Tuesday, August 2, 2016

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور علم غیب

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور علم غیب
=====================
عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ، جو شخص تم میں یوں کہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالٰی کو دیکھا ہے بس اس نے جھوٹ بولا اور فرمایا  جو شخص تم میں یوں کہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  غیب جانتے تھے تو وہ جھوٹا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے علاوہ کوئی غیب نہیں جانتا۔ (صحیح بخاری، کتاب التوحید)

اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ اللہ تعالی ہی عالم الغیب ہے اور نبی ﷺ غیب کا علم نہیں رکھتے ۔


------------

سنت اور حدیث میں فرق

سنت اور حدیث میں فرق===================
سنت کے لغوی معنی طریقہ یا راستہ کے ہیں (النھایہ فی غریب الحدیث جلد ٢ص٣٦٨)اور جبکہ حدیث کو لغت میں جدت کے معنی میں لیا جانا اور حدیث کو لغت میں کسی کلام یا کوئی بات بھی کہا جاتا ہے ۔(السنة قبل التدوین ص٢٠)
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے :اللہ نزل احسن الحدیث (الزمر آیت ٢٣)
اللہ تعالیٰ نے بہترین حدیث نازل کی ہے ۔
حدیث کے معنی اصطلاح میں ہر اس قول ،فعل ،تقریر اور صفت کو کہتے ہیں جس کی نسبت حضورۖ کی طرف کی جاتی ہو ۔
(اصطلاح الحدیث کی تعریف وتشریح اذ ڈاکٹر محمود الطحان)
محدثین کے نزدیک سنت کی بھی اصطلاحی تعریف یہی ہے جو حدیث کی بیان ہوئی ہے (ارشاد الفحول للشوکانی مع تحقیق صبحی بن حلاق)
ڈاکٹر صبحی صالح فرماتے ہیں اگر ہم محدثین بالعموم اور متاخرین محدثین بالخصوص کی غالب رائے پر عمل کریں تو ہم حدیث وسنت کے الفاظ کو مترادف ومساوی پائیں گے یہ دونوں لفظ ایک دوسرے کی جگہ استعمال کئے جاتے ہیں اور ان دونوںکا مفہوم کسی قول فعل تقریر یا صفت کو سرورکائنات ۖ کی جانب منسوب کرنا ہے البتہ اگر حدیث وسنت کے الفاظ کو ان اصول تاریخ کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ حقیقت نکھر سامنے آتی ہے کہ ان دونوں کے استعمال میں لغت واصطلاح کے پیش نظر کچھ دقیق سا فرق بھی پایا جاتا ہے (علوم الحدیث ومصطلحہ للصبحی الصالح ۔ص١١٣)
اگر حدیث وسنت کے لفظ کا انفرادی طور پر استعمال کیا جائے تو سنت سے مراد حدیث اور حدیث سے مراد سنت ہوتی ہے ۔
ابن اثیر فرماتے ہیں ']یقال فی ادلة الشرع الکتاب والسنة ،ای القرآن والحدیث ''شرعی دلائل میں کہا جاتا ہے کہ قرآن وسنت تو اس سے
مراد ہوتا ہے قرآن وحدیث ''(النھایہ فی غریب الحدیث ،ص٣٦٨)
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ سنت سے مراد وہ عمل ہے جو صدر اوّل(پچھلے انبیاء سے چلا آرہا ہو ۔اور اگر غامدی صاحب کے مبادی سنت کا کا غور سے مطالعہ کیا جائے تو انکی سنت سے مراد بھی کچھ اسی طرح ہے لیکن میں کہتا ہوں کہ سنت کی اسی تعریف کو مان لیا جائے تو بھی حدیث اور سنت میں زیادہ فرق نہیں آتا۔کیونکہ ہمیں کس طرح معلوم ہوگا کہ کہ یہ عمل صدر اوّل سے چلا آرہا ہے ؟ تو اس کا معقول جواب یہی ہوسکتا ہے کہ اس کی معرفت ہمیں حدیث ہی کے ذریعے ہوگی اور صدر اوّل کے اسی عمل کو تسلیم کیا جائے گا جس پر نبی ۖ نے عمل کیا ہو یاعمل کرنے کا حکم دیا ہو ۔اور یہ بھی ہمیں حدیث سے معلو ہوگا ۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے ''لکل جعلنا منکم شرعة ومنھا جا''(المائدہ ۔آیت ٤٨)
''ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لئے الگ الگ شریعت اور طریقہ مقرر کیا ہے ۔

