے صدقہ كرنا چاہتى ہوں، تو ابن مسعود [رضى اللہ عنہ] كا خيال ہے كہ وہ اور اس كى اولاد اس صدقہ كى زيادہ مستحق ہیں ، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: " ابن مسعود رضى اللہ عنہ نے سچ كہا ہے، تيرا خاوند اور تيرى اولاد كسى دوسرے پر صدقہ كرنے سے زيادہ حقدار ہیں"
صحيح بخارى ( 1462 ) صحيح مسلم ( 1000 )
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كہتے ہيں:
اس حديث سے استدلال كيا گيا ہے كہ بيوى اپنى زكاۃ خاوند كو دے سکتی ہے، یہ موقف امام شافعى، ثورى، امام ابو حنيفہ كے صاحبين، كا قول ہے اور امام مالك اور امام احمد كى ايك روايت يہى ہے۔
اور اس كى تائيد اس قاعدہ سے بھی ہوتى ہے كہ ضرورت کے وقت تفصيل بیان نہ کرنا عموم كے قائم مقام ہوتا ہے، لہذا جب صدقہ كا ذكر كيا گيا اور اس كى تفصيل بيان نہيں ہوئى كہ وہ فرضى ہے يا نفلى تو گويا يہ كہا كہ: "فرضى ہو يا نفلى آپ سے ادا ہو جائے گا"
اور بعض علماء كرام نے اس سے منع كيا ہے كہ بيوى اپنے مال كى زكاۃ خاوند كو دے، ان كا كہنا ہے كہ: كيونكہ خاوند اس زكاۃ کو اپنی اسی بیوی پر خرچ كرے گا، تو گويا كہ اس نے زكاۃ اپنے آپ كو ہى دى، اور انہوں نے مندرجہ بالا حديث كو نفلى صدقہ پر محمول كيا ہے۔
چنانچہ ابن منير رحمہ اللہ نے اس كا جواب ديتے ہوئے كہا ہے:
"صدقہ دوبارہ بیوی کی طرف لوٹ آئے اسکا احتمال تو نفلى صدقہ ميں بھى پايا جاتا ہے" تصرف کے ساتھ
شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ " الشرح الممتع " (6/168-169)ميں كہتے ہيں:
صحيح يہى ہے كہ اگر خاوند زكاۃ كے مستحقين ميں سے ہے تو اسے زكاۃ دينى جائز ہے، اور اس كے ليے نبى كريم صلى اللہ عليہ كے اس قول سے استدلال كيا جاسكتا ہے جو انہوں نے عبد اللہ بن مسعود رضى اللہ تعالى عنہ كى بيوى زينب رضى اللہ عنہا كو فرمايا تھا: " تيرا خاوند اور تيرى اولاد قابل صدقہ افراد میں تمہارئے صدقہ کے زيادہ حقدار ہيں "
تو ہمارے ليے يہ كہنا ممكن ہے: اس میں فرض اور نفل دونوں شامل ہیں، بہر حال اگر حديث ميں دليل ہے تو يہ بہتر اورخير ہے، اور اگر يہ كہا جائے كہ يہ تو نفلى صدقہ كے ساتھ خاصل ہے، تو ہم خاوند كو زكاۃ دينے كے بارہ ميں يہ كہيں گے: خاوند فقير اور محتاج ہے اور اس ميں وہ وصف پايا جاتا ہے جس كى بنا پر زكاۃ كا مستحق ہوا جاتا ہے، تو منع اور نہ دينے كى دليل كہاں ہے؟ كيونكہ جب سبب پايا جائے تو حكم ثابت ہو جاتا ہے، ليكن اگراگر كوئى دليل اس كے خلاف ملے تو پهر ثابت نہيں ہوگا، چنانچہ يہاں اس كے خلاف قرآن اور سنت سے كوئى دليل نہیں ملتى ہے كہ بيوى اپنے خاوند كو زكاۃ ادا نہيں كر سكتى۔ انتہی مختصرا
دائمی فتوى كميٹى (10/62)سے پوچھا گيا:
اگر خاوند فقير اور محتاج ہو تو كيا بيوى اپنے مال كى زكاۃ اسے دے سکتی ہے؟
كميٹى كا جواب تھا:
اگر خاوند فقير ہو تو اس كے فقر كو دور كرنے كے ليے بيوى ، خاوند کو اپنے مال كى زكاۃ دے سكتى ہے، اس كى دليل مندرجہ ذيل فرمان بارى تعالى كا عموم ہے:
( إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ ) یعنی زكاۃ تو صرف فقراء، مساكين ۔۔۔کیلئے ہے۔ التوبۃ / 60
سوم:
اوپر جو كچھ بيان ہوا ہے وہ بيوى كا اپنے خاوند كو مال كى زكاۃ دينے كے متعلق تھا، اور رہا مسئلہ خاوند كا اپنے مال كى زكاۃ بيوى كو دينا تو اس كے متعلق ابن منذر رحمہ اللہ كہتے ہيں:
"علماء كا اس پر اجماع ہے كہ مرد اپنى بيوى كو زكاۃ نہيں دے گا، كيونكہ بيوى كا نفقہ خاوند كے ذمہ واجب ہے، تو بیوی کو خاوندکی زکاۃ کی کوئی ضرورت نہیں" .
