عصر کے بعد کی دو رکعات کو کبھی ترک نہیں فرمایا ،
صحیح بخاری 590
حدثنا أبو نعيم ، قال حدثنا عبد الواحد بن أيمن ، قال حدثني أبي أنه ، سمع عائشة ، قالت والذي ذهب به ما تركهما حتى لقي الله ، وما لقي الله تعالى حتى ثقل عن الصلاة ، وكان يصلي كثيرا من صلاته قاعدا ـ تعني الركعتين بعد العصر ـ وكان النبي صلى الله عليه وسلم يصليهما ، ولا يصليهما في المسجد مخافة أن يثقل على أمته ، وكان يحب ما يخفف عنهم.
ترجمہ
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا ، کہ کہا ہم سے عبدالواحد بن ایمن نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے میرے باپ ایمن نے حدیث بیان کی کہ انھوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ۔ آپ نے فرمایا کہ خدا کی قسم ! جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے یہاں بلا لیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد کی دو رکعات کو کبھی ترک نہیں فرمایا ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ پاک سے جا ملے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات سے پہلے نماز پڑھنے میں بڑی دشواری پیش آتی تھی ۔ پھر اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز ادا فرمایا کرتے تھے ۔ اگرچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پوری پابندی کے ساتھ پڑھتے تھے لیکن اس خوف سے کہ کہیں ( صحابہ بھی پڑھنے لگیں اور اس طرح ) امت کو گراں باری ہو ، انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں نہیں پڑھتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کا ہلکا رکھنا پسند تھا ۔
Monday, July 25, 2016
Tuesday, July 5, 2016
نماز میں خیال پیدا ہونا
- نماز میں خیال پیدا ہونا
@@@@@@@@@@@@@@@@
Sahih Bukhari Hadees # 1135
حدثنا سليمان بن حرب ، قال حدثنا شعبة ، عن الأعمش ، عن أبي وائل ، عن عبد الله ـ رضى الله عنه ـ قال صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم ليلة ، فلم يزل قائما حتى هممت بأمر سوء. قلنا وما هممت قال هممت أن أقعد وأذر النبي صلى الله عليه وسلم.
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مرتبہ رات کو نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا لمبا قیام کیا کہ میرے دل میں ایک غلط خیال پیدا ہو گیا۔ ہم نے پوچھا کہ وہ غلط خیال کیا تھا تو آپ نے بتایا کہ میں نے سوچا کہ بیٹھ جاؤں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑ دوں۔
janaja me 4 takbir
Sahih Bukhari Hadees # 1319
حدثنا مسلم ، حدثنا شعبة ، حدثنا الشيباني ، عن الشعبي ، قال أخبرني من ، شهد النبي صلى الله عليه وسلم أنه أتى على قبر منبوذ فصفهم وكبر أربعا. قلت من حدثك قال ابن عباس رضى الله عنهما.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر پر آئے جو اور قبروں سے الگ تھلگ تھی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے صف بندی کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار تکبیریں کہیں۔ میں نے پوچھا کہ یہ حدیث آپ سے کس نے بیان کی ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے۔
حدثنا مسلم ، حدثنا شعبة ، حدثنا الشيباني ، عن الشعبي ، قال أخبرني من ، شهد النبي صلى الله عليه وسلم أنه أتى على قبر منبوذ فصفهم وكبر أربعا. قلت من حدثك قال ابن عباس رضى الله عنهما.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر پر آئے جو اور قبروں سے الگ تھلگ تھی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے صف بندی کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار تکبیریں کہیں۔ میں نے پوچھا کہ یہ حدیث آپ سے کس نے بیان کی ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے۔
islam suru jamane se hae
42 : سورة الشورى 13
شَرَعَ لَکُمۡ مِّنَ الدِّیۡنِ مَا وَصّٰی بِہٖ نُوۡحًا وَّ الَّذِیۡۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ وَ مَا وَصَّیۡنَا بِہٖۤ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ مُوۡسٰی وَ عِیۡسٰۤی اَنۡ اَقِیۡمُوا الدِّیۡنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوۡا فِیۡہِ ؕ کَبُرَ عَلَی الۡمُشۡرِکِیۡنَ مَا تَدۡعُوۡہُمۡ اِلَیۡہِ ؕ اَللّٰہُ یَجۡتَبِیۡۤ اِلَیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ وَ یَہۡدِیۡۤ اِلَیۡہِ مَنۡ یُّنِیۡبُ ﴿۱۳﴾
اللہ تعالٰی نے تمہارے لئے وہی دین مقرر کر دیا ہے جس کے قائم کرنے کا اس نے نوح (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا اور جو (بذریعہ وحی) ہم نے تیری طرف بھیج دی ہے، اور جس کا تاکیدی حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو دیا تھا کہ اس دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا جس چیز کی طرف آپ انہیں بلا رہے ہیں وہ تو (ان) مