Thursday, May 26, 2016

ٹوپی بغیر نماز کا حکم

ٹوپی بغیر نماز کا حکم
================

نماز میں اور نماز سے باہر ہمیشہ یا کبھی صرف ٹوپی استعمال کرنا بلاشبہ جائز اور مباح ہے پگڑی باندھنی نہ فرض ہے نہ واجب نہ سنت مؤکدہ اور حدیث :ان فرق ما بیننا وبین المشرکین العمائم علی القلانس (ترمذی ابوداؤد) ضعیف ہے۔ اور اگر صحیح بھی مان لی جائے تو ابن الملک وغیرہ شراح کے بیان کردہ معنی کے مطابق اس حدیث سے صرف ٹوپی پہننے کی کراہت نہیں ثابت ہوتی۔ آنحضرتﷺ بغیر عمامہ کے صرف ٹوپی بھی استعمال فرمایا کرتے تھے۔ امام ابن القیم زاد المعاد میں فرماتے ہیں:
وکان یلبسھا (ای العمامۃ) ویلبس تحتھا القلنسوۃ وکان یلبس القلنسوۃ بغیر عمامۃ ویلبس العمامۃ بغیر قلنسوۃ انتھٰی۔ (ص۳۴ج۱)
اور جامع ترمذی (ص ۲۱۱، جلد ۱ ) میں ہے:
عن ابی یزید الخولانی انہ سمع فضالۃ بن عبید یقول سمعت عمر بن الخطابؓ یقول سمعت رسول اللّٰہ ﷺ یقول الشھداء اربعۃ جل مومن جید الایمان لقی العدو فصدق اللّٰہ حتی قتل فذالک الذییرفع الناس الیہ اعینھم یوم القیمۃ ھکذا ورفع راسہ حتی وقعت قلنسوتہ فلا ادری قلنسوۃ عمر ارادام قلنسوۃ النبی ﷺ الحدیث۔
اور جامع صغیر للسیوطی میں ہے:
کان (ﷺ) یلبس القلانس تحت العمائم وبغیر العمائم ویلبس العمائم بغیر القلانس وکان یلبس القلانس الیمانیۃ الحدیث (الرویانی وابن عساکر عن ابن عباس)
اور صحیح بخاری شریف میں ہے:
وضع ابو اسحق قلنسونہ فی الصلوٰۃ ورفعھا۔
اس اثر سے معلوم ہوا کہ ابو اسحق سبیعی جوکتبار تابعین سے ہیںاور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے استاذ ہیں اور اڑتیس صحابیوں سے حدیث روایت کی ہے۔ نماز بھی صرف ٹوپی کے ساتھ ادا فرماتے تھے۔
(محدث دہلی جلد ۱۰، ش ۳)
 

فتاویٰ علمائے حدیث
جلد 04 ص 295

کرسی پر بیٹھ کر نماز ادا کرنااور اس کا شرعی حکم:

کرسی پر بیٹھ کر نماز ادا کرنااور اس کا شرعی حکم:
📼📼📼📼📼📼📼📼
اس مختصر مضمون میں نمازیوں کا کرسی پر نماز پڑھنا، خصوصا ًباجماعت نماز کے احکام پر بحث کی گئی ہے۔اس کی غرض و غایت نمازیوں کو نماز کی اصلاح اور اس کے منافی امور سے اجتناب کی رغبت دلانا ہے۔ نماز دین کا ستون ہے اور شہاد تین کے بعد اہم ترین ہے۔ تمام اعمال کی اصلاح کا دارو مدار اور انحصار نماز کی درستگی پرہے۔اگر نماز درست ہو گی تو باقی تمام اعمال صحیح ہو ں گے۔ اگر نماز درست نہ ہو گی تو باقی تمام اعمال بھی ناقص ہو جائیں گے۔ اس لئے نماز کو اس کے کامل حسن کے ساتھ ادا کرنا اور اس کے تمام ارکان کی اہمیت و فضیلت کو بیان کرنا عین دین ہے۔آج کل نمازیوں کی کثیر تعداد کرسی پر بیٹھ کر نماز ادا کرتی ہے اور کوئی مسجد بھی ایسے لوگوں سے خالی نہیں ہے۔ان میں بعض لوگ غیر شعوری طور پر غلطی کاارتکاب کرتے ہیں۔ بسا اوقات نمازی آدمی رکوع تو نہیں کرسکتامگر قیام کی استطاعت رکھتا ہوتا ہے لیکن وہ استطاعت کے باوجود کھڑا نہیں ہوتا جب کہ قیام نماز کا رکن ہے۔ ذیل میں ہم انہی کوتاہیوں اور حالات کو بالتفصیل بیان کریں گے۔

1⃣پہلی صورت:
جو لوگ قیام،رکوع،سجود کی استطاعت موٹاپے یا کسی اور وجہ سے نہیں رکھتے،وہ کرسی پراس کیفیت میں نماز ادا کریں جو ان کےلئے ممکن وآسان ہوجیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔"فاتقوا اللہ مااستطعتم"حسب استطاعت اللہ سے ڈرتے رہو۔ اور اللہ تعالی کافرمان ہے"لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا" ۔"اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا"
▪افضل عمل یہ ہے کہ کرسی پر بیٹھ کرنماز ادا کرنے والا امام کے بالکل پیچھے کھڑا نہ ہو تاکہ اگر باوقت ضرورت امام کی نیابت میں امامت کروانا پڑے تو کوئی مشکل پیش نہ آئے۔اور کرسی پر بیٹھنے والا شخص دروس و محاضرات کے موقع پر امام وسامعین کے درمیان حائل بھی نہ ہو۔
▪بہتر یہ ہےکہ ہمیشہ چھوٹی کرسی ہی استعمال کی جائے جو صرف ضرورت کو پورا کرے اور صف بندی میں بھی سہولت رہے۔

2⃣دوسری صورت:
جوشخص قیام اور رکوع تو کرسکتا ہو لیکن سجدہ کی طاقت نہ رکھتا ہو،تو وہ معمول کے مطابق نماز ادا کرےمگر سجدے کے وقت کرسی پر بیٹھ جائےاور بہ قدر طاقت سجدہ کرے۔

3⃣تیسری صورت:
اگر کوئی شخص قیام کی طاقت تو رکھتا ہو مگر رکوع اور سجود کی ہمت نہ پاتاہو تو وہ کھڑے ہو کر نماز ادا کرے لیکن رکوع اور سجود کے وقت کرسی پر بیٹھ جائے اور سجدوں میں رکوع کی نسبت زیادہ جھکاؤ ہو۔

4⃣چوتھی صورت:
جو شخص رکوع و سجود کا متحمل تو ہو لیکن قیام میں اسے مشکل پیش آتی ہوتووہ بیٹھ کرنماز ادا کرے،رکوع کرسی کے بغیر اور سجدہ زمین پر کرے۔ اسے چاہئے کہ حسب ضرورت ہی رخصت سے فائدہ اٹھائے۔اور بغیر عذر �

مسافر کی نمازکے احکام

- مسافر کی نمازکے احکام
📼📼📼📼📼📼📼📼
-------------------------
سفر میں مسافر کے لیے یہ رخصت دی گئی ہے کہ وہ چار رکعت والی نماز وںکو دو رکعت پڑھے ،اس کو قصر کہتے ہیں ۔ (بخاری مسلم)۔البتہ مسافر اگر مقیم کے پیچھے نماز پڑھے تو مسافر کو پوری نماز پڑھنی چاہیے ۔ (احمد ، مالک)۔

۰چار رکعت والی نمازیں تین ہیں: ظہر ، عصر اور عشاء۔ مغرب اور فجر کی نمازوں میں قصر نہیں ہے ۔

♻مسافتِ سفر :
---------------
اونٹ کے ذریعہ یا پیدل ایک دن اور ایک رات کی مسافت کو سفر کہاجاتاہے جو تقریبا اَسی (80) کلو میٹر کے برابرہے۔ لہذا جو شخص اَسی (80) کلو میٹریا اس سے زیادہ کاسفر کرے تواسے قصر کرنے کی اجازت ہے ۔

♻مدتِ قصر :
------------
چار دن تک اگر کسی جگہ قیام کا ارادہ ہے تو قصر کرسکتے ہیں ۔ اگر چاردن سے زیادہ قیام کا ارادہ ہے تو پوری نماز پڑھنی چاہیے ۔
(تحفہ الاخوان باجوبة مھمة فی ارکان الاسلام لابن باز، ص: ۳۲۱) ۔
( شرح بلوغ المرام ازصفی الرحمن مبارکپوری، فقہ الحدیث ج۱، ص:۸۷۵) ۔

۰اگر مسافر حالت تردد میں ہے کہ آج واپس ہوجاؤگا ، کل واپس ہوجاؤں گاتو جب تک وہ اپنے وطن واپس نہ لوٹے اس وقت تک قصر کرسکتاہے ۔ امام ترمذی نے اس سلسلہ میں اہل علم کا اجماع نقل کیا ہے ۔
دیکھیے : جامع ترمذی : ۸۴۵بحوالہ فقہ الحدیث ج۱،ص:۷۷۵)۔

▪ وضاحت :
------------
قصر کے لیے سفر کی مسافت اور مدت کی تعیین : اہل علم کا ایک اجتہادی مسئلہ ہے نبی کریم ا سے قطعی طورپر کوئی تعیین وارد نہیں ہے لہذا اہل علم کے جو بھی اقوال اقرب الی الحدیث ہیں انہیں اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ مذکورہ تعیین علامہ ابن باز وغیرہ جیسے اہل علم کی تحقیق ہے جو اقرب الی الحدیث ہے ۔

♻جمع بین الصلاتین
 -----------------
یعنی دو نمازوں کو ایک وقت میں جمع کرکے پڑھنا۔ سفر میں جمع بین الصلوتین جائز ہے ، مثلاً: ظہر اور عصر کو ظہر کے وقت یا عصر کے وقت ملا کر پڑھنا ، اسی طرح مغرب اور عشاءکو مغرب کے وقت یا عشاءکے وقت ملا کر پڑھنا ۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺغزوہ تبوک کے(سفر ) میں اگر سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ کرتے تو ظہر کو موخر کرتے اور عصر کے وقت دونوں کو ایک ساتھ جمع کرکے پڑھتے ، اور اگر سورج ڈھلنے کے بعد کوچ کرتے توعصرکو مقدم کرتے اور ظہر کے وقت دونوں کو جمع کرکے پڑھتے، پھر نکل پڑتے ، اور آپ مغرب اور عشاءمیں بھی اسی طرح کرتے ۔
اور اگر مغرب سے پہلے کوچ کرتے تو مغرب کو موخر کرتے اور عشاءکے وقت دونوں کو جمع کرکے پڑھ لیتے اور اگر مغرب کے بعد کوچ کرتے تو عشاءکومقدم کرتے اورمغرب کے وقت دونوں کو جمع کرکے پڑھ لیتے ۔ (ابوداود، ترمذی : صحیح ) ۔

 اختصار از ماهنامه "مصباح" كويت
✳✳✳✳✳✳✳✳

دوران نماز کپڑے سمیٹنا

- دوران نماز کپڑے سمیٹنا
📼📼📼📼📼📼📼📼

نماز میں آستین چڑهانے سے متعلق  دو باتوں کا خلاصہ ......

1⃣آستین فولڈ کرکے نماز پڑهنا
2⃣ٹخنہ سے اوپر کر کے نماز پڑهنا..

✅پہلی بات یہ کہ حدیث میں آستین چڑهاکر نماز پڑهنے کی ممانعت نہیں آئی ہے بلکہ نماز کی حالت میں آستین سمیٹنے کی ممانعت ہے. اور یہ حدیث صحیح ہے.

✅دوسری بات یہ کہ ٹخنہ سے نیچے کپڑا پہننا منع ہے ، اور نماز کی حالت میں بهی...اس سے متعلق بهی بہت ساری صحیح احادیث ہیں..