اسلام سوال وجواب
Thursday, June 30, 2016
jakat
📔ZAKAT INFORMATION LIST.📔
🔹Rupees. 👉Rs. Ps.
🔹100. 👉 2. 50
🔹200 👉5. 00
🔹300 👉7. 50
🔹400. 👉 10. 00
🔹500. 👉12. 50
🔹600. 👉15. 00
🔹700. 👉17. 50
🔹800. 👉20. 00
🔹900. 👉22. 50
🔹1000. 👉25. 00
🔹1500. 👉37. 50
🔹2000. 👉50. 00
🔹2500. 👉62. 50
🔹3000. 👉75. 00
🔹3500. 👉87. 50
🔹4000. 👉100. 00
🔹4500. 👉112. 50
🔹5000. 👉125. 00
🔹5500. 👉137. 50
🔹6000. 👉150. 00
🔹6500. 👉162. 50
🔹7000. 👉175. 00
🔹7500. 👉187. 50
🔹8000. 👉200. 00
🔹8500. 👉212. 50
🔹9000. 👉225. 00
🔹9500. 👉237. 50
🔹10000. 👉250. 00
🔹15000. 👉375. 00
🔹20000. 👉500. 00
🔹25000. 👉625. 00
🔹30000. 👉750. 00
🔹35000. 👉875. 00
🔹40000. 👉1000. 00
🔹45000. 👉1125. 00
🔹50000. 👉1250. 00
🔹55000. 👉1375. 00
🔹60000. 👉1500. 00
🔹65000. 👉1625. 00
🔹70000. 👉1750. 00
🔹80000. 👉2000. 00
🔹90000. 👉2250. 00
🔹1 lakh. 👉2500. 00
🔹2 lakh. 👉5000. 00
🔹3 lakh. 👉7500. 00
🔹4 lakh. 👉10000. 00
🔹5 lakh. 👉12500. 00
🔹6 lakh. 👉15000. 00
🔹7 lakh. 👉17500. 00
🔹8 lakh. 👉20000. 00
🔹9 lakh. 👉22500. 00
🔹10 lakh. 👉25000. 00
🔹20 lakh. 👉50000. 00
🔹30 lakh. 👉75000. 00
🔹40 lakh. 👉1 lakh.
🔹50 lakh. 👉1 lakh 25000
🔹1 caror. 👉2 lakh 50000
🔹2 caror. 👉5 lakh.
Frwded as received ......ye ramzan mein kaam aiga save rakho.
Apna zakat aur fitra muslimon ki bhalai ke liye istmal kare.
🔹Rupees. 👉Rs. Ps.
🔹100. 👉 2. 50
🔹200 👉5. 00
🔹300 👉7. 50
🔹400. 👉 10. 00
🔹500. 👉12. 50
🔹600. 👉15. 00
🔹700. 👉17. 50
🔹800. 👉20. 00
🔹900. 👉22. 50
🔹1000. 👉25. 00
🔹1500. 👉37. 50
🔹2000. 👉50. 00
🔹2500. 👉62. 50
🔹3000. 👉75. 00
🔹3500. 👉87. 50
🔹4000. 👉100. 00
🔹4500. 👉112. 50
🔹5000. 👉125. 00
🔹5500. 👉137. 50
🔹6000. 👉150. 00
🔹6500. 👉162. 50
🔹7000. 👉175. 00
🔹7500. 👉187. 50
🔹8000. 👉200. 00
🔹8500. 👉212. 50
🔹9000. 👉225. 00
🔹9500. 👉237. 50
🔹10000. 👉250. 00
🔹15000. 👉375. 00
🔹20000. 👉500. 00
🔹25000. 👉625. 00
🔹30000. 👉750. 00
🔹35000. 👉875. 00
🔹40000. 👉1000. 00
🔹45000. 👉1125. 00
🔹50000. 👉1250. 00
🔹55000. 👉1375. 00
🔹60000. 👉1500. 00
🔹65000. 👉1625. 00
🔹70000. 👉1750. 00
🔹80000. 👉2000. 00
🔹90000. 👉2250. 00
🔹1 lakh. 👉2500. 00
🔹2 lakh. 👉5000. 00
🔹3 lakh. 👉7500. 00
🔹4 lakh. 👉10000. 00
🔹5 lakh. 👉12500. 00
🔹6 lakh. 👉15000. 00
🔹7 lakh. 👉17500. 00
🔹8 lakh. 👉20000. 00
🔹9 lakh. 👉22500. 00
🔹10 lakh. 👉25000. 00
🔹20 lakh. 👉50000. 00
🔹30 lakh. 👉75000. 00
🔹40 lakh. 👉1 lakh.
🔹50 lakh. 👉1 lakh 25000
🔹1 caror. 👉2 lakh 50000
🔹2 caror. 👉5 lakh.
Frwded as received ......ye ramzan mein kaam aiga save rakho.
Apna zakat aur fitra muslimon ki bhalai ke liye istmal kare.
Monday, June 20, 2016
قنوت
اللَّهمَّ اهدِني فيمن هديتَ وعافِني فيمن عافيتَ وتولَّني فيمن تولَّيتَ وبارِك لي فيما أعطيتَ وقني شرَّ ما قضيتَ فإنَّكَ تقضي ولا يُقضى عليكَ وإنَّهُ لا يذلُّ من واليتَ تباركتَ ربَّنا وتعاليت
َ(صحيح الترمذي:464)
َ(صحيح الترمذي:464)
Tuesday, June 14, 2016
احد کے شہداء کو نماز جنازہ نہیں پڑھی
احد کے شہداء کو نماز جنازہ نہیں پڑھی
صحیح بخاری 4079
حدثنا قتيبة بن سعيد ، حدثنا الليث ، عن ابن شهاب ، عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك ، أن جابر بن عبد الله ـ رضى الله عنهما ـ أخبره أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يجمع بين الرجلين من قتلى أحد في ثوب واحد ثم يقول " أيهم أكثر أخذا للقرآن ". فإذا أشير له إلى أحد ، قدمه في اللحد ، وقال " أنا شهيد على هؤلاء يوم القيامة ". وأمر بدفنهم بدمائهم ، ولم يصل عليهم ، ولم يغسلوا.
ترجمہ
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک نے اور انہیں حضرت جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے شہداء کو ایک ہی کپڑے میں دو دو کو کفن دیا اور آپ دریافت فرماتے کہ ان میں قرآن کا عالم سب سے زیادہ کون ہے ؟ جب کسی ایک کی طرف اشارہ کر کے آپ کو بتایا جاتا تو لحد میں آپ انہی کو آگے فرماتے ۔ آپ نے فرمایا کہ قیامت کے دن میں ان سب پر گواہ رہوں گا ۔ پھر آپ نے تمام شہداء کو خون سمیت دفن کرنے کا حکم فرما دیا اور ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی اور نہ انہیں غسل دیا گیا -------------------------------------------------
بادمےشہداء احد پر نماز جنازہ ادا کی
؟؟،،؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
صحیح بخاری 4085
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
حدثني عمرو بن خالد ، حدثنا الليث ، عن يزيد بن أبي حبيب ، عن أبي الخير ، عن عقبة ، أن النبي صلى الله عليه وسلم خرج يوما فصلى على أهل أحد صلاته على الميت ، ثم انصرف إلى المنبر فقال " إني فرط لكم ، وأنا شهيد عليكم ، وإني لأنظر إلى حوضي الآن ، وإني أعطيت مفاتيح خزائن الأرض ـ أو مفاتيح الأرض ـ وإني والله ما أخاف عليكم أن تشركوا بعدي ، ولكني أخاف عليكم أن تنافسوا فيها ".
ترجمہ
مجھ سے عمرو بنخالد نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیثبن سعد نے بیان کیا ، ان سے یزیدبنابیحبیب نے ، ان سے ابو الخیر نے اور ان سے حضرت عقبہ بنعامر رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن باہر تشریف لائے اور شہداء احد پر نماز جنازہ ادا کی ، جیسے مردوں پر ادا کی جاتی ہے ۔ پھر آپ منبر پر تشریف لائے اور فرمایا کہ میں تمہارے آگے جاؤں گا ، میں تمہارے حق میں گواہ رہوں گا ، میں اب بھی اپنے حوض ( کوثر ) کو دیکھ رہا ہوں ۔ مجھے دنیا کے خزانوں کی کنجی عطا فرمائی گئی ہے یا ( آپ نے یوں فرمایا ) مفاتیح الارض یعنی زمین کی کنجیاں دی گئی ہیں ۔ ( دونوں جملوں کا مطلب ایک ہی ہے ) خدا کی قسم ! میں تمہارے بارے میں اس سے نہیں ڈرتاکہ تم میرے بعد شرک کرنے لگو گے بلکہ مجھے اس کاڈر ہے کہ تم دنیا کے لیے حرص کرنے لگو گے ۔
صحیح بخاری 4079
حدثنا قتيبة بن سعيد ، حدثنا الليث ، عن ابن شهاب ، عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك ، أن جابر بن عبد الله ـ رضى الله عنهما ـ أخبره أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يجمع بين الرجلين من قتلى أحد في ثوب واحد ثم يقول " أيهم أكثر أخذا للقرآن ". فإذا أشير له إلى أحد ، قدمه في اللحد ، وقال " أنا شهيد على هؤلاء يوم القيامة ". وأمر بدفنهم بدمائهم ، ولم يصل عليهم ، ولم يغسلوا.
ترجمہ
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک نے اور انہیں حضرت جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے شہداء کو ایک ہی کپڑے میں دو دو کو کفن دیا اور آپ دریافت فرماتے کہ ان میں قرآن کا عالم سب سے زیادہ کون ہے ؟ جب کسی ایک کی طرف اشارہ کر کے آپ کو بتایا جاتا تو لحد میں آپ انہی کو آگے فرماتے ۔ آپ نے فرمایا کہ قیامت کے دن میں ان سب پر گواہ رہوں گا ۔ پھر آپ نے تمام شہداء کو خون سمیت دفن کرنے کا حکم فرما دیا اور ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی اور نہ انہیں غسل دیا گیا -------------------------------------------------
بادمےشہداء احد پر نماز جنازہ ادا کی
؟؟،،؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
صحیح بخاری 4085
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
حدثني عمرو بن خالد ، حدثنا الليث ، عن يزيد بن أبي حبيب ، عن أبي الخير ، عن عقبة ، أن النبي صلى الله عليه وسلم خرج يوما فصلى على أهل أحد صلاته على الميت ، ثم انصرف إلى المنبر فقال " إني فرط لكم ، وأنا شهيد عليكم ، وإني لأنظر إلى حوضي الآن ، وإني أعطيت مفاتيح خزائن الأرض ـ أو مفاتيح الأرض ـ وإني والله ما أخاف عليكم أن تشركوا بعدي ، ولكني أخاف عليكم أن تنافسوا فيها ".
ترجمہ
مجھ سے عمرو بنخالد نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیثبن سعد نے بیان کیا ، ان سے یزیدبنابیحبیب نے ، ان سے ابو الخیر نے اور ان سے حضرت عقبہ بنعامر رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن باہر تشریف لائے اور شہداء احد پر نماز جنازہ ادا کی ، جیسے مردوں پر ادا کی جاتی ہے ۔ پھر آپ منبر پر تشریف لائے اور فرمایا کہ میں تمہارے آگے جاؤں گا ، میں تمہارے حق میں گواہ رہوں گا ، میں اب بھی اپنے حوض ( کوثر ) کو دیکھ رہا ہوں ۔ مجھے دنیا کے خزانوں کی کنجی عطا فرمائی گئی ہے یا ( آپ نے یوں فرمایا ) مفاتیح الارض یعنی زمین کی کنجیاں دی گئی ہیں ۔ ( دونوں جملوں کا مطلب ایک ہی ہے ) خدا کی قسم ! میں تمہارے بارے میں اس سے نہیں ڈرتاکہ تم میرے بعد شرک کرنے لگو گے بلکہ مجھے اس کاڈر ہے کہ تم دنیا کے لیے حرص کرنے لگو گے ۔
جو چیزیں جنت میں حلال ہیں وہ دنیا میں کیوں حرام کی گئی ہیں
جو چیزیں جنت میں حلال ہیں وہ دنیا میں کیوں حرام کی گئی ہیں
---------------------
❓❓❓❓❓
میں مسلمان ہوں اور سویڈن میں رہائش رکھتی ہوں میرے پاس ایک عیسائی کا سوال ہے اس کے متعلق میں نے بہت پوچھا اور کتابوں میں اس کا جواب بھی تلاش کیا ہے لیکن مجھے اس کا کوئی حل نہیں ملا وہ سوال حوروں کے متعلق تھا۔
میں نے سنا ہے کہ مرد کو جنت میں ایک سے زیادہ عورتیں ملیں گیں مجھے یہ علم نہیں آیا یہ معلومات صحیح ہیں یا کہ نہیں لیکن اگر آپ مجھے اس موضوع کے متعلق کچھ معلومات دے سکیں تو میں آپ کی شکر گزار ہوں گی ۔
اور اہم سوال یہ ہے کہ:
اسلام ایسی چیزوں کی جنت میں بشارت کیوں دیتا ہے اور اس چیز پر کیوں ابھارتا ہے جو کہ دنیا میں حرام ہیں ؟ مثلا عورت اور مرد کے شادی کے بغیر تعلقات جو کہ حرام ہیں تو اگر مسلمان ان سے بچے تو اسے جنت میں اس کے بدلے میں حوریں ملیں گیں تو کیا یہ عجیب چیز نہیں ؟
افسوس سے کہتی ہوں کہ مجھے اس کے متعلق کچھ معلومات تو ہیں لیکن پتہ نہیں یہ سوال کہاں سے آٹپکا لیکن مجھے اس کا یقین ہے کہ اس سوال کا کوئی منطقی جواب ہو گا آپ سے گزارش ہے کہ آپ اس موضوع میں میرا تعاون فرمائیں گے ۔ آپ کا شکریہ
الحمد للہ :
اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں جنت اور اس کی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے اور اس کی صفات اور جنتی لوگوں کی صفات کا کئ جگہ پر قرآن کریم میں تذکرہ فرمایا ہے ان میں سے بعض یہ ہیں :
فرمان باری تعالی ہے :
(اس میں بہتا ہوا چشمہ ہو گا اور اس میں اونچے اونچے تخت ہوں گے اور آبخورے رکھے ہوئےہوں گے اور ایک قطار میں لگے ہوئےتکیۓ ہوں گے اور مخملی مسندیں پھیلی ہوں گی ) الغاشیہ /12- 16
اور فرمان باری تعالی ہے :
