عقیقہ کرنے کا مستحب وقت
================
بچہ کی ولادت کے ساتویں دن عقیقہ کرنا افضل اور مسنون ہے۔ جیسا کہ حضرت سمرۃ بن جندبؓ کی حدیث میںمروی اور رسول اللہ ﷺ کے فعل مبارک سے ثابت ہے:
(1) ''کل غلام رھین بعقیقته تذبح عنه یوم سابعه و یحلق و یسقیٰ'' (سنن أبي داود و ترمذي والنسائي و ابن ماجة)
(2) ''عق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عن حسن و حسین یوم السابع و سماھما و أمر أن یماط عن رؤو سھما الأذٰی'' (تربیة الأولاد في الإسلام تالیف أستاد عبداللہ ناصح علوان)
مندرجہ بالا دونوں احادیث پچھلے صفحات میں گزر چکی ہیں، ان احادیث کی روشنی میں عقیقہ کے ذبیحہ کے لیے ولادت کا ساتواں دن بلا شک و شبہ مستحب قرار پاتا ہے۔ لیکن بعض احادیث سے ثابت ہے کہ اگر ولادت کے ساتویں دن عقیقہ نہ کیا جاسکے تو چودہویں دن کیا جائے اور اگر چودہویں دن بھی نہ کیا جاسکے تو اکیسویں دن کیا جائے۔
حضرت بریدہؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے عقیقہ کے بارے میں فرمایا:
''تذبح لسبع ولأ ربع عشرة ولإ حدیٰ و عشرین'' (سنن بیہقی ج9 صفحہ303 و إسنادہ ضعیف)
''ساتویں، چودہویں او راکیسویں دن ذبح کیا جائے گا۔''
حضرت اُم کرز اور ابوکرزؓ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ نے عقیقہ کےمتعلق فرمایا:
''ولکن ذاك یوم السابع فإن لم يکن ففي أربعة عشر فإن لم یکن ففي إحدیٰ عشرین'' (مستدرک حاکم ج4 صفحہ 238۔239)
''یہ (عقیقہ) ساتویں دن ہونا چاہیے اور اگر نہ ہوسکے تو چودہویں دن اور پھربھی نہ ہوسکے تو اکیسویں دن''
میمونی کا قول ہے : ''میں نے عبداللہ سے سوال کیا کہ لڑکے پر عقیقہ کب کیا جاتا ہے ؟'' انہوں نے جواب دیا: ''حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:
''(في) سبعة أیام و أربعة عشر ولأ حدو عشرین''
یعنی ''ساتویں دن، چودہویں دن اور اکیسویں دن۔''
صالح بن احمد فرماتے ہیں : ''میں نے اپنے والد سے عقیقہ کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا:
''تذبح یوم السابع وإن لم یفعل ففي أربعة عشر فإن لم یفعل ففي إحدیٰ و عشرین''
یعنی ''ساتویں دن ذبح کیا جائےگا پس اگر ایسا نہ کرسکے تو چودہویں دن اور اگر چودہویں دن بھی نہ کرسکے توپھر اکیسویں دن''
دن کی اس تعیین کے سلسلہ میں محققین کی رائے ہے کہ ''عقیقہ ساتویں دن کئے جانے کی قید لزوم کے باب سے نہیں بلکہ استحباب کی وجہ سے ہے۔ پس اگر ساتویں دن کے بجائے چودہویں او راکیسویں دن اور بعض کے نزدیک چوتھے، آٹھویں ، دسویں یا اس کے بعد کبھی بھی کرلے تو عقیقہ ہوجاتا ہے۔ چنانچہ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
''والظاھر أن التقید بالیوم السابع إنما ھو علیٰ وجه الاستحباب وإلا فلو ذبح عنه الیوم الرابع أو الثامن أو العاشر أو مابعدہ أجزأت العقیقة''(تربیة الأولاد في الإسلام تألیف استاذ شیخ عبداللہ ناصح علوان)
''او ریہ ظاہر ہے کہ ساتویں دن کی قید محض استحباب کی وجہ سے ہے، اگر بچہ کی طرف سے چوتھے یا آٹھویں یا دسویں یا اس کے بعد کسی اور دن ذبیحہ کیا جائے تو بھی عقیقہ ہوجاتا ہے۔''
خلاصہ کلام یہ ہےکہ اگرباب اپنی اولاد کے ساتویں دن قدرت و استطاعت رکھتا ہو تو مستحب طریقہ پر ا س کا عقیقہ کرکے رسول اللہ ﷺ کی اس سنت کو زندہ رکھے اور اس کی فضیلت و برکات نیز اللہ تعالیٰ کے اجر وثواب سے بہرہ مند ہو۔ اگر کسی مجبوی کی وجہ سے ساتویں دن نہ کرسکتا ہو تو چودہویں دن کرلے، اگر ایسا بھی کرنا ممکن نہ ہو تو اکیسویں دن کرلے۔ اگر اکیسویں دن کی استطاعت بھی نہ ہو تو جب بھی اللہ تعالیٰ استطاعت بخشے، بلاتاخیر عقیقہ کر ڈالے۔
''يُرِيدُ ٱللَّهُ بِكُمُ ٱلْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ ٱلْعُسْرَ...﴿١٨٥﴾...سورۃ البقرۃ''
اور ''وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِى ٱلدِّينِ مِنْ حَرَجٍ...﴿٧٨﴾...سورۃ الحج''
کا یہی تقاضا ہے۔
ایسی صورت میں نفس عقیقہ تو ہوجائے گا، لیکن ساتویں یا چودہویں او راکیسویں دن، عقیقہ کرنے میں جو اجر و ثواب ہے ، وہ حاصل نہ ہوگا بلکہ سید قاسم محمود صاحب تو یہاں تک لکھتے ہیں کہ ''اگر والدین (عقیقہ) نہ دے سکیں تو بچہ جوان ہوکر خود کرے۔ ''(شاہکار اسلامی انسائیکلو پیڈیا مرتبہ سید قاسم محمود صفحہ 1082 )
واللہ اعلم
محدث میگزین
Friday, June 3, 2016
Thursday, June 2, 2016
زنا کے نتیجہ میں ہونے والے حمل کا اسقاط
13331: زنا کے نتیجہ میں ہونے والے حمل کا اسقاط
اگرعورت زنا کرلے توکیا اس کے لیے حمل ساقط کروانا جائز ہے ؟
Published Date: 2004-01-12
الحمد للہ
فقھاء کرام کی عمومی طور پر اسقاط حمل اوراس کے حکم اوراس سے پیدا ہونے والے مسائل میں بہت ساری جھود و اجتھادات پاۓ جاتےہیں ، لیکن انہوں نےغیرشرعی حمل میں تفاصیل کا اہتمام نہیں کیا ۔
اورہوسکتا ہے انہوں نے اسے نکاح صحیح سے ہونے والے حمل کے اسقاط کے تابع اوراس میں شریک ہی سمجھا ہو ، تواگر نکاح صحیح سے ہونے والے حمل کا اسقاط عمومی حالت میں حرام ہے توغیرشرعی طریقے سے ہونے والےحمل کی حرمت توبالاولی زیادہ اورشدید ہوگی ۔
اس لیے کہ غیرشرعی طریقے سے ہونے والے حمل کے اسقاط کومباح کرنے سے فحاشی اوررذیل کام کرنے کی تشجیع ہوگی اوراس کا راستہ کھلے گا ، اورشریعت اسلامیہ کے قواعد میں یہ شامل ہے کہ اسلام ہراس وسیلہ اورسبب کوبھی حرام کرتا ہے جوفحاشی اورگناہ کا باعث ہو مثلا بے پردگی اور مرد وعورت کا آپس میں اختلاط و میل جول وغیرہ ۔
اوراس پر مستزاد یہ کہ ایک ایسے پیدا ہونے والے بے گناہ بچے کوکسی دوسرے کے گناہ پر ذبح نہیں کیا جاۓ گا ۔
اورپھر اللہ سبحانہ وتعالی کا بھی فرمان ہے :
{ کوئی بھی کسی دوسرے کا بوجھـ نہیں اٹھاۓ گا } الاسراء ( 15 ) ۔
اوریہ بھی معلوم ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےغامدی قبیلہ کی زنا سے حاملہ عورت کوواپس کردیا تھا کہ وہ ولادت کے بعد آۓ اورجب وہ ولادت کے بعد آئي تونبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے پھر دوبارہ واپس کردیا کہ اس بچے کودودھ پلاؤ حتی کہ یہ کھانے پینے کے قابل ہوجاۓ اوردودھ چھوڑ دے ۔
جب وہ تیسری مرتبہ آئي توبچے کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا لھذا اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کوایک صحابی کے سپرد کردیا اورپھر اسے رجم کا حکم دیا گیا تواس کے سینہ تک ایک گڑھا کھود کر لوگوں اسے سنگسار کرنے کا حکم دیا ۔
امام نووی رحمہ اللہ تعالی اس حدیث کے بارہ میں کہتے ہیں :
حاملہ عورت کووضع حمل سے قبل سنگسار نہیں کیا جاۓ گا چاہے وہ حمل زنا کا ہو یا زنا کے بغیر ۔ اسی پر علماء کا اتفاق ہے تا کہ اس کا بچہ قتل نہ ہو ، اوراسی طرح اگر اس کی حد کوڑے ہيں توحمل کی حالت میں بھی اسےبالاجماع وضع حمل سے قبل کوڑے نہیں لگاۓ جائيں گے ۔
دیکھیں صحیح مسلم شرح نووی ( 11 / 202 ) ۔
اس واقعہ سے ہمیں شریعت اسلامیہ کا بچے کے بارہ میں اہتمام ظاہر ہوتا ہے اگرچہ وہ بچہ زنا سے ہی کیوں نہ ہو ، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کی حفاظت کے لیے اس کی ماں سے حد کو مؤخر کردیا تا کہ بچے کی زندگی کو خطرہ نہ پیدا ہو ۔
توکیا اس کے بعد بھی یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ شارع لوگوں کی خواہشات و شھوات اورغلط رغبات کوپورا کرنے کے لیے اسقاط حمل کے ساتھ بچوں کے قتل کوجائز قرار دے سکتا ہے ؟
اس پر ہم یہ اضافہ کرتے جائيں کہ جن لوگوں نے صحیح نکاح کی حالت میں ہونے والے حمل کے پہلے چالیس روز کے اندر اندر حمل کے اسقاط کی اجازت دی ہے انہوں نے مشروع رخصت کولیتے ہوۓ اس پر اجتھاد کیا ہے مثلا رمضان المبارک میں شرعی عذر والے کورخصت ہے کہ وہ روزہ نہ رکھے ، اوراسی طرح مسافر کے لیے رخصت ہے کہ وہ چار رکعتی نماز کوقصر کرے ۔
لیکن یہ بات توشریعت میں مقرر شدہ ہے کہ معاصی اورگناہ کے لیے رخصتوں کا سہارا نہیں لیا جاسکتا ۔
امام قرافی رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے :
معاصی اورگناہ رخصتوں کے لیے سبب نہيں بن سکتیں ، اسی لیے گناہ کرنے کے لیے جانے والا مسافر نماز قصر نہيں کرے گا اورنہ ہی وہ روزہ افطار کرے گا اس لیے کہ اس صورت میں سبب معصیت ہے لھذا رخصت پر عمل کرنا مناسب نہيں ۔
کیونکہ مکلف کواس کی رخصت دینا اس معصیت کی زیادتی اورتکثیر کا باعث بنے گی اوراس میں وسعت کی کوشش ہے ۔ الفروق ( 2 / 33 ) ۔
تواس طرح شریعت اسلامیہ کے قواعد زنا سے حاملہ عورت کو وہی رخصت نہيں دیتے جوکہ نکاح صحیح سے حاملہ عورت کوملتی ہیں تا کہ وہ اس معصیت اورگناہ پر معاون و ممد ثابت نہ ہو ، اورنہ ہی اس شنیع اور قبیح کام سےخلاصی حاصل کرنے کے راستے ہی آسان کرتی ہے ۔
اس حالت میں بچہ والدین کی ولایت بھی کھو بیٹھے گا اوراس کا کوئی ولی نہيں اس لیے کہ شریعت میں والد کا اطلاق اس پر ہوتا ہے جس کا عورت کے ساتھ صحیح اورشرعی نکاح ہونےکی بنا پر بچہ پیدا ہو اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا بھی یہی معنی ہے :
فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :
( بچہ بستر والے کے لیے ہے اورزانی کے لیے پتھر ہیں ) صحیح بخاری و صحیح مسلم ۔
تواس حالت میں اس بچے کا ولی حکمران ہوگا کیونکہ جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کا ولی حکمران ہوتا ہے ، اورحکمران کا تصرف مصلحت کے ساتھ منسلق ہے ، والدہ کی مصلحت کی حفاظت کی بنا پر بچے کی روح کوختم کرنے میں کوئی بھی مصلحت نہیں پائي جاتی ، اس لیے کہ اس میں اس قبیح اورشنیع فعل کرنے والی عورت کواس فعل کے کرنے پر ابھارنا ہے جوکہ صحیح نہیں ۔
اورزانی عورت جوکہ اس قبیح اورشنیع فعل کی مرتکب ہوئي ہے اس کا اسقاط حمل اس وقت کروانا ممکن ہے جب وہ صحیح اورسچی توبہ کرنے کا ارادہ کرے اوراسے بہت ہی شدید قسم کا خوف ہو جوکہ شریعیت اسلامیہ کا ایک بہت ہی سنہرا اصول اورقاعدہ ہے ۔
دیکھیں کتاب : احکام الجنین فی الفقہ الاسلامی تالیف عمربن محمد بن ابراھیم غانم ۔
اگرعورت زنا کرلے توکیا اس کے لیے حمل ساقط کروانا جائز ہے ؟
Published Date: 2004-01-12
الحمد للہ
فقھاء کرام کی عمومی طور پر اسقاط حمل اوراس کے حکم اوراس سے پیدا ہونے والے مسائل میں بہت ساری جھود و اجتھادات پاۓ جاتےہیں ، لیکن انہوں نےغیرشرعی حمل میں تفاصیل کا اہتمام نہیں کیا ۔
اورہوسکتا ہے انہوں نے اسے نکاح صحیح سے ہونے والے حمل کے اسقاط کے تابع اوراس میں شریک ہی سمجھا ہو ، تواگر نکاح صحیح سے ہونے والے حمل کا اسقاط عمومی حالت میں حرام ہے توغیرشرعی طریقے سے ہونے والےحمل کی حرمت توبالاولی زیادہ اورشدید ہوگی ۔
اس لیے کہ غیرشرعی طریقے سے ہونے والے حمل کے اسقاط کومباح کرنے سے فحاشی اوررذیل کام کرنے کی تشجیع ہوگی اوراس کا راستہ کھلے گا ، اورشریعت اسلامیہ کے قواعد میں یہ شامل ہے کہ اسلام ہراس وسیلہ اورسبب کوبھی حرام کرتا ہے جوفحاشی اورگناہ کا باعث ہو مثلا بے پردگی اور مرد وعورت کا آپس میں اختلاط و میل جول وغیرہ ۔
اوراس پر مستزاد یہ کہ ایک ایسے پیدا ہونے والے بے گناہ بچے کوکسی دوسرے کے گناہ پر ذبح نہیں کیا جاۓ گا ۔
اورپھر اللہ سبحانہ وتعالی کا بھی فرمان ہے :
{ کوئی بھی کسی دوسرے کا بوجھـ نہیں اٹھاۓ گا } الاسراء ( 15 ) ۔
اوریہ بھی معلوم ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےغامدی قبیلہ کی زنا سے حاملہ عورت کوواپس کردیا تھا کہ وہ ولادت کے بعد آۓ اورجب وہ ولادت کے بعد آئي تونبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے پھر دوبارہ واپس کردیا کہ اس بچے کودودھ پلاؤ حتی کہ یہ کھانے پینے کے قابل ہوجاۓ اوردودھ چھوڑ دے ۔
جب وہ تیسری مرتبہ آئي توبچے کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا لھذا اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کوایک صحابی کے سپرد کردیا اورپھر اسے رجم کا حکم دیا گیا تواس کے سینہ تک ایک گڑھا کھود کر لوگوں اسے سنگسار کرنے کا حکم دیا ۔
امام نووی رحمہ اللہ تعالی اس حدیث کے بارہ میں کہتے ہیں :
حاملہ عورت کووضع حمل سے قبل سنگسار نہیں کیا جاۓ گا چاہے وہ حمل زنا کا ہو یا زنا کے بغیر ۔ اسی پر علماء کا اتفاق ہے تا کہ اس کا بچہ قتل نہ ہو ، اوراسی طرح اگر اس کی حد کوڑے ہيں توحمل کی حالت میں بھی اسےبالاجماع وضع حمل سے قبل کوڑے نہیں لگاۓ جائيں گے ۔
دیکھیں صحیح مسلم شرح نووی ( 11 / 202 ) ۔
اس واقعہ سے ہمیں شریعت اسلامیہ کا بچے کے بارہ میں اہتمام ظاہر ہوتا ہے اگرچہ وہ بچہ زنا سے ہی کیوں نہ ہو ، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کی حفاظت کے لیے اس کی ماں سے حد کو مؤخر کردیا تا کہ بچے کی زندگی کو خطرہ نہ پیدا ہو ۔
توکیا اس کے بعد بھی یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ شارع لوگوں کی خواہشات و شھوات اورغلط رغبات کوپورا کرنے کے لیے اسقاط حمل کے ساتھ بچوں کے قتل کوجائز قرار دے سکتا ہے ؟
اس پر ہم یہ اضافہ کرتے جائيں کہ جن لوگوں نے صحیح نکاح کی حالت میں ہونے والے حمل کے پہلے چالیس روز کے اندر اندر حمل کے اسقاط کی اجازت دی ہے انہوں نے مشروع رخصت کولیتے ہوۓ اس پر اجتھاد کیا ہے مثلا رمضان المبارک میں شرعی عذر والے کورخصت ہے کہ وہ روزہ نہ رکھے ، اوراسی طرح مسافر کے لیے رخصت ہے کہ وہ چار رکعتی نماز کوقصر کرے ۔
لیکن یہ بات توشریعت میں مقرر شدہ ہے کہ معاصی اورگناہ کے لیے رخصتوں کا سہارا نہیں لیا جاسکتا ۔
امام قرافی رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے :
معاصی اورگناہ رخصتوں کے لیے سبب نہيں بن سکتیں ، اسی لیے گناہ کرنے کے لیے جانے والا مسافر نماز قصر نہيں کرے گا اورنہ ہی وہ روزہ افطار کرے گا اس لیے کہ اس صورت میں سبب معصیت ہے لھذا رخصت پر عمل کرنا مناسب نہيں ۔
کیونکہ مکلف کواس کی رخصت دینا اس معصیت کی زیادتی اورتکثیر کا باعث بنے گی اوراس میں وسعت کی کوشش ہے ۔ الفروق ( 2 / 33 ) ۔
تواس طرح شریعت اسلامیہ کے قواعد زنا سے حاملہ عورت کو وہی رخصت نہيں دیتے جوکہ نکاح صحیح سے حاملہ عورت کوملتی ہیں تا کہ وہ اس معصیت اورگناہ پر معاون و ممد ثابت نہ ہو ، اورنہ ہی اس شنیع اور قبیح کام سےخلاصی حاصل کرنے کے راستے ہی آسان کرتی ہے ۔
اس حالت میں بچہ والدین کی ولایت بھی کھو بیٹھے گا اوراس کا کوئی ولی نہيں اس لیے کہ شریعت میں والد کا اطلاق اس پر ہوتا ہے جس کا عورت کے ساتھ صحیح اورشرعی نکاح ہونےکی بنا پر بچہ پیدا ہو اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا بھی یہی معنی ہے :
فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :
( بچہ بستر والے کے لیے ہے اورزانی کے لیے پتھر ہیں ) صحیح بخاری و صحیح مسلم ۔
تواس حالت میں اس بچے کا ولی حکمران ہوگا کیونکہ جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کا ولی حکمران ہوتا ہے ، اورحکمران کا تصرف مصلحت کے ساتھ منسلق ہے ، والدہ کی مصلحت کی حفاظت کی بنا پر بچے کی روح کوختم کرنے میں کوئی بھی مصلحت نہیں پائي جاتی ، اس لیے کہ اس میں اس قبیح اورشنیع فعل کرنے والی عورت کواس فعل کے کرنے پر ابھارنا ہے جوکہ صحیح نہیں ۔
اورزانی عورت جوکہ اس قبیح اورشنیع فعل کی مرتکب ہوئي ہے اس کا اسقاط حمل اس وقت کروانا ممکن ہے جب وہ صحیح اورسچی توبہ کرنے کا ارادہ کرے اوراسے بہت ہی شدید قسم کا خوف ہو جوکہ شریعیت اسلامیہ کا ایک بہت ہی سنہرا اصول اورقاعدہ ہے ۔
دیکھیں کتاب : احکام الجنین فی الفقہ الاسلامی تالیف عمربن محمد بن ابراھیم غانم ۔
Wednesday, June 1, 2016
آیتوں پر غور و فکر کریں
38 : سورة ص (29)
آیتوں پر غور و فکر کریں
$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$
کِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰہُ اِلَیۡکَ مُبٰرَکٌ لِّیَدَّبَّرُوۡۤا اٰیٰتِہٖ وَ لِیَتَذَکَّرَ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴿۲۹﴾
یہ بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف اس لئے نازل فرمایا ہے کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور و فکر کریں اور عقلمند اس سے نصیحت حاصل کریں۔
آیتوں پر غور و فکر کریں
$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$
کِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰہُ اِلَیۡکَ مُبٰرَکٌ لِّیَدَّبَّرُوۡۤا اٰیٰتِہٖ وَ لِیَتَذَکَّرَ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴿۲۹﴾
یہ بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف اس لئے نازل فرمایا ہے کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور و فکر کریں اور عقلمند اس سے نصیحت حاصل کریں۔
تراویح سے متعلق چند سوالات کے جواب
تراویح سے متعلق چند سوالات کے جواب
ترتیب : مقبول احمد سلفی
رمضان کا مہینہ آتے ہی لوگوں میں قسم قسم کے سوالات اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور تنازع کا سبب بن جاتے ہیں۔ تراویح سے متعلق چند سوالات واٹس اپ کچھ دنوں سے گردش میں ہیں، مجھ سے بھی ان سوالات کے جواب طلب کئے گئے ۔ میں مختصرا جواب تیار کیا ہے تاکہ لوگوں کے لئے آسانی ہو۔
سوال نمبر 1: آٹھ رکعت تراویح کیوں پڑھتے ہیں ؟
جواب : آٹھ رکعت تراویح نبی ﷺ کی سنت ہے اور یہ صحیح حدیث سے ثابت ہے ۔
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا کَيْفَ کَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ فَقَالَتْ مَا کَانَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلَا فِي غَيْرِهِ عَلَی إِحْدَی عَشْرَةَ رَکْعَةً يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّي ثَلَاثًا(متفق علیہ صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1887)
ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے (ابوسلمہ) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز رمضان میں کیسی تھی۔ انہوں نے جواب دیا کہ رمضان میں اور اس کے علاوہ دونوں میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہ بڑھتے تھے۔ چار رکعتیں پڑھتے تھے۔ ان کے طول و حسن کو نہ پوچھو۔ پھر چار رکعتیں پڑھتے جن کے طول و حسن کا کیا کہنا۔ پھر تین رکعتیں پڑھتے تھے۔
سوال نمبر2: تراویح باجماعت کیوں پڑھی جاتی ہے ؟
جواب :نبی ﷺ سے تراویح کی نماز باجماعت پڑھنا متعدد صحیح احادیث سے ثابت ہے ، بطورنمونہ ایک حدیث:
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم لوگوں کو رمضان کے مہینے میں (تراویح ) آٹھ رکعت نماز پڑھائی اِس کے بعد وتر پڑھا دوسرے روز جب رات ہوئی تو ہم لوگ پھر مسجد میں جمع ہوگئے امید کہ آپ نکلیں گے اور نماز پڑھائیں گے مگر آپ نہ نکلے ہم صبح تک مسجد میں رہ گئے پھر ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ بات بیان کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے خطرہ ہو ا کہ کہیں یہ نماز تم لوگوں پر فرض نہ ہوجائے (اس لئے میں گھر سے نہیں نکلا) (ابنِ حبان ،ابنِ خزیمہ،طبرانی فی الصغیر،محمد بن نصر مروزی فی قیام اللیل ص ۹۰)
سوال نمبر 3: پورا مہینہ تراویح پڑھنے کا ثبوت ؟
جواب : نبی ﷺنے خود تو یہ نماز ہمیشہ پڑھی جیساکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے واضح ہے، البتہ رمضان میں تین دن ، صحابہؓ کو بھی باجماعت پڑھائی۔
اس پر یہ سوال کہ''پھر ہم مہینہ بھر کیوں پڑھتے ہیں؟'' تو اس کا جواب یہ ہے کہ آپؐ کی تمنا بہرحال مہینہ بھر یہ نماز پڑھانے کی تھی۔ اس کے باوجود اگر آپؐ نے تین دن سے زائد نہیں پڑھائی ، تو اس کی وجہ بھی آپؐ نے خود ہی بیان فرما دی:
''إني خشیت أن تفترض علیکم فتعجزواعنھا'' (صحیح بخاری، کتاب الصوم، باب فضل من قام رمضان)
کہ ''(اللہ رب العزت کے ہاں یہ عمل انتہائی پسندیدہ ہونےکی بناء پر) میں ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ تم پرفرض نہ ہوجائے او رتم (اس کی ادائیگی سے )عاجز رہ جاؤ۔''
اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اگر اس کے فرض ہوجانے کاڈر آپؐ کو نہ ہوتا تو آپ ؐ مہینہ بھر یہ نماز پڑھاتے۔لہٰذا جب یہ وجہ زائل ہوگئی، تو اس کے بعد آپؐ کی تمنا کے پیش نظر ، مہینہ بھر اس نماز کاادا کرناسنت ہے۔
سوال نمبر4: ہر مسجد میں تراویح کیوں پڑھی جاتی ہے؟
جواب : جب تراویح پڑھنے کا ثبوت ملتاہے اور پورے مہینہ پڑھنے کی مشروعیت ثابت ہے اور تراویح کی اہمیت و فضلیت بھی اپنی جگہ مسلم ہے تو ہرجگہ یہ نماز پڑھی جائے گی ۔ جہاں جہاں لوگ نماز قائم کرتے ہیں وہاں وہاں تراویح کی نماز جماعت سے پورے رمضان پڑھ سکتے ہیں۔
سوال نمبر5: تراویح میں ختم قرآن کرنا کیوں ضروری ہے ؟
جواب : تراویح میں پورا قرآن کریم ختم کرنا ضروری نہیں ہے، اور نہ ہی ہمارے کسی عالم دین نے قرآن ختم کرنا لازم قرار دیا ہے البتہ حافظ قرآن ہو تو پورا قرآن ختم کرنا بہتر ہے ۔
سوال نمبر6: تراویح دو دو رکعت کرکے پڑھنے کا ثبوت ؟
جواب : ابن عمر رضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارہ میں سوال کیا تورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :"رات کی نماز دو دو رکعت ہے اورجب تم میں سےکوئي صبح ہونے کا خدشہ محسوس کرے تو اپنی نماز کے لیے ایک رکعت وتر ادا کرلے "۔(صحیح بخاری ح:946 صحیح مسلم ح:749 ) ۔
سوال نمبر 7: عشاء کی نماز کے بعد تراویح پڑھنے کا ثبوت ؟
جواب :اس میں کس کا اختلاف نہیں کہ تہجد کا وقت عشاء کے بعد سے لے کر فجر تک ہے اور ہم لوگ اسی وقت کے اندر تراویح کی نماز پڑھتے ہیں۔
دلیل بھی ملاحظہ فرمائیں ۔
صحیح مسلم میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاروایت کرتی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے رات کے ہر حصہ میں تہجد کی نماز پڑھی ہے ۔ کبھی شروع رات میں ، کبھی درمیان رات میں اور کبھی اخیر رات میں ۔
سوال نمبر8: رمضان کا چاند دیکھ کر تراویح کیوں شروع کی جاتی ہے ؟
جواب : قیام اللیل صرف رمضان کے چاند کے ساتھ ہی خاص نہیں پورے سال کو شامل ہے مگر چونکہ رمضان میں قیام کا ثواب دیگر تمام مہینوں سے زیادہ ہے ۔ قیام سابقہ تمام گناہوں کو مٹادیتا ہے جبکہ یہ ثواب دیگر مہینوں میں نہیں ہے۔ اس لئے لوگ رمضان شروع ہوتے ہی جیسے دیگر عبادات میں مشغول ہوجاتے ہیں ویسے ہی قیام اللیل (تراویح ) میں بھی مشغول ہوجاتے ہیں ۔
سوال نمبر9: عید کے چاند پر کیوں تراویح ختم کردی جاتی ہے؟
جواب : یہ تیسرے نمبر کے سوال کی دوسری شکل ہے ، مگر اتنا جان لیں کہ عید کے چاند سے قیام کا وہ ثواب نہیں باقی رہ جاتا جو رمضان میں تھا، پھر بھی ہم سب کو رمضان یا غیر رمضان دونوں میں قیام کا اہتمام کرنا چاہئے ۔ اور الحمد امت میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو رسول اللہ ﷺ کی اس سنت کا پورے سال خیال رکھتے ہیں۔
http://maquboolahmad.blogspot.com/2015/06/blog-post_9.html
ترتیب : مقبول احمد سلفی
رمضان کا مہینہ آتے ہی لوگوں میں قسم قسم کے سوالات اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور تنازع کا سبب بن جاتے ہیں۔ تراویح سے متعلق چند سوالات واٹس اپ کچھ دنوں سے گردش میں ہیں، مجھ سے بھی ان سوالات کے جواب طلب کئے گئے ۔ میں مختصرا جواب تیار کیا ہے تاکہ لوگوں کے لئے آسانی ہو۔
سوال نمبر 1: آٹھ رکعت تراویح کیوں پڑھتے ہیں ؟
جواب : آٹھ رکعت تراویح نبی ﷺ کی سنت ہے اور یہ صحیح حدیث سے ثابت ہے ۔
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا کَيْفَ کَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ فَقَالَتْ مَا کَانَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلَا فِي غَيْرِهِ عَلَی إِحْدَی عَشْرَةَ رَکْعَةً يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّي ثَلَاثًا(متفق علیہ صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1887)
ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے (ابوسلمہ) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز رمضان میں کیسی تھی۔ انہوں نے جواب دیا کہ رمضان میں اور اس کے علاوہ دونوں میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہ بڑھتے تھے۔ چار رکعتیں پڑھتے تھے۔ ان کے طول و حسن کو نہ پوچھو۔ پھر چار رکعتیں پڑھتے جن کے طول و حسن کا کیا کہنا۔ پھر تین رکعتیں پڑھتے تھے۔
سوال نمبر2: تراویح باجماعت کیوں پڑھی جاتی ہے ؟
جواب :نبی ﷺ سے تراویح کی نماز باجماعت پڑھنا متعدد صحیح احادیث سے ثابت ہے ، بطورنمونہ ایک حدیث:
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم لوگوں کو رمضان کے مہینے میں (تراویح ) آٹھ رکعت نماز پڑھائی اِس کے بعد وتر پڑھا دوسرے روز جب رات ہوئی تو ہم لوگ پھر مسجد میں جمع ہوگئے امید کہ آپ نکلیں گے اور نماز پڑھائیں گے مگر آپ نہ نکلے ہم صبح تک مسجد میں رہ گئے پھر ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ بات بیان کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے خطرہ ہو ا کہ کہیں یہ نماز تم لوگوں پر فرض نہ ہوجائے (اس لئے میں گھر سے نہیں نکلا) (ابنِ حبان ،ابنِ خزیمہ،طبرانی فی الصغیر،محمد بن نصر مروزی فی قیام اللیل ص ۹۰)
سوال نمبر 3: پورا مہینہ تراویح پڑھنے کا ثبوت ؟
جواب : نبی ﷺنے خود تو یہ نماز ہمیشہ پڑھی جیساکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے واضح ہے، البتہ رمضان میں تین دن ، صحابہؓ کو بھی باجماعت پڑھائی۔
اس پر یہ سوال کہ''پھر ہم مہینہ بھر کیوں پڑھتے ہیں؟'' تو اس کا جواب یہ ہے کہ آپؐ کی تمنا بہرحال مہینہ بھر یہ نماز پڑھانے کی تھی۔ اس کے باوجود اگر آپؐ نے تین دن سے زائد نہیں پڑھائی ، تو اس کی وجہ بھی آپؐ نے خود ہی بیان فرما دی:
''إني خشیت أن تفترض علیکم فتعجزواعنھا'' (صحیح بخاری، کتاب الصوم، باب فضل من قام رمضان)
کہ ''(اللہ رب العزت کے ہاں یہ عمل انتہائی پسندیدہ ہونےکی بناء پر) میں ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ تم پرفرض نہ ہوجائے او رتم (اس کی ادائیگی سے )عاجز رہ جاؤ۔''
اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اگر اس کے فرض ہوجانے کاڈر آپؐ کو نہ ہوتا تو آپ ؐ مہینہ بھر یہ نماز پڑھاتے۔لہٰذا جب یہ وجہ زائل ہوگئی، تو اس کے بعد آپؐ کی تمنا کے پیش نظر ، مہینہ بھر اس نماز کاادا کرناسنت ہے۔
سوال نمبر4: ہر مسجد میں تراویح کیوں پڑھی جاتی ہے؟
جواب : جب تراویح پڑھنے کا ثبوت ملتاہے اور پورے مہینہ پڑھنے کی مشروعیت ثابت ہے اور تراویح کی اہمیت و فضلیت بھی اپنی جگہ مسلم ہے تو ہرجگہ یہ نماز پڑھی جائے گی ۔ جہاں جہاں لوگ نماز قائم کرتے ہیں وہاں وہاں تراویح کی نماز جماعت سے پورے رمضان پڑھ سکتے ہیں۔
سوال نمبر5: تراویح میں ختم قرآن کرنا کیوں ضروری ہے ؟
جواب : تراویح میں پورا قرآن کریم ختم کرنا ضروری نہیں ہے، اور نہ ہی ہمارے کسی عالم دین نے قرآن ختم کرنا لازم قرار دیا ہے البتہ حافظ قرآن ہو تو پورا قرآن ختم کرنا بہتر ہے ۔
سوال نمبر6: تراویح دو دو رکعت کرکے پڑھنے کا ثبوت ؟
جواب : ابن عمر رضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارہ میں سوال کیا تورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :"رات کی نماز دو دو رکعت ہے اورجب تم میں سےکوئي صبح ہونے کا خدشہ محسوس کرے تو اپنی نماز کے لیے ایک رکعت وتر ادا کرلے "۔(صحیح بخاری ح:946 صحیح مسلم ح:749 ) ۔
سوال نمبر 7: عشاء کی نماز کے بعد تراویح پڑھنے کا ثبوت ؟
جواب :اس میں کس کا اختلاف نہیں کہ تہجد کا وقت عشاء کے بعد سے لے کر فجر تک ہے اور ہم لوگ اسی وقت کے اندر تراویح کی نماز پڑھتے ہیں۔
دلیل بھی ملاحظہ فرمائیں ۔
صحیح مسلم میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاروایت کرتی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے رات کے ہر حصہ میں تہجد کی نماز پڑھی ہے ۔ کبھی شروع رات میں ، کبھی درمیان رات میں اور کبھی اخیر رات میں ۔
سوال نمبر8: رمضان کا چاند دیکھ کر تراویح کیوں شروع کی جاتی ہے ؟
جواب : قیام اللیل صرف رمضان کے چاند کے ساتھ ہی خاص نہیں پورے سال کو شامل ہے مگر چونکہ رمضان میں قیام کا ثواب دیگر تمام مہینوں سے زیادہ ہے ۔ قیام سابقہ تمام گناہوں کو مٹادیتا ہے جبکہ یہ ثواب دیگر مہینوں میں نہیں ہے۔ اس لئے لوگ رمضان شروع ہوتے ہی جیسے دیگر عبادات میں مشغول ہوجاتے ہیں ویسے ہی قیام اللیل (تراویح ) میں بھی مشغول ہوجاتے ہیں ۔
سوال نمبر9: عید کے چاند پر کیوں تراویح ختم کردی جاتی ہے؟
جواب : یہ تیسرے نمبر کے سوال کی دوسری شکل ہے ، مگر اتنا جان لیں کہ عید کے چاند سے قیام کا وہ ثواب نہیں باقی رہ جاتا جو رمضان میں تھا، پھر بھی ہم سب کو رمضان یا غیر رمضان دونوں میں قیام کا اہتمام کرنا چاہئے ۔ اور الحمد امت میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو رسول اللہ ﷺ کی اس سنت کا پورے سال خیال رکھتے ہیں۔
http://maquboolahmad.blogspot.com/2015/06/blog-post_9.html
Tuesday, May 31, 2016
اپنے باپ کے سوا کسی دوسرے کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے تو اس پر جنت حرام ہے
اپنے باپ کے سوا کسی دوسرے کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے تو اس پر جنت حرام ہے
@@@@@@@@@@@@@@@@@
Sahih Bukhari Hadees # 4326
حدثنا محمد بن بشار ، حدثنا غندر ، حدثنا شعبة ، عن عاصم ، قال سمعت أبا عثمان ، قال سمعت سعدا ـ وهو أول من رمى بسهم في سبيل الله ـ وأبا بكرة ـ وكان تسور حصن الطائف في أناس ـ فجاء إلى النبي صلى الله وسلم فقالا سمعنا النبي صلى الله عليه وسلم يقول من ادعى إلى غير أبيه وهو يعلم فالجنة عليه حرام .
میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا، جنہوں نے سب سے پہلے اللہ کے راستے میں تیر چلایا تھا اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے جو طائف کے قلعے پر چند مسلمانوں کے ساتھ چڑھے تھے اور اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ ان دونوں صحابیوں نے بیان کیا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے کہ جو شخص جانتے ہوئے اپنے باپ کے سوا کسی دوسرے کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے تو اس پر جنت حرام ہے۔ اور ہشام نے بیان کیا اور انہیں معمر نے خبر دی، انہیں عاصم نے، انہیں ابوالعالیہ یا ابوعثمان نہدی نے، کہا کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عاصم نے بیان کیا کہ میں نے (ابوالعالیہ یا ابوعثمان نہدی رضی اللہ عنہ) سے کہا آپ سے یہ روایت ایسے دو اصحاب (سعد اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہما) نے بیان کی ہے کہ یقین کے لیے ان کے نام کافی ہیں۔ انہوں نے کہا یقیناً ان میں سے ایک (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) تو وہ ہیں جنہوں نے اللہ کے راستے میں سب سے پہلے تیر چلایا تھا اور دوسرے (ابوبکرہ رضی اللہ عنہ) وہ ہیں جو تیسویں آدمی تھے ان لوگوں میں جو طائف کے قلعہ سے اتر کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے۔
لونڈی سے مباشرت
لونڈی سے مباشرت
============
لونڈی کی وضاحت کریں اور بغیر نکاح لونڈی سے مباشرت کر سکتے ہیں
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
لونڈی اس غیر مسلم عورت کو کہاجاتا ہے جو جنگ میں قید ہوکر آئے۔ قید ہو نے کے بعد اگر وہ اسلام بھی قبول کر لے تو لونڈی ہی رہے گی, جب تک اسے آزاد نہ کر دیا جائے۔جس طرح باقی مال غنیمت تقسیم ہوتا ہے اسی طرح غنیمت میں حاصل ہونے والے غلام اور لونڈیاں بھی غازیوں میں تقسیم کیے جاتے ہیں۔ لونڈیوں , غلاموں سمیت ہمہ قسم مال غنیمت مسلمان حاکم کے پاس جمع کیا جاتا ہے۔ اور پھر وہ چاہے تو انہیں حکومتی میں قید میں رکھے, چاہے تو ان قیدیوں کے بدلے مسلمان قیدی کفارسے آزاد کروائے, یا ان سے فدیہ (تاوان) لے کر انہیں چھوڑ دے, اور چاہے تو احسان کرتے ہوئے انہیں آزاد کر دے۔ اور اگر مناسب سمجھے تو غازیوں میں باقی مال غنیمت کی طرح تقسیم کر دے۔ یعنی اسکے فیصلہ کا اختیار اللہ تعالى نے حاکم وقت کو دیا ہے۔ جس کے حصہ میں کوئی لونڈی آئےاسکے لیے اپنی لونڈی سے جماع کرنا شریعت نے جائز قرار دیا ہے۔ اگر وہ اس سے نکاح کر لے تو یہ اسکی بیوی بن جائے گی۔ اور اگر نکاح نہ کرے تو لونڈی کی حیثیت سے ہی اسکے ساتھ ہمبستری کر سکتا ہے۔ اللہ کا فرمان ہے: إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ (مؤمن اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ) مگر اپنی بیویوں یا لونڈیوں سے, تو وہ ملامت زدہ نہیں ہیں۔ [المؤمنون : 6] اس لونڈی سے جو اولاد پیدا ہوگی وہ آزاد ہوگی, اور اپنے باپ کی وارث بنے گی۔ اور اگر لونڈی جب قید ہو اس وقت وہ حاملہ ہو, تو سابقہ حمل کے دوران اس لونڈی سے جماع کرنا منع ہے, اور وہ سابقہ حمل سے پیدا ہونے والا بچہ بھی اسکا غلام بنے گا, اسکی وراثت کا حقدار نہیں ہوگا۔ [سنن أبي داود: 2156]
مصدر: http://www.rafeeqtahir.com/ur/play-swal-790.html
============
لونڈی کی وضاحت کریں اور بغیر نکاح لونڈی سے مباشرت کر سکتے ہیں
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
لونڈی اس غیر مسلم عورت کو کہاجاتا ہے جو جنگ میں قید ہوکر آئے۔ قید ہو نے کے بعد اگر وہ اسلام بھی قبول کر لے تو لونڈی ہی رہے گی, جب تک اسے آزاد نہ کر دیا جائے۔جس طرح باقی مال غنیمت تقسیم ہوتا ہے اسی طرح غنیمت میں حاصل ہونے والے غلام اور لونڈیاں بھی غازیوں میں تقسیم کیے جاتے ہیں۔ لونڈیوں , غلاموں سمیت ہمہ قسم مال غنیمت مسلمان حاکم کے پاس جمع کیا جاتا ہے۔ اور پھر وہ چاہے تو انہیں حکومتی میں قید میں رکھے, چاہے تو ان قیدیوں کے بدلے مسلمان قیدی کفارسے آزاد کروائے, یا ان سے فدیہ (تاوان) لے کر انہیں چھوڑ دے, اور چاہے تو احسان کرتے ہوئے انہیں آزاد کر دے۔ اور اگر مناسب سمجھے تو غازیوں میں باقی مال غنیمت کی طرح تقسیم کر دے۔ یعنی اسکے فیصلہ کا اختیار اللہ تعالى نے حاکم وقت کو دیا ہے۔ جس کے حصہ میں کوئی لونڈی آئےاسکے لیے اپنی لونڈی سے جماع کرنا شریعت نے جائز قرار دیا ہے۔ اگر وہ اس سے نکاح کر لے تو یہ اسکی بیوی بن جائے گی۔ اور اگر نکاح نہ کرے تو لونڈی کی حیثیت سے ہی اسکے ساتھ ہمبستری کر سکتا ہے۔ اللہ کا فرمان ہے: إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ (مؤمن اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ) مگر اپنی بیویوں یا لونڈیوں سے, تو وہ ملامت زدہ نہیں ہیں۔ [المؤمنون : 6] اس لونڈی سے جو اولاد پیدا ہوگی وہ آزاد ہوگی, اور اپنے باپ کی وارث بنے گی۔ اور اگر لونڈی جب قید ہو اس وقت وہ حاملہ ہو, تو سابقہ حمل کے دوران اس لونڈی سے جماع کرنا منع ہے, اور وہ سابقہ حمل سے پیدا ہونے والا بچہ بھی اسکا غلام بنے گا, اسکی وراثت کا حقدار نہیں ہوگا۔ [سنن أبي داود: 2156]
مصدر: http://www.rafeeqtahir.com/ur/play-swal-790.html
طلاق کے کچھ اسباب -
طلاق کے کچھ اسباب -
➖➖➖➖➖➖➖➖
👇طلاق کے اسباب بہت ہیں جن میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں :
✅خاوند اوربیوی کے درمیان عدم موافقت ، وہ اس طرح کہ کسی ایک کی طرف سے دوسرے کے لیے محبت نہ ہو ، یا پھر دونوں ہی ایک دوسرے سے محبت نہ کریں ۔
✅عورت کا بداخلاق ہونا ، یا پھرنیکی اوربھلائی کے کاموں میں خاوند کی سمع واطاعت نہ کرنا ۔
✅خاوند کا بداخلاق ہونا اور عورت پرظلم وزیادتی اور ناانصافی کرنا ، اوربیوی کے حقوق کی ادائيگی نہ کرسکنا ۔
✅بیوی اپنے خاوند کے حقوق ادا نہ کرسکتی ہو ۔
✅دونوں میں سے کسی ایک کا معصیت وگناہ میں مبتلا ہونا یا پھر دونوں ہی گناہ میں ملوث ہوں ، جس کی بنا پر ان کے حالات بگڑ جائيں ، جس کے نتیجے میں طلاق ہوجاۓ ۔
مثلا خاوند نشہ کا عادی ہویا پھر سگرٹ نوش ، یا بیوی نشہ کرتی ہواورسگرٹ نوش ہو ۔
✅بیوی اورساس سسر یا پھر ان میں سے کسی ایک کے ساتھ بہو کے معاملات خراب ہوں ، اوروہ ان کے معاملہ میں کوئی حکمت بھری سیاست نہ کرسکے ۔
✅بیوی کا خاوند کے لیے صاف ستھرااور بن سنور کرنہ رہنا اوراچھا لباس اورخوشبواستعمال نہ کرنا ، اسی طرح اچھی اور محبت بھری کلام نہ کرنا ، ہشاش بشاش چہرے سے نہ ملنا وغیرہ ۔
واللہ اعلم .دیکھیں الفتاوی الجامعۃ للمراۃ المسلمۃ ( 2 / 666 ) للشیخ ابن باز رحمہ اللہ تعالی ۔
〰〰〰〰〰〰〰〰
➖➖➖➖➖➖➖➖
👇طلاق کے اسباب بہت ہیں جن میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں :
✅خاوند اوربیوی کے درمیان عدم موافقت ، وہ اس طرح کہ کسی ایک کی طرف سے دوسرے کے لیے محبت نہ ہو ، یا پھر دونوں ہی ایک دوسرے سے محبت نہ کریں ۔
✅عورت کا بداخلاق ہونا ، یا پھرنیکی اوربھلائی کے کاموں میں خاوند کی سمع واطاعت نہ کرنا ۔
✅خاوند کا بداخلاق ہونا اور عورت پرظلم وزیادتی اور ناانصافی کرنا ، اوربیوی کے حقوق کی ادائيگی نہ کرسکنا ۔
✅بیوی اپنے خاوند کے حقوق ادا نہ کرسکتی ہو ۔
✅دونوں میں سے کسی ایک کا معصیت وگناہ میں مبتلا ہونا یا پھر دونوں ہی گناہ میں ملوث ہوں ، جس کی بنا پر ان کے حالات بگڑ جائيں ، جس کے نتیجے میں طلاق ہوجاۓ ۔
مثلا خاوند نشہ کا عادی ہویا پھر سگرٹ نوش ، یا بیوی نشہ کرتی ہواورسگرٹ نوش ہو ۔
✅بیوی اورساس سسر یا پھر ان میں سے کسی ایک کے ساتھ بہو کے معاملات خراب ہوں ، اوروہ ان کے معاملہ میں کوئی حکمت بھری سیاست نہ کرسکے ۔
✅بیوی کا خاوند کے لیے صاف ستھرااور بن سنور کرنہ رہنا اوراچھا لباس اورخوشبواستعمال نہ کرنا ، اسی طرح اچھی اور محبت بھری کلام نہ کرنا ، ہشاش بشاش چہرے سے نہ ملنا وغیرہ ۔
واللہ اعلم .دیکھیں الفتاوی الجامعۃ للمراۃ المسلمۃ ( 2 / 666 ) للشیخ ابن باز رحمہ اللہ تعالی ۔
〰〰〰〰〰〰〰〰
Subscribe to:
Posts (Atom)