سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک واقعہ
*کیا آپ اکثریت کے پیچھے چل رہے ہیں؟*
🌱ایک بار حضرت *عمر رضى الله* بازار میں چل رہے تھے، وہ ایک شخص کے پاس سے گزرے جو دعا کر رہا تھا،
🌱 "اے الله مجھے اپنے چند لوگوں میں شامل کر، اے الله مجھے اپنے چند لوگوں میں شامل کر"۔
🌱حضرت *عمر رضى الله* نے اُس سے پوچھا، یہ دعا تم نے کہاں سے سیکھی؟ وہ بولا، الله کی کتاب سے،
الله نے قرآن میں فرمایا ہے،
💥 *"اور میرے بندوں میں صرف چند ہی شکر گزار ہیں۔"* (القرآن 34:13)
🌱حضرت *عمر رضي الله عنه* یہ سُن کر رو پڑے اور اپنے آپ کو نصیحت کرتے ہوئے بولے،"اے عمر ! لوگ تم سے زیادہ علم والے ہیں، اے الله مجھے بھی اپنے اُن چند لوگوں میں شامل کر۔"
🌱ہم دیکھتے ہیں کہ جب ہم کسی شخص سے کوئی گناہ کا کام چھوڑنے کا کہتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ یہ اکثر لوگ کرتے ہیں ۔ میں کوئی اکیلا تو نہیں۔ اگر آپ قرآن پاک میں "اکثر لوگ" سرچ کریں تو *"اکثر لوگ"*
💥 *" اكثر لوگ نہیں جانتے"* (7:187)
💥 *"اكثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے"*(2:243)
💥 *"اكثر لوگ ایمان نہیں لائے"*(11:17)
🌱اگر آپ *"زیادہ تر"* کو سرچ کریں، تو آپ کو ملے گا کہ زیادہ تر لوگ،
💥 *"زیادہ تر شدید نافرمان ہیں"*۔ (5:59)
💥 *"زیادہ ترجاہل ہیں"* (6:111)
💥 *"زیادہ تر راہ راست سے ہٹ جانے والے ہیں۔"* (21:24)
💥 *"زیادہ ترسوچتے نہیں۔"* (29:23)
💥 *"زیادہ تر سنتے نہیں"* (8:23)
🌱تو اپنے آپ کو چند لوگوں میں ڈالو جن کے بارے میں الله نے فرمایاِ،
💥 *"میرے تھوڑے ہی بندے شکر گزار ہیں"*(34:13)
💥 *"اور کوئی ایمان نہیں لایا سوائے چند کے"*(11:40)
💥 *"مزے کے باغات میں پچھلوں میں زیادہ هيں اور بعد والوں میں تھوڑے"* (56:12-14)
🌲🌲🌲🌲🌲🌲🌲🌲🌲
*چند لوگوں میں اپنے آپ کو شامل کریں اور اس کی پرواہ نہ کریں کہ اورکوئی اس راستے میں نہیں اور آپ اکیلے ہیں*
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
🌻(كتاب الزھد - احمد بن حنبل (رحمه الله)، 🌻
🌻المُصنف - ابن ابى شيبة (رحمه الله))🌻
Thursday, August 4, 2016
رسول کریم ﷺ سے وفات تک رفع الیدین کا ثبوت
رسول کریم ﷺ سے وفات تک رفع الیدین کا ثبوت
رسول اللہ ﷺ نماز شروع کرتے وقت، رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت اور دورکعتوں سے اٹھ کر رفع الیدین کرتے تھے،اس کا ترک ثابت نہیں، دلائل ملاحظہ ہوں:
دلیل نمبر 1
سید نا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
" انّ رسول اللہ صَلَّی اللہ علیہ وسلّم کان یرفع یدیہ حزو منکبیہ اذا افتح الصّلاۃ، واذا کبّر للرّ کوع، واذا رفع رأسہ من الرّ کوع رفعھما کذلک أیضا وقال: سمع اللہ لمن حمدہ، ربُنا ولک الحمد ، وکان لا یفعل ذلک فی السّجود۔
"بے شک رسول اللہﷺ جب نماز شروع کرتے تو کندھوں کے برابر دونوں ہاتھ اٹھاتے، جب رکوع کے لیے اللہ اکبر کہتے اور جس وقت رکوع سے سر اٹھاتے تو اسی طرح رفع الیدین کرتے تھے اور سمع اللہ لمن حمدۂ ، ربّنا لک الحمد کہتے ، سجدوں کے درمیان رفع الیدین نہیں کرتے تھے۔"
(صحیح بخاری: ۱۰۲/۱،ح: ۷۳۵،۷۳۸،۷۳۸، صحیح مسلم : ۱۶۸، ح: ۳۹۰)
راوی حدیث کا عمل:
: سلیمان الشیبانی کہتے ہیں:
رأیت سالم بن عبد اللہ اذا افتح الصّلاۃ رفع یدیہ ، فلمّا رکع رفع یدیہ ، فلمّا رفع رأسہ ، فسألتہ، فقال: رأیت أبی یفعلہ، فقال: رأیت رسول اللہ صَلَّی اللہ علیہ وسلّم یفعلہ۔
" میں نے سالم بن عبد اللہ بن عمر تابعؒی کو دیکھا کہ انہوں نے جب نماز شروع کی تو رفع الیدین کیا، جب رکوع کیا تو رفع الیدین کیا اور جب رکوع سے سر اٹھایا تو رفع الیدین کیا، میں نے آپ سے اس بارے میں دریافت کیا تو آپ ؒنے فرما یا، میں نے اپنے باپ (سیدنا عبداللہ بن عمر ) کو ایسا کرتے دیکھا ہے، انہوں نے فرمایا تھا کہ میں نے رسولﷺ کو ایسا کرتے دیکھا تھا۔"
(حدیث السراج: ۳۴/۲- ۳۵، ح: ۱۱۵، وسندۂ صحیح)
سبحان اللہ ! کتنی پیاری دلیل ہے کہ رسول اللہ ﷺ تا وفات رفع الیدین کرتے رہے، راویٔ حدیث سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺ کا رفع الیدین ملاحظہ فرمایا ، خود بھی رفع الیدین کیا، یہاں تک ان کے بیٹے سالم جو تابعی ہیں، وہ آپ کا رفع الیدین ملاحظہ کررہے ہیں اور وہ خود بھی رفع الیدین کررہے ہیں ، اگر رفع الیدین منسوخ ہوگا تھا تو نبی کریم ﷺ کی امامت میں نمازیں ادا کرنے والے راوئ حدیث صحابئ رسول سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ کو اس نسخ کا علم کیسے نہ ہوا اور سینکڑوں سالوں بعد احناف کو کیسے ہوگیا؟
جناب رشید احمد گنگوہی دیوبندی لکھتے ہیں: "جوسنت کی محبت سے بلاشروفساد آمین بالجہر اور رفع الیدین کرے ، اس کو برا نہیں جا نتا"۔(تذکرۃ الرشید : ۱۷۵/۲)
" اے اللہ ! اےزمین و آسمان کو پیدا کرنے والے تو جانتا ہے کہ ہم رفع الیدین اور آمین بالجہر محض تیرے حبیب محمد رسول اللہ ﷺ کی سنت سے محبت کی وجہ سے کرتے ہیں !
دلیل نمبر 2
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نبئ اکرم ﷺ کی خدمت میں بیس دن رہے ، جب واپس جانے لگے تو نبئ کریم ﷺ نے ان کو حکم دیا:
صلّوا کما رأیتمونی أصلّی
نماذ ایسے پڑھو، جیسے تم نے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
(صحیح بخاری: ۸۸/۱ح: ۶۳۱)
راوئ حدیث کا عمل:
ابو قلابہ تابعی ؒ سے روایت ہے:
أنّہ رآی مالک بن حویرث اذا صلّٰی کبّر ورفع یدیہ ، واذاأر اد أن یرکع رفع یدہ ،واذا رفع رأسہ من الرّکوع رفع یدیہ، وحدّث أنّ رسول اللہ صَلَّی اللہ علیہ وسلّم صنع ھکذا۔
"انہوں نے سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، جب آپ نماز پڑھتے تو اللہ اکبر کہتے اور رفع الیدین کرتے ، جب رکوع کو جاتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو رفع الیدین کرتے اور بیان کرتے کہ رسول اللہﷺایسا ہی کیا کرتے تھے۔
(صحیح بخاری:۱۰۲/۱، ح: ۷۳۷، صحیح مسلم: ۱۶۸/۱، ح: ۳۹۱)
صحابئ رسول سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نبئ کریم ﷺ کی وفات کے بعد آپ کے حکم کے مطابق رفع الیدین کرتے ہیں اور بیان کرتے ہیں کہ نبئ اکرم ﷺ کا بھی یہی عمل مبارک تھا، ثابت ہوا کہ نبئ اکریمﷺتاوفات رفع الیدین کرتے رہے۔
دلیل نمبر 3۔
سید نا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا کہ جب نماز میں داخل ہوئے تو رفع الیدین کیا اور اللہ اکبر کہا ، پھر کپڑا لپیٹ لیا ،دایاں ہاتھ مبارک بائیں ہاتھ مبارک پر رکھا ، جب رکوع کا ارادہ کیا تو اپنے دونوں ہاتھ کپڑے سے نکالے ، پھر رفع الیدین کیا اور اللہ اکبر کہا ، جب (رکوع کے بعد) سمع اللہ لمن حمدہ کہا تو رفع الیدین کیا، سجدہ دونوں ہتھیلیوں کے درمیان کیا۔
صحیح مسلم : ۱۷۳/۱، ح: ۴۰۱
واضح رہے کہ سید نا وائل بن حجر ؓ ۹ہجری میں نبئ اکرمﷺ کے پاس آئے۔ (عمدۃ القاری از عینی حنفی: ۲۷۴/۵
ایک وقت کے بعد موسمِ سرما میں دوبارہ آئے اور رفع الیدین کا مشاہدہ کیا۔ (سنن ابی داؤد:۷۲۷، وسندہ حسن
دلیل نمبر 4:
سیدنا علی بن ابی طالب ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ کندھوں کے برابر اٹھاتے اور اسی طرح آپ ﷺ قراءت مکمل کرکے رکوع کا ارادہ کرتے تو رفع الیدین کرتے اور رکوع سے اٹھ کر بھی رفع الیدین کرتے آپ ﷺ نماز میں بیٹھے ہوئے رفع الیدین نہیں کرتے تھے، دو رکعتوں سے اٹھ کر بھی رفع الیدین کرتے اور اللہ اکبر کہتے تھے"۔
(سنن ابی داؤد : ۷۴۴، مسند الامام احمد ۹۳/۱، وسندہ حسن)
اس حدیث کو امام ترمذی ؒ نے " حسن صحیح" کہا ہے، امام ابنِ خزیمہ ؒ(۵۸۴) نے اسے " صحیح" کہا ہے۔
راوئ حدیث سلیمان بن داؤد الہاشمی ؒ کہتے ہیں:
ھذا عند نا مثل حدیث الزّ ھری عن سالم عن أ بیہ "
ہمارے نزدیک یہ اس طرح کی حدیث ہے جسے امام زہری سالم سے اور وہ اپنے باپ سیدنا عبداللہ بن عمر سے روایت کرتے ہیں ۔"(سنن الترمذی ، تحت حدیث : ۳۴۲۳ ، وسندہ صحیح)
اس کے راوی عبد االرحمٰن بن ابی الزناد جمہور کے نزدیک "ثقہ"ہیں ، جیسا کہ حافظ ابنِ حجرؒ لکھتے ہیں :
وھو ثقۃ عند الجمھور ، وتکلّم فیہ بعضھم بما لا یقدح فیہ۔
" وہ جمہور کے نزدیک ثقہ ہیں ، ان پر بعض نے ایسی کلام کی ہے جو موجب ِجرح نہیں۔"(نتائج الافکار لا بن حجر: ۳۰۴)
" مدینہ میں اس کی حدیث "صحیح"اور عراق میں '' مضطرب '' تھی، اس پر جرح اسی صورت پر محمل ہے، یہ روایت مد نی ہے۔ والحمد للہ!
دلیل نمبر 5
ابو الزبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :
انّ جابر بن عبداللہ کان اذا افتح الصّلاۃ رفع یدیہ،واذا رفع رأ سہ من الرّکوع فعل مثل ذلک ، ویعقول : رأیت رسول اللہ صَلَّی اللہ علیہ وسلّم فعل مثل ذلک
"سیدنا جابر بن عبد اللہ انصاری ؓ جب نماز شروع کرتے تو رفع الیدین کرتے ، جب رکوع کرتے اور رکوع سےسر اٹھاتے تو اسی طرح رفع الیدین کرتے اور کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔
(سنن ابن ماجۃ: ۸۶۸، وسندہ صحیح)
ابو الزبیر محمد بن مسلم بن تدرس تابعی نے"مسند السمراج(۹۲)" میں سماع کی تصریح کر رکھی ہے۔
اب غور فرمائیں کہ نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد ایک تابعی سید نا جابر صحابئ رسول کو رفع الیدین کرتے دیکھ رہے ہیں اور صحابئ رسول ا سے نبئ اکرمﷺ کا عمل مبار ک بتارہے ہیں ، اگر نبئ اکرم ﷺنے اسے چھوڑ دیا تھا تو صحابہ کرام آپ کی وفات کے بعد اس پر کار بند کیوں رہے؟
دلیل نمبر 6:
سیدنا ابو موسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں :
ھل أریکم صلاۃرسول اللہ صَلَّی اللہ علیہ وسلّم؟ فکبّر ورفع یدیہ، ثمّ کبّر ورفع یدیہ للرّ کوع، ثمّ قال: سمع اللہ لمن حمدہ، ثمّ قال: ھکذا فاصنعوا، ولا یرفع بین السّجدتین۔
"کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی نماز پڑھ کر نہ دکھاؤں، آپ ؓ نے اللہ اکبر کہا اور رفع الیدین کیا، پھر اللہ اکبر کہا اور رکوع کے لیے رفع الیدین کیا، پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہا اور رفع الیدین کیا، پھر فرمایا، تم ایسا ہی کیا کرو! آپ دوسجدوں کے درمیان رفع الیدین نہیں کرتے تھے۔
(سنن الدار قطنی:۲۹۲/۱، ح: ۱۱۱۱، وسندہ صحیح)
حافظ ابنِ حجرؒ فرماتے ہیں :
ورجالہ ثقات۔
"اس حدیث کے راوی ثقہ ہیں ۔" (التلخیص الحبیر : ۲۱۹/۱)
اس حدیث سے " بعض الناس " کا یہ کہنا کہ"۹مقامات پر رفع الیدین کا اثبا ت اور ۱۸ مقامات پر نفی دکھاؤ "باطل ومردود ٹھہر تا ہے، کیونکہ سید نا ابو موسیٰ اشعری ؓ نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد رفع الیدین کر رہے ہیں ، رفع الیدین والی نماز کو رسول اللہ ﷺ کی نماز قراردے رہے ہیں ، ہمیں بھی رفع الیدین کرنے کا حکم دے رہے ہیں ، صحابہ کرام نے جہاں آپ ﷺ کو رفع الیدین کرتے دیکھا، وہا ں کیا، جہا ں نہیں دیکھا، وہا ں نہیں کیا۔
دلیل نمبر 7:
سیدنا ابوحمید الساعدی ؓ نے دس صحابہ کرام ؓ کی موجودگی میں نماز پڑ ھ کردکھائی، نماز شروع کرتے وقت ، رکوع جاتے، رکوع سے سر اٹھاتے اور دورکعتوں سے اٹھتے وقت رفع الیدین کیا تو دس کے دس صحابہ کرام نے کہا: صدقت، ھکذا یصلّی النّبیّ صَلَّی اللہ علیہ وسلّم "آپ نے سچ کہا ہے، نبی کریم ﷺ اسی طرح نماز پڑھتے تھے۔")
مسند الامام احمد: ۴۲۴/۵، سنن التر مذی: ۳۰۴، وسندہ صحیح)
اس حدیث کو امام تر مذی ؒ نے "حسن صحیح" کہا ہے، امام ابنِ خزیمہ (۵۸۷) امام ابن الجارود (۱۹۲)، امام ابن حبان(۱۸۶۵)، اور حافظ خطابی (معالم السنن: ۱۹۴/۱) نے اس حدیث کو "صحیح " قرار دیا ہے۔
حافظ نووی ؒ نے بھی اس کو" صحیح" کہا ہے۔ (خلاصۃ الا حکام: ۳۵۳)
حافظ ابنِ قّیم الجوزیہ ؒ لکھتے ہیں :
حدیث أبی حمید ھذا حدیث صحیح متلقّی بالقبول ، لا علّہ قومبما برّأہ اللہ أئمۃ الحدیث منہ، ونحن نذکر ما علّلو بہ، ثمّ نبیّن فساد تعلیلھم وبطلا نہ بعون اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ حدیث صحیح ہے، اسے امت نے صحت وعمل کے لحاظ سے قبول کیا ہے، اس میں کوئی علت نہیں، ہاں! اسے ایک قوم(احناف) نے ایسی علت کے ساتھ معلول کہاہے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ائمہ حدیث کو بری کردیا ہے، ہم ان کی بیان کردہ علتوں کو ذکر کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ کی توفیق اور مدد سے ان کا فاسدو باطل ہونا بیان کریں گے۔"
(تھذیب السنن لا بن القیم :۴۱۶/۲)
امام محمد بن یحییٰ الذہلی ابو عبد اللہ النیسابور ی ؒ (۲۵۸ھ) فرماتے ہیں : "جو آدمی یہ حدیث سن لے اور پھر رکوع سے پہلے سر اٹھانے کے بعد رفع الیدین نہ کرے ، اس کی نماز ناقص ہے۔" (صحیح ابن خزیمۃ: ۲۹۸/۱، وسندہ صحیح)
دلیل نمبر 8:
امام ابو اسماعیل محمد بن اسماعیل سلمی ؒ کہتے ہیں کہ میں نے ابو نعمان محمد بن فضل ؒ کی اقتدار میں نماز پڑھی ، انہوں نے نماز شروع کرتے وقت ، رکوع جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کیا، میں نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرما یا، میں نے امام حماد بن زید ؒ کی اقتدار میں نماز پڑھی ، انہوں نے نماز شروع کرتے وقت ، رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کیا، میں نے ان سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرما یا، میں نے امام ایوب سختیانی ؒ کی اقتدا ءمیں نماز پڑھی، وہ نماز شروع کرتے ، رکوع کو جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کرتے تھے، میں نے پوچھا تو آپ نے فرمایا، میں امام عطاء بن ابی ربا ح کی اقتدار میں نماز پڑھی، وہ نماز شروع کرتے ، رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کرتے تھے، میں نے جب آپ سے اس بارے میں سوال کیا تو امام عطاء بن ابی رباح ؒ نے فرما یا، میں نے (صحابئ رسولﷺ) سیدنا عبد اللہ زبیر ؓکی اقتداء میں نماز پڑھی، آپ ؓنماز شروع کرتے ، رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کرتے تھے، امام عطاء بن ابی رباح ؒ کہتے ہیں ، میں رفع الیدین کے بارے میں سید نا عبد اللہ بن زبیر ؓ سے سوال کیا تو آپؓ نے فرما یا، میں نے (اپنے نانا) سید نا ابو بکر صدیق ؓ کی اقتداء میں نماز ادا کی ، آپ ؓ نماز شروع کرتے ، رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کرتے تھے اور (خلیفۂ اول) سیدنا ابوبکر صدیق ؓ نے فرما یا ، میں نے رسولِ کریم ﷺ کی اقتدا ء میں نماز پڑھی، آپ ﷺ نماز شروع کرتے ، رکوع کو جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین فرماتے تھے۔"
(السنن الکبرٰی للبیھقی: ۷۳/۲، وسندہ صحیح)
خود امام بیہقی ؒ فرماتے ہیں : رواتہ ثقات۔ "اس حدیث کے راوی ثقہ ہیں ۔"
حافظ ذہبی ؒ (المھذب فی اختصار السنن الکبیر : ۴۹/۲)اور حافظ ابنِ حجر ؒ نے اس حدیث کے راویوں کو"ثقہ" قرار دیا ہے۔
قارئین کرام! اس سنہری کڑی پر غور کریں تو ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ کرام ، اور تابعین عظام نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد بھی رفع الیدین کرتے تھے، اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی اس سنت کو اپنانے کی توفیق سے نوازے ۔ ۔۔۔۔ آمین یاربّ العالمین!
تنبیہ: الامام الثقۃ ابو جعفر احمد بن اسحاق بن بہلول البغدادی ؒ(م۳۱۸)بیا ن کرتے ہیں : "میں عراقیوں کے مذہب پر تھا تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو خواب میں دیکھا کہ آپﷺنماز پڑھے رہے تھے، میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ پہلی تکبیر میں اور جب رکوع کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو رفع الیدین کرتے تھے۔"(سنن دار قطنی: ۲۹۲/۱،ح: ۱۱۱۲، وسندہ صحیح)
جن لوگوں کے مذہب کی بنیاد بزرگوں کے خوابوں پر ہے، کیا وہ اس ثقہ امام کے خواب کی صور ت میں ملنے والے نبوی عمل کو اپنانے کے لیے تیار ہیں ؟
الحاصل:
رفع الیدین رسول اللہﷺ کی ایسی سنت متواترہ ہے جس کا ترک یا نسخ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں، بلکہ امت کا اسی پر عمل رہا ہے۔
منقول
🍒💐🍒💐🍒💐🍒💐🍒💐🍒
رسول اللہ ﷺ نماز شروع کرتے وقت، رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت اور دورکعتوں سے اٹھ کر رفع الیدین کرتے تھے،اس کا ترک ثابت نہیں، دلائل ملاحظہ ہوں:
دلیل نمبر 1
سید نا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
" انّ رسول اللہ صَلَّی اللہ علیہ وسلّم کان یرفع یدیہ حزو منکبیہ اذا افتح الصّلاۃ، واذا کبّر للرّ کوع، واذا رفع رأسہ من الرّ کوع رفعھما کذلک أیضا وقال: سمع اللہ لمن حمدہ، ربُنا ولک الحمد ، وکان لا یفعل ذلک فی السّجود۔
"بے شک رسول اللہﷺ جب نماز شروع کرتے تو کندھوں کے برابر دونوں ہاتھ اٹھاتے، جب رکوع کے لیے اللہ اکبر کہتے اور جس وقت رکوع سے سر اٹھاتے تو اسی طرح رفع الیدین کرتے تھے اور سمع اللہ لمن حمدۂ ، ربّنا لک الحمد کہتے ، سجدوں کے درمیان رفع الیدین نہیں کرتے تھے۔"
(صحیح بخاری: ۱۰۲/۱،ح: ۷۳۵،۷۳۸،۷۳۸، صحیح مسلم : ۱۶۸، ح: ۳۹۰)
راوی حدیث کا عمل:
: سلیمان الشیبانی کہتے ہیں:
رأیت سالم بن عبد اللہ اذا افتح الصّلاۃ رفع یدیہ ، فلمّا رکع رفع یدیہ ، فلمّا رفع رأسہ ، فسألتہ، فقال: رأیت أبی یفعلہ، فقال: رأیت رسول اللہ صَلَّی اللہ علیہ وسلّم یفعلہ۔
" میں نے سالم بن عبد اللہ بن عمر تابعؒی کو دیکھا کہ انہوں نے جب نماز شروع کی تو رفع الیدین کیا، جب رکوع کیا تو رفع الیدین کیا اور جب رکوع سے سر اٹھایا تو رفع الیدین کیا، میں نے آپ سے اس بارے میں دریافت کیا تو آپ ؒنے فرما یا، میں نے اپنے باپ (سیدنا عبداللہ بن عمر ) کو ایسا کرتے دیکھا ہے، انہوں نے فرمایا تھا کہ میں نے رسولﷺ کو ایسا کرتے دیکھا تھا۔"
(حدیث السراج: ۳۴/۲- ۳۵، ح: ۱۱۵، وسندۂ صحیح)
سبحان اللہ ! کتنی پیاری دلیل ہے کہ رسول اللہ ﷺ تا وفات رفع الیدین کرتے رہے، راویٔ حدیث سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺ کا رفع الیدین ملاحظہ فرمایا ، خود بھی رفع الیدین کیا، یہاں تک ان کے بیٹے سالم جو تابعی ہیں، وہ آپ کا رفع الیدین ملاحظہ کررہے ہیں اور وہ خود بھی رفع الیدین کررہے ہیں ، اگر رفع الیدین منسوخ ہوگا تھا تو نبی کریم ﷺ کی امامت میں نمازیں ادا کرنے والے راوئ حدیث صحابئ رسول سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ کو اس نسخ کا علم کیسے نہ ہوا اور سینکڑوں سالوں بعد احناف کو کیسے ہوگیا؟
جناب رشید احمد گنگوہی دیوبندی لکھتے ہیں: "جوسنت کی محبت سے بلاشروفساد آمین بالجہر اور رفع الیدین کرے ، اس کو برا نہیں جا نتا"۔(تذکرۃ الرشید : ۱۷۵/۲)
" اے اللہ ! اےزمین و آسمان کو پیدا کرنے والے تو جانتا ہے کہ ہم رفع الیدین اور آمین بالجہر محض تیرے حبیب محمد رسول اللہ ﷺ کی سنت سے محبت کی وجہ سے کرتے ہیں !
دلیل نمبر 2
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نبئ اکرم ﷺ کی خدمت میں بیس دن رہے ، جب واپس جانے لگے تو نبئ کریم ﷺ نے ان کو حکم دیا:
صلّوا کما رأیتمونی أصلّی
نماذ ایسے پڑھو، جیسے تم نے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
(صحیح بخاری: ۸۸/۱ح: ۶۳۱)
راوئ حدیث کا عمل:
ابو قلابہ تابعی ؒ سے روایت ہے:
أنّہ رآی مالک بن حویرث اذا صلّٰی کبّر ورفع یدیہ ، واذاأر اد أن یرکع رفع یدہ ،واذا رفع رأسہ من الرّکوع رفع یدیہ، وحدّث أنّ رسول اللہ صَلَّی اللہ علیہ وسلّم صنع ھکذا۔
"انہوں نے سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، جب آپ نماز پڑھتے تو اللہ اکبر کہتے اور رفع الیدین کرتے ، جب رکوع کو جاتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو رفع الیدین کرتے اور بیان کرتے کہ رسول اللہﷺایسا ہی کیا کرتے تھے۔
(صحیح بخاری:۱۰۲/۱، ح: ۷۳۷، صحیح مسلم: ۱۶۸/۱، ح: ۳۹۱)
صحابئ رسول سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نبئ کریم ﷺ کی وفات کے بعد آپ کے حکم کے مطابق رفع الیدین کرتے ہیں اور بیان کرتے ہیں کہ نبئ اکرم ﷺ کا بھی یہی عمل مبارک تھا، ثابت ہوا کہ نبئ اکریمﷺتاوفات رفع الیدین کرتے رہے۔
دلیل نمبر 3۔
سید نا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا کہ جب نماز میں داخل ہوئے تو رفع الیدین کیا اور اللہ اکبر کہا ، پھر کپڑا لپیٹ لیا ،دایاں ہاتھ مبارک بائیں ہاتھ مبارک پر رکھا ، جب رکوع کا ارادہ کیا تو اپنے دونوں ہاتھ کپڑے سے نکالے ، پھر رفع الیدین کیا اور اللہ اکبر کہا ، جب (رکوع کے بعد) سمع اللہ لمن حمدہ کہا تو رفع الیدین کیا، سجدہ دونوں ہتھیلیوں کے درمیان کیا۔
صحیح مسلم : ۱۷۳/۱، ح: ۴۰۱
واضح رہے کہ سید نا وائل بن حجر ؓ ۹ہجری میں نبئ اکرمﷺ کے پاس آئے۔ (عمدۃ القاری از عینی حنفی: ۲۷۴/۵
ایک وقت کے بعد موسمِ سرما میں دوبارہ آئے اور رفع الیدین کا مشاہدہ کیا۔ (سنن ابی داؤد:۷۲۷، وسندہ حسن
دلیل نمبر 4:
سیدنا علی بن ابی طالب ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ کندھوں کے برابر اٹھاتے اور اسی طرح آپ ﷺ قراءت مکمل کرکے رکوع کا ارادہ کرتے تو رفع الیدین کرتے اور رکوع سے اٹھ کر بھی رفع الیدین کرتے آپ ﷺ نماز میں بیٹھے ہوئے رفع الیدین نہیں کرتے تھے، دو رکعتوں سے اٹھ کر بھی رفع الیدین کرتے اور اللہ اکبر کہتے تھے"۔
(سنن ابی داؤد : ۷۴۴، مسند الامام احمد ۹۳/۱، وسندہ حسن)
اس حدیث کو امام ترمذی ؒ نے " حسن صحیح" کہا ہے، امام ابنِ خزیمہ ؒ(۵۸۴) نے اسے " صحیح" کہا ہے۔
راوئ حدیث سلیمان بن داؤد الہاشمی ؒ کہتے ہیں:
ھذا عند نا مثل حدیث الزّ ھری عن سالم عن أ بیہ "
ہمارے نزدیک یہ اس طرح کی حدیث ہے جسے امام زہری سالم سے اور وہ اپنے باپ سیدنا عبداللہ بن عمر سے روایت کرتے ہیں ۔"(سنن الترمذی ، تحت حدیث : ۳۴۲۳ ، وسندہ صحیح)
اس کے راوی عبد االرحمٰن بن ابی الزناد جمہور کے نزدیک "ثقہ"ہیں ، جیسا کہ حافظ ابنِ حجرؒ لکھتے ہیں :
وھو ثقۃ عند الجمھور ، وتکلّم فیہ بعضھم بما لا یقدح فیہ۔
" وہ جمہور کے نزدیک ثقہ ہیں ، ان پر بعض نے ایسی کلام کی ہے جو موجب ِجرح نہیں۔"(نتائج الافکار لا بن حجر: ۳۰۴)
" مدینہ میں اس کی حدیث "صحیح"اور عراق میں '' مضطرب '' تھی، اس پر جرح اسی صورت پر محمل ہے، یہ روایت مد نی ہے۔ والحمد للہ!
دلیل نمبر 5
ابو الزبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :
انّ جابر بن عبداللہ کان اذا افتح الصّلاۃ رفع یدیہ،واذا رفع رأ سہ من الرّکوع فعل مثل ذلک ، ویعقول : رأیت رسول اللہ صَلَّی اللہ علیہ وسلّم فعل مثل ذلک
"سیدنا جابر بن عبد اللہ انصاری ؓ جب نماز شروع کرتے تو رفع الیدین کرتے ، جب رکوع کرتے اور رکوع سےسر اٹھاتے تو اسی طرح رفع الیدین کرتے اور کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔
(سنن ابن ماجۃ: ۸۶۸، وسندہ صحیح)
ابو الزبیر محمد بن مسلم بن تدرس تابعی نے"مسند السمراج(۹۲)" میں سماع کی تصریح کر رکھی ہے۔
اب غور فرمائیں کہ نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد ایک تابعی سید نا جابر صحابئ رسول کو رفع الیدین کرتے دیکھ رہے ہیں اور صحابئ رسول ا سے نبئ اکرمﷺ کا عمل مبار ک بتارہے ہیں ، اگر نبئ اکرم ﷺنے اسے چھوڑ دیا تھا تو صحابہ کرام آپ کی وفات کے بعد اس پر کار بند کیوں رہے؟
دلیل نمبر 6:
سیدنا ابو موسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں :
ھل أریکم صلاۃرسول اللہ صَلَّی اللہ علیہ وسلّم؟ فکبّر ورفع یدیہ، ثمّ کبّر ورفع یدیہ للرّ کوع، ثمّ قال: سمع اللہ لمن حمدہ، ثمّ قال: ھکذا فاصنعوا، ولا یرفع بین السّجدتین۔
"کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی نماز پڑھ کر نہ دکھاؤں، آپ ؓ نے اللہ اکبر کہا اور رفع الیدین کیا، پھر اللہ اکبر کہا اور رکوع کے لیے رفع الیدین کیا، پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہا اور رفع الیدین کیا، پھر فرمایا، تم ایسا ہی کیا کرو! آپ دوسجدوں کے درمیان رفع الیدین نہیں کرتے تھے۔
(سنن الدار قطنی:۲۹۲/۱، ح: ۱۱۱۱، وسندہ صحیح)
حافظ ابنِ حجرؒ فرماتے ہیں :
ورجالہ ثقات۔
"اس حدیث کے راوی ثقہ ہیں ۔" (التلخیص الحبیر : ۲۱۹/۱)
اس حدیث سے " بعض الناس " کا یہ کہنا کہ"۹مقامات پر رفع الیدین کا اثبا ت اور ۱۸ مقامات پر نفی دکھاؤ "باطل ومردود ٹھہر تا ہے، کیونکہ سید نا ابو موسیٰ اشعری ؓ نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد رفع الیدین کر رہے ہیں ، رفع الیدین والی نماز کو رسول اللہ ﷺ کی نماز قراردے رہے ہیں ، ہمیں بھی رفع الیدین کرنے کا حکم دے رہے ہیں ، صحابہ کرام نے جہاں آپ ﷺ کو رفع الیدین کرتے دیکھا، وہا ں کیا، جہا ں نہیں دیکھا، وہا ں نہیں کیا۔
دلیل نمبر 7:
سیدنا ابوحمید الساعدی ؓ نے دس صحابہ کرام ؓ کی موجودگی میں نماز پڑ ھ کردکھائی، نماز شروع کرتے وقت ، رکوع جاتے، رکوع سے سر اٹھاتے اور دورکعتوں سے اٹھتے وقت رفع الیدین کیا تو دس کے دس صحابہ کرام نے کہا: صدقت، ھکذا یصلّی النّبیّ صَلَّی اللہ علیہ وسلّم "آپ نے سچ کہا ہے، نبی کریم ﷺ اسی طرح نماز پڑھتے تھے۔")
مسند الامام احمد: ۴۲۴/۵، سنن التر مذی: ۳۰۴، وسندہ صحیح)
اس حدیث کو امام تر مذی ؒ نے "حسن صحیح" کہا ہے، امام ابنِ خزیمہ (۵۸۷) امام ابن الجارود (۱۹۲)، امام ابن حبان(۱۸۶۵)، اور حافظ خطابی (معالم السنن: ۱۹۴/۱) نے اس حدیث کو "صحیح " قرار دیا ہے۔
حافظ نووی ؒ نے بھی اس کو" صحیح" کہا ہے۔ (خلاصۃ الا حکام: ۳۵۳)
حافظ ابنِ قّیم الجوزیہ ؒ لکھتے ہیں :
حدیث أبی حمید ھذا حدیث صحیح متلقّی بالقبول ، لا علّہ قومبما برّأہ اللہ أئمۃ الحدیث منہ، ونحن نذکر ما علّلو بہ، ثمّ نبیّن فساد تعلیلھم وبطلا نہ بعون اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ حدیث صحیح ہے، اسے امت نے صحت وعمل کے لحاظ سے قبول کیا ہے، اس میں کوئی علت نہیں، ہاں! اسے ایک قوم(احناف) نے ایسی علت کے ساتھ معلول کہاہے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ائمہ حدیث کو بری کردیا ہے، ہم ان کی بیان کردہ علتوں کو ذکر کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ کی توفیق اور مدد سے ان کا فاسدو باطل ہونا بیان کریں گے۔"
(تھذیب السنن لا بن القیم :۴۱۶/۲)
امام محمد بن یحییٰ الذہلی ابو عبد اللہ النیسابور ی ؒ (۲۵۸ھ) فرماتے ہیں : "جو آدمی یہ حدیث سن لے اور پھر رکوع سے پہلے سر اٹھانے کے بعد رفع الیدین نہ کرے ، اس کی نماز ناقص ہے۔" (صحیح ابن خزیمۃ: ۲۹۸/۱، وسندہ صحیح)
دلیل نمبر 8:
امام ابو اسماعیل محمد بن اسماعیل سلمی ؒ کہتے ہیں کہ میں نے ابو نعمان محمد بن فضل ؒ کی اقتدار میں نماز پڑھی ، انہوں نے نماز شروع کرتے وقت ، رکوع جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کیا، میں نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرما یا، میں نے امام حماد بن زید ؒ کی اقتدار میں نماز پڑھی ، انہوں نے نماز شروع کرتے وقت ، رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کیا، میں نے ان سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرما یا، میں نے امام ایوب سختیانی ؒ کی اقتدا ءمیں نماز پڑھی، وہ نماز شروع کرتے ، رکوع کو جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کرتے تھے، میں نے پوچھا تو آپ نے فرمایا، میں امام عطاء بن ابی ربا ح کی اقتدار میں نماز پڑھی، وہ نماز شروع کرتے ، رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کرتے تھے، میں نے جب آپ سے اس بارے میں سوال کیا تو امام عطاء بن ابی رباح ؒ نے فرما یا، میں نے (صحابئ رسولﷺ) سیدنا عبد اللہ زبیر ؓکی اقتداء میں نماز پڑھی، آپ ؓنماز شروع کرتے ، رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کرتے تھے، امام عطاء بن ابی رباح ؒ کہتے ہیں ، میں رفع الیدین کے بارے میں سید نا عبد اللہ بن زبیر ؓ سے سوال کیا تو آپؓ نے فرما یا، میں نے (اپنے نانا) سید نا ابو بکر صدیق ؓ کی اقتداء میں نماز ادا کی ، آپ ؓ نماز شروع کرتے ، رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کرتے تھے اور (خلیفۂ اول) سیدنا ابوبکر صدیق ؓ نے فرما یا ، میں نے رسولِ کریم ﷺ کی اقتدا ء میں نماز پڑھی، آپ ﷺ نماز شروع کرتے ، رکوع کو جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین فرماتے تھے۔"
(السنن الکبرٰی للبیھقی: ۷۳/۲، وسندہ صحیح)
خود امام بیہقی ؒ فرماتے ہیں : رواتہ ثقات۔ "اس حدیث کے راوی ثقہ ہیں ۔"
حافظ ذہبی ؒ (المھذب فی اختصار السنن الکبیر : ۴۹/۲)اور حافظ ابنِ حجر ؒ نے اس حدیث کے راویوں کو"ثقہ" قرار دیا ہے۔
قارئین کرام! اس سنہری کڑی پر غور کریں تو ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ کرام ، اور تابعین عظام نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد بھی رفع الیدین کرتے تھے، اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی اس سنت کو اپنانے کی توفیق سے نوازے ۔ ۔۔۔۔ آمین یاربّ العالمین!
تنبیہ: الامام الثقۃ ابو جعفر احمد بن اسحاق بن بہلول البغدادی ؒ(م۳۱۸)بیا ن کرتے ہیں : "میں عراقیوں کے مذہب پر تھا تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو خواب میں دیکھا کہ آپﷺنماز پڑھے رہے تھے، میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ پہلی تکبیر میں اور جب رکوع کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو رفع الیدین کرتے تھے۔"(سنن دار قطنی: ۲۹۲/۱،ح: ۱۱۱۲، وسندہ صحیح)
جن لوگوں کے مذہب کی بنیاد بزرگوں کے خوابوں پر ہے، کیا وہ اس ثقہ امام کے خواب کی صور ت میں ملنے والے نبوی عمل کو اپنانے کے لیے تیار ہیں ؟
الحاصل:
رفع الیدین رسول اللہﷺ کی ایسی سنت متواترہ ہے جس کا ترک یا نسخ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں، بلکہ امت کا اسی پر عمل رہا ہے۔
منقول
🍒💐🍒💐🍒💐🍒💐🍒💐🍒
Wednesday, August 3, 2016
"بے پردگی دین کی کھلی بغاوت ہے
"بے پردگی دین کی کھلی بغاوت ہے"
بے پردگی اعلانیہ گناہ ہے ۔ یعنی کھلی بغاوت ہے۔ رسول صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔ ”میری پوری امت معافی کے لائق ہے مگر اعلانیہ گناہ کرنے والے معافی کے لائق نہیں۔“
“دیوث جنت میں داخل نہیں ہو گا”
حضرت عمار بن یاسر رضی الله عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تین شخص کبھی جنت میں داخل نہ ہوں گے۔
دیوث
مردوں کی طرح شکل بنانے والی عورتیں
ہمیشہ شراب پینے والا
صحابہ رضوان الله علیہم اجمعین نے عرض کیا ”دیوث کون ہے ؟“
فرمایا : وہ شخص جس کو اس کی پروا نہیں کہ اس کے گھر کی عورتوں کے پاس کون شخص آتا ہے اور کون جاتا ہے ۔ ( رواہ الطبرانی فی الکبیر مطولا)
ایک موقع پر حضرت سعد بن عبادہ رضی الله تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اگر میں اپنی بیوی کو کسی غیر مرد ( نامحرم) کے ساتھ دیکھوں تو اس کو اپنی تلوار سے قتل کردوں گا۔
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے صحابہ! کیا تمہیں سعد رضی الله تعالیٰ عنہ کی غیرت پر تعجب (حیرت) ہے ۔ سنو! میں سعد رضی الله تعالیٰ عنہ سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ مجھ سے زیادہ غیرت مند ہے۔ ( مشکوٰة)
"عورتوں کے باہر نکلنے کا ضابطہ"
سب سے بڑی چیز جو ایک مرد کو عورت کی طرف یا عورت کو مرد کی طرف مائل کرنے والی ہے وہ نظر ہے۔
قرآن پاک میں دونوں فریق کو حکم دیا ہے کہ اپنی نظریں پست رکھیں ۔ سورہ نور، رکوع نمبر چار میں اول مردوں کو حکم فرمایا: ” آپ مسلمان مردوں سے کہہ دیجیے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں ۔ یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزگی کی بات ہے ۔ بے شک الله تعالیٰ اس سے خوب باخبر ہے، جو کچھ لوگ کیا کرتے ہیں۔“
اس کے بعد عورتوں کو خطاب فرمایا:” اور مسلمان عورتوں سے فرما دیجیے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر یہ کہ مجبوری سے خود کھل جائے اور اپنی اوڑھنیاں اپنے سینوں پر ڈالے رہا کریں اور اپنے حسن و جمال کو (کسی پر) ظاہر نہ ہونے دیں ( سوائے ان کے جو شرعاَ محروم ہیں) اور مسلمانو! ( تم سے جو ان احکام میں کوتاہی ہو تو ) تم سب الله تعالیٰ کے سامنے توبہ کرو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔“ ( سورہ نور،آیت نمبر31)
الله عزوجل سورہ احزاب آیت 33 میں خواتین اسلام کو حکم فرماتے ہیں
: ﴿وقرن فی بیوتکن ولاتبرجن تبرج الجاھلیة الاولی﴾ شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی رحمة الله علیہ اس آیت شریفہ کے ذیل میں لکھتے ہیں : ” اسلام سے پہلے زمانہ جاہلیت میں عورتیں بے پردہ پھرتیں اور اپنے بدن اور لباس کی زیبائش کا اعلانیہ مظاہرہ کرتی تھیں۔ اس بد اخلاقی اور بےحیائی کی روش کو مقدس اسلام کب برداشت کر سکتا ہے؟ اسلام نے عورتوں کو حکم دیا کہ گھروں میں ٹھہریں اور زمانہ جاہلیت کی طرح باہر نکل کر اپنے حسن وجمال کی نمائش نہ کرتی پھریں۔“
حضرت عبدالله بن عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ، عورت چھپا کر رکھنے کی چیز ہے اور بلاشبہ جب وہ اپنے گھر سے باہر نکلتی ہے تو اسے شیطان دیکھنے لگتا ہے اور یہ بات یقینی ہے کہ عورت اس وقت سب سے زیادہ الله تعالیٰ سے قریب ہوتی ہے جب کہ وہ اپنے گھر کے اندر ہوتی ہے ۔ ( الترغیب والترہیب للمنذری 626 از طبرانی)
تشریح: اس حدیث میں اول تو عورت کا مقام بتایا ہے یعنی یہ کہ وہ چھپا کر رکھنے کی چیز ہے۔ عورت کو بحیثیت عورت گھر کے اندر رہنا لازم ہے، جوعورت پردہ سے باہر پھرنے لگے وہ حدود نسوانیت سے باہر ہو گئی۔ اس کے بعد فرمایا کہ عورت جب گھر سے نکلتی ہے تو شیطان اس کی طرف نظریں اٹھا اٹھا کر دیکھنا شروع کر دیتا ہے ۔
مطلب یہ ہے کہ جب عورت باہر نکلے گی تو شیطان کی یہ کوشش ہو گی کہ لوگ اس کے خدوخال اور حسن وجمال اور لباس و پوشاک پر نظر ڈال ڈال کر لطف اندوز ہوں ۔ اس کے بعد فرمایا کہ عورت اس وقت سب سے زیادہ الله تعالیٰ کے قریب ہوتی ہے جب کہ وہ گھر کے اندر ہوتی ہے جن عورتوں کو الله تعالیٰ کی نزدیکی کی طلب اور رغبت ہے وہ گھر کے اندر ہی رہنے کو پسند کرتی ہیں اور حتی الامکان گھر سے باہر نکلنے سے گریز کرتی ہیں۔
اسلام نے عورتوں کو ہدایت دی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو عورتیں اپنے گھر کے اندر ہی رہیں کسی مجبوری سے باہر نکلنے کی جو اجازت دی گئی ہے اس میں متعدد پابندیاں لگائی گئی ہیں
مثلاً یہ کہ خوشبو لگا کر نہ نکلیں
اور یہ بھی حکم فرمایا کہ عورت راستے کے درمیان نہ چلے بلکہ راستے کے کنارے پر چلے ،
مردوں کے ہجوم ( رش یا بھیڑ) میں داخل نہ ہو ۔
اگر اسے باہر جانا ہی پڑے تو پورے بدن پر برقعہ یا لمبی موٹی یا گہرے رنگ والی چادر لپیٹ کر چلے ( راستہ نظر آنے کے لیے ایک آنکھ کا کھلا رہنا کافی ہے ) یا برقعہ میں جو جالی آنکھوں کے سامنے استعمال کی جاتی ہے وہ لگا لیں یا برقعہ یا چادر اس طرح اوڑھ لیں کہ ماتھے تک بال وغیرہ ڈھک جائے اور نیچے سے چہرہ ناک تک چھپ جائے۔ صرف دونوں آنکھیں ( راستہ نظر آنے کے لیے ) کھلی رہیں ۔
آج کل جوان لڑکیاں برائے نام چادر اوڑھ لیتی ہیں اور چادر بھی باریک چکن کی ہوتی ہے اور تنگ بھی ، اس سے ہرگز شرعی پردہ نہیں ہوتا اور ان کا اس چادر کے ساتھ باہر نکلنا بے پردہ نکلنے کی طرح ہے، جو سراسر ناجائز اور حرام ہے . قرآن کریم میں جس چادر کا ذکر ہے، اس سے ہرگز ایسی چادر مراد نہیں۔
عورتیں جب گھر سے کسی مجبوری کی وجہ سے نکلیں تو بجنے والا کوئی زیور نہ پہنا ہو ۔
کسی غیر محرم سے اگر ضروری بات کرنی پڑے تو بہت مختصر کریں، ہاں ناں کا جواب دے کر ختم کر ڈالیں ۔
گفتگو کے انداز میں نزاکت اور لہجہ میں جاذبیت کے طریقے پر بات نہ کریں ۔ جس طرح چال ڈھال اور رفتار کے انداز دل کھنچتے ہیں اسی طرح گفتار ( باتوں) کے نزاکت والے انداز کی طرف بھی کشش ہوتی ہے ۔ عورت کی آواز میں طبعی اور فطری طور پر نرمی اور لہجہ میں دل کشی ہوتی ہے ۔ پاک نفس عورتوں کی یہ شان ہے کہ غیر مردوں سے بات کرنے میں بتکلف ایسا لب و لہجہ اختیار کریں جس میں خشونیت اور روکھا پن ہو، بقول مفتی رشید احمد صاحب رح..
بے پردگی اعلانیہ گناہ ہے ۔ یعنی کھلی بغاوت ہے۔ رسول صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔ ”میری پوری امت معافی کے لائق ہے مگر اعلانیہ گناہ کرنے والے معافی کے لائق نہیں۔“
“دیوث جنت میں داخل نہیں ہو گا”
حضرت عمار بن یاسر رضی الله عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تین شخص کبھی جنت میں داخل نہ ہوں گے۔
دیوث
مردوں کی طرح شکل بنانے والی عورتیں
ہمیشہ شراب پینے والا
صحابہ رضوان الله علیہم اجمعین نے عرض کیا ”دیوث کون ہے ؟“
فرمایا : وہ شخص جس کو اس کی پروا نہیں کہ اس کے گھر کی عورتوں کے پاس کون شخص آتا ہے اور کون جاتا ہے ۔ ( رواہ الطبرانی فی الکبیر مطولا)
ایک موقع پر حضرت سعد بن عبادہ رضی الله تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اگر میں اپنی بیوی کو کسی غیر مرد ( نامحرم) کے ساتھ دیکھوں تو اس کو اپنی تلوار سے قتل کردوں گا۔
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے صحابہ! کیا تمہیں سعد رضی الله تعالیٰ عنہ کی غیرت پر تعجب (حیرت) ہے ۔ سنو! میں سعد رضی الله تعالیٰ عنہ سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ مجھ سے زیادہ غیرت مند ہے۔ ( مشکوٰة)
"عورتوں کے باہر نکلنے کا ضابطہ"
سب سے بڑی چیز جو ایک مرد کو عورت کی طرف یا عورت کو مرد کی طرف مائل کرنے والی ہے وہ نظر ہے۔
قرآن پاک میں دونوں فریق کو حکم دیا ہے کہ اپنی نظریں پست رکھیں ۔ سورہ نور، رکوع نمبر چار میں اول مردوں کو حکم فرمایا: ” آپ مسلمان مردوں سے کہہ دیجیے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں ۔ یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزگی کی بات ہے ۔ بے شک الله تعالیٰ اس سے خوب باخبر ہے، جو کچھ لوگ کیا کرتے ہیں۔“
اس کے بعد عورتوں کو خطاب فرمایا:” اور مسلمان عورتوں سے فرما دیجیے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر یہ کہ مجبوری سے خود کھل جائے اور اپنی اوڑھنیاں اپنے سینوں پر ڈالے رہا کریں اور اپنے حسن و جمال کو (کسی پر) ظاہر نہ ہونے دیں ( سوائے ان کے جو شرعاَ محروم ہیں) اور مسلمانو! ( تم سے جو ان احکام میں کوتاہی ہو تو ) تم سب الله تعالیٰ کے سامنے توبہ کرو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔“ ( سورہ نور،آیت نمبر31)
الله عزوجل سورہ احزاب آیت 33 میں خواتین اسلام کو حکم فرماتے ہیں
: ﴿وقرن فی بیوتکن ولاتبرجن تبرج الجاھلیة الاولی﴾ شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی رحمة الله علیہ اس آیت شریفہ کے ذیل میں لکھتے ہیں : ” اسلام سے پہلے زمانہ جاہلیت میں عورتیں بے پردہ پھرتیں اور اپنے بدن اور لباس کی زیبائش کا اعلانیہ مظاہرہ کرتی تھیں۔ اس بد اخلاقی اور بےحیائی کی روش کو مقدس اسلام کب برداشت کر سکتا ہے؟ اسلام نے عورتوں کو حکم دیا کہ گھروں میں ٹھہریں اور زمانہ جاہلیت کی طرح باہر نکل کر اپنے حسن وجمال کی نمائش نہ کرتی پھریں۔“
حضرت عبدالله بن عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ، عورت چھپا کر رکھنے کی چیز ہے اور بلاشبہ جب وہ اپنے گھر سے باہر نکلتی ہے تو اسے شیطان دیکھنے لگتا ہے اور یہ بات یقینی ہے کہ عورت اس وقت سب سے زیادہ الله تعالیٰ سے قریب ہوتی ہے جب کہ وہ اپنے گھر کے اندر ہوتی ہے ۔ ( الترغیب والترہیب للمنذری 626 از طبرانی)
تشریح: اس حدیث میں اول تو عورت کا مقام بتایا ہے یعنی یہ کہ وہ چھپا کر رکھنے کی چیز ہے۔ عورت کو بحیثیت عورت گھر کے اندر رہنا لازم ہے، جوعورت پردہ سے باہر پھرنے لگے وہ حدود نسوانیت سے باہر ہو گئی۔ اس کے بعد فرمایا کہ عورت جب گھر سے نکلتی ہے تو شیطان اس کی طرف نظریں اٹھا اٹھا کر دیکھنا شروع کر دیتا ہے ۔
مطلب یہ ہے کہ جب عورت باہر نکلے گی تو شیطان کی یہ کوشش ہو گی کہ لوگ اس کے خدوخال اور حسن وجمال اور لباس و پوشاک پر نظر ڈال ڈال کر لطف اندوز ہوں ۔ اس کے بعد فرمایا کہ عورت اس وقت سب سے زیادہ الله تعالیٰ کے قریب ہوتی ہے جب کہ وہ گھر کے اندر ہوتی ہے جن عورتوں کو الله تعالیٰ کی نزدیکی کی طلب اور رغبت ہے وہ گھر کے اندر ہی رہنے کو پسند کرتی ہیں اور حتی الامکان گھر سے باہر نکلنے سے گریز کرتی ہیں۔
اسلام نے عورتوں کو ہدایت دی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو عورتیں اپنے گھر کے اندر ہی رہیں کسی مجبوری سے باہر نکلنے کی جو اجازت دی گئی ہے اس میں متعدد پابندیاں لگائی گئی ہیں
مثلاً یہ کہ خوشبو لگا کر نہ نکلیں
اور یہ بھی حکم فرمایا کہ عورت راستے کے درمیان نہ چلے بلکہ راستے کے کنارے پر چلے ،
مردوں کے ہجوم ( رش یا بھیڑ) میں داخل نہ ہو ۔
اگر اسے باہر جانا ہی پڑے تو پورے بدن پر برقعہ یا لمبی موٹی یا گہرے رنگ والی چادر لپیٹ کر چلے ( راستہ نظر آنے کے لیے ایک آنکھ کا کھلا رہنا کافی ہے ) یا برقعہ میں جو جالی آنکھوں کے سامنے استعمال کی جاتی ہے وہ لگا لیں یا برقعہ یا چادر اس طرح اوڑھ لیں کہ ماتھے تک بال وغیرہ ڈھک جائے اور نیچے سے چہرہ ناک تک چھپ جائے۔ صرف دونوں آنکھیں ( راستہ نظر آنے کے لیے ) کھلی رہیں ۔
آج کل جوان لڑکیاں برائے نام چادر اوڑھ لیتی ہیں اور چادر بھی باریک چکن کی ہوتی ہے اور تنگ بھی ، اس سے ہرگز شرعی پردہ نہیں ہوتا اور ان کا اس چادر کے ساتھ باہر نکلنا بے پردہ نکلنے کی طرح ہے، جو سراسر ناجائز اور حرام ہے . قرآن کریم میں جس چادر کا ذکر ہے، اس سے ہرگز ایسی چادر مراد نہیں۔
عورتیں جب گھر سے کسی مجبوری کی وجہ سے نکلیں تو بجنے والا کوئی زیور نہ پہنا ہو ۔
کسی غیر محرم سے اگر ضروری بات کرنی پڑے تو بہت مختصر کریں، ہاں ناں کا جواب دے کر ختم کر ڈالیں ۔
گفتگو کے انداز میں نزاکت اور لہجہ میں جاذبیت کے طریقے پر بات نہ کریں ۔ جس طرح چال ڈھال اور رفتار کے انداز دل کھنچتے ہیں اسی طرح گفتار ( باتوں) کے نزاکت والے انداز کی طرف بھی کشش ہوتی ہے ۔ عورت کی آواز میں طبعی اور فطری طور پر نرمی اور لہجہ میں دل کشی ہوتی ہے ۔ پاک نفس عورتوں کی یہ شان ہے کہ غیر مردوں سے بات کرنے میں بتکلف ایسا لب و لہجہ اختیار کریں جس میں خشونیت اور روکھا پن ہو، بقول مفتی رشید احمد صاحب رح..
