قرآن کریم پر اعراب لگانا بدعت ہے ؟
========================
ﺍﮨﻞ ﺑﺪﻋﺖ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺑﺎﺭﺑﺎﺭﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺍﭨﮭﺎﺋﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻗﺮﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﮯ ﺯﺑﺮ ﺯﯾﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﺑﻌﺪﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎﮨﮯ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺍﭼﮭﯽ ﭼﯿﺰﮨﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺩﯾﻦ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﻋﺖ ﺣﺴﻨﮧ ﮐﯽ ﮔﻨﺠﺎﺋﺶ ﮨﮯ۔
ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﺳﻮﭺ ﻏﻠﻂ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺧﻮﻓﻨﺎﮎ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻗﺮﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﮯ ﺯﯾﺮﺯﺑﺮﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ، ﺳﭻ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻗﺮﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺯﺑﺮﺯﯾﺮ ﺗﺐ ﺳﮯ ﮨﮯ ﺟﺐ ﺳﮯ ﻗﺮﺍﻥ ﮨﮯ، ﺍﻟﺒﺘﮧ ﺍﺳﮯ ﻟﮑﮭﺎ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ،ﺍﻭﺭﺑﻌﺪﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺩﻟﯿﻞ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ ، ﻟﮑﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺩﻟﯿﻞ ﮨﻢ ﺁﮔﮯ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﮯ ﺩﻻﺋﻞ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﮟ ﮐﮧ ﻗﺮﺍﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﺯﯾﺮﺯﺑﺮﻧﯿﺎﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ،ﻣﻼﺣﻈﮧ ﮨﻮ:
(1)ﭘﮩﻠﯽ ﺩﻟﯿﻞ:
ﻗﺮﺍﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﮨﻢ ﺗﮏ ﺗﻼﻭﺕ ﮨﻮﮐﺮﭘﮩﻨﭽﺎﮨﮯ،ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﻼﻭﺕ ﮐﯽ ،ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺍﺭﺷﺎﺩﮨﮯ:
ﺗِﻠْﻚَ ﺁﻳَﺎﺕُ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﻧَﺘْﻠُﻮﻫَﺎ ﻋَﻠَﻴْﻚَ ﺑِﺎﻟْﺤَﻖِّ [ﺍﻟﺠﺎﺛﻴﺔ: 6]
ترجمہ : ﯾﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺁﯾﺘﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﮨﻢ ﺗﻢ ﭘﺮﺣﻖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﻼﻭﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ( ﯾﻌﻨﯽ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﮨﯿﮟ )۔
ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﺒﺮﺋﯿﻞ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻗﺮﺍﻥ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻧﺒﯽ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎﯾﺎ:
ﻭَﺇِﻧَّﻪُ ﻟَﺘَﻨْﺰِﻳﻞُ ﺭَﺏِّ ﺍﻟْﻌَﺎﻟَﻤِﻴﻦَ (192) ﻧَﺰَﻝَ ﺑِﻪِ ﺍﻟﺮُّﻭﺡُ ﺍﻟْﺄَﻣِﻴﻦُ (193) ﻋَﻠَﻰ ﻗَﻠْﺒِﻚَ ﻟِﺘَﻜُﻮﻥَ ﻣِﻦَ ﺍﻟْﻤُﻨْﺬِﺭِﻳﻦَ(194) ﺑِﻠِﺴَﺎﻥٍ ﻋَﺮَﺑِﻲٍّ ﻣُﺒِﻴﻦٍ (195) [ﺍﻟﺸﻌﺮﺍﺀ: 192 - 195]
ترجمہ: ﺍﻭﺭ ﺑﯿﺸﮏ ﻭ ﺷﺒﮧ ﯾﮧ ( ﻗﺮﺁﻥ ) ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺎﻟﻤﯿﻦ ﮐﺎ ﻧﺎﺯﻝ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔ﺍﺳﮯ ﺍﻣﺎﻧﺖ ﺩﺍﺭ ﻓﺮﺷﺘﮧ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ ،ﺁﭖ ﮐﮯ ﺩﻝ ﭘﺮﺍﺗﺮﺍ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺁﮔﺎﮦ ﮐﺮ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﻮﺟﺎﺋﯿﮟ ،ﺻﺎﻑ ﻋﺮﺑﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ۔