( اور اس شخص کے لۓ جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا دو جنتیں ہیں پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟ (دونوں جنتیں ) بہت سی ٹہنیوں اور شاخوں والی ہیں پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ تو ان دونون جنتوں میں دو بہتے چشمے ہیں پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟ ان دونوں جنتوں میں ہر قسم کے میووں کی دو قسمیں ہوں گی ) الرحمن / 46 – 52
جنت کی صفات میں بہت سی آیات ہیں اور جنت کی عورتوں کی صفات میں کئ ایک آیات آئی ہیں ۔
ارشاد باری تعالی ہے :
( ان جنتوں میں نیچی (شرمیلی) نگاہ والی حوریں ہیں جنہیں ان سے پہلے کسی نے ہاتھ تک نہیں لگایا پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟ گویا وہ حوریں یاقوت اور مونگے مرجان ہیں ) الرحمان / 56- 58
اور فرمان ربانی ہے :
( گوری رنگت والی ) حوریں جنتی خیموں میں رہنے والیاں ہیں ) الرحمان / 72
اور ارشاد باری تعالی ہے :
( اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں جو چھپے ہوئےموتیوں کی طرح ہیں یہ اس کا صلہ ہے جو کہ وہ عمل کرتے رہے ہیں ) الواقعۃ /22/24
اور نبی صلی اللہ علیہ و�
---------------------
❓❓❓❓❓
میں مسلمان ہوں اور سویڈن میں رہائش رکھتی ہوں میرے پاس ایک عیسائی کا سوال ہے اس کے متعلق میں نے بہت پوچھا اور کتابوں میں اس کا جواب بھی تلاش کیا ہے لیکن مجھے اس کا کوئی حل نہیں ملا وہ سوال حوروں کے متعلق تھا۔
میں نے سنا ہے کہ مرد کو جنت میں ایک سے زیادہ عورتیں ملیں گیں مجھے یہ علم نہیں آیا یہ معلومات صحیح ہیں یا کہ نہیں لیکن اگر آپ مجھے اس موضوع کے متعلق کچھ معلومات دے سکیں تو میں آپ کی شکر گزار ہوں گی ۔
اور اہم سوال یہ ہے کہ:
اسلام ایسی چیزوں کی جنت میں بشارت کیوں دیتا ہے اور اس چیز پر کیوں ابھارتا ہے جو کہ دنیا میں حرام ہیں ؟ مثلا عورت اور مرد کے شادی کے بغیر تعلقات جو کہ حرام ہیں تو اگر مسلمان ان سے بچے تو اسے جنت میں اس کے بدلے میں حوریں ملیں گیں تو کیا یہ عجیب چیز نہیں ؟
افسوس سے کہتی ہوں کہ مجھے اس کے متعلق کچھ معلومات تو ہیں لیکن پتہ نہیں یہ سوال کہاں سے آٹپکا لیکن مجھے اس کا یقین ہے کہ اس سوال کا کوئی منطقی جواب ہو گا آپ سے گزارش ہے کہ آپ اس موضوع میں میرا تعاون فرمائیں گے ۔ آپ کا شکریہ
الحمد للہ :
اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں جنت اور اس کی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے اور اس کی صفات اور جنتی لوگوں کی صفات کا کئ جگہ پر قرآن کریم میں تذکرہ فرمایا ہے ان میں سے بعض یہ ہیں :
فرمان باری تعالی ہے :
(اس میں بہتا ہوا چشمہ ہو گا اور اس میں اونچے اونچے تخت ہوں گے اور آبخورے رکھے ہوئےہوں گے اور ایک قطار میں لگے ہوئےتکیۓ ہوں گے اور مخملی مسندیں پھیلی ہوں گی ) الغاشیہ /12- 16
اور فرمان باری تعالی ہے :
( اور اس شخص کے لۓ جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا دو جنتیں ہیں پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟ (دونوں جنتیں ) بہت سی ٹہنیوں اور شاخوں والی ہیں پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ تو ان دونون جنتوں میں دو بہتے چشمے ہیں پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟ ان دونوں جنتوں میں ہر قسم کے میووں کی دو قسمیں ہوں گی ) الرحمن / 46 – 52
جنت کی صفات میں بہت سی آیات ہیں اور جنت کی عورتوں کی صفات میں کئ ایک آیات آئی ہیں ۔
ارشاد باری تعالی ہے :
( ان جنتوں میں نیچی (شرمیلی) نگاہ والی حوریں ہیں جنہیں ان سے پہلے کسی نے ہاتھ تک نہیں لگایا پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟ گویا وہ حوریں یاقوت اور مونگے مرجان ہیں ) الرحمان / 56- 58
اور فرمان ربانی ہے :
( گوری رنگت والی ) حوریں جنتی خیموں میں رہنے والیاں ہیں ) الرحمان / 72
اور ارشاد باری تعالی ہے :
( اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں جو چھپے ہوئےموتیوں کی طرح ہیں یہ اس کا صلہ ہے جو کہ وہ عمل کرتے رہے ہیں ) الواقعۃ /22/24
اور نبی صلی اللہ علیہ و�
Monday, June 13, 2016
ساری زمین آسمان قیامت کے دن اللہ کی مٹھی میں ہوگی
ساری زمین آسمان قیامت کے دن اللہ کی مٹھی میں ہوگی
@@@@@@@@@@@@@@@@@
39 : سورة الزمر 67
وَ مَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدۡرِہٖ ٭ۖ وَ الۡاَرۡضُ جَمِیۡعًا قَبۡضَتُہٗ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ وَ السَّمٰوٰتُ مَطۡوِیّٰتٌۢ بِیَمِیۡنِہٖ ؕ سُبۡحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿۶۷﴾
اور ان لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالٰی کی کرنی چاہیے تھی نہیں کی ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے، وہ پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جسے لوگ اس کا شریک بنائیں۔
زمین و آسمان اللہ کی انگلیوں میں ۔ مشرکین نے دراصل اللہ تعالیٰ کی قدر و عظمت جانی ہی نہیں اسی وجہ سے وہ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے لگے، اس سے بڑھ کر عزت والا اس سے زیادہ بادشاہت والا اس سے بڑھ کر غلبے اور قدرت والا کوئی نہیں، نہ کوئی اس کا ہمسر اور کرنے والا ہے۔ یہ آیت کفار قریش کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ انہیں اگر قدر ہوتی تو اس کی باتوں کو غلط نہ جانتے۔ جو شخص اللہ کو ہر چیز پر قادر مانے، وہ ہے جس نے اللہ کی عظمت کی اور جس کا یہ عقیدہ نہ ہو وہ اللہ کی قدر کرنے والا نہیں ۔ اس آیت کے متعلق بہت سی حدیثیں آئی ہیں ۔ اس جیسی آیتوں کے بارے میں سلف صالحین کا مسلک یہی رہا ہے کہ جس طرح اور جن لفظوں میں یہ آئی ہے اسی طرح انہی لفظوں کے ساتھ انہیں مان لینا اور ان پر ایمان رکھنا۔ نہ ان کی کیفیت ٹٹولنا نہ ان میں تحریف و تبدیلی کرنا، صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ یہودیوں کا ایک بڑا عالم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ ہم یہ لکھا پاتے ہیں کہ اللہ عزوجل ساتوں آسمانوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اور سب زمینوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اور درختوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اور پانی اور مٹی کو ایک انگلی پر اور باقی تمام مخلوق کو ایک انگلی پر رکھ لے گا پھر فرمائے گا میں ہی سب کا مالک اور سچا بادشاہ ہوں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بات کی سچائی پر ہنس دیئے یہاں تک کہ آپ کے مسوڑھے ظاہر ہوگئے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ مسند کی حدیث بھی اسی کے قریب ہے اس میں ہے کہ آپ ہنسے اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری اور روایت میں ہے کہ وہ اپنی انگلیوں پر بتاتا جاتا تھا پہلے اس نے کلمے کی انگلی دکھائی تھی۔ اس روایت میں چار انگلیوں کا ذکر ہے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے اللہ تعالیٰ زمین کو قبض کرلے گا اور آسمان کو اپنی داہنی مٹھی میں لے لے گا۔ پھر فرمائے گا میں ہوں بادشاہ کہاں ہیں زمین کے بادشاہ؟ مسلم کی اس حدیث میں ہے کہ زمینیں اس کی ایک انگلی پر ہوں گی اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں ہوں گے پھر فرمائے گا میں ہی بادشاہ ہوں ۔ مسند احمد میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن منبر پر اس آیت کی تلاوت کی اور آپ اپنا ہاتھ ہلاتے جاتے آگے پیچھے لا رہے تھے اور فرماتے تھے اللہ تعالیٰ اپنی بزرگی آپ بیان فرمائے گا کہ میں جبار ہوں میں متکبر ہوں میں مالک ہوں میں باعزت ہوں میں کریم ہوں ۔ آپ اس کے بیان کے وقت اتنا ہل رہے تھے کہ ہمیں ڈر لگنے لگا کہ کہیں آپ منبر سمیت گر نہ پڑیں ۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی پوری کیفیت دکھا دی کہ کس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکایت کیا تھا ؟ کہ اللہ تبارک و آسمانوں اور زمینوں کو اپنے ہاتھ میں لے گا اور فرمائے گا میں بادشاہ ہوں ۔ اپنی انگلیوں کو کبھی کھولے گا کبھی بند کرے گا اور آپ اس وقت ہل رہے تھے یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہلنے سے سارا منبر ہلنے لگا اور مجھے ڈر لگا کہ کہیں وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو گرا نہ دے۔ بزار کی رویت میں ہے کہ آپ نے یہ آیت پڑھی اور منبر ہلنے لگا پس آپ تین مرتبہ آئے گئے واللہ اعلم۔ معجم کبیر طبرانی کی ایک غریب حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کی ایک جماعت سے فرمایا میں آج تمہیں سورۃ زمر کی آخری آیتیں سناؤں گا جسے ان سے رونا آگیا وہ جنتی ہوگیا اب آپ نے اس آیت سے لے کر ختم سورۃ تک کی آیتیں تلاوت فرمائیں بعض روئے اور بعض کو رونا نہ آیا انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے ہر چند رونا چاہا لیکن رونا نہ آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا میں پھر پڑھوں گا جسے رونا نہ آئے وہ رونی شکل بناکر بہ تکلف روئے۔ ایک اس سے بڑھ کر غریب حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے تین چیزیں اپنے بندوں میں چھپالی ہیں اگر وہ انہیں دیکھ لیتے تو کوئی شخص کبھی کوئی بدعملی نہ کرتا۔ (١) اگر میں پردہ ہٹا دیتا اور وہ مجھے دیکھ کر خوب یقین کرلیتے اور معلوم کرلیتے کہ میں اپنی مخلوق کے ساتھ کیا کچھ کرتا ہوں جبکہ ان کے پاس آؤں اور آسمانوں کو اپنی مٹھی میں لے لوں پھر اپنی زمین کو اپنی مٹھی میں لے لوں پھر کہوں میں بادشاہ ہوں میرے سوا ملک کا مالک کون ہے؟ (٢) پھر میں انہیں جنت دکھاؤں اور اس میں جو بھلائیاں ہیں سب ان کے سامنے کردوں اور وہ یقین کے ساتھ خوب اچھی طرح دیکھ لیں ۔ (٣) اور میں انہیں جہنم دکھا دوں اور اس کے عذاب دکھا دوں یہاں تک کہ انہیں یقین آ جائے۔ لیکن میں نے یہ چیزیں قصداً ان سے پوشیدہ کر رکھی ہیں ۔ تاکہ میں جان لوں کہ وہ مجھے کس طرح جانتے ہیں کیونکہ میں نے یہ سب باتیں بیان کردی ہیں ۔ اس کی سند متقارب ہے اور اس نسخے سے بہت سی حدیثیں روایت کی جاتی ہیں ۔ واللہ اعلم۔
@@@@@@@@@@@@@@@@@
39 : سورة الزمر 67
وَ مَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدۡرِہٖ ٭ۖ وَ الۡاَرۡضُ جَمِیۡعًا قَبۡضَتُہٗ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ وَ السَّمٰوٰتُ مَطۡوِیّٰتٌۢ بِیَمِیۡنِہٖ ؕ سُبۡحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿۶۷﴾
اور ان لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالٰی کی کرنی چاہیے تھی نہیں کی ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے، وہ پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جسے لوگ اس کا شریک بنائیں۔
زمین و آسمان اللہ کی انگلیوں میں ۔ مشرکین نے دراصل اللہ تعالیٰ کی قدر و عظمت جانی ہی نہیں اسی وجہ سے وہ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے لگے، اس سے بڑھ کر عزت والا اس سے زیادہ بادشاہت والا اس سے بڑھ کر غلبے اور قدرت والا کوئی نہیں، نہ کوئی اس کا ہمسر اور کرنے والا ہے۔ یہ آیت کفار قریش کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ انہیں اگر قدر ہوتی تو اس کی باتوں کو غلط نہ جانتے۔ جو شخص اللہ کو ہر چیز پر قادر مانے، وہ ہے جس نے اللہ کی عظمت کی اور جس کا یہ عقیدہ نہ ہو وہ اللہ کی قدر کرنے والا نہیں ۔ اس آیت کے متعلق بہت سی حدیثیں آئی ہیں ۔ اس جیسی آیتوں کے بارے میں سلف صالحین کا مسلک یہی رہا ہے کہ جس طرح اور جن لفظوں میں یہ آئی ہے اسی طرح انہی لفظوں کے ساتھ انہیں مان لینا اور ان پر ایمان رکھنا۔ نہ ان کی کیفیت ٹٹولنا نہ ان میں تحریف و تبدیلی کرنا، صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ یہودیوں کا ایک بڑا عالم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ ہم یہ لکھا پاتے ہیں کہ اللہ عزوجل ساتوں آسمانوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اور سب زمینوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اور درختوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اور پانی اور مٹی کو ایک انگلی پر اور باقی تمام مخلوق کو ایک انگلی پر رکھ لے گا پھر فرمائے گا میں ہی سب کا مالک اور سچا بادشاہ ہوں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بات کی سچائی پر ہنس دیئے یہاں تک کہ آپ کے مسوڑھے ظاہر ہوگئے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ مسند کی حدیث بھی اسی کے قریب ہے اس میں ہے کہ آپ ہنسے اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری اور روایت میں ہے کہ وہ اپنی انگلیوں پر بتاتا جاتا تھا پہلے اس نے کلمے کی انگلی دکھائی تھی۔ اس روایت میں چار انگلیوں کا ذکر ہے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے اللہ تعالیٰ زمین کو قبض کرلے گا اور آسمان کو اپنی داہنی مٹھی میں لے لے گا۔ پھر فرمائے گا میں ہوں بادشاہ کہاں ہیں زمین کے بادشاہ؟ مسلم کی اس حدیث میں ہے کہ زمینیں اس کی ایک انگلی پر ہوں گی اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں ہوں گے پھر فرمائے گا میں ہی بادشاہ ہوں ۔ مسند احمد میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن منبر پر اس آیت کی تلاوت کی اور آپ اپنا ہاتھ ہلاتے جاتے آگے پیچھے لا رہے تھے اور فرماتے تھے اللہ تعالیٰ اپنی بزرگی آپ بیان فرمائے گا کہ میں جبار ہوں میں متکبر ہوں میں مالک ہوں میں باعزت ہوں میں کریم ہوں ۔ آپ اس کے بیان کے وقت اتنا ہل رہے تھے کہ ہمیں ڈر لگنے لگا کہ کہیں آپ منبر سمیت گر نہ پڑیں ۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی پوری کیفیت دکھا دی کہ کس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکایت کیا تھا ؟ کہ اللہ تبارک و آسمانوں اور زمینوں کو اپنے ہاتھ میں لے گا اور فرمائے گا میں بادشاہ ہوں ۔ اپنی انگلیوں کو کبھی کھولے گا کبھی بند کرے گا اور آپ اس وقت ہل رہے تھے یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہلنے سے سارا منبر ہلنے لگا اور مجھے ڈر لگا کہ کہیں وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو گرا نہ دے۔ بزار کی رویت میں ہے کہ آپ نے یہ آیت پڑھی اور منبر ہلنے لگا پس آپ تین مرتبہ آئے گئے واللہ اعلم۔ معجم کبیر طبرانی کی ایک غریب حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کی ایک جماعت سے فرمایا میں آج تمہیں سورۃ زمر کی آخری آیتیں سناؤں گا جسے ان سے رونا آگیا وہ جنتی ہوگیا اب آپ نے اس آیت سے لے کر ختم سورۃ تک کی آیتیں تلاوت فرمائیں بعض روئے اور بعض کو رونا نہ آیا انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے ہر چند رونا چاہا لیکن رونا نہ آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا میں پھر پڑھوں گا جسے رونا نہ آئے وہ رونی شکل بناکر بہ تکلف روئے۔ ایک اس سے بڑھ کر غریب حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے تین چیزیں اپنے بندوں میں چھپالی ہیں اگر وہ انہیں دیکھ لیتے تو کوئی شخص کبھی کوئی بدعملی نہ کرتا۔ (١) اگر میں پردہ ہٹا دیتا اور وہ مجھے دیکھ کر خوب یقین کرلیتے اور معلوم کرلیتے کہ میں اپنی مخلوق کے ساتھ کیا کچھ کرتا ہوں جبکہ ان کے پاس آؤں اور آسمانوں کو اپنی مٹھی میں لے لوں پھر اپنی زمین کو اپنی مٹھی میں لے لوں پھر کہوں میں بادشاہ ہوں میرے سوا ملک کا مالک کون ہے؟ (٢) پھر میں انہیں جنت دکھاؤں اور اس میں جو بھلائیاں ہیں سب ان کے سامنے کردوں اور وہ یقین کے ساتھ خوب اچھی طرح دیکھ لیں ۔ (٣) اور میں انہیں جہنم دکھا دوں اور اس کے عذاب دکھا دوں یہاں تک کہ انہیں یقین آ جائے۔ لیکن میں نے یہ چیزیں قصداً ان سے پوشیدہ کر رکھی ہیں ۔ تاکہ میں جان لوں کہ وہ مجھے کس طرح جانتے ہیں کیونکہ میں نے یہ سب باتیں بیان کردی ہیں ۔ اس کی سند متقارب ہے اور اس نسخے سے بہت سی حدیثیں روایت کی جاتی ہیں ۔ واللہ اعلم۔
تو نے شرک کیا تو بلاشبہ تیرا عمل ضائع ہو جائے گا
تو نے شرک کیا تو بلاشبہ تیرا عمل ضائع ہو جائے گا
@@@@@@@@@@@@@@@@@
39 : سورة الزمر 65
وَ لَقَدۡ اُوۡحِیَ اِلَیۡکَ وَ اِلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکَ ۚ لَئِنۡ اَشۡرَکۡتَ لَیَحۡبَطَنَّ عَمَلُکَ وَ لَتَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۶۵﴾
یقیناً تیری طرف بھی اور تجھ سے پہلے (کے تمام نبیوں) کی طرف بھی وحی کی گئی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو بلاشبہ تیرا عمل ضائع ہو جائے گا اور بالیقین تو زیاں کاروں میں سے ہو جائے گا۔
@@@@@@@@@@@@@@@@@
39 : سورة الزمر 65
وَ لَقَدۡ اُوۡحِیَ اِلَیۡکَ وَ اِلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکَ ۚ لَئِنۡ اَشۡرَکۡتَ لَیَحۡبَطَنَّ عَمَلُکَ وَ لَتَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۶۵﴾
یقیناً تیری طرف بھی اور تجھ سے پہلے (کے تمام نبیوں) کی طرف بھی وحی کی گئی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو بلاشبہ تیرا عمل ضائع ہو جائے گا اور بالیقین تو زیاں کاروں میں سے ہو جائے گا۔
Subscribe to:
Posts (Atom)