♻کچه تفاصیل......
🔳ایک نمازی کے لئے دوران نماز اپنے کپڑے وغیرہ موڑنا یا درست کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ نبی صلی للہ علیہ وسلم سے منقول ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث سے یہ ثابت ہے کہ آپ صلی للہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور اپنے بالوں اور کپڑوں سے منع کیا گیا ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہی ایک دوسری حدیث میں ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی للہ علیہ وسلم نے فرمایا:مجھے سات پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور اپنے بال اور کپڑوں كو سدھارنے سے منع کیا گیا ہے۔


🔳مردوں کے لئے ایسے لمبے کپڑوں کا پہننا جو ٹخنوں سے نیچے پہنچتے ہوں، حرام ہے۔ چاہے وہ کپڑا قمیص ہو یا پاجامہ ہو یا پتلون ہو، اور چاہے اسبال کرنے والے کی نیت تکبر کی ہو یا نہ ہو؛ اس لئے کہ نبي صلى الله عليه وسلم کا یہ عمومی ارشاد ہے کہ: تہبند کا جو حصہ ٹخنے سے نیچے ہوا وہ جہنم میں ہوگا.
اس کی بخاری نے اپنی صحيح میں،اور امام احمد نے اپنے مسند میں ذکر کیا ہے۔
نیز اس لئے کہ نبی صلى الله عليه وسلم کا ارشاد ہے کہ: تین لوگ ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہیں کرے گا اور نہ ان کی طرف نظر کرم کرے گا، اور نہ ان کا تزکیہ کرے گا اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے: وہ جو اپنا تہبند ٹخنوں سے نيچے لٹکاتا ہے، اور وہ جو کچھـ دے کر احسان جتلاتا ہے، اور وہ جو جھوٹی قسم کھا کر اپنے سامان کو فروغ دیتا ہے۔
اس کی تخریج امام مسلم نے (اپنی صحیح میں: ج 1 ص 102) اور امام احمد نے (مسند) میں کی ہے۔

اس بناء پر اس کے لئے جائز نہیں کہ اسبال [ٹخنوں سے نیچے کپڑا پہننا] کرتے ہوئے نماز پڑھے، بلکہ اس پر یہ واجب ہے کہ اس کو بدل کر ایسے کپڑے پہنے جو ٹخنوں کے اوپر آدھی پنڈلی تک رہیں، اگر ایسا نہیں کرسکتا تو نماز میں داخل ہونے سے پہلے اس پر واجب ہے کہ پتلون کو اوپر کرلے، اس طرح کہ ٹخنوں سے اوپر ہوجائے۔لیکن اگر وہ اسبال کی حالت میں نماز پڑھ لے تو اس کی نماز صحیح ہوجائے گی، لیکن حرام کا ارتکاب کرنے کی وجہ سے وہ گنہگار ہوگا، اور اس کے اوپر یہ واجب ہے کہ اس عمل سے سچی توبہ کرے اور نماز کے دوران پتلون کو ہٹانا یا اسے اوپر کرنا مکروہ ہے، اور اسی طرح آستین کو ہٹانا مکروہ ہے کیونکہ صحیحین میں حض

جس نے اندھی تقلید میں کسی کے جھنڈے کے نیچے جنگ کی



جس نے اندھی تقلید میں کسی کے جھنڈے کے نیچے جنگ کی

$$$$$$$$$$$$$$$$$$$

Sahih Muslim Hadees # 4685


حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ عَنْ أَبِي قَيْسِ بْنِ رِيَاحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ خَرَجَ مِنْ الطَّاعَةِ وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ فَمَاتَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً وَمَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ يَغْضَبُ لِعَصَبَةٍ أَوْ يَدْعُو إِلَی عَصَبَةٍ أَوْ يَنْصُرُ عَصَبَةً فَقُتِلَ فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ وَمَنْ خَرَجَ عَلَی أُمَّتِي يَضْرِبُ بَرَّهَا وَفَاجِرَهَا وَلَا يَتَحَاشَی مِنْ مُؤْمِنِهَا وَلَا يَفِي لِذِي عَهْدٍ عَهْدَهُ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ

شیبان بن فروخ جریر، ابن حازم، غیلان، ابن جریر، ابی قیس بن ریاح، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اطاعت سے نکل گیا اور جماعت سے علیحدہ ہوگیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا اور جس نے اندھی تقلید میں کسی کے جھنڈے کے نیچے جنگ کی کسی عصبیت کی بناء پر غصہ کرتے ہوئے عصبیت کی طرف بلایا یا عصبیت کی مدد کرتے ہوئے قتل کردیا گیا تو وہ جاہلیت کے طور پر قتل کیا گیا اور جس نے میری امت پر خروج کیا کہ اس کے نیک وبد سب کو قتل کیا کسی مومن کا لحاظ کیا اور نہ کسی سے کیا ہوا وعدہ پورا کیا تو وہ میرے دین پر نہیں اور نہ میرا اس سے کوئی تعلق ہے۔

**************************

Sahih Muslim Hadees # 4691

حَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ عَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قُتِلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ يَدْعُو عَصَبِيَّةً أَوْ يَنْصُرُ عَصَبِيَّةً فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ

ہریم بن عبداعلی، معتمر، ابومجلز، جندب بن عبداللہ بجلی، حضرت جندب بن عبداللہ بجلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کسی کی اندھی تقلید میں عصبیت کی طرف بلاتا ہو یا عصبیت کی مدد کرتا ہوا قتل کیا گیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔

یہ حدیث تقلید کا زبردست رد کیا ہے موقلید کو غور کرنا چاہیے


یہ حدیث تقلید کا زبردست رد کیا ہے موقلید کو غور کرنا چاہیے

&&&&&&&&&&&&&&&&&&&&&&&

لکڑی جمع کرو اور اس سے آگ جلاؤ اور اس میں کود پڑو


ahih Bukhari Hadees # 7145

حدثنا عمر بن حفص بن غياث ،‏‏‏‏ حدثنا أبي ،‏‏‏‏ حدثنا الأعمش ،‏‏‏‏ حدثنا سعد بن عبيدة ،‏‏‏‏ عن أبي عبد الرحمن ،‏‏‏‏ عن علي ـ رضى الله عنه ـ قال بعث النبي صلى الله عليه وسلم سرية ،‏‏‏‏ وأمر عليهم رجلا من الأنصار وأمرهم أن يطيعوه ،‏‏‏‏ فغضب عليهم وقال أليس قد أمر النبي صلى الله عليه وسلم أن تطيعوني قالوا بلى‏.‏ قال عزمت عليكم لما جمعتم حطبا وأوقدتم نارا ،‏‏‏‏ ثم دخلتم فيها ،‏‏‏‏ فجمعوا حطبا فأوقدوا ،‏‏‏‏ فلما هموا بالدخول فقام ينظر بعضهم إلى بعض ،‏‏‏‏ قال بعضهم إنما تبعنا النبي صلى الله عليه وسلم فرارا من النار ،‏‏‏‏ أفندخلها ،‏‏‏‏ فبينما هم كذلك إذ خمدت النار ،‏‏‏‏ وسكن غضبه ،‏‏‏‏ فذكر للنبي صلى الله عليه وسلم فقال ‏  ‏ لو دخلوها ما خرجوا منها أبدا ،‏‏‏‏ إنما الطاعة في المعروف ‏  ‏‏.‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دستہ بھیجا اور اس پر انصار کے ایک شخص کو امیر بنایا اور لوگوں کو حکم دیا کہ ان کی اطاعت کریں۔ پھر امیر فوج کے لوگوں پر غصہ ہوئے اور کہا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں میری اطاعت کا حکم نہیں دیا ہے؟ لوگوں نے کہا کہ ضرور دیا ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ لکڑی جمع کرو اور اس سے آگ جلاؤ اور اس میں کود پڑو۔ لوگوں نے لکڑی جمع کی اور آگ جلائی، جب کودنا چاہا تو ایک دوسرے کو لوگ دیکھنے لگے اور ان میں سے بعض نے کہا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری آگ سے بچنے کے لیے کی تھی، کیا پھر ہم اس میں خود ہی داخل ہو جائیں۔ اسی دوران میں آگ ٹھنڈی ہو گئی اور امیر کا غصہ بھی جاتا رہا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ لوگ اس میں کود پڑتے تو پھر اس میں سے نہ نکل سکتے۔ اطاعت صرف اچھی باتوں میں ہے۔

مُتبـــــــــــع سُنت اور مُقلـــــــــــد میں فرق

مُتبـــــــــــع سُنت اور مُقلـــــــــــد میں فرق
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🖊تحریر :  [ أبو عامر۔ Abu Aamir ]

🔵 قرآن کریم میں اللہ سبحانہ وتعالی نے واضح حکم فرمایا ہے:

﴿ اتَّبِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ ۗ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ ﴾ [ الأعراف: 3:7 ]
" تم لوگ اس کا اتباع کرو جو تمہارے رب کی طرف سے آئی ہے اور اللہ تعالی کو چھوڑ کر من گھڑت سرپرستوں کی اتباع مت کرو تم لوگ بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو۔"

📘 مُتبـــــع سُنت :
وہ مسلمان مؤمن مؤحد شخص جو ہر دینی عمل کتاب وسنت ( قرآن کریم و صحیح آحادیث رسول ﷺ ) کی احکام و تعلیمات کی روشنی میں اپنے سلف صالح ( صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ) کی منہج و فہم کے مطابق کرتا ہو۔ اور ہر وقت اس کوشش، تحقیق و جستجو میں لگا رہتا ہے کہ وہ کس طرح اپنے آپ کو اپنے محبوب نبی و امام محمد رسول اللہ ﷺ کا ایک صحیح اور سچا متبع سنت بنا دے۔ والحمد للہ

جبکہ اس کے برعکس

📕 مُقلــــــــــد :
وہ کلمہ گو شخص ہوتا ہے جو کسی اُمتی امام کے نام پر خیرالقرون کے بعد کسی ایک ایجاد شدہ مروجہ شخصی مذھب و فقہ کی اندھی تقلید کرتا ہو، اور بغیر تحقیق اور بلا دلیل آنکھیں بند کرکے اس مذھب کے اکابرین کے سچے، جھوٹے، خطا و من گھڑت ہر قسم کی اقوال و فتاوی جات کو عین دین سمجھ کر اس کی تعمیل کرتا ہو۔ اگر اسے کوئی مؤحد متبع سنت قرآن کریم و صحیح حدیث رسول ﷺ سے صحیح دلیل سے یہ دکھا دے کہ بھئی تمہارے اس شخصی مذہب و فقہ کی یہ قول یا عمل قرآن کریم  و صحیح حدیث کی صریح خلاف ہے تو وہ اندھا مقلد جواب میں یہ کہہ کر حق کو قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہے کہ بھئی بزرگوں نے فرمایا یا لکھا ہے تو خوب سوچ سمجھ کر کہا اور لکھا ہو گا۔ لہذا وہ صحیح حدیث رسول ﷺ ماننے سے اعراض کرکے حق کو ٹھکرا دیتا ہے اور اپنے امتی بزرگوں، شیخ یا پیروں وغیرہ کی خطا و غلط من گھڑت اقوال و افعال اور طور طریقوں کو دین سمجھ کر بلا سوچے سمجھے اندھوں کی طرح اس سے چمٹا ہی رہتا ہے۔

باقی دنیا میں ہر صاحب عقل وبصیرت مرد و عورت کو اپنے بساط کے مطابق سعی و تحقیق کرکے حق وباطل میں فرق و پہچان کرنا چاہیۓ اور پھر حق کو دل ہی سے قبول کرکے اس کی اطاعت واتباع کرنی چاہیۓ۔

اللہ تعالی ہم  سب کو حق قبول کرنے اور پھر اس پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللهم آمین

" اللهم أرنا الحق حقًا وارزقنا إتباعه، اللهم أرنا الباطل باطلًا وارزقنا إجتنابە۔

وصلى الله وسلم وبارك على نبينا محمد وعلى آله وأصحابه أجمعين۔
واللہ تعالی أعلم

🌺 کتاب و سنت کی روشن دلائل پر مبنی اس اہم دعوتی پوسٹ کو ہر دینی بہن بھائی بطور صدقہ جاریہ خالص نیت سے آگے share کریں۔ وجزاکم اللہ خیرًا 🌿