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪﺟﺒﺮﺋﯿﻞ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﻗﺮﺍﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﮐﻮ ﭘﮍﮪ ﮐﺮﺍﻭﺭﺗﻼﻭﺕ ﮐﺮﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﻮ ﺳﮑﮭﺎ ﯾﺎ ﮨﮯ، ﺑﺨﺎﺭﯼﻣﯿﮟ ﮨﮯ:
ﻭَﻛَﺎﻥَ ﻳَﻠْﻘَﺎﻩُ ﻓِﻲ ﻛُﻞِّ ﻟَﻴْﻠَﺔٍ ﻣِﻦْ ﺭَﻣَﻀَﺎﻥَ ﻓَﻴُﺪَﺍﺭِﺳُﻪُ ﺍﻟﻘُﺮْﺁﻥَ (ﺻﺤﯿﺢ ﺍﻟﺒﺨﺎﺭﯼ (/1 8) ﺭﻗﻢ 6 )
ترجمہ:ﯾﻌﻨﯽ ﺟﺒﺮﺋﯿﻞ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﮐﯽ ﮨﺮﺭﺍﺕ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﮐﺮﻡ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺳﮯ ﻣﻠﺘﮯ ﺍﻭﺭﺁﭖ ﮐﻮﻗﺮﺍﻥ ﭘﮍﮬﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﺍﻭﺭﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻧﺒﯽ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻗﺮﺍﻥ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﮨﯽ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﮐﻮﺑﺘﻼﯾﺎ ﮨﮯ۔
ﺍﺏ ﺳﻮﺍﻝ ﯾﮧ ﮨﮯ �
Wednesday, July 27, 2016
Monday, July 25, 2016
اہل تقلید کا باطل شبہ اور اس کا رد
اہل تقلید کا باطل شبہ اور اس کا رد
=====================
پیشکش مع اضافہ : مقبول احمد سلفی
مقلدوں کو جب منہ کی کھانی پڑی تو اب جاکے یہ کہنے لگے کہ مجتہد کے لئے تقلید ضروری نہیں ساتھ ہی ایک شوشہ چھوڑا جاتا ہے کہ جو غیر مجتہد ہیں ان کے لئے تقلید ضروری ہے وجہ یہ پیش کی جاتی ہے کہ قرآن و حدیث کے بہت سے مسائل غیر منصوص ہیں ، ان مسائل میں غیر مجتہد کو تقلید کرنا ضروری ہے ۔
ہم یہ کہتے ہیں کہ جتنی کمزور مقلد کی تقیلدی دیوار ہے اتنا ہی کمزور یہ شبہ بھی ہے ۔ آئیے اس شبہ کی حقیقت دیکھتے ہیں۔
ظاہر سی بات ہے تقلیدی شبہ کے لئے پہلے تقلید کو لغت اور اصطلاح سے معلوم کرنا پڑے گا۔
تقلید کا لغوی معنی:
.
المعجم الوسیط، القاموس الوحید، مصباح اللغات ، المنجد، حسن اللغات اورجامع اللغات وغیرہ میں تقلید کی جو لغوی تعریف کی گئی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ (دین میں)بے سوچے سمجھے، آنکھیں بند کرکے، بغیر دلیل و بغیر حجت کے، بغیر غوروفکر کسی شخص کی (جو نبی نہیں ہے)پیروی واتباع کرنا تقلید کہلاتا ہے۔
.
تقلید کا اصطلاحی معنی:
.
مسلم الثبوت، فواتح الرحموت، ابن ہمام حنفی، ابن امیر الحاج، قاضی محمد اعلی تھانوی حنفی، الجرجانی حنفی، محمد بن عبدالرحمن عید المحلاوی الحنفی، عبیداللہ الاسعدی، قاری چن محمد دیوبندی، اشرف علی تھانوی، سرفراز خان صفدر دیوبندی اور مفتی احمد یار نعیمی وغیرہ کی تعریفات ان کی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے ، ہم یہاں طوالت کے خوف سے مذکورہ ان حنفی اصحاب علم کی تقلید کی تعریفات و تشریحات کا خلاصہ پیش کرتے ہیں ۔ تقلید یہ ہے کہ
(1)آنکھیں بند کرکے، بے سوچے سمجھے، بغیر دلیل وبغیر حجت کے کسی غیر نبی کی بات ماننا تقلید ہے۔
(2)قرآن وحدیث اور اجماع پرعمل کرنا تقلید نہیں ہے۔جاہل کا عالم سے مسئلہ پوچھنا اور قاضی کا گواہوں کی گواہی پر فیصلہ کرنا تقلید نہیں ہے۔
(3)اور تقلید اور اتباع بالدلیل میں فرق ہے۔
.
:::خلاصہ بحث:::
.
