Wednesday, July 27, 2016

شب معراج کی حقیقت | محدث فورم [Mohaddis Forum] -

شب معراج کی حقیقت | محدث فورم [Mohaddis Forum] - http://forum.mohaddis.com/threads/%D8%B4%D8%A8-%D9%85%D8%B9%D8%B1%D8%A7%D8%AC-%DA%A9%DB%8C-%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA.6820/

حلال و حرام

حلال و حرام جانور/حدیث:241 مكتب توعية الجاليات - حلال و حرام جانور/حدیث:241 مكتب توعية الجاليات الغاط - http://www.islamidawah.com/play.php?catsmktba=1456

شب معراج کی حقیقت

شب معراج کی حقیقت
💥💥💥💥💥💥
الحمدللّٰہ رب العالمین،والصلاۃ والسلام علی نبینا محمد ﷺ،وعلی آلہ وصحبہ ومن دعا بدعوتہ الی یوم الدین ۔أما بعد
بیشک اسراء ومعراج اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین نشانیوں میں سے ہے جو رسول اللہ ﷺ کی صداقت اور اللہ کے نزدیک ان کے بلند مرتبے کی دلیل ہے۔جیساکہ اللہ تعالیٰ کی واضح قدرت اور تمام مخلوقات پر اس کی بڑائی کی بھی دلیل ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
((سُبْحٰنَ الَّذِیْ أَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَا مِ اِلٰی الْمَسْجِدِ الْأَقْصٰی الَّذِیْ بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ لِنُرِیَہٗ مِنْ ئٰ ایٰتِنَا اِنَّہٗ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ)) [الاسرائ:۱]
’’پاک ہے وہ اللہ تعالیٰ جو اپنے بندے کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصی تک لے گیاجس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے،اس لئے کہ ہم اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائیں ،یقینا اللہ تعالیٰ ہی خوب سننے دیکھنے والا ہے۔‘‘
نبی کریمﷺسے تواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ ان کو معراج کروایا گیا اور ان کے لئے سارے آسمانوں کے دروازے کھول دئیے گئے حتی رسول اللہ ﷺ ساتویں آسمان کو بھی کراس کر گئے ۔جہاں اللہ تعالیٰ نے ان سے جو چاہا گفتگو کی اور ان پر پچاس نمازیں فرض کیں ۔نبی کریمﷺ مسلسل مراجعہ کرتے رہے اوراللہ تعالیٰ سے تخفیف کا سوال کرتے رہے حتی کہ پانچ نمازیں کر دی گئیں۔اب ادائیگی میں پانچ نمازیں فرض ہیں لیکن اجر پچاس نمازوں کا ہی ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر نیکی کا اجر دس گنا زیادہ کر کے دیتے ہیں جو ہم پر اللہ کا احسان اور کرم ہے۔فللّٰہ الحمد۔
جس رات نبی کریمﷺ کو معراج کروایا گیا اس رات کی تعیین کسی بھی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔اور اس رات کی تعیین کے سلسلے میں جو کچھ بھی وارد ہے اہل علم بالحدیث کے نزدیک وہ نبی کریمﷺ سے ثابت نہیں ہے۔اس رات کو بھلا دینے میں بھی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی حکمت ہے۔
اور اگر اس رات کی تعیین ثابت بھی ہو جائے تو تب بھی مسلمانوں کے لئے اس رات میں کوئی خاص عبادت کرنا یا محافل منعقد کرنا جائز نہیں ہے۔کیونکہ محافل منعقد کرنا اگر کوئی شرعی امر ہوتا تو نبی کریم ﷺ اپنی امت کے لئے قول یا فعل سے ضرور اس کو بیان فرما دیتے اور صحابہ کرام اس عمل کو ہم تک ضرور نقل کرتے۔کیونکہ صحابہ کرام نے نبی کریمﷺ سے ہر اس چیز کو بحفظ وامان ہم تک پہنچا دیا ہے جس کی امت محتاج تھی اور اس سلسلے میں انہوں کوئی کوتاہی نہیں کی ۔بلکہ وہ خیر میں سبقت لے جانیوالے تھے اگر اس رات کو محافل منعقد کرنا مشروع ہوتا تو صحابہ کرام سب سے پہلے اس کام کو کرتے۔
نبی کریمﷺ لوگوں کے ساتھ سب سے زیادہ خیر خواہ تھے اور انہوں نے رسالت کوکامل واکمل حالت میں ہم تک پہنچا دیا اور اپنی امانت ادا کر دی۔اگر اس رات کی تعظی�

حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا

حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا
==================
مقبول احمد سلفی
لوگوں میں عام طور سے ایک غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے سے حج فرض ہوجاتا ہے یا یہ کہ حج کے مہینوں میں بغیر حج کے عمرہ نہیں کرنا چاہئے ۔
حج کے مہینے شوال ، ذی القعدہ اور ذی الحجہ ہیں۔
جیسے عمرہ کرنا دیگر مہینوں میں مسنون ہے ویسے ہی کسی کے لئے بغیر حج کی نیت کے عمرہ کرنا مسنون ہے یعنی اشہر حج میں عمرہ کرنے سے حج فرض نہیں ہوجاتا۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
فَهُنَّ لَهُنَّ وَلِمَنْ أَتٰی عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ (مسلم)
ترجمہ : نبی کريم صلى الله عليه وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے جس وقت آپ نے ان يہ سب مواقيت ان لوگوں كے لئے ہيں جو وہاں کے رہنے والے ہيں اور ان کے علاوہ لوگوں کے لئے بھی ہيں جو وہاں سے حج يا عمره ادا كرنے کے ارادہ سے گزريں۔
اس حدیث سے حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کی دلیل ملتی ہے ۔ نیز نبی ﷺ سے بھی حج کے مہینوں میں حج کے بغیر عمرہ کرنے کا ثبوت ملتا ہے چنانچہ آپ ﷺ سے چار عمرہ کرنے کا ثبوت ملتا ہے اور یہ سارے عمرے ذوالقعدہ میں آپ نے ادا فرمایا ، اور سبھی جانتے ہیں کہ ذوالقعدہ حج کے مہینوں میں سے ایک مہینہ ہے ۔ بخاری و مسلم میں موجود ہے ۔

عن أنس رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم اعتمر أربع عُمر كلهن في ذي القعدة إلا التي مع حجته :عمرة من الحديبية أو زمن الحديبية في ذي القعدة ، وعمرة من العام المقبل في ذي القعدة ، وعمرة من جِعْرانة حيث قسم غنائم حنين في ذي القعدة ، وعمرة مع حجته۔ (صحیح البخاري :4148 وصحیح مسلم :1253)
ترجمہ : امام بخاری اورمسلم رحمہما اللہ نے انس رضي اللہ تعالی سے بیان کیا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چارعمرے کیے اوریہ سارے عمرے ذی القعدہ کے مہینہ میں تھے صرف وہ عمرہ جوآپ نے حج کےساتھ کیا وہ نہيں ۔

امام نووی رحمہ اللہ تعالی اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے کہتے ہیں:
انس اورابن عمررضی اللہ تعالی عنہما کی حدیث کا حاصل یہ ہے کہ دونوں کا چارعمروں میں اتفاق ہے اوران میں سے ایک چھ ہجری ذی القعدہ کے مہینہ میں حدیبیہ کےسال تھا اس میں انہیں روک دیا گيا تھا تووہ حلال ہوگئے اوران کے لیے یہ عمرہ شمار کرلیا گیا ۔
اوردوسرا عمرہ ذي القعدہ سات ھجری میں عمرہ قضاء تھا ، اورتیسرا عمرہ ذي القعدہ آٹھ ھجری میں جسے عام الفتح کہا جاتا ہے میں کیا ، اورچوتھا عمرہ آپ صلی اللہ وسلم نے اپنے حج کےساتھ کیا اوراس کا احرام ذی القعدہ میں تھا اور عمل ذی الحجہ میں کیا۔

لہذا کوئی شخص بغیر حج کی نیت کے عمرہ ادا کرسکتا ہے ، چاہے تو متعدد بار بھی ادا کرسکتا ہے ، اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، اور اہل علم کے مابین بھی اس سلسلے میں اختلاف نہیں پایا جاتا ۔

واللہ اعلم

مہر کی ادائیگی

مہر کی ادائیگی
==============
مہر عورت کا حق ہے اور مرد کے ذمہ اس کی ادائيگی واجب ہے ۔ اس کے وجوب کے بہت سے دلائل ہیں جن میں سے کچھ ذيل میں ذکر کی جاتی ہیں :

ارشادی باری تعالی ہے :

{ اورعورتوں کو ان کے مہر راضي خوشی دے دو } النساء ( 4 ) ۔

ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما کہتے ہیں کہ نحلہ سے مہر مراد ہے ۔