عمرہ کا مسنون طریقہ

عمرہ کا مسنون طریقہ
📼📼✳📼📼✳📼📼
♻{احرام}
▪حج اور عمرہ زندگی میں ایک مرتبہ واجب ہے،اور اس کے بعد مسنون ہے۔
اس کے وجوب کی چھ شرائط ہیں۔
1⃣اسلام
2⃣عقل
3⃣بلوغت
4⃣آزادی
5⃣استطاعت
6⃣عورت کے لئے محرم کا ہونا۔
▪عمر ہ میں داخل ہو نے کی نیت کو احرام کہتے ہیں ۔
▪عمرہ کرنے والے کو احرام باندھتے وقت ((لبّیک عمرۃً)) یا((اللّٰھم لبّیک عمرۃً )) کا لفظ زبان سے کہنا مستحب ہے ۔
اور اگر خوف لاحق ہو یا عورتوں کے لئے ایّام مخصوصہ شروع ہونے کا اندیشہ ہو تو نیت کے ساتھ یہ دعا بھی پڑھ لیں((فان حبسنی حابس فمحلی حیث حبستنی)) ’’اگر کسی عارضہ نے مجھے روک لیا تو میری نیت وہاں تک ہی ہے ،جہاں اس نے روک لیا‘‘
▪مرد ایک بغیر سلی تہہ بند اور ایک چادر (یعنی جو بنیان ‘موزہ ‘پائجامہ ‘ اور قمیص شلوار وغیرہ کی طرح عضو کے برابر سلی ہوئی نہ ہوں ) میں احرام باندھے گا۔اور بہتر ہے کہ چادر ولنگی دونوں سفید ہوں۔
▪احرام کی نیت کرنے سے پہلے غسل کرنا ‘خوشبو لگانا ‘اور (ناخن تراشنا ‘مونچھیں کاٹنا ‘موے زیر ناف مونڈنا ‘اور بغل کے بالوں کی ) صفائی کرنا مستحب ہے۔
▪احرام کی دو رکعت کے نام سے دو رکعت نماز پڑھنا ثابت نہیں ہے ۔ہاں اگر فرض نماز کے وقت اتفاقاًاحرام باندھنا پڑ جائے تو پہلے فرض نماز پڑھ لے پھر احرام باندھ لے۔
▪احرام باندھنے کے بعد تلبیہ پکارنا یعنی (( لبّیک اللھم لبیک۔لبیک لا شریک لک لبیک۔ان الحمد والنعمۃ لک والملک لاشریک لک))’’میں حاضر ہوں ‘ اے اللہ میں حاضر ہوں ‘ میں حاضر ہوں ‘ تیرا کوئی شریک نہیں ‘ یقینا سب تعریف تیرے ہی لئے ہے ‘ ساری نعمتیں تیری ہی ہیں ‘ اور ساری بادشاہت تیری ہی ہے ‘ تیرا کوئی شریک نہیں ۔‘‘کہنا مسنون ہے ۔مرد بلند آواز سے پکاریں گے اور عورتیں پست آواز سے۔
▪طواف شروع کرتے وقت عمرہ کرنے والا تلبیہ کہنے یعنی’’ لبیک‘‘ پکارنے سے رک جائیگا ۔
▪احرام کا لباس اگر میلا ہو جائے تو اس کو نکالنا اور بدلنا جائز ہے ۔اور احرام کا لباس محرم کو اپنے گھر میں سفر سے پہلے پہننا جائز ہے ۔لیکن احرام کی نیت میقات کے پاس ہی کرے گا ۔
▪عورت کے لئے احرام کا کو ئی مخصوص رنگ کا لباس نہیں ‘ جیسے کالا یا سبز ‘ جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے ۔
▪محرمہ عورت کے لئے دستانے پہننا ‘ یا نقاب لگانا ‘ جائز نہیں۔اس لئے کہ یہ دونوں عضو کے برابر سلے گئے ہیں ۔اور آپ ﷺ کا فرمان ہے :’’محرمہ عورت نہ نقاب لگائے اور نہ دستانے پہنے ‘‘ [بخاری]لیکن وہ اجنبی مردوں سے اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دستانے اور نقاب کے علاوہ دوسرے کپڑے سے چھپائے رکھے گی ۔

♻{طواف}
▪طواف کعبہ کے سات چکر لگانے ہیں ۔ہر چکر حجر اسودکے سامنے سے شروع ہو گا اور اسی پر ختم ہو گا۔
▪عمرہ کرنے والا طواف کے دوران کعبہ کو اپنی بائیں جانب رکھے گ�

اتباع اور تقلید میں فرق

اتباع اور تقلید میں فرق

ابوالاسجدصدیق رضا۔کراچی​

اس مضمون میں اتباع اور تقلید میں جوبنیادی فرق ہے وہ واضح کیا گیا ہے۔

سردست اس مضمون کا مقصد یہ بتانا ہے کہ اللہ تعالی کے مقرر کردہ آخری امام محمد رسول اللہﷺ کی اطاعت اور لوگوں کے اپنے بنائے ہوئے اماموں کی تقلید میں کیا فرق ہے؟مضمون میں مختلف پہلو سے فرق کو واضح کیا گیا ہے۔


پہلا فرق:اطاعت رسولﷺ کا حکم الہی


اللہ تعالی فرماتے ہیں
’’واطيعوا الله واطيعوا الرسول واحذروا فان توليتم فاعلموا انما علي رسولنا البلغ المبين‘‘( المائدہ:92)


اور تم اللہ کی اطاعت کرتے رہو اور رسول ﷺ کی اطاعت کرتے رہو اور احتیاط رکھو،

اگر تم (ان کی اطاعت سے) روگردانی کروگے تو جان لو کہ ہمارے رسول ﷺ

کی ذمہ داری تو بس صاف صاف پہنچادینا ہے۔


دوسرا فرق:اللہ تعالی کی محبت اور مغفرت کی ضمانت


اللہ تعالی فرماتے ہیں
’’قل ان كنتم تحبون الله فاتبعوني يحببكم الله ويغفرلكم ذنوبكم والله غفوررحيم‘‘(آل عمران:31)


اے نبیﷺ آپ کہہ دیجیے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو اللہ تم سے محبت کرنے لگے گا اور

 تمہارے گناہوں کو معاف کردے گا،بےشک اللہ تعالی معاف کرنے والا اور بڑا رحم کرنے والا ہے۔


کس قدر فضیلت ہے،اتباع رسولﷺ کی کہ آپ ﷺ کی اتباع کے بغیر اللہ تعالی کی محبت کا دعوی قابل قبول نہیں ۔

اس دعویٰ کے صدق کےلیے جس دلیل کی ضرورت ہے وہ دلیل رسو ل اللہ ﷺ کی اتباع ہے۔


تیسرا فرق:اطاعت رسولﷺ اللہ تعالی کی اطاعت ہے


اللہ تعالی فرماتے ہیں
’’من يطع الرسول فقد اطاع الله‘‘(النساء:80)


جس نے رسول ﷺ کی اطاعت کی پس اس نے اللہ کی اطاعت کی۔
یہ ایک عظیم فضیلت ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے رسول ﷺ

کی اطاعت کو اپنی ہی اطاعت وفرمانبرداری قرار دیا ہے۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں یا احادیث مبارکہ میں لوگوں کے

مقرر کردہ امام کی تقلید کو اپنی اطاعت وفرمانبرداری نہیں کہا۔
معلوم ہوا کہ اللہ کی اطاعت کا بس صرف ایک ہی ذریعہ ہے ،


ایک ہی راستہ ہے،ایک ہی طریقہ ہے کہ رسولﷺ کی اطاعت کی جائے۔


چوتھا فرق:قبولیت عمل کی یقین دہانی


يايها اللذي امنوا اطيعوا الله واطيعوا الرسول ولا تبطلوا عمالكم (محمد33)


اے ایمان والو! تم اللہ کی اطاعت کرو اور رسولﷺ کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال برباد مت کرو۔
جو عمل اللہ اور

 رسولﷺ کی اطاعت کے مطابق نہ ہو وہ عمل باطل ہے،اس کی کوئی فضیلت ہے نہ کوئی ثواب ،

ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’من عمل عملاً ليس عليه امرنا فهو رد‘‘ (صحیح مسلم)


جس کسی نے کوئی ایسا عمل یا جس پر ہمارا حکم نہیں تو وہ عمل مردود ہے،یعنی نامقبول ہے اسے رد کر دیا جائے گا۔


پانچواں فرق:فیصلۂ رسول اللہﷺ کاحتمی و ابدی ہونا

Monday, August 1, 2016

- کیا دعا تقدیر کو بدل سکتی ہے؟

- کیا دعا تقدیر کو بدل سکتی ہے؟  
📼📼📼📼📼📼📼📼
دین اسلام کے ارکان و شعار کے متعلق اس قسم کے اعتراضات پہلے بھی ہوئے ہیں اور ہمارے اسلاف نے ان کے اعتراضات کے جوابات بھی دیے ہیں ۔اس کے متعلق صحیح جواب یہ ہے کہ دنیا کے معاملات کا وقو ع پذیر ہونا اسباب کے ساتھ معلق کیا گیا ہے۔جیسا کہ اگر کسی بیج کے متعلق یہ مقدر ہے کہ اس نے اگنا ہے اور پھلنا پھولنا ہے تو اس کی یہ تقدیر اسباب و ذرائع کے بجا لانے سےمعلق ہوگی۔ اسے زمین میں کاشت کیا جائے گا۔پھر اسے پانی بھی دیا جائے،زمینی آفات سے اس کی نگرانی بھی کی جائے گی۔ اس کے بعد یہ امید رکھی جاسکتی ہے کہ  یہ بیج اگے گا اور پھلے پھولے گا۔امام ابن  قیمؒ نے اس سوال کا جواب اپنے مخصوص انداز میں دیا ہے کہ سوال میں بیان کردہ صورت حال کا تقاضا ہےکہ ہم ہر قسم کے اسباب  و ذرائع کو معطل کردیں اور انہیں بالکل عمل میں نہ لائیں کیونکہ اگر ہمارے مقدر میں سیر ہونا لکھا  ہے  تو ہو کر رہے گا،کواہ ہم کھا نا کھائیں یا نہ کھائیں،اسی طرح اگر ہمارے مقدر میں اولاد ہے تو وہ ہوکررہےگی،خواہ ہم شادی کریں نہ کریں اور شادی کرنے کے بعد بیوی کے پاس جائیں یا نہ جائیں ،کیا کوئی عقل مند آدمی اس بات کا اقرار کرتا ہے؟ بلکہ دنیا میں اسے احمق کہا جائے گا ،کیونکہ کسی چیز کا وقوع پذیر ہونا اسباب  سے معقل ہے ،وہ اسباب بھی تقدیر کا حصہ ہیں،ان کی بجا آوری ضروری ہے،ہمارا رزق طے شدہ ہے لیکن اس کے لئے بھاگ دوڑ،محنت مشقت اور ذرائع و اسباب کا استعمال کرنا ضروری ہے۔گھر بیٹھ رہنے سے وہ مقدر حاصل نہیں ہوگا،چنانچہ اس بات کی وضاحت ایک حدیث میں بایں الفاظ ہے۔
حضرت ثوبان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ‘‘عمر میں کسی کے ساتھ حسن سلوک کرنے سے اضافہ ہوتا ہے،بری تقدیر کو  دعا ٹال دیتی ہے اور آدمی بعض اوقات اپنے برے کردار کی وجہ سے رزق سے محروم کردیا جاتاہے۔ ’’
(مسند امام احمد،ص:۲۷۷،ج۵)

اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ نیکی اور حسن سلوک انسان کی عمر میں اضافہ کا سبب ہے۔ جب اسے عمل میں لایا جائے گا تو سبب،یعنی عمر میں اضافہ ہوگا اور یہ دونوں باتیں ،یعنی نیک عمل کرنا اور عمر میں اضافہ ہونا تقدیر کا حصہ ہیں۔اسی طرح پریشانی یا بیماری  میں مبتلا  ہونا تقدیر کا حصہ ہے اور دعا یا دو اسے اس کا دور ہونا بھی اللہ کے ہاں لکھا ہوا ہے چونکہ ہم اسباب و ذرائع کو استعمال کرنے کے پابند ہیں۔اس لئے ان کی بجاآوری بھی ضروری ہے،چنانچہ یہ بات اللہ کے علم میں ہے کہ فلاں آدمی فلاں گناہ کے ارتکاب سے رزق سے محروم ہوگا،جب وہ گناہ کرے گا تو ضرور اس رزق سے محروم ہوگا اگرچہ احتیاطی تدابیر بعض اوقات کارگر ثابت نہیں ہوتیں۔تاہم دعا ایک ایسی احتیاطی تدبیر ہے کہ یہ کسی صورت میں ضائع نہیں ہوتی،جیسا کہ ایک حدیث می

حرمین کے اندر بیس رکعت تراویح

حرمین کے اندر بیس رکعت تراویح فتنہ و فساد سے بچنے کے لئے رکهی گئی.


اس لئے سعودی کے کوئی بهی عالم اس پر تنقید نہیں کرسکتے.
اسی میں اس ملک کی سلامتی ہے. لیکن فتاوے سے بالکل عیاں ہے کہ یہاں کے علماء 8 رکعت مانتے ہیں اور عمل بهی اسی پر کرتے ہیں، ماسوا حرمین کے.

یہاں کے علماء پر سخت پابندی ہے وہ ملک کی سلامتی کے خلاف نہیں جاسکتے.

آپ کے سامنے ہے شیخ عریفی پر مسجد نبوی میں شیعہ کے خلاف بولنے کی وجہ سے کئی بار پابندی لگائی گئی.

یہی وجہ ہے کہ علماء اس پر تنقید نہیں کرتے.
تنقید نہ کرنے کی ایک وجہ یہ بهی ہے کہ قیام اللیل کے سلسلے میں وسعت ہے 8 سے زیادہ بهی پڑه سکتے ہیں.

واللہ اعلم بالصواب

♦اگر نفل ادا كرتے ہوئے نماز كى اقامت ہو جائے

♦اگر نفل ادا كرتے ہوئے نماز كى اقامت ہو جائے ؟ -
===================
🔴اگر ميں سنتيں ادا كر رہا ہوں اور نماز كى اقامت ہو جائے تو كيا ميں سلام پھير كر جماعت كے ساتھ مل جاؤں، يا سنتيں مكمل كروں ؟

🔵الحمد للہ:
امام مسلم رحمہ اللہ تعالى نے ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے روايت كيا ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" جب نماز كى اقامت ہو جائے تو فرضى نماز كے علاوہ كوئى نماز نہيں ہوتى "
صحيح مسلم حديث نمبر ( 710 ).
يہ حديث اس كى دليل ہے كہ جب نماز كى اقامت ہو جائے تو كسى بھى شخص كے ليے نفل ادا كرنے جائز نہيں.
ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:
( جب نماز كى اقامت ہو جائے تو اسے چھوڑ كر نفل ادا نہيں كيے جا سكتے، چاہے پہلى ركعت جانے كا خدشہ ہو يا نہ ہو، ابو ہريرہ، ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہم، اور عروہ، ابن سيرين، سعيد بن جبير، امام شافعى، اسحاق، اور ابو ثور رحمہم اللہ كا يہى قول ہے ) اھـ
ديكھيں: المغنى ( 1 / 272 ).
اور بعض علماء كرام نے اس حديث سے يہ استدلال كيا ہے كہ جو شخص نفل اور سنت ادا كر رہا ہو اور نماز كى اقامت ہو جائے تو وہ نفل توڑ دے.
حافظ عراقى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:
( نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا يہ قول: " كوئى نماز نہيں "
احتمال ہے كہ اس سے يہ مراد ہو كہ جب نماز كى اقامت ہو جائے تو وہ شروع نہ كرے.
اور يہ بھى احتمال ہے كہ اس سے مراد يہ ہو كہ وہ نماز ميں مشغول نہ ہو اور اگر اس نے اقامت ہونے سے قبل نماز شروع كر لى تو وہ تكبير تحريمہ كى فضيلت حاصل كرنے كے ليے نماز توڑ دے.
يا پھر اگر نمازى نماز نہيں توڑتا تو وہ خود ہى باطل ہو جائيگى، دونوں كا ہى احتمال ہے ).
شافعيہ ميں سے ابو حامد سے منقول ہے كہ: اگر نفلى نماز مكمل كرنے ميں تكبير تحريمہ كى فضيلت فوت ہونے كا خدشہ ہو تو نفلى نماز ختم كرنا افضل ہے.
عراقى رحمہ اللہ تعالى كى كلام شوكانى رحمہ اللہ تعالى نے نيل الاوطار ( 3 / 91 ) ميں نقل كى ہے.
جب مستقل فتوى كميٹى سے اس كے متعلق دريافت كيا گيا تو اس كا بھى فتوى يہى تھا:
سوال يہ تھا:
كيا ميں سنتيں ختم كر كے تكبير تحريمہ ميں امام كے ساتھ ملوں يا كہ سنتيں مكمل كروں ؟
كميٹى كا جواب تھا:
جى ہاں جب فرضى نماز كى اقامت ہو جائے تو جو نفل اور سنتيں آپ ادا كر رہے ہيں اسے توڑ ديں تا كہ امام كے ساتھ تكبير تحريمہ ميں مل سكيں، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" جب نماز كى اقامت ہو جائے تو فرضى نماز كے علاوہ كوئى نماز نہيں "
ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ  العلميۃ والافتاء ( 7 / 312 ).
اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى نے اسے راجح قرار ديا ہے كہ جب نماز كى اقامت ہو اور وہ سنتوں يا نفل كى پہلى ركعت ميں ہو تو نماز توڑ دے، اور جب اقامت ہو جائے اور وہ دوسرى ركعت ميں ہو تو اسے ہلكى اور تخفيف كے ساتھ ادا كرلينى چاہيے