حنفیوں ودیوبندیوں وبریلویوں وشافعیوں و مالکیوں وحنبلیوں وظاہریوں وشارحین حدیث کی ان تشریحات سے سے معلوم ہوا کہ :تقلید کا مطلب یہ ہے کہ بغیر حجت وبغیر دلیل والی بات کو (بغیر سوچے سمجھے، اندھا دھند)تسلیم کرنا۔
(1)مختصراً یہ کہ آنکھیں بندکرکے، بےسوچے سمجھے، بغیردلیل اور بغیرحجت کے کسی غیرنبی کی بات ماننا تقلید ہے-
(2)قرآن،حدیث اور اجماع پرعمل کرنا تقلید نہیں ہے-
(3)جاہل کا عالم سےمسئلہ پوچھنا اور قاضی کا گواہوں کی گواہی پر فیصلہ کرنا تقلید نہیں ہے-
=====================
پیشکش مع اضافہ : مقبول احمد سلفی
مقلدوں کو جب منہ کی کھانی پڑی تو اب جاکے یہ کہنے لگے کہ مجتہد کے لئے تقلید ضروری نہیں ساتھ ہی ایک شوشہ چھوڑا جاتا ہے کہ جو غیر مجتہد ہیں ان کے لئے تقلید ضروری ہے وجہ یہ پیش کی جاتی ہے کہ قرآن و حدیث کے بہت سے مسائل غیر منصوص ہیں ، ان مسائل میں غیر مجتہد کو تقلید کرنا ضروری ہے ۔
ہم یہ کہتے ہیں کہ جتنی کمزور مقلد کی تقیلدی دیوار ہے اتنا ہی کمزور یہ شبہ بھی ہے ۔ آئیے اس شبہ کی حقیقت دیکھتے ہیں۔
ظاہر سی بات ہے تقلیدی شبہ کے لئے پہلے تقلید کو لغت اور اصطلاح سے معلوم کرنا پڑے گا۔
تقلید کا لغوی معنی:
.
المعجم الوسیط، القاموس الوحید، مصباح اللغات ، المنجد، حسن اللغات اورجامع اللغات وغیرہ میں تقلید کی جو لغوی تعریف کی گئی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ (دین میں)بے سوچے سمجھے، آنکھیں بند کرکے، بغیر دلیل و بغیر حجت کے، بغیر غوروفکر کسی شخص کی (جو نبی نہیں ہے)پیروی واتباع کرنا تقلید کہلاتا ہے۔
.
تقلید کا اصطلاحی معنی:
.
مسلم الثبوت، فواتح الرحموت، ابن ہمام حنفی، ابن امیر الحاج، قاضی محمد اعلی تھانوی حنفی، الجرجانی حنفی، محمد بن عبدالرحمن عید المحلاوی الحنفی، عبیداللہ الاسعدی، قاری چن محمد دیوبندی، اشرف علی تھانوی، سرفراز خان صفدر دیوبندی اور مفتی احمد یار نعیمی وغیرہ کی تعریفات ان کی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے ، ہم یہاں طوالت کے خوف سے مذکورہ ان حنفی اصحاب علم کی تقلید کی تعریفات و تشریحات کا خلاصہ پیش کرتے ہیں ۔ تقلید یہ ہے کہ
(1)آنکھیں بند کرکے، بے سوچے سمجھے، بغیر دلیل وبغیر حجت کے کسی غیر نبی کی بات ماننا تقلید ہے۔
(2)قرآن وحدیث اور اجماع پرعمل کرنا تقلید نہیں ہے۔جاہل کا عالم سے مسئلہ پوچھنا اور قاضی کا گواہوں کی گواہی پر فیصلہ کرنا تقلید نہیں ہے۔
(3)اور تقلید اور اتباع بالدلیل میں فرق ہے۔
.
:::خلاصہ بحث:::
.
حنفیوں ودیوبندیوں وبریلویوں وشافعیوں و مالکیوں وحنبلیوں وظاہریوں وشارحین حدیث کی ان تشریحات سے سے معلوم ہوا کہ :تقلید کا مطلب یہ ہے کہ بغیر حجت وبغیر دلیل والی بات کو (بغیر سوچے سمجھے، اندھا دھند)تسلیم کرنا۔
(1)مختصراً یہ کہ آنکھیں بندکرکے، بےسوچے سمجھے، بغیردلیل اور بغیرحجت کے کسی غیرنبی کی بات ماننا تقلید ہے-
(2)قرآن،حدیث اور اجماع پرعمل کرنا تقلید نہیں ہے-
(3)جاہل کا عالم سےمسئلہ پوچھنا اور قاضی کا گواہوں کی گواہی پر فیصلہ کرنا تقلید نہیں ہے-
اگر کسی موقع پر میری کسی کافر سے ٹکر ہو جائے
اگر کسی موقع پر میری کسی کافر سے ٹکر ہو جائے
حدثنا أبو عاصم ، عن ابن جريج ، عن الزهري ، عن عطاء بن يزيد ، عن عبيد الله بن عدي ، عن المقداد بن الأسود ، حدثني إسحاق ، حدثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد ، حدثنا ابن أخي ابن شهاب ، عن عمه ، قال أخبرني عطاء بن يزيد الليثي ، ثم الجندعي أن عبيد ، الله بن عدي بن الخيار أخبره أن المقداد بن عمرو الكندي ، وكان حليفا لبني زهرة ، وكان ممن شهد بدرا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم أخبره أنه قال لرسول الله صلى الله عليه وسلم أرأيت إن لقيت رجلا من الكفار فاقتتلنا ، فضرب إحدى يدى بالسيف فقطعها ، ثم لاذ مني بشجرة فقال أسلمت لله. آأقتله يا رسول الله بعد أن قالها فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تقتله ". فقال يا رسول الله ، إنه قطع إحدى يدى ، ثم قال ذلك بعد ما قطعها. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تقتله ، فإن قتلته فإنه بمنزلتك قبل أن تقتله ، وإنك بمنزلته قبل أن يقول كلمته التي قال ".