حافظ ابن کثيررحمہ اللہ تعالی اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے مفسرین کی کلام میں کہتے ہيں:

مرد پر واجب ہے کہ وہ واجبی طور پر بیوی کومہرادا کرے اوریہ اسے راضی وخوشی دینا چاہیے ۔

اللہ سبحانہ وتعالی کا ایک مقام پر کچھ اس طرح فرمان ہے :

{ اوراگرتم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی کرنا ہی چاہو اوران میں سے کسی تم نے خزانہ کا خزانہ بھی دے رکھا ہو توبھی اس میں سے کچھ نہ لو ، کیا تم اسے ناحق اورکھلاگناہ ہوتے ہوئے بھی لے لو گے ، تم اسے کیسے لے لو گو، حالانکہ تم ایک دوسرے سے مل چکے ہو اوران عورتوں نے تم سے مضبوط عہدوپیمان لے رکھا ہے } النساء ( 20 - 21 ) ۔

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ تعالی اس کی تفسیر میں کہتے ہیں :

یعنی جب تم کسی بیوی کوچھوڑنا چاہو اوراس کے بدلےمیں کسی اور عورت سےشادی کرنا چاہو توپہلی کو دیے گئے مہرمیں سے کچھ بھی واپس نہ لو چاہے وہ کتنا بڑا خزانہ ہی کیوں نہ ہو ، کیونکہ مہر تو اس ٹکڑے کے بدلے میں ہے ( یعنی جس کی وجہ سے اس سے ہم بستری جائز ہوئي ہے ) ۔

اوراسی لیے اللہ تعالی نے یہ فرمایا ہے :

{ تم اسے کس طرح لے سکتے ہو حالانکہ تم ایک دوسرے سے مل ( ہم بستری کر ) چکے ہو } اورمیثاق غلیظ عہد وپیمان اورعقد ہے ۔

حدیث شریف میں ہے کہ :

انس بن مالک رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ عبدالرحمن بن عوف رضي اللہ تعالی عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے توان پر زرد رنگ کے نشان تھے ، تورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ یہ کیا توانہوں نے بتایا کہ ایک انصاری عورت سے شادی کی ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے :

مہر کتنا دیا ہے ؟ انہوں نے جواب میں کہا کہ ایک گٹھلی کھجور کے برار سونا ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے : ولیمہ کرو چاہے ایک بکری سے ہی ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 4756 ) ۔

مہر کو پہلے بھی ادا کرسکتے ہیں ، یا کچھ پہلے دیدیں اور کچھ بعد میں جیسادونوں میں اتفاق ہوجائے ۔ اور مشکل ہو تو تھوڑا تھوڑا کرکے قسطوں کی طرح بھی ادا کرسکتے ہیں۔

واللہ اعلم

----------------

تمام محدثین رفع یدین کرتے تھے

تمام محدثین رفع یدین کرتے تھے
===================
رفع یدین کی احادیث مختلف صحابہؓ سے تمام کتب احادیث میں مروی ہیں۔ جو اس بات کی دلیل ہے کہ حدیث کو جمع کرنے والے اور حدیث پہ بحث و تحقیق کرنے والے تمام محدثین رفع یدین کرتے تھے ۔
نمونے کے طور پہ ایک دلیل پیش خدمت ہے جو سب سے صحیح حدیث ہے اور یہ حضرت عبداﷲ بن عمرؓ کی ہے جو صحاح ستہ اور دیگر تمام کتب حدیث میں مذکور ہے۔ وہ حدیث یہ ہے :
(( عَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ عُمَرَ قَالَ رَأیْتُ رَسُوْلَ اﷲِ اِذَا قَامَ فِی الصَّلاَۃِ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتّٰی تَکُوْنَا حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ وَ کَانَ یَفْعَلُ ذٰلِکَ حِیْنَ یُکَبِّرُ لِلرَّکُوْعِ وَ یَفْعَلُ ذٰلِکَ اِذَا رَفَعَ رَاْسَہ‘ مِنَ الرَّکُوْعِ وَ یَقُوْلُ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ‘ وَ لاَ یَفْعَلُ ذٰلِکَ فِی السُّجُوْدِ))
عبداﷲ بن عمرؓ فرماتے ہیں ‘ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و سلم کودیکھا کہ وہ شروع نماز میں اور رکوع میں جاتے اور رکوع سے سراٹھاتے وقت رفع یدین کیا کرتے تھے اور سجدہ میں آپ ایسا نہیں کرتے تھے۔

حوالہ :
(بخاری ‘ کتاب الاذان‘ باب الی این یرفع یدیہ ‘رقم 736:۔۔۔ مسلم: کتاب الصلٰوۃ ‘ باب استحباب رفع الیدین حذوالمنکبین مع تکبیرہ الاحرام والرکوع و فی الرفع من الرکوع و انہ لا یفعلہ اذا رفع من السجود ‘ رقم 211:۔۔۔ ابوداؤد: کتاب الصلوۃ‘ باب رفع الیدین فی الصلوۃ ‘رقم721:۔۔۔ ترمذی: کتاب الصلٰوۃ ‘ باب رفع الیدین عند الرکوع ‘ رقم 255:۔۔۔ نسائی : کتاب الافتتاح ‘ باب رفع الیدین حذوا المنکبین ‘رقم879: ۔۔۔ ابن ماجۃ : کتاب ابواب اقامۃ الصلوات و السنۃ فیھا ص2548‘ رقم (858:
-----------------------------خ

رفع الیدین کے بارے میں سوالات اور ان کے جوابات

رفع الیدین کے بارے میں سوالات اور ان کے جوابات
➖➖➖➖➖➖➖➖➖
سوال1۔رفع الیدین کرنا سنت ہے۔ مؤکدہ ہے یا غیر مؤکدہ سنت ہے؟
جواب :صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو رفع الیدین کرتے، جب رکوع جاتے تو رفع الیدین کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو رفع الیدین کرتے۔ سجدہ میں آپ رفع الیدین نہیں کیا کرتے تھے۔ ( صحیح بخاري، الاذان، باب رفع الیدین فی التکبیرة الاولی مع الافتتاح سواء ، صحیح مسلم، الصلاة، باب استحباب رفع الیدین حذو المنکبین)
اور صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دو رکعتوں سے اٹھتے تو رفع الیدین کرتے۔ ( صحیح بخاری ؍ کتاب الاذان ؍ باب رفع الیدین اذا قام من الرکعتین)
شروع نمازِ تکبیر تحریمہ کے وقت رفع الیدین کی جو حیثیت ہے رکوع والے رفع الیدین کی بھی وہی حیثیت ہے۔

سوال 2۔  رفع الیدین کے بغیر نماز ہوسکتی ہے یا نہیں؟
جواب : رفع الیدین کے بغیر نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والی نماز نہیں ہوتی۔

سوال 3۔  رفع الیدین نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری نمازوں میں کی ہے؟
جواب : صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے حوالہ سے لکھا جاچکا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع جاتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو رفع الیدین کرتے اور معلوم ہے آخری نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا اور رکوع سے سر بھی اٹھایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رفع الیدین بھی کیا۔ پھر ان سے پوچھیں شروع نماز والا رفع الیدین اور وتروں کی تیسری رکعت والا رفع الیدین آخری نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے؟ دلیل پیش کریں ورنہ انہیں بھی چھوڑ دیں۔

سوال 4۔  رفع الیدین کے متعلق کتاب و سنت کی روشنی میں کتنی حدیثیں آتی ہیں؟
جواب : رفع الیدین کرنے کی احادیث بہت زیادہ ہیں۔ البتہ ان کی تعداد کتاب و سنت میں کہیں نہیں آئی۔ ہاں صاحب نیل الفرقدین  نے لکھا ہے رفع الیدین کرنے کی بارہ احادیث صحیح ہیں۔  (نیل الفرقدین فی مسئلۃ رفع الیدین ص:۵۳ للأستاذ مولانا محمد انور شاہ صاحب کشمیری)

سوال 5۔   رفع الیدن سجدہ سے سر اٹھاتے وقت نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے یا نہیں؟
جواب : صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجود میں رفع الیدین نہیں کیا کرتے تھے۔ (صحیح بخاري، کتاب الأذان، باب استحباب رفع الیدین حذوالمنکبین مع تکبیرة الاحرام والرکوع وفی الرفع من الرکوع وانه لا یفعله إذا رفع من السجود)

سوال 6۔   رفع الیدین علماء کہتے ہیں ۱۰ نیکیاں ملتی ہیں۔ ثبوت ہے یا نہیں؟
جواب : قرآنِ مجید میں ہے: ﴿مَن جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ‌ أَمْثَالِهَا ۖ ﴾ (الأنعام:۱۶۰)
’’ جو کوئی اللہ کے  ہاں نیکی لے کر آئ