Thursday, July 28, 2016

واٹس اپ پوسٹ ملنے پہ ہم کیا کریں

واٹس اپ پوسٹ ملنے پہ ہم کیا کریں؟
➖➖➖➖➖➖➖
📗مقبول احمد سلفی

✅اگر کوئی پوسٹ بیحد پسند آئے تو" سبحان اللہ" کہہ سکتے ہیں.

✅ کسی نے محنت سے تیار کرکے کوئی چیز آپ کو بهیجی ہے ، اس پہ "جزاک اللہ خیرا" کہنا چاہئے.

✅کسی پوسٹ کا آخری جملہ دعائیہ ہو تو اس پہ "آمین " کہنا چاہئے.

✅کوئی غمناک خبر ملے تو " انا للہ وانا الیہ راجعون" کہنا چاہئے.

✅کوئی سوال ہو اور جواب معلوم نہ ہو تو "لاادری" کہنا چاہئے.

✅ اگر کوئی خلاف شریعت بات ہو تو اس پہ تنبیہ کرنا چاہئے.

✅اگر پوسٹ سمجه میں نہ آئے تو وضاحت طلب کرنا چاہئے.

✅اگر بلا دلیل پوسٹ ہو تو دلیل طلب کرنا چاہئے.

✅اگر قرآن و حدیث کی بات ہو تو اس سے استفادہ کرکے آگے بهیجنا چاہئے ، بصورت دیگر فارورڈ نہیں کرنا چاہئے.

✅  واٹس اپ پہ انگریزی اسٹائل و آداب سے پرہیز کرکے اسلامی آداب کو رائج کرنا چاہئے مثلا ہائی ہیلو، بائی بائی، تهینکس، اوکے، گڈ ، پلیز ، واو وغیرہ..............


〰〰〰〰〰〰〰

حج پہ جانے سے پہلے معافی مانگنا

حج پہ جانے سے پہلے معافی مانگنا
===============
مقبول احمد سلفی

حج پہ جانے سے پہلے پورے خلوص کے ساتھ اپنے گناہوں سے توبہ کرنی چاہیے اور آئندہ نہ کرنے کا عزم مصمم کیا جائے،اگر کسی کو دکھ پہنچایاہو تو اس سے معافی مانگنی چاہیے ، کسی کا حق دبایا ہو تو معافی کے ساتھ اس کو واپس کردیناچاہیے، حق دار نہ ملے تو صدقہ کرنا چاہیے ،ساتھ ہی نیت رہے کہ جب ملے گا تو واپس کر دیں گے ۔
اسلام میں حقوق العباد کی اہمیت پہ بہت ابھارا گیا ہے ، اور یہ وہ حق ہے جسے خود بندہ ہی معاف کرسکتا ہے ، ورنہ اللہ معاف نہ کرے گا، اگر اسی حالت میں دنیا سے چلا گیا تو آخرت میں اس کی نیکی مظلوم کو دے دی جائے گی ۔
رسول اکرمﷺ کا ارشاد گرامی ہے:
«من كانت عنده لأخيه مظلمةٌ فليتحلَّل منه قبل ألا يكون درهمٌ ولا دينارٌ، إن كان له عملٌ صالحٌ أُخِذ منه بقدر مظلَمته، وإن لم يكن له حسناتٌ أُخِذ من سيئات صاحبِه فحُمِل عليه»
’’جس کسی نے اپنے بھائی پر ظلم کیا ہو تو اس سے اس دن سے قبل معاملہ حل کر لے جب اس کے پاس درہم و دینار باقی نہ رہیں گے۔ اگر اس کے پاس کوئی نیک عمل ہو گا تو اس کے ظلم کے بقدر لے لیا جائے گا اور اور اگر اس کے پاس نیک عمل نہ ہوں گے تو مظلوم شخص کی برائیاں اس کے کھاتے میں ڈال دی جائیں گی۔ ‘‘
اور صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے صحابہ کرام سے پوچھا : تم مفلس کون ہے؟ صحابہ نے کہا : جس کے پاس درہم و دینار نہ ہوں وہ مفلس ہے۔ آپﷺ نے فرمایا:
«المُفلِسُ من أمتي: من يأتي بصلاةٍ وصيامٍ وزكاةٍ، ويأتي وقد شتمَ هذا، وقذفَ هذا، وضربَ هذا، وسفكَ دمَ هذا، وأخذَ مالَ هذا، فيأخُذ هذا من حسناته، وهذا من حسناته، فإن فنِيَت حسناتُه قبل أن يُقضَى ما عليه أُخِذ من خطاياهم فطُرِحَت عليه ثم طُرِح في النار»
’’میری امت کا مفلس وہ ہے جو(روز قیامت) نماز، روزے اور زکوٰۃ کے ساتھ آئے گا۔ اور اس حالت میں آئے گا کہ اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی کی چوری کی ہوگی، کسی کو مارا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا، کسی کا مال کھایا ہوگا۔ تو اس کی نیکیاں ان کو دے دی جائیں گی۔ اور اگر ان کا معاملہ پورا ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں تو ان کی برائیاں اس کے حصہ میں ڈال دی جائیں گی اور پھر جہنم میں دھکیل دیا جائے گا۔‘‘
جب بندہ حج جیسے فریضے کی ادائیگی پہ جارہاہو اور اس کے اوپر کسی کا حق رہ جاتا ہو یا اس نے کسی کو تکلیف دیا ہو تو حج تو ہوجائے گا مگر اس کے اس عمل کا گناہ اس کے سر باقی رہے گا یا دوسرے لفظوں میں یہ کہیں کہ اس گناہ کی وجہ سے بہت سے اجر سے محروم ہوجائے گا۔
روى مسلم عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : ( تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْ

کیا بے وضو قرآن کو چھواجاسکتا ہے

کیا بے وضو قرآن کو چھواجاسکتا ہے؟؟؟
==================

بچپن میں ہمیں ایک بات کی نصحت کی جاتی تھی کہ قرآن مجید کو بغیر وضو ہاتھ نہ لگانا اس سے بہت گناہ ہوتا ہے مگر جب میں نے قدرے بڑے ہوکر اس بات کی تحقیق کی کہ کیا واقعی بغیر وضو قرآن مجید کو ہاتھ لگانا منع ہے تو میں حیران رہ گیا کہ ایسا حکم قرآن و صحیح حدیث میں کہیں بھی نہیں ہے::یہ بھی ممکن ہے کہ مجھے ایسا حکم نہ ملا ہو اگر کسی بھائی کے علم میں ہوتو وہ رہنمائی فرمائے جزاک اللہ::اس کی تحقیق پیش کرنے سے پہلے یہ بتانا چاہوں کہ ایسی اور بھی بہت سی باتیں اور عقائد ہیں جو بنادی گئیں ہیں مگر ان کی اصل قرآن اور صحیح حدیث میں بالکل بھی نہیں ہے، ان عقائد میں نمازوں کی رکات بھی شامل ہیں مگر آج میں آپ کے سامنے اس بات کی تحقیق پیش کرونگا کہ کیا قرآن مجید کو بے وضو ہاتھ لگانا منع ہے کہ نہیں؟؟؟

اس پر جو سب سے بڑی دلیل دی جاتی ہے وہ قرآن کی یہ آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ
اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِيْمٌ 77۝ۙفِيْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍ 78۝ۙلَّا يَمَسُّهٗٓ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ 79۝ۭ
بیشک یہ قرآن ہے بڑا ہی عزت (و عظمت) والا، جو ایک محفوظ کتاب میں درج ہے، جسے صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں۔ سورۃ الواقعہ:۷۷۔۷۸۔۷۹
تفسیر تیسیر القرآن

مطہرون سے مراد کون؟ اس کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ پاکیزہ لوگوں سے مراد فرشتے ہیں۔ یعنی یہ کتاب قرآن کریم لوح محفوظ میں ثبت ہے اور وہاں سے پاکیزہ فرشتے ہی اسے لا کر رسول اللہ تک پہنچاتے ہیں۔ کسی شیطان کی وہاں تک دسترس نہیں ہوسکتی جو اسے لا کر کسی کاہن کے دل پر نازل کر دے۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے مضامین و مطالب تک رسائی صرف ان لوگوں کی ہوسکتی ہے جن کے خیالات پاکیزہ ہوں۔ کفر و شرک کے تعصبات سے پاک ہوں۔ عقل صحیح اور قلب سلیم رکھتے ہوں۔ جن لوگوں کے خیالات ہی گندے ہوں۔ قرآن کے بلند پایہ مضامین و مطالب تک ان کی رسائی ہو ہی نہیں سکتی۔ تیسرا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کو صرف پاکیزہ لوگ ہی چھو سکتے ہیں یا چھونا چاہئے۔ مشرک اور ناپاک لوگوں کو ہاتھ نہ لگانا چاہئے۔ اسی آیت سے بعض علماء نے یہ مسئلہ مستنبط کیا ہے کہ بے وضو لوگوں کو قرآن کو ہاتھ نہ لگانا چاہیے۔ لیکن راجح تر بات یہی ہے کہ بے وضو بھی قرآن کو چھو سکتا اور اس سے تلاوت کرسکتا ہے۔ صرف جنبی اور حیض و نفاس والی عورت قرآن کو چھو نہیں سکتے۔ جب تک پاک نہ ہوں۔ البتہ حیض و نفاس والی عورت زبانی قرآن پڑھ بھی سکتی ہے اور پڑھا بھی سکتی ہے۔

اب اس آیت کے کئی مطالب سامنے آئے ہیں ان میں یہ بھی ہے کہ کوئی انسان اس کتاب کو ہاتھ نہ لگائے مگر جو پاک ہو، اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا بغیر وضو انسان پلید، ناپاک ہوجاتا ہے؟ اگر تو ایسا ہی ہے پھر تو وضو لازم ہوا اور اگر ایسا نہیں ہے تو وض

ریاض الجنہ (جنت کی کیاری

ریاض الجنہ (جنت کی کیاری)
================
مقبول احمد سلفی
داعی دفتر تعاونی برائے دعوت و ارشاد (طائف، سعودی عرب)

ریاض الجنہ یہ وہ مبارک جگہ ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر یعنی حجرہ عائشہ رضی اللہ عنہاسے منبر شریف  کے درمیان میں ہے, اس کا نام ریاض الجنۃ ہے (جنت کا باغیچہ)۔
یہ نام اس لئے پڑا کہ حدیث شریف میں رسول اللہ نے ارشاد فرمایا:
مَا بَیْنَ بَیْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَة مِّنْ رِیَاضِ الْجَنَّة''(رواه البخاري :1196ومسلم :1391)
''میرے منبر اور میرے گھر کے درمیان والی جگہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے''۔
مسند بزار اور بعض دیکر کتب حدیث میں یہ الفاظ بھی آئے ہیں:
''مَا بَیْنَ قَبْرِي وَمِنْبَرِي رَوْضَة مِّنْ رِّیَاضِ الْجَنَّة''
"میری قبر اور میرے ممبر کے درمیان جنت کی ایک کیاری ہے ۔
محدثین کی رائے یہ ہے کہ" قبری" کا لفظ بعض رواۃ کی طرف سے خطا ہے جیساکہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے کہا:
" والثابت عنه صلى الله عليه وسلم أنه قال : (ما بين بيتي ومنبري روضة من رياض الجنة ) " هذا هو الثابت في الصحيح ، ولكن بعضهم رواه بالمعنى فقال : قبري .
وهو صلى الله عليه وسلم حين قال هذا القول لم يكن قد قبر بعد صلوات اللّه وسلامه عليه ، ولهذا لم يحتج بهذا أحد من الصحابة لما تنازعوا فى موضع دفنه ، ولو كان هذا عندهم لكان نصاً فى محل النزاع " انتهى.(مجموع الفتاوى 1/236)
ترجمہ: نبی ﷺ سے جو ثابت ہے وہ یہ ہے :"ما بين بيتي ومنبري روضة من رياض الجنة" (میرے گھر اور میرے ممبر کے درمیان جنت کی ایک کیاری ہے ) ،حقیقت میں یہی ثابت ہے ۔ لیکن بعض راویوں نے روایت بالمعنی کیا ہے اور انہوں نے کہا: "قبری" ۔ جب نبی ﷺ نے یہ بات کہی اس وقت آپ کی قبر تھی ہی نہیں، اسی لئے صحابہ کرام میں سے کسی نے اس سے دلیل نہیں پکڑی جب دفن کی جگہ کے سلسلے میں تنازع کررہے تھے ، اور اگر یہ ان کے پاس ہوتا تو ان کے لئے نزاع کی جگہ میں دلیل بن جاتی۔

اب یہاں دیکھنا یہ ہے کہ کیا ریاض الجنۃ سے مراد واقعی جنت کی کیاری ہے ؟
اس سلسلے میں اہل علم کے کئی اقوال ملتے ہیں۔
(1) اس جگہ پہ بیٹھنے کی سعادت و اطمنان جنت کی کیاریوں کے مشابہ ہے ۔
(2)اس جگہ پہ عبادت کرنا جنت میں دخول کا سبب ہے ۔
(3) یہ جگہ آخرت میں واقعی جنت کا حصہ بنا دیا جائے گا۔
بعض علماء نے پہلے قول کو ، بعض نے دوسرے قول کو اور بعض نے تیسرے قول کو ترجیح دی ہے ۔

میں ان اقوال میں سے کسی ایک کو بلا ترجیح دئے بس یہ کہوں گا کہ اصل تو اللہ سبحانہ و تعالی ہی ہے جو زمان و مکان کو فضیلت و خصوصیت بخشتا ہے ،ساتھ ساتھ  یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس مقام کی بڑی فضیلت ہے ، اگر مسجد نبوی ﷺ آنے کا موقع ملے تو یہاں عبادت ، ذکر، اللہ سے دعا، اور اپنے گناہوں سے توبہ و استغفار کرنا چاہئے ۔ اس جگہ پ�

ایک جانور کی قربانی ایک گھرانے کی طرف سے کافی

ایک جانور کی قربانی ایک گھرانے کی طرف سے کافی
==============================
ترتیب و پیشکش : مقبول احمد سلفی
یہ بات متحقق ہے کہ ایک قربانی پورے ایک فیملی ممبرس کے لئے کافی ہے ، لیکن سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ فیملی ممبرس یا ایک گھرانہ کسے کہتے ہیں ۔
اس بارے میں علمائے کرام کے چار اقوال ہیں:
(1)جن میں تین شرائط پائی جائیں: (الف)قربانی کرنے والا شخص انکے خرچہ کا ذمہ دار ہو (ب) وہ تمام افراد اسکے رشتہ دار بھی ہو (ج) قربانی کرنے والا شخص انکے ساتھ رہائش پذیر ہو، یہ موقف مالکی فقہائے کرام کا ہے۔
(2)جن پر ایک ہی شخص خرچ کرتا ہو، یہی موقف کچھ متأخر شافعی فقہاء کا ہے۔
(3)قربانی کرنے والے کے تمام عزیز و اقارب، چاہے ان پر یہ خرچ بھی نہ کرتا ہو۔
(4)قربانی کرنے والے کیساتھ رہنے والے تمام افراد چاہے اسکے رشتہ دار نہ ہوں، اس موقف کے قائلین میں خطیب شربینی، شہاب رملی، اور متأخر شافعی فقہاء میں سے طبلاوی رحمہم اللہ جمیعا شامل ہیں، لیکن ابن حجر ہیتمی رحمہ اللہ نے اسے بعید قرار دیا ہے۔
اب اس سلسلہ میں احادیث دیکھیں:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1) عطاء بن يسار بيان كرتے ہيں كہ ميں نے ابو ايوب انصارى رضى اللہ تعالى عنہ سے دريافت كيا کہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے دور ميں قربانى كا كيا حساب تھا ؟
تو انہوں نے جواب ديا:
آدمى اپنى اور اپنے گھروالوں كى جانب سے ايك بكرى قربانى كرتا تو وہ بھى كھاتے اور دوسروں كو بھى كھلاتے "
(سنن ترمذى حديث نمبر :1505) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ترمذى ميں اسے صحيح كہا ہے.
تحفۃ الاحوذى ميں ہے:
" يہ حديث اس كى صريح نص اور دليل ہے كہ ايك بكرى آدمى اور اس كے گھروالوں كى جانب سے كافى ہے چاہے ان كى تعداد زيادہ ہى ہو، اور حق بھى يہى ہے۔
(2) عَنْ عَطَاءِ بْنِ یَسَارٍ قَالَ سَأَلْتُ اَبَا اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیَّ کَیْفَ کَانَتِ الضَّحَایَا فِیْکُمْ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اﷲِ قَالَ کَانَ الرَّجُلُ فِیْ عَھْدِ النَّبِیِّ یُضَحِّیْ بِالشَّاۃِ عَنْہُ وَ عَنْ اَھْلِ بَیْتِہٖ فَیَاْکُلُوْنَ وَ یُطْعِمُوْنَ حَتّٰی تَبَاھَی النَّاسُ فَصَارَکَمَا تَرَی .
( ابن ماجہ : ابواب الاضاحی ‘ باب من ضحی بشاۃ عن اھلہ‘ رقم 3147:)
حضرت عطاء نے ابوایوب سے پوچھا کہ آنحضور ﷺ کے عہد میں قربانیوں کا کیا حال تھا؟ انھوں نے جواب دیا کہ عہد نبوی میں ایک آدمی ایک بکری اپنی طرف سے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے قربانی دیتا تھا۔۔۔ کبھی کھاتے اور کبھی اوروں کو کھلاتے۔ یہاں تک کہ فخرو مباہات شروع ہو گیا‘ جیسے تم دیکھ رہے ہو۔
(3) عَنْ اَبِیْ سَلْمَۃَ عَنْ عَائشَۃَ وَ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ کَانَ اِذَا اَرَادَ اَنْ یُّضَحِّیَ اِشْتَرٰی کَبَشَیْنِ عَظِیْمَیْنِ سَمِیْنَیْنِ اَقْرَن�

Wednesday, July 27, 2016

حدیث کا سب سے بڑا جانکا رہی سب سے بڑا فقیہ ہوتاہے

حدیث کا سب سے بڑا جانکا رہی سب سے بڑا فقیہ ہوتاہے۔
===================

کفایت اللہ سنابلی

بعض لوگوں‌ نے معلوم نہیں کہاں‌ سے یہ سمجھ لیا ہے کہ فقیہ کا مطلب ہوتا ہے حددرجہ ذہین ، و تیز دماغ !!!!!!

اب سوال یہ کہ کیا فقیہ کا واقعی یہی مفہوم ہے، اورفقہ صرف تیز دماغی کا نام ہے اگر یہ بات ہے تب تو وہ بہت بڑا ظالم شخص ہوگا تو محترم ڈاکٹرذاکرنائیک صاحب کو فقیہ عصر نہ مانے ، مولانا وحیدالدین خان صاحب کو فقیہ دھر نہ مانے ، مولانا مودودی صاحب کو رئیس الفقہاء نہ مانے ، مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ کو امیرالمؤمنین فی الفقہ نہ مانے ،کیونکہ ان حضرات کی ذہانت و تیز دماغی مسلم ہے ، بالخصوص مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ کے بارے میں تو کہا جاتا ہے کہ شبلی نعمانی نے کہا کہ آزاد دماغ عجائب خانہ میں رکھنے کے قابل ہے، واللہ اعلم ۔

یاد رہے کہ میں نے مثال میں ان شخصیات کو پیش کیا ہے جنہوں نے اپنی عمرکا بہت بڑا حصہ فہم دین میں صرف کیاہے، اورڈاکڑ ذاکرنائیک کے علاوہ دیگرشخصیات کو تو مولانا کے لقب سے یاد کیا جاتاہے۔
کیا علوی بھائی مذکورہ شخصیات کواپنے عصرکے عظیم فقہاء تسلیم کریں گے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

اب آئیے دیکھتے ہیں فقیہ کا مطلب کیا ہوتا ہے :
ارشاد باری ہے:
{ وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَافَّةً فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ } [التوبة: 122]
سوال یہ ہے کہ اس آیت میں کون سی فقہ حاصل کرنے کا حکم ہے ؟؟؟؟؟
کیا صرف ذہانت اور اس کا استعمال مراد ہے ؟؟؟؟؟؟؟
اگر یہی مراد ہے تو تفقہ کے لئے انہیں گھر سے نکلنے کی ضرورت ہی نہیں ، کیونکہ یہ حکم مسلمانوں کو ہورہاہے اور ہرمسلمان کے پاس دین کی بنیادوں باتوں کا علم ہوتا ہے اب اگرصرف ذہانت کی بنا پر بڑی سے بڑی فقاہت حاصل کی جاسکتی ہے تو یہ کام گھربیٹے بھی ہوسکتاہے !!!
اب اگر مذکورہ آیت میں فقہیہ بنانا مقصود تھا تو صرف کہنا چاہئے تھا کہ دین کا تمہارے پاس جس قدر بھی علم ہے اس میں اپنی ذہانت کو استعمال کرکے گھربیٹھے فقیہ بن جاؤ!!!!!!!!!

الغرض کہنے کامطلب یہ کے فقیہ کا مطلب عظیم ذہانت کا مالک ہونا نہیں بلکہ احکام دین سے واقف ہوناہے اور جس کے پاس احادیث کا جنتا زیادہ علم ہوگا اسے اسی کے بقدر فقاہت نصیب ہوگی۔

فہم نصوص کا دار مدار عقل وذہانت پر نہیں
یہ بات بھی غورطلب ہے کہ کیا نصوص کو محض اپنی عقل سے جس طرح چاہیں سمجھ سکتے ہیں ؟؟؟؟؟ کیاکسی شخص کو یہ اجازت ہے کہ وہ کسی نص شرعی کا جومفہوم اپنی عقل سے سمجھیں وہی مفہوم اسے پہنادے، اگر فہم نصوص کا دار ومدار عقل و ذہانت پر ہے تو آج سلفیت اور فھمنا مقید بفہم السلف کا نعرہ ایک لغو چیز ہ�

گرگٹ یا چهپکلی کو مارنے کا حکم

- گرگٹ یا چهپکلی کو مارنے کا حکم
〰〰〰〰〰〰〰〰
1⃣اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْوَزَغِ وَسَمَّاهُ فُوَيْسِقًا۔(صحیح مسلم، کتاب السلام، باب استحباب قتل الوزغ)
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ’وزغ‘ کو قتل کرنے کا حکم دیا اور اسے ’فاسق“ قرار دیا ہے۔

ایک اور روایت کے الفاظ ہیں:
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْوَزَغِ وَقَالَ كَانَ يَنْفُخُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام۔(صحیح بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، باب قول اللہ تعالی واتخذ اللہ ابراھیم خلیلا)
اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ’وزغ‘ کو قتل کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے جلائی آگ میں پھونکیں مارتی تھی۔

بعض روایات میں ’وزغ‘ کو قتل کرنے کے بارے اجر وثواب کا بھی تذکرہ ہے۔(سنن الترمذی، کتاب الاحکام والفوائد، باب ماجاءفی قتل الوزغ)

2⃣پس ’وزغ‘ کو مارناسنت اور باعث اجر وثواب فعل ہے۔
شیخ صالح العثیمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
أما قتل الوزغ فإنه سنة وفيه أجر عظيم۔(فتاوی نور علی الدرب:جزء111، ص41، المکتبة الشاملة)
’وزغ‘ کا قتل کرنا سنت ہے اور اس میں اجر عظیم ہے۔

3⃣’وزغ‘ کی بہت سی اقسام ہیں اور ہمارے ہاں گھروں میں پائی جانے والی چھپکلیاں اس کی ایک قسم ہیں۔عربی میں ’وزغ‘ کا ترجمہ ’سام ابرص‘ اور انگریزی میں’گیکو‘ کہتے ہیں۔

مقصود یہ ہے کہ چھپکلی بھی ’وزغ‘ ہی کی ایک قسم ہے اور اسے ”وزغ‘ سے نکالنا درست نہیں ہے۔

4⃣’وزغ‘ کو مارنے کی حکمت اس کا فاسق اور موذی ہونا ہے یعنی ایذا دینے والی مخلوق ہے اور ایذا دینے والی مخلوق کو ہلاک کرنے کا اسلام حکم دیتا ہے تا کہ نوع انسانی کو اس کی ایذا سے بچایا جائے۔ کتنے ہی ایسے واقعات سننے اور اخبارات میں پڑھنے کو ملتے ہیں کہ چھپکلی کھانے یا پینے کی کسی شیء میں گر گئی اور اس کے زہریلے پن سے اہل خانہ کی موت واقع ہو گئی۔

5⃣اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روایت میں بتلایا ہے کہ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آگ کو پھونکیں مارتی تھی۔اس روایت میں چھپکلی کی فطرت کی طرف بھی اشارہ کیا گیاہے جیسا کہ سانپ اور بچھو کی فطرت ڈنگ مارنا ہے۔ پس چھپکلی کی فطرت اہل ایمان کی عداوت اور ان کے ساتھ بغض کااظہار ہے۔
یہ واضح رہے کہ یہ چھپکلی کو مارنے کی علت کا بیان نہیں ہے جیسا کہ بعض لوگوں کاخیال ہے کیونکہ جس چھپکلی نے پھونکیں ماری تھیں، وہ ، وہ نہیں ہے جسے آج ہمیں قتل کرنے کاحکم دیا گیا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب


➖➖➖➖➖➖➖➖