ہم سے ابو عاصم نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابنجریج نے ، ان سے زہری نے ، ان سے عطاء بنیزید لیثی نے ، ان سے عبیداللہ بن عدی نے اور ان سے حضرت مقدادبناسود رضی اللہ عنہ نے ۔ ( دوسری سند ) امامبخاری نے کہا اور مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے ، ان سے ابن شہاب کے بھتیجے ( محمد بن عبداللہ ) نے ، اپنے چچا ( محمد بن مسلم بن شہاب ) سے بیان کیا ، انہیں عطاء بنیزید لیثی ثم الجندعی نے خبر دی ، انہیں عبیداللہ بن عدی بن خیار نے خبردی اور انہیں مقداد بنعمرو کندی رضی اللہ عنہ نے ، وہ بنیزہرہ کے حلیف تھے اور بدر کی لڑائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ۔ انہوں نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اگر کسی موقع پر میری کسی کافر سے ٹکر ہو جائے اور ہم دونوںایک دوسرے کو قتل کرنے کی کوشش میں لگ جائیں اور وہ میرے ایک ہاتھ پر تلوار مار کر اسے کاٹ ڈالے ، پھر وہ مجھ سے بھاگ کر ایک درخت کی پناہ لے کر کہنے لگے ” میں اللہ پر ایمان لے آیا ۔ “ تو کیا یا رسول اللہ ! اس کے اس اقرار کے بعد پھر بھی میں اسے قتل کر دوں ؟ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم اسے قتل نہ کرنا ۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! وہ پہلے میرا ایک ہاتھ بھی کاٹ چکا ہے ؟ اور یہ اقرار میرے ہاتھ کاٹنے کے بعد کیا ہے ؟ آپ نے پھر بھی یہی فرمایا کہ اسے قتل نہ کرنا ، کیونکہ اگر تو نے اسے قتل کر ڈالا تو اسے قتل کرنے سے پہلے جو تمہارا مقام تھا اب اس کا وہ مقام ہو گا اور تمہارا مقام وہ ہو گا جو اس کا مقام ا
حدثنا أبو عاصم ، عن ابن جريج ، عن الزهري ، عن عطاء بن يزيد ، عن عبيد الله بن عدي ، عن المقداد بن الأسود ، حدثني إسحاق ، حدثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد ، حدثنا ابن أخي ابن شهاب ، عن عمه ، قال أخبرني عطاء بن يزيد الليثي ، ثم الجندعي أن عبيد ، الله بن عدي بن الخيار أخبره أن المقداد بن عمرو الكندي ، وكان حليفا لبني زهرة ، وكان ممن شهد بدرا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم أخبره أنه قال لرسول الله صلى الله عليه وسلم أرأيت إن لقيت رجلا من الكفار فاقتتلنا ، فضرب إحدى يدى بالسيف فقطعها ، ثم لاذ مني بشجرة فقال أسلمت لله. آأقتله يا رسول الله بعد أن قالها فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تقتله ". فقال يا رسول الله ، إنه قطع إحدى يدى ، ثم قال ذلك بعد ما قطعها. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تقتله ، فإن قتلته فإنه بمنزلتك قبل أن تقتله ، وإنك بمنزلته قبل أن يقول كلمته التي قال ".
ہم سے ابو عاصم نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابنجریج نے ، ان سے زہری نے ، ان سے عطاء بنیزید لیثی نے ، ان سے عبیداللہ بن عدی نے اور ان سے حضرت مقدادبناسود رضی اللہ عنہ نے ۔ ( دوسری سند ) امامبخاری نے کہا اور مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے ، ان سے ابن شہاب کے بھتیجے ( محمد بن عبداللہ ) نے ، اپنے چچا ( محمد بن مسلم بن شہاب ) سے بیان کیا ، انہیں عطاء بنیزید لیثی ثم الجندعی نے خبر دی ، انہیں عبیداللہ بن عدی بن خیار نے خبردی اور انہیں مقداد بنعمرو کندی رضی اللہ عنہ نے ، وہ بنیزہرہ کے حلیف تھے اور بدر کی لڑائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ۔ انہوں نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اگر کسی موقع پر میری کسی کافر سے ٹکر ہو جائے اور ہم دونوںایک دوسرے کو قتل کرنے کی کوشش میں لگ جائیں اور وہ میرے ایک ہاتھ پر تلوار مار کر اسے کاٹ ڈالے ، پھر وہ مجھ سے بھاگ کر ایک درخت کی پناہ لے کر کہنے لگے ” میں اللہ پر ایمان لے آیا ۔ “ تو کیا یا رسول اللہ ! اس کے اس اقرار کے بعد پھر بھی میں اسے قتل کر دوں ؟ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم اسے قتل نہ کرنا ۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! وہ پہلے میرا ایک ہاتھ بھی کاٹ چکا ہے ؟ اور یہ اقرار میرے ہاتھ کاٹنے کے بعد کیا ہے ؟ آپ نے پھر بھی یہی فرمایا کہ اسے قتل نہ کرنا ، کیونکہ اگر تو نے اسے قتل کر ڈالا تو اسے قتل کرنے سے پہلے جو تمہارا مقام تھا اب اس کا وہ مقام ہو گا اور تمہارا مقام وہ ہو گا جو اس کا مقام ا
ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے جہنم
ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے جہنم
حدثني إسحاق بن نصر ، حدثنا أبو أسامة ، عن الأعمش ، حدثنا أبو صالح ، عن أبي سعيد الخدري ـ رضى الله عنه ـ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " يقول الله تعالى يا آدم. فيقول لبيك وسعديك والخير في يديك. فيقول أخرج بعث النار. قال وما بعث النار قال من كل ألف تسعمائة وتسعة وتسعين ، فعنده يشيب الصغير ، وتضع كل ذات حمل حملها ، وترى الناس سكارى ، وما هم بسكارى ، ولكن عذاب الله شديد ". قالوا يا رسول الله وأينا ذلك الواحد قال " أبشروا فإن منكم رجل ، ومن يأجوج ومأجوج ألف ". ثم قال " والذي نفسي بيده ، إني أرجو أن تكونوا ربع أهل الجنة ". فكبرنا. فقال " أرجو أن تكونوا ثلث أهل الجنة ". فكبرنا. فقال " أرجو أن تكونوا نصف أهل الجنة ". فكبرنا. فقال " ما أنتم في الناس إلا كالشعرة السوداء في جلد ثور أبيض ، أو كشعرة بيضاء في جلد ثور أسود ".
مجھ سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، ان سے ابوصالح نے اور ان سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ( قیامت کے دن ) فرمائے گا ، اے آدم ! آدم علیہ السلام عرض کریں گے میں اطاعت کے لیے حاضر ہوں ، مستعد ہوں ، ساری بھلائیاں صرف تیرے ہی ہاتھ میں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ، جہنم میں جانے والوں کو ( لوگوں میں سے الگ ) نکال لو ۔ حضرت آدم علیہ السلام عرض کریں گے ۔ اے اللہ ! جہنمیوں کی تعداد کتنی ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے ۔ اس وقت ( کی ہولناکی اور وحشت سے ) بچے بوڑھے ہو جائیں گے اور ہر حاملہ عورت اپنا حمل گرا دے گی ۔ اس وقت تم ( خوف و دہشت سے ) لوگوں کو مدہوشی کے عالم میں دیکھو گے ، حالانکہ وہ بیہوش نہ ہوں گے ۔ لیکن اللہ کا عذاب بڑا ہی سخت ہو گا ۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! وہ ایک شخص ہم میں سے کون ہو گا ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں بشارت ہو ، وہ ایک آدمی تم میں سے ہو گا اور ایک ہزار دوزخی یاجوج ماجوج کی قوم سے ہوں گے ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، مجھے امید ہے کہ تم ( امت مسلمہ ) تمام جنت والوں کے ایک تہائی ہو گے ۔ پھر ہم نے اللہ اکبر کہا تو آپ نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ تم تمام جنت والوں کے آدھے ہو گے پھر ہم نے اللہ اکبر کہا ، پھر آپ نے فرمایا کہ ( محشر میں ) تم لوگ تمام انسانوں کے مقابلے میں اتنے ہو گے ج�
حدثني إسحاق بن نصر ، حدثنا أبو أسامة ، عن الأعمش ، حدثنا أبو صالح ، عن أبي سعيد الخدري ـ رضى الله عنه ـ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " يقول الله تعالى يا آدم. فيقول لبيك وسعديك والخير في يديك. فيقول أخرج بعث النار. قال وما بعث النار قال من كل ألف تسعمائة وتسعة وتسعين ، فعنده يشيب الصغير ، وتضع كل ذات حمل حملها ، وترى الناس سكارى ، وما هم بسكارى ، ولكن عذاب الله شديد ". قالوا يا رسول الله وأينا ذلك الواحد قال " أبشروا فإن منكم رجل ، ومن يأجوج ومأجوج ألف ". ثم قال " والذي نفسي بيده ، إني أرجو أن تكونوا ربع أهل الجنة ". فكبرنا. فقال " أرجو أن تكونوا ثلث أهل الجنة ". فكبرنا. فقال " أرجو أن تكونوا نصف أهل الجنة ". فكبرنا. فقال " ما أنتم في الناس إلا كالشعرة السوداء في جلد ثور أبيض ، أو كشعرة بيضاء في جلد ثور أسود ".
مجھ سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، ان سے ابوصالح نے اور ان سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ( قیامت کے دن ) فرمائے گا ، اے آدم ! آدم علیہ السلام عرض کریں گے میں اطاعت کے لیے حاضر ہوں ، مستعد ہوں ، ساری بھلائیاں صرف تیرے ہی ہاتھ میں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ، جہنم میں جانے والوں کو ( لوگوں میں سے الگ ) نکال لو ۔ حضرت آدم علیہ السلام عرض کریں گے ۔ اے اللہ ! جہنمیوں کی تعداد کتنی ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے ۔ اس وقت ( کی ہولناکی اور وحشت سے ) بچے بوڑھے ہو جائیں گے اور ہر حاملہ عورت اپنا حمل گرا دے گی ۔ اس وقت تم ( خوف و دہشت سے ) لوگوں کو مدہوشی کے عالم میں دیکھو گے ، حالانکہ وہ بیہوش نہ ہوں گے ۔ لیکن اللہ کا عذاب بڑا ہی سخت ہو گا ۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! وہ ایک شخص ہم میں سے کون ہو گا ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں بشارت ہو ، وہ ایک آدمی تم میں سے ہو گا اور ایک ہزار دوزخی یاجوج ماجوج کی قوم سے ہوں گے ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، مجھے امید ہے کہ تم ( امت مسلمہ ) تمام جنت والوں کے ایک تہائی ہو گے ۔ پھر ہم نے اللہ اکبر کہا تو آپ نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ تم تمام جنت والوں کے آدھے ہو گے پھر ہم نے اللہ اکبر کہا ، پھر آپ نے فرمایا کہ ( محشر میں ) تم لوگ تمام انسانوں کے مقابلے میں اتنے ہو گے ج�
مدینہ ” طیبہ “ ہے
مدینہ ” طیبہ “ ہے
حدثنا أبو الوليد ، حدثنا شعبة ، عن عدي بن ثابت ، سمعت عبد الله بن يزيد ، ، يحدث عن زيد بن ثابت ـ رضى الله عنه ـ قال لما خرج النبي صلى الله عليه وسلم إلى أحد ، رجع ناس ممن خرج معه ، وكان أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فرقتين ، فرقة تقول نقاتلهم. وفرقة تقول لا نقاتلهم. فنزلت { فما لكم في المنافقين فئتين والله أركسهم بما كسبوا} وقال " إنها طيبة تنفي الذنوب كما تنفي النار خبث الفضة ".
ترجمہ
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے عدی بن ثابت نے ، میں نے عبداللہ بنیزید سے سنا ، وہ زیدبنثابت رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ انہوں نے بیان کیا ، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہاحد کے لیے نکلے تو کچھ لوگ جو آپ کے ساتھ تھے ( منافقین ، بہانہ بنا کر ) واپس لوٹ گئے ۔ پھر صحابہ کی ان واپس ہونے والے منافقین کے بارے میں دو رائیں ہو گئیں تھیں ۔ ایک جماعت تو کہتی تھی ہمیں پہلے ان سے جنگ کرنی چاہیے اور دوسری جماعت کہتی تھی کہ ان سے ہمیں جنگ نہ کرنی چاہیے ۔ اس پر آیت نازل ہوئی ” پس تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ منافقین کے بارے میں تمہاری دو جماعتیں ہو گئیں ہیں ، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی بداعمالی کی وجہ سے انہیں کفر کی طرف لوٹا دیا ہے ۔ “ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ ” طیبہ “ ہے ، سرکشوں کو یہ اس طرح اپنے سے دور کر دیتا ہے جیسے آگ کی بھٹی چاندی کے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے ۔
حدثنا أبو الوليد ، حدثنا شعبة ، عن عدي بن ثابت ، سمعت عبد الله بن يزيد ، ، يحدث عن زيد بن ثابت ـ رضى الله عنه ـ قال لما خرج النبي صلى الله عليه وسلم إلى أحد ، رجع ناس ممن خرج معه ، وكان أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فرقتين ، فرقة تقول نقاتلهم. وفرقة تقول لا نقاتلهم. فنزلت { فما لكم في المنافقين فئتين والله أركسهم بما كسبوا} وقال " إنها طيبة تنفي الذنوب كما تنفي النار خبث الفضة ".
