Saturday, September 10, 2016

تمام انبیاء (علیہ السلام ) پر اور کتابو پر ایمان رکھنے کی دلیل

 تمام انبیاء (علیہ السلام ) پر اور کتابو پر ایمان رکھنے کی دلیل


2 : سورة البقرة 136

قُوۡلُوۡۤا اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡنَا وَ مَاۤ اُنۡزِلَ  اِلٰۤی  اِبۡرٰہٖمَ  وَ  اِسۡمٰعِیۡلَ وَ  اِسۡحٰقَ وَ یَعۡقُوۡبَ وَ الۡاَسۡبَاطِ وَ مَاۤ اُوۡتِیَ مُوۡسٰی وَ عِیۡسٰی وَ مَاۤ اُوۡتِیَ النَّبِیُّوۡنَ مِنۡ  رَّبِّہِمۡ ۚ  لَا نُفَرِّقُ بَیۡنَ اَحَدٍ مِّنۡہُمۡ ۫ ۖ وَ نَحۡنُ لَہٗ مُسۡلِمُوۡنَ ﴿۱۳۶﴾

اے مسلمانوں! تم سب کہو کہ ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس چیز پر بھی جو ہماری طرف اتاری گئی اور جو چیز پر ابراہیم، اسماعیل اسحاق اور یعقوب علیہم السلام اور ان کی اولاد پر اتاری گئی اور جو کچھ اللہ کی جانب سے موسیٰ اور عیسیٰ (علیہ السلام )اور دوسرے انبیاء (علیہ السلام )دیئے گئے۔ ہم اُن میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے، ہم اللہ کے فرمانبردار ہیں۔


اہل کتاب کی تصدیق یا تکذیب! اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو ارشاد فرماتا ہے کہ جو کچھ حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر اترا اس پر تو وہ تفصیل وار ایمان لائیں اور جو آپ سے پہلے انبیاء پر اترا، اس پر بھی اجمالاً ایمان لائیں ۔ ان اگلے انبیاء کرام میں سے بعض کے نام بھی لے دئے اور باقی نبیوں کا مجمل ذکر کر دیا۔ ساتھ ہی فرمایا کہ یہ کسی نبی کے درمیان تفریق نہ کریں کہ ایک کو مانیں اور دوسرے سے انکار کر جائیں جو عادت اوروں کی تھی کہ وہ انبیاء میں تفریق کرتے تھے، کسی کو مانتے تھے، کسی سے انکاری تھے، یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم تینوں کو نہیں مانتے تھی۔ ان سب کو فتویٰ ملا کہ آیت (اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا) 4۔ النسآء:151) یہ لوگ بالیقین کافر ہیں ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں اہل کتاب توراۃ کو عبرانی میں پڑھتے تھے اور عربی میں تفسیر کر کے اہل اسلام کو سناتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اہل کتاب کی سچائی یا تکذیب نہ کرو ۔ کہ دیا کہ اللہ پر اور اس کی نازل ہوئی کتابوں پر ہمارا ایمان ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی دو سنتوں میں پہلی رکعت میں یہ آیت (اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْنَا) 2۔ البقرۃ:136) پوری آیت اور دوسری رکعت میں آیت (اٰمَنَّا بِاللّٰهِ ۚ وَاشْهَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ) 3۔ آل عمران:52) پڑھا کرتے تھے اسباط حضرت یعقوب کے بیٹوں کو کہتے ہیں، جو بارہ تھے، جن میں سے ہر ایک کی نسل میں بہت سے انسان ہوئے، بنی اسماعیل کو قبائل کہتے تھے، اور بنی اسرائیل کو اسباط کہتے تھے۔ زمخشری نے کشاف میں لکھا ہے کہ یہ حضرت یعقوب کے پوتے تھے جو ان کے بارہ لڑکوں کی اولاد تھی۔ بخاری میں ہے کہ مراد قبائل بنی اسرائیل ہیں ۔ ان میں بھی نبی ہوئے تھے جن پر وحی نازل ہوئی تھی۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا آیت ( اِذْ جَعَلَ فِيْكُمْ اَنْۢبِيَاۗءَ وَجَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا ڰ وَّاٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ يُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ) 5۔ المائدہ:20) اللہ کی نعمت کو یاد کرو کہ اس نے تم میں انبیاء اور بادشاہ بنائے۔ اور جگہ ہے آیت (وَقَطَّعْنٰهُمُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ اَسْبَاطًا اُمَمًا) 7۔ الاعراف:160) ہم نے ان کے بارہ گروہ کر دئے۔ سبط کہتے ہیں درخت کو یعنی یہ مثل درخت کے ہیں، جس کی شاخیں پھیلی ہوئی ہیں ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کل انبیاء بنی اسرائیل میں سے ہی ہوئے ہیں سوائے دس کے نوح، ہود، صالح، شعیب، ابراہیم لوط، اسحاق، یعقوب، اسماعیل، محمد علیہم الصلوۃ والسلام۔ سبط کہتے ہیں اس جماعت اور قبیلہ کو جن کا مورث اعلیٰ اوپر جا کر ایک ہو ۔ ابن ابی خاتم میں ہے ہمیں توراۃ و انجیل پر ایمان رکھنا ضروری ہے لیکن عمل کے لیے صرف قرآن و حدیث ہی ہے۔

Thursday, September 8, 2016

حج سے پہلے دعوت پہ دعوت کرنا

حج سے پہلے دعوت پہ دعوت کرنا
===============
آج کل اگر کوئی حج پہ آتا ہے اس کے تعلق سے اس وقت  سماج ومعاشرہ میں کافی رسم ورواج اور بدعات وخرافات انجام دئے جاتے ہیں ۔ حج پہ آنے والے کو بہت سارے لوگ الگ الگ دن متعین کرکے اپنے گھربلاکر دعوت کا اہتمام کرتے ہیں ،حاجی کی نظر میں وقار بناتے ہیں اور دوران سفر حج دعامیں یاد رکھنے کی گذارش کرتے ہیں ۔مستقبل میں حاجی کہے جانے والے بھی اکثر پورے گاؤں کو دعوت دیتے ہیں جس سے ان کے حج کا شہرہ گاؤں گاؤں اور شہر شہر پھیل جاتاہے ۔
اگر ہم نبی ﷺ کا اور صحابہ کرام کا حج دیکھیں تو اس قسم کی روایات کا کہیں اتہ پتہ نہیں چلتا۔ یہ نوایجاد خرافات میں سے ہے بلکہ یہ کہہ لیں اس قسم کی دعوت سے ریا کا ظہور ممکن ہے جس کی وجہ  سے حج مقبول ہونے کی بجائے  ، غیرمقبول  ومردود ہوجائے گا۔ کیا آپ کو یاد نہیں کہ کل قیامت میں عالم کو ، شہید کو، قاری کو اور خرچ کرنے والے کو جہنم میں صرف اس لئے پھینک دیا جائے گا کہ انہوں نے شہرت کے لئے عمل کیاتھا۔ اس لئے خدارا  اپنے عمل کو اکارت ہونے سے بچائیں اور جس راستے سے بھی عمل میں ریا کا امکان نظر آئے اس راستے کو بند کردیں ۔ سفر کے وقت ملناجلنا کوئی حرج کی بات نہیں مگر پرتکلف باری باری گاؤں کے سبھی افراد کا دعوت کرنا حج جیسے اہم فریضے کے لئے نامناسب عمل ہے ۔ نیز گاؤں میں جس نے حاجی صاحب کی دعوت نہیں وہ حاجی صاحب اور  دوسروں کی نظر میں معیوب اور دعوت کرنے والا معتبرومحترم بن جاتاہے ۔ گویا اس عمل سےدعوت نہ کرسکنے والے  غریب ولاچار لوگوں کی توہین بھی ہوتی ہے۔
اگر کسی کو اللہ نے ضرورت سے زیادہ پیسہ دیا ہے تو وہ بھوکوں کو کھلائے ، اس پیسے کو غریب ومسکین میں صدقہ کرے اور دین اسلام کی سربلندی میں صرف کرے ۔
اللہ تعالی ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطافرمائے ۔ آمین
آپ کا خیرخواہ
مقبول احمد سلفی

ان شاء الله

🌹نہا یت اهم مسئلہ🌹


بهت سے لوگ

✅ ان شاء الله✅

 کے جملے کو اسطرح لکھتے ہیں،

❎ انشاء الله❎

جوکہ معنی  کے اعتبار سے غلط ہے اس میسیج کے بعد امیدے کامل ہے که دوست واحباب اس فاش غلطی سے اجتناب کریں گے،

لفظ "انشاء" کا مطلب ہے
"تخلیق کیا گیا"
( پیدا کیا گیا)،

 لیکن اگر لفظ "انشاءالله" کا مطلب دیکھا جائے تو وه یه ھے که
"الله کو تخلیق کیا گیا"
( نعوذبا الله)

تو اس بات سے صاف ظاہر ہے کہ لفظ "انشاء" کو لفظ "الله" کے ساتھ لکھنا بالکل غلط ہے،



🌴 اسکے لئے قرآن کی کچھ آیات ہیں جن میں لفظ "انشاء" تنہا استعمال ہوا ہے،


👈١. وَهوَ الَّذِی أَنْشَأَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَۃَ قَلِیلًا مَا تَشْکُرُونَ⚪ (المومن، آیت٧٨)


👈٢. قُلْ سِیرُوا فِی الْأَرْضِ فَانْظُرُوا کَیْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللَّه یُنْشِئُ النَّشْأَۃَ الْآَخِرَۃَ إِنَّ اللَّہَ عَلَی کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیر⚪
(العنکبوت، آیت٢٠)


👈٣. إِنَّا أَنْشَأْنَاهنَّ إِنْشَاء⚪ ً(الواقعہ،آیت٣٥)


ان آیات سے صاف ظاہر ہے کہ "انشاء" کے ساتھ کہیں "الله" نہیں لکھا گیا کیونکہ یہ لفظ الگ معنی رکھتا ہے،
لفظ "ان شاءالله" جسکا مطلب ہے" اگر الله نے چاہا"

لفظ "ان" کا معنی ہے "اگر"
لفظ "شاء" کا معنی ہے "چاہا"
لفظ "الله" کا مطلب "الله نے"
تو لفظ "ان شاءاللہ" ھی درست ہے جیساکہ آیات میں بھی واضح ہے،


👈١. وَإِنَّا إِنْ شَاء َ اللَّه لَمُہْتَدُونَ⚪
(البقرہ،آیت٧٠)

👈٢. وَقَالَ ادْخُلُوا مِصْرَ إِنْ شَاء َ اللَّه آَمِنِین⚪َ
(یوسف،آیت٩٩)

👈٣. قَالَ سَتَجِدُنِی إِنْ شَاء َ اللَّه صَابِرًا وَلَا أَعْصِی لَکَ أَمْرًا⚪
(الکہف، آیت٦٩)

👈4. سَتَجِدُنِی إِنْ شَاء َ اللَّه مِنَ الصَّالِحِین⚪َ
(القصاص،آیت٢٧)

📢ان آیات سے ثابت ہے که لفظ "ان شاءالله" کا مطلب ہے "اگر الله نے چاہا" تو ایسے لکھنا بالکل درست ہے،

 💎اسکی مزید وضاحت کے لئے کچھ احادیث بھی ہیں جن سے ثابت ہے کہ نبی پاک ﷺ اور صحابہ اکرام بھی

"ان شاءالله" لکھتے آئے ہیں،

👈١. فَقَالَ لَه رَسُولُ اللَّه صَلَّی اللَّه عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَأَفْعَلُ إِنْ شَاء َ الله 📕(صحیح بخاری،٤٠٧)

👈٢. لِکُلِّ نَبِیٍّ دَعْوَۃٌ یَدْعُوہَا فَأَنَا أُرِیدُ إِنْ شَاء َ اللَّه أَنْ أَخْتَبِئَ دَعْوَتِی شَفَاعَۃً لِأُمَّتِی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ.
📕 (صحیح مسلم،٢٩٥)


👈٣. إِنَّہَا لَرُؤْیَا حَقٌّ إِنْ شَاء َ اللَّه.
📕(سنن ابی داؤد،٤٢١)


👈٤. أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّه عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَلَفَ عَلَی یَمِینٍ فَقَالَ إِنْ شَاء َ اللَّه فَلَا حِنْثَ عَلَیْہِ. 📕(ترمذی،١٤٥١)


🌴عرب ممالک میں یہ لفظ درست لکھا جاتا ہے،
 لیکن عجم ممالک جہاں عربی نہیں بولی جاتی جن میں پاکستان،ھندستان اور بنگلہ دیش وغیرہ شامل ھیں ان ممالک کے مسلمان کم علمی میں

❎"انشاءالله" ❎

لکھتے ہیں جوکہ مکمل طور پر غلط ہے،
 اور اکثر ہم مشرقی مسلمان اپنے مسیجز اور چیٹ میں "انشاءالله"
 لکھ دیتے ہیں،

📢تو اوپر کی ساری وضاحت سے ثابت ہوا که

✔"ان شاءالله" ✔


صحیح لفظ ہے، آئندہ ایسے ھی لکھئے اور الله (عزوجل) ہماری خطائیں معاف فرمائے "بےشک الله (عزوجل) ہی بخشش فرمانے والا ہے......دعاوؑ ں میں یاد ۔رکھیں۔۔۔۔۔۔۔

اگر عید جمعہ کے دِن ہو عید کی نماز پڑہنے کے بعدجمعہ کی نماز چھوڑی جا سکتی ہے ***



*** اگر عید جمعہ کے دِن ہو عید کی نماز پڑہنے کے بعدجمعہ کی نماز چھوڑی جا سکتی ہے ***
::::: دلائل ::::: (١) ::::: ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( قَد اجتَمَعَ فی یَومِکُم ہذا عِیدَانِ فَمَن شَاء َ اَجزَاَہُ مِن الجُمُعَۃِ وَاِنَّا مُجَمِّعُونَ ::: تُم لوگوں کے آج کے دِن میں دو عیدیں اکٹھی ہو گئی ہیں تو جو چاہے (عید کی نماز کے ذریعے ) جمعہ کو چھوڑے لیکن ہم دونوں نمازیں پڑہیں گے ))))) سنن ابو داؤد ، حدیث ١٠٦٩ / کتاب الصلاۃ / تفریع ابواب الجمعہ / باب ٢١٥ ، اِمام الالبانی نے کہا حدیث صحیح ہے ۔
:::::دلیل ::::: (٢) ::::: اِیاس بن ابی رملۃ رحمۃ اللہ علیہ کا کہنا ہے ''' میں معاویہ بن ابی سُفیان رضی اللہ عنہما کے پاس تھا ، اُنہوں نے زید بن الاَرقم رضی اللہ عنہُ سے پوچھا ::: کیا تُم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی دِن میں دو عیدیں دیکھی ہیں؟ (یعنی جمعہ کے دِن عید الفِطر یا عید الاَضحی ) 
زید رضی اللہ عنہُ نے کہا ::: جی ہاں :::
معاویہ بن ابی سُفیان رضی اللہ عنہ نے پوچھا ::: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کِیا تھا ؟ ::: زید رضی اللہ عنہُ نے کہا ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز پڑہی اور پھر جمعہ کی نماز میں رُخصت ( نہ پڑہنے کی اجازت) دیتے ہوئے فرمایا ((((( مَن شَاءَ اَن یُصَلِّی فَلیُصَلِّ::: جو (جمعہ کی نماز) پڑہنا چاہے وہ پڑھ لے ( یعنی جو نہ چاہے وہ نہ پڑہے))))) سنن ابو داؤد ، حدیث ١٠٦٦ / کتاب الصلاۃ / تفریع ابواب الجمعہ / باب ٢١٥ ، سنن ابن ماجہ ، حدیث ١٣١٠ /کتاب اِقامۃ الصلاۃ/ باب١٦٦، اِمام علی بن المدینی نے صحیح قرار دِیا ، بحوالہ ''' التلخیص الحبیر ''' اور اِمام الالبانی نے بھی صحیح قرار دِیا ، 
:::::دلیل ::::: (٣) ::::: ایک دفعہ عید جمعہ کے دِن ہو گئی تو علی رضی اللہ عنہُ نے فرمایا ((((( مَن اَرادَ اَن یُجَمِّعَ فَلیُجَمِّع ، ومَن اَرادَ اَن یَجلِسَ فَلیَجلِس::: جو دونوں نمازیں پڑہنا چاہے تو پڑہے اور جو بیٹھنا چاہے تو بیٹھے))))) اِمام سفیان الثوری نے کہا اِس کا مطلب ہے کہ ''' جو( جمعہ نہ پڑھنا چاہے اور) اپنے گھر میں بیٹھنا چاہے تو بیٹھے''' مصنف عبدالرزاق ،حدیث ٥٧٣١ / کتاب صلاۃ العیدین /باب ١٨ اجتماع العیدین ، مُصنف ابن ابی شیبہ ، حدیث ٥٨٣٩ / کتاب الصلوات /باب ٤٣٣ فی العِیدانِ یَجتَمِعانِ یَجزِیءُ اِحدُھما مِن الآخر ، حدیث صحیح ہے ۔
:::::دلیل :::: (٤) ::::: عبداللہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے دور میں عید جمعہ کے دِن ہوئی تو اُنہوں نے صرف عید کی نماز اور جمعہ کی نماز کو جمع کر لیا اور جمعہ کی نماز نہیں پڑہی بلکہ عید کی نماز پڑہنے کے بعد (عصرکے وقت ) عصرکی نماز پڑہی ::::: سنن ابو داؤد ، حدیث ١٠٦٨ / کتاب الصلاۃ / تفریع ابواب الجمعہ / باب ٢١٥ ، اِمام الالبانی نے کہا حدیث صحیح ہے ۔

*** عید کی مُبارک باد ***
​

صحابہ رضی اللہ عنہم ایک دوسرے کو عید کی مُبارک باد کے طور پر کہا کرتے تھے :::
::: تَقَبَّلَ اللَّہ ُ مِنَّا و مِنکُم :::اللہ ہم سے اور تُم سے( ہمارے نیک عمل ) قُبُول فرمائے :::
’’’ ماہ شوال اور ہم ‘‘‘ کے مضامین میں اِس موضوع پر تفصیلی بات کر چکا ہوں 
عید الاضحی ( قربانی والی عید) کے کچھ مسائل قربانی والے مضامین میں بیان کر چکا ہوں الحمد للہ ،۔
ان مضامین کو """ یہاں """ اور """ یہاں """ سے نازل کیا جا سکتا ہے ،
اور آن لائن مطالعہ کے لیے دیکھیے """ قُربانی کے اہم مسائل """
اللہ تعالیٰ ہم سب کو حق سننے سمجھنے قُبُول کرنے اور اُس پر عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے ۔
قربانی سے متعلقہ مضامین کو ان شاء اللہ اس فورمز میں بھی ارسال کر دیا جائے گا ، 
والسلامُ علیکُم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ۔ طلبگارِ دُعا ، عادِل سُہیل ظفر ۔

تنهائی میں انٹرنیٹ کا غلط استعمال کرنے والوں کے نام

تنهائی میں انٹرنیٹ کا غلط استعمال کرنے والوں کے نام .......
**********
رونگٹے کھڑے کر دینے والی حدیث:
ثوبان رضی اللہ عنہ ُ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا
میں اپنی اُمت میں سے یقینی طور پر ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو قیامت والے دِن اِس حال میں آئیں گے کہ اُن کے ساتھ تہامہ پہاڑ کے برابر نیکیاں ہوں گی ،تو اللہ عزّ و جلّ ان نیکیوں کو (ہوا میں منتشر ہوجانے والا) غُبار بنا (کر غارت ) کردے گا..
تو ثوبان رضی اللہ عنہ ُ نے عرض کیا :-
اے اللہ کے رسول، ہمیں اُن لوگوں کی نشانیاں بتائیے، ہمارے لیے اُن لوگوں کا حال بیان فرمایے، تا کہ ایسا نہ ہو کہ ہمیں انہیں جان نہ سکیں اور ان کے ساتھ ہوں جائیں
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا:
وہ لوگ تُم لوگوں کے (دینی) بھائی ہوں گے اور تُم لوگوں کی جِلد (ظاہری پہچان اِسلام ) میں سے ہوں گے ، اور رات کی عبادات میں سے اُسی طرح (حصہ) لیں گے جس طرح تم لوگ لیتے ہو (یعنی تُم لوگوں کی ہی طرح قیام اللیل کیا کریں گے) لیکن اُن کا معاملہ یہ ہوگا کہ جب وہ لوگ الله ﷻ کی حرام کردہ چیزوں اور کاموں کو تنہائی میں پائیں گے تو اُنہیں اِستعمال کریں گے
سُنن ابن ماجہ /حدیث/4386 کتاب الزُھد /باب29، امام الالبانی رحمہُ اللہ نے صحیح قرار دِیا...
یا رب ہمیں پلک جھپکنے کی مقدار کے مطابق بھی ہمارے نفس کے حوالے نہ کر
آمین یا رب العالمین

مردہ پیدا ہونے والے بچے کی نماز جنازہ

مردہ پیدا ہونے والے بچے کی نماز جنازہ
======================

مقبول احمد سلفی

اس میں سب کا اتفاق ہے کہ زندہ پیدا ہوکر مرنے والے بچے کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی ، اسی طرح اس بچے کی بھی نماز ادا کی جائے گی جس نے پیدائش کے وقت آواز نکالی ہو۔

اختلاف اس میں ہے کہ جو بچہ مرا ہوا پیدا ہوا اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی یا نہیں ؟
اختلافی پہلو سے بچتے ہوئے موضوع کا نچوڑ پیش کرتا ہوں ۔
اگر بچہ روح پھونکنے کے بعد یعنی چار ماہ کے بعد پیدا ہو تواسے غسل دیا جائے گا، اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور اسے قبر میں دفن بھی کیا جائے گا چاہے مرا ہوا پیدا ہو۔
دلیل :
والسقط يصلى عليه ، ويدعى لوالديه بالمغفرة والرحمة (رواه أبو داوود صححه الألباني في صحيح الجامع/3525)  .
ترجمہ : ساقط شدہ (یعنی نامکمل حمل گر جانے والے بچے)كى نماز جنازہ ادا كى جائيگى، اور اس كے والدين كے ليے مغفرت و رحمت كى دعا كى جائيگى ۔

لیکن جوحمل ( بچہ ) چار ماہ سے پہلے گر جائے تو اسے نہ غسل دیا جائے گا اور  نہ ہی اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی بلکہ اسے کسی کپڑے میں لپیٹ کر دفن کردیا جائے گا کیونکہ اس میں روح ہی نہیں ۔
دلیل :
‏عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏إِذَا اسْتَهَلَّ الصَّبِيُّ، ‏‏‏‏‏‏صُلِّيَ عَلَيْهِ وَوُرِثَ(سنن الترمذی و ابن ماجہ)
ترجمہ: جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب بچہ (پیدائش کے وقت) زندگی کے آثار پائے جائیں ،تو اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی، اور وہ وارث بھی ہو گا۔
٭ اس حدیث کو علامہ البانی نے صحیح قرار دیا ہے ۔
وجہ استدلال : چونکہ چار ماہ سے قبل بچے میں روح ہی نہیں ہوتی تو پھر زندگی کے آثار کہاں سے پائے جائیں گے ، اس لئے چار ماہ سے پہلے گرنے والے بچے کی نماز جنازہ نہیں ۔
چند علماء کا موقف:
(1)عبد اللہ كہتے ہيں كہ ميرے والد سے مولود كے متعلق دريافت كيا گيا كہ اس كى نماز جنازہ كب ادا كى جائيگى ؟
تو ان كا جواب تھا:اگر چار ماہ كا حمل ساقط ہو جائے تو اس كى نماز جنازہ ادا كى جائيگى۔
كہا گيا: اگر وہ چيخ و پكار نہ بھى كرے تو پھر بھى اس كى نماز جنازہ ادا كى جائيگى ؟
انہوں نے جواب ديا: جى ہاں۔
(مسائل امام احمد التى رواھا ابنھا عبد اللہ 2 / 482 ،مسئلہ نمبر : 673 ).
(2)شیخ ابن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں جب بچہ روح پھونکنے کے بعد ماں کے پیٹ سے مردہ پیدا ہو اسے غسل وکفن دیا جائے اور اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے، دفن کیا جائے اور اس کا نام رکھا جائے۔(دائمی کمیٹی فتوی نمبر: 4884)
(3)شیخ صالح فوزان بن فوزان رحمہ اللہ لکھتے ہیں ماں کے پیٹ سے حمل اگر چار مہینے یا اس سے زیادہ پہ ساقط ہو تو اسے غسل دیا جائے گا ، اسے کفن دیا جائے گا اور اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی کیونکہ اس میں روح پھونکی جاچکی ہے ۔ (فقہ العبادات)

واللہ اعلم

کیا ہر شخص قران و حدیث پڑھنے کی صلاحیت رکھتا ھے

کیا ہر شخص قران و حدیث پڑھنے کی صلاحیت رکھتا ھے ؟؟؟ نھیں۔
تو پھر تقلید کرو ( ایک شبہ اور اسکا جواب)
کچھ لوگ تقلید کو ضروری قرار دینے کے لئے عوام کے ذھن میں ایک وسوسہ یہ بھی ڈالتے ھیں کہ کیا ہر شخص قران و حدیث پڑھنے کی صلاحیت رکھتا ھے ؟؟؟
نھیں رکھتا ، جب ہر شخص خود سے قران و حدیث پڑھنے کی صلاحیت نھیں رکھتا تو اُسے کسی ایک امام کی تقلید کرنی ھی چاھئے۔
ہم کہتے ھیں بیشک ہر عام آدمی قران و حدیث خود سے نھیں پڑھ سکتا، لیکن یہ بتاؤ جناب کیا ھر شخص ائمہ کی کتب پڑھنے کی صلاحیت رکھتا ھے ؟؟؟ جس امام کی تقلید کو آپ ضروری قرار دے رھے ھو کیا اُس کی فقہ کی طرف منسوب کتابوں کو پڑھنے کی ہر عام آدمی صلاحیت رکھتا ھے ؟؟؟
جواب : نھیں ۔۔
تو پھر وہ ائمہ کی کتب پڑھے بغیر تقلید کیسے کر لیتا ھے ؟؟؟
علماء سے پوچھ کر ۔
تو بھیا علماء سے پوچھ کر وہ اتباع کیوں نھیں کر سکتا ؟؟؟
آخر وہ علماء سے یہی کیوں پوچھے کہ " حنفی فقہ کے مطابق یہ مسئلہ کیسا ھے "
وہ یہ کیوں نھیں پوچھ سکتا کہ حدیث رسول کے مطابق یہ مسئلہ کیسا ھے ؟
اور مولوی اسے حنفی فقہ کے مطابق ھی کیوں مسئلہ بتائے ؟ اگر حنفی قول کے خلاف زیادہ صحیح دلیل موجود ھو تو وہ فقہ حنفی کے خلاف مسئلہ کیوں نھیں بتا سکتا ؟؟؟
اسی لئے ہم کہتے ھیں کہ یہ محض ایک وسوسہ ھیکہ کیا ہر شخص قران حدیث پڑھ سکتا ھے۔۔حقیقت یہ ھیکہ وہ جس طرح علماء سے پوچھ کر امام ابو حنیفہ کی تقلید کرتا ھے اُسی طرح علماء سے پوچھ کر حدیث رسول کی بھی اتباع کر سکتا ھے۔
فقہ کے بھی ہم منکر نھیں ، فقہ کا اقرار ھے،فقہ کا احترام ھے ،لیکن وہ فقہ جو قران و حدیث کے مطابق ھو۔ وہ فقہ نھیں کہ جس کے بیشتر مسائل قران و صحیح حدیث سے ٹکراتے ھوں