Tuesday, August 2, 2016
Ummat e Muslimah shirk ni kar sakti
Ummat e Muslimah shirk ni kar sakti
ہم اس مسئلے کا فیصلہ احادیث مصطفی ﷺ سے کروا لیتے ہیں ۔ حضرت ثوبانؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا : ’’ میری امت کے کچھ قبیلے بتوں کی پرستش کرنے لگیں گے اور (بت پرستی میں ) مشرکوں سے جاملیں گے ‘‘ ، (ابن ماجہ :۳۹۵۲ ) ۔سیدنا ابوذر غفاریؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ : ’’ میرے پاس میرے رب کا ایک آنے والا (فرشتہ )آیا ۔ اس نے مجھے خوشخبری دی کہ میری امت سے جو کوئی اس حال میں مرے کہ اﷲ تعالیٰ کے ساتھ اس نے کوئی شریک نہ ٹھہرایا ہوتو وہ جنت میں جائے گا ‘‘ ، (بخاری : ۱۲۳۷ ) ۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا : ’’ ہر نبی کی ایک دعا قبول کی جاتی ہے ، ہر نبی نے اپنی دعا میں جلدی کی اور میں نے اپنی دعا اپنی امت کی شفاعت کے لیے قیامت والے دن کے لیے چھپا رکھی ہے اور میری دعا ’’ان شاء اﷲ‘‘ ، میری امت میں سے ہر اس آدمی کو پہنچے گی جو اس حالت میں فوت ہوا کہ وہ اﷲ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا تھا ‘‘ ، (مسلم:۴۹۱) ۔ سیدنا انسؓ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ : ’’ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ۔۔۔اے ابن آدم ! اگر تو روئے زمین کے برابر بھی گناہ لے کر آئے پھر مجھ سے اس حالت میں ملاقات کرے کہ تو میرے ساتھ کچھ بھی شریک نہ ٹھہراتا ہو تو میں روئے زمین کے برابر ہی تجھے مغفرت عطا کر دوں گا‘‘ ، (ترمذی : ۳۳۱۰) ۔ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اسلام لائے پھر شرک کرے اسلام کے بعد اﷲ تعالیٰ اس کا کوئی عمل قبول نہیں فرماتے یہاں تک کہ شرک کرنے والوں کو چھوڑ کر مسلمانوں میں شامل ہوجائے ‘‘ ، (ابنِ ماجہ :۲۵۳۶ ) ۔ اور سیدنا عبداﷲ بن مسعودؓ سے مروی ہے ، جب سورۃ الانعام کی یہ آیت اتری جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان میں گناہوں (ظلم ) کی آمیزش نہیں کی ، تو آپ ﷺ کے اصحاب نے کہا یا رسول اﷲ ! ﷺ یہ تو بہت ہی مشکل ہے ۔ ہم میں کون ایسا ہے جس نے گناہ (ظلم ) نہیں کیا ۔ تب ا ﷲ پاک نے سورۃ لقمان کی یہ آیت اتاری ’’ ان الشرک لظلم عظیم ‘‘ ، کہ بیشک شرک بڑا ظلم ہے ‘‘ ، (بخاری :۳۲) ۔نبی پاک ﷺ سے کثیر التعداد احادیث مروی ہیں جن سے واضح ہے کہ : ’’ مسلمان بھی شرک کریں گئے ۔ ‘‘
ہم اس مسئلے کا فیصلہ احادیث مصطفی ﷺ سے کروا لیتے ہیں ۔ حضرت ثوبانؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا : ’’ میری امت کے کچھ قبیلے بتوں کی پرستش کرنے لگیں گے اور (بت پرستی میں ) مشرکوں سے جاملیں گے ‘‘ ، (ابن ماجہ :۳۹۵۲ ) ۔سیدنا ابوذر غفاریؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ : ’’ میرے پاس میرے رب کا ایک آنے والا (فرشتہ )آیا ۔ اس نے مجھے خوشخبری دی کہ میری امت سے جو کوئی اس حال میں مرے کہ اﷲ تعالیٰ کے ساتھ اس نے کوئی شریک نہ ٹھہرایا ہوتو وہ جنت میں جائے گا ‘‘ ، (بخاری : ۱۲۳۷ ) ۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا : ’’ ہر نبی کی ایک دعا قبول کی جاتی ہے ، ہر نبی نے اپنی دعا میں جلدی کی اور میں نے اپنی دعا اپنی امت کی شفاعت کے لیے قیامت والے دن کے لیے چھپا رکھی ہے اور میری دعا ’’ان شاء اﷲ‘‘ ، میری امت میں سے ہر اس آدمی کو پہنچے گی جو اس حالت میں فوت ہوا کہ وہ اﷲ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا تھا ‘‘ ، (مسلم:۴۹۱) ۔ سیدنا انسؓ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ : ’’ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ۔۔۔اے ابن آدم ! اگر تو روئے زمین کے برابر بھی گناہ لے کر آئے پھر مجھ سے اس حالت میں ملاقات کرے کہ تو میرے ساتھ کچھ بھی شریک نہ ٹھہراتا ہو تو میں روئے زمین کے برابر ہی تجھے مغفرت عطا کر دوں گا‘‘ ، (ترمذی : ۳۳۱۰) ۔ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اسلام لائے پھر شرک کرے اسلام کے بعد اﷲ تعالیٰ اس کا کوئی عمل قبول نہیں فرماتے یہاں تک کہ شرک کرنے والوں کو چھوڑ کر مسلمانوں میں شامل ہوجائے ‘‘ ، (ابنِ ماجہ :۲۵۳۶ ) ۔ اور سیدنا عبداﷲ بن مسعودؓ سے مروی ہے ، جب سورۃ الانعام کی یہ آیت اتری جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان میں گناہوں (ظلم ) کی آمیزش نہیں کی ، تو آپ ﷺ کے اصحاب نے کہا یا رسول اﷲ ! ﷺ یہ تو بہت ہی مشکل ہے ۔ ہم میں کون ایسا ہے جس نے گناہ (ظلم ) نہیں کیا ۔ تب ا ﷲ پاک نے سورۃ لقمان کی یہ آیت اتاری ’’ ان الشرک لظلم عظیم ‘‘ ، کہ بیشک شرک بڑا ظلم ہے ‘‘ ، (بخاری :۳۲) ۔نبی پاک ﷺ سے کثیر التعداد احادیث مروی ہیں جن سے واضح ہے کہ : ’’ مسلمان بھی شرک کریں گئے ۔ ‘‘
sirk
اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ۭ هَلْ مِنْ شُرَكَاۗىِٕكُمْ مَّنْ يَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَيْءٍ ۭ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ
اللہ تعالٰی وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا پھر روزی دی پھر مار ڈالے گا پھر زندہ کر دے گا بتاؤ تمہارے شریکوں میں سے کوئی بھی ایسا ہے جو ان میں سے کچھ بھی کر سکتا ہو۔ اللہ تعالٰی کے لئے پاکی اور برتری ہے ہر اس شریک سے جو یہ لوگ مقرر کرتے ہیں۔
اللہ تعالٰی وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا پھر روزی دی پھر مار ڈالے گا پھر زندہ کر دے گا بتاؤ تمہارے شریکوں میں سے کوئی بھی ایسا ہے جو ان میں سے کچھ بھی کر سکتا ہو۔ اللہ تعالٰی کے لئے پاکی اور برتری ہے ہر اس شریک سے جو یہ لوگ مقرر کرتے ہیں۔
سود کهانےوالا
سود کهانےوالا
وَمَآ اٰتَيْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّيَرْبُوَا۟ فِيْٓ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ ۚ وَمَآ اٰتَيْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِيْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْن
आप जो ब्याज पर देते हो कि लोगों के माल में बढ़ता रहे वह अल्लाह ke pasँ नहीं बढ़ता और जो कुछ दान ज़कात तुम अल्लाह का मुंह देखने (और खुशी के लिए) दो तो ऐसे लोग ही हैं अपना दोचन्द करने वाले َ
تم جو سود پر دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں بڑھتا رہے وہ اللہ تعالٰی کے ہاں نہیں بڑھتا اور جو کچھ صدقہ زکوۃ تم اللہ تعالٰی کا منہ دیکھنے (اور خوشنودی کے لئے) دو تو ایسے لوگ ہی ہیں اپنا دوچند کرنے والے ۔
Surah rum30-aaet 39
وَمَآ اٰتَيْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّيَرْبُوَا۟ فِيْٓ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ ۚ وَمَآ اٰتَيْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِيْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْن
आप जो ब्याज पर देते हो कि लोगों के माल में बढ़ता रहे वह अल्लाह ke pasँ नहीं बढ़ता और जो कुछ दान ज़कात तुम अल्लाह का मुंह देखने (और खुशी के लिए) दो तो ऐसे लोग ही हैं अपना दोचन्द करने वाले َ
تم جو سود پر دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں بڑھتا رہے وہ اللہ تعالٰی کے ہاں نہیں بڑھتا اور جو کچھ صدقہ زکوۃ تم اللہ تعالٰی کا منہ دیکھنے (اور خوشنودی کے لئے) دو تو ایسے لوگ ہی ہیں اپنا دوچند کرنے والے ۔
Surah rum30-aaet 39
نماز تراویح میں قرآن سے دیكھـ كر تلاوت كرنا
نماز تراویح میں قرآن سے دیكھـ كر تلاوت كرنا
➖➖➖➖➖➖➖➖
فتوى نمبر:579
سوال : رمضان کی نماز تراویح میں دیکھـ کر قرآن پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
جواب : اس سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے، چنانچہ کچھـ لوگوں نے اسے ناپسند کیا ہے جبکہ جمهورعلماء نے جائز قرار دیا ہے، شيخ علامہ محمد بن نصر مروزی کی کتاب (قيام الليل وقيام رمضان) میں حضرت ابن ابی مُليْكَہ سے مروی ہے کہ ذكوان ابو عَمرو كو حضرت عائشہ نے مکاتبت پر آزاد کیا، اور وہ رمضان میں آپ اور آپ کے ساتھـ موجود عورتوں کو قرآن دیکھـ کر جماعت کے ساتھ نماز پڑھایا کرتے تھے، اور ابن شھاب
سے رمضان میں قرآن دیکھـ کر پڑھنے والے شخص کی امامت کے متعلق سوال کیا گیا، تو انہوں نے كہا: ابتدائے اسلام سے یہ عمل جاری ہے، اور امت کے بہترین علماء قرآن دیکھـ کر امامت کیا کرتے تھے۔اور ابراهيم بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ انہیں رمضان میں اپنے اہل خانہ کی امامت کا حکم دیا کرتے تھے، اور فرماتے تھے کہ قرآن سے دیکھـ کر پڑھو، اور فرماتے: مجھے اپنی آواز سناؤ ! اور ایوب محمد الفقیہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ نفل نماز میں کوئی شخص قرآن دیکھـ کر امامت کرے، اور عطاء نے اس شحص کے بارے میں کہا جو رمضان میں قرآن دیکھـ کر امامت کرتا ہے: اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اور يحيى بن سعيد انصاری کہتے ہیں: میں اس شخص کے لئے رمضان میں قرآن دیکھـ کر امامت کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتا جو قيام اللیل کرنا چاہے، اور ابن وهب رحمه الله کہتے ہیں کہ امام مالك رحمه الله سے ان گاؤں والوں کے متعلق پوچھا گیا جن میں کوئی حافظ قرآن نہ ہو کہ کیا وہ کسی شخص کو مقرر کر سکتے ہیں جو ان کی قرآن دیکھـ کر امامت کرے؟ تو آپ نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
اور کتاب (المنتهى) میں اس مسئلے کی شرح یوں کی گئی ہے: نمازی کے لئے قرآن دیکھنا اور دیکھکر پڑھنا جائز ہے، اور امام احمد فرماتے ہیں کہ:قیام لیل میں قرآن پاک دیکھـ کر امامت کروانے میں کوئی حرج نہیں ہے، ان سے پوچھا گیا کہ: کیا فرض نماز میں بھی [ قرآن دیکھکر پڑھنا جائز ہے]؟
تو فرمایا: اس کے متعلق میں نے کوئی روایت نہیں سنی ہے، اور امام زہری سے قرآن دیکھـ کر امامت کرنے والے کے متعلق پوچھا گیا، تو انہوں نے فرمایا: ہمارے بڑے علماء رمضان میں قرآن دیکھـ کر پڑھتے تھے۔
ختم شد۔
اور جنہوں نے اس عمل کو ناپسند کیا ہے ان میں مجاہد اور ابراہیم اورسفيان ثوری ہیں، انہوں نے رمضان میں قرآن سے دیکھـ کر نماز پڑھانا مکروہ قرار دیا ہے، جیسے محمد بن نصر
اپنی كتاب (قيام الليل وقيام رمضان) اور دوسری کتاب (الوتر) میں رقمطراز ہیں: بے شک اس کو کچھـ علماء نے مکروہ جانا ہے کیونکہ یہ اہل كتاب کا عمل ہے، لہذ�
➖➖➖➖➖➖➖➖
فتوى نمبر:579
سوال : رمضان کی نماز تراویح میں دیکھـ کر قرآن پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
جواب : اس سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے، چنانچہ کچھـ لوگوں نے اسے ناپسند کیا ہے جبکہ جمهورعلماء نے جائز قرار دیا ہے، شيخ علامہ محمد بن نصر مروزی کی کتاب (قيام الليل وقيام رمضان) میں حضرت ابن ابی مُليْكَہ سے مروی ہے کہ ذكوان ابو عَمرو كو حضرت عائشہ نے مکاتبت پر آزاد کیا، اور وہ رمضان میں آپ اور آپ کے ساتھـ موجود عورتوں کو قرآن دیکھـ کر جماعت کے ساتھ نماز پڑھایا کرتے تھے، اور ابن شھاب
سے رمضان میں قرآن دیکھـ کر پڑھنے والے شخص کی امامت کے متعلق سوال کیا گیا، تو انہوں نے كہا: ابتدائے اسلام سے یہ عمل جاری ہے، اور امت کے بہترین علماء قرآن دیکھـ کر امامت کیا کرتے تھے۔اور ابراهيم بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ انہیں رمضان میں اپنے اہل خانہ کی امامت کا حکم دیا کرتے تھے، اور فرماتے تھے کہ قرآن سے دیکھـ کر پڑھو، اور فرماتے: مجھے اپنی آواز سناؤ ! اور ایوب محمد الفقیہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ نفل نماز میں کوئی شخص قرآن دیکھـ کر امامت کرے، اور عطاء نے اس شحص کے بارے میں کہا جو رمضان میں قرآن دیکھـ کر امامت کرتا ہے: اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اور يحيى بن سعيد انصاری کہتے ہیں: میں اس شخص کے لئے رمضان میں قرآن دیکھـ کر امامت کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتا جو قيام اللیل کرنا چاہے، اور ابن وهب رحمه الله کہتے ہیں کہ امام مالك رحمه الله سے ان گاؤں والوں کے متعلق پوچھا گیا جن میں کوئی حافظ قرآن نہ ہو کہ کیا وہ کسی شخص کو مقرر کر سکتے ہیں جو ان کی قرآن دیکھـ کر امامت کرے؟ تو آپ نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
اور کتاب (المنتهى) میں اس مسئلے کی شرح یوں کی گئی ہے: نمازی کے لئے قرآن دیکھنا اور دیکھکر پڑھنا جائز ہے، اور امام احمد فرماتے ہیں کہ:قیام لیل میں قرآن پاک دیکھـ کر امامت کروانے میں کوئی حرج نہیں ہے، ان سے پوچھا گیا کہ: کیا فرض نماز میں بھی [ قرآن دیکھکر پڑھنا جائز ہے]؟
تو فرمایا: اس کے متعلق میں نے کوئی روایت نہیں سنی ہے، اور امام زہری سے قرآن دیکھـ کر امامت کرنے والے کے متعلق پوچھا گیا، تو انہوں نے فرمایا: ہمارے بڑے علماء رمضان میں قرآن دیکھـ کر پڑھتے تھے۔
ختم شد۔
اور جنہوں نے اس عمل کو ناپسند کیا ہے ان میں مجاہد اور ابراہیم اورسفيان ثوری ہیں، انہوں نے رمضان میں قرآن سے دیکھـ کر نماز پڑھانا مکروہ قرار دیا ہے، جیسے محمد بن نصر
اپنی كتاب (قيام الليل وقيام رمضان) اور دوسری کتاب (الوتر) میں رقمطراز ہیں: بے شک اس کو کچھـ علماء نے مکروہ جانا ہے کیونکہ یہ اہل كتاب کا عمل ہے، لہذ�
Subscribe to:
Posts (Atom)