ترجمہ
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے عدی بن ثابت نے ، میں نے عبداللہ بنیزید سے سنا ، وہ زیدبنثابت رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ انہوں نے بیان کیا ، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہاحد کے لیے نکلے تو کچھ لوگ جو آپ کے ساتھ تھے ( منافقین ، بہانہ بنا کر ) واپس لوٹ گئے ۔ پھر صحابہ کی ان واپس ہونے والے منافقین کے بارے میں دو رائیں ہو گئیں تھیں ۔ ایک جماعت تو کہتی تھی ہمیں پہلے ان سے جنگ کرنی چاہیے اور دوسری جماعت کہتی تھی کہ ان سے ہمیں جنگ نہ کرنی چاہیے ۔ اس پر آیت نازل ہوئی ” پس تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ منافقین کے بارے میں تمہاری دو جماعتیں ہو گئیں ہیں ، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی بداعمالی کی وجہ سے انہیں کفر کی طرف لوٹا دیا ہے ۔ “ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ ” طیبہ “ ہے ، سرکشوں کو یہ اس طرح اپنے سے دور کر دیتا ہے جیسے آگ کی بھٹی چاندی کے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے ۔
ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بڑے تیرانداز تھے
غزوہ احد
ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بڑے تیرانداز تھے
حدثنا أبو معمر ، حدثنا عبد الوارث ، حدثنا عبد العزيز ، عن أنس ـ رضى الله عنه ـ قال لما كان يوم أحد انهزم الناس عن النبي صلى الله عليه وسلم وأبو طلحة بين يدى النبي صلى الله عليه وسلم مجوب عليه بحجفة له ، وكان أبو طلحة رجلا راميا شديد النزع ، كسر يومئذ قوسين أو ثلاثا ، وكان الرجل يمر معه بجعبة من النبل فيقول انثرها لأبي طلحة. قال ويشرف النبي صلى الله عليه وسلم ينظر إلى القوم ، فيقول أبو طلحة بأبي أنت وأمي ، لا تشرف يصيبك سهم من سهام القوم ، نحري دون نحرك. ولقد رأيت عائشة بنت أبي بكر وأم سليم ، وإنهما لمشمرتان أرى خدم سوقهما تنقزان القرب على متونهما ، تفرغانه في أفواه القوم ثم ترجعان فتملآنها ، ثم تجيئان فتفرغانه في أفواه القوم ، ولقد وقع السيف من يدى أبي طلحة إما مرتين وإما ثلاثا
صحیح بجاری 4064
.ترجمہ
ہم سے ابو معمر نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ، ان سے عبدالعزیز نے بیان کیا اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ احد میں جب مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے منتشر ہو کر پسپا ہو گئے تو حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے چمڑے کی ڈھال سے حفاظت کر رہے تھے ۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بڑے تیرانداز تھے اور کمان خوب کھینچ کر تیر چلایا کرتے تھے ۔ اس دن انہوں نے دو یا تین کمانیں توڑ دی تھیں ۔ مسلمانوں میں سے کوئی اگر تیر کا ترکش لیے گزرتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرماتے یہ تیر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے لیے یہیں رکھتے جاؤ ۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین کو دیکھنے کے لیے سر اٹھا کر جھانکتے تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ عرض کرتے ، میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ، سرمبارک اوپر نہ اٹھایئے کہیں ایسا نہ ہو کہ ادھر سے کوئی تیر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو لگ جائے ۔ میری گردن آپ سے پہلے ہے اور میں نے دیکھا کہ جنگ میں حضرت عائشہ بنت ابی بکررضی اللہ عنہا اور ( انس رضی اللہ عنہ کی والدہ ) امسلیم رضی اللہ عنہا اپنے کپڑے اٹھائے ہوئے ہیں کہ ان کی پنڈلیاں نظر آ رہی تھیں اور مشکیزے اپنی پیٹھوں پر لیے دوڑ رہی ہیں اور اس کا پانی زخمی مسلمانوں کو پلا رہی ہیں پھر ( جب اس کا پانی ختم ہو جاتا ہے ) تو واپس آتی ہیں اور مشک بھر کر پھر لے جاتی ہیں اور مسلمانوں کو پلاتی ہیں ۔ اس دن ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے دو یا تین مرتبہ تلوار گر گئی تھی ۔
ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بڑے تیرانداز تھے
حدثنا أبو معمر ، حدثنا عبد الوارث ، حدثنا عبد العزيز ، عن أنس ـ رضى الله عنه ـ قال لما كان يوم أحد انهزم الناس عن النبي صلى الله عليه وسلم وأبو طلحة بين يدى النبي صلى الله عليه وسلم مجوب عليه بحجفة له ، وكان أبو طلحة رجلا راميا شديد النزع ، كسر يومئذ قوسين أو ثلاثا ، وكان الرجل يمر معه بجعبة من النبل فيقول انثرها لأبي طلحة. قال ويشرف النبي صلى الله عليه وسلم ينظر إلى القوم ، فيقول أبو طلحة بأبي أنت وأمي ، لا تشرف يصيبك سهم من سهام القوم ، نحري دون نحرك. ولقد رأيت عائشة بنت أبي بكر وأم سليم ، وإنهما لمشمرتان أرى خدم سوقهما تنقزان القرب على متونهما ، تفرغانه في أفواه القوم ثم ترجعان فتملآنها ، ثم تجيئان فتفرغانه في أفواه القوم ، ولقد وقع السيف من يدى أبي طلحة إما مرتين وإما ثلاثا
صحیح بجاری 4064
.ترجمہ
ہم سے ابو معمر نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ، ان سے عبدالعزیز نے بیان کیا اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ احد میں جب مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے منتشر ہو کر پسپا ہو گئے تو حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے چمڑے کی ڈھال سے حفاظت کر رہے تھے ۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بڑے تیرانداز تھے اور کمان خوب کھینچ کر تیر چلایا کرتے تھے ۔ اس دن انہوں نے دو یا تین کمانیں توڑ دی تھیں ۔ مسلمانوں میں سے کوئی اگر تیر کا ترکش لیے گزرتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرماتے یہ تیر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے لیے یہیں رکھتے جاؤ ۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین کو دیکھنے کے لیے سر اٹھا کر جھانکتے تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ عرض کرتے ، میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ، سرمبارک اوپر نہ اٹھایئے کہیں ایسا نہ ہو کہ ادھر سے کوئی تیر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو لگ جائے ۔ میری گردن آپ سے پہلے ہے اور میں نے دیکھا کہ جنگ میں حضرت عائشہ بنت ابی بکررضی اللہ عنہا اور ( انس رضی اللہ عنہ کی والدہ ) امسلیم رضی اللہ عنہا اپنے کپڑے اٹھائے ہوئے ہیں کہ ان کی پنڈلیاں نظر آ رہی تھیں اور مشکیزے اپنی پیٹھوں پر لیے دوڑ رہی ہیں اور اس کا پانی زخمی مسلمانوں کو پلا رہی ہیں پھر ( جب اس کا پانی ختم ہو جاتا ہے ) تو واپس آتی ہیں اور مشک بھر کر پھر لے جاتی ہیں اور مسلمانوں کو پلاتی ہیں ۔ اس دن ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے دو یا تین مرتبہ تلوار گر گئی تھی ۔
تمام مسجدوں میں نماز سے ایک ہزار درجہ زیادہ
تمام مسجدوں میں نماز سے ایک ہزار درجہ زیادہ
حدثنا عبد الله بن يوسف ، قال أخبرنا مالك ، عن زيد بن رباح ، وعبيد الله بن أبي عبد الله الأغر ، عن أبي عبد الله الأغر ، عن أبي هريرة ـ رضى الله عنه ـ أن النبي صلى الله عليه وسلم قال " صلاة في مسجدي هذا خير من ألف صلاة فيما سواه إلا المسجد الحرام "
ترجمہ
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے زید بن رباح اور عبیداللہ بن ابی عبداللہ اغرسے خبر دی ، انہیں ابوعبدللہ اغر نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اس مسجد میں نماز مسجدالحرام کے سوا تمام مسجدوں میں نماز سے ایک ہزار درجہ زیادہ افضل ہے ۔
صحیح بخاری 1190
عظمت علی
حدثنا عبد الله بن يوسف ، قال أخبرنا مالك ، عن زيد بن رباح ، وعبيد الله بن أبي عبد الله الأغر ، عن أبي عبد الله الأغر ، عن أبي هريرة ـ رضى الله عنه ـ أن النبي صلى الله عليه وسلم قال " صلاة في مسجدي هذا خير من ألف صلاة فيما سواه إلا المسجد الحرام "
ترجمہ
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے زید بن رباح اور عبیداللہ بن ابی عبداللہ اغرسے خبر دی ، انہیں ابوعبدللہ اغر نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اس مسجد میں نماز مسجدالحرام کے سوا تمام مسجدوں میں نماز سے ایک ہزار درجہ زیادہ افضل ہے ۔
صحیح بخاری 1190
عظمت علی
Subscribe to:
Posts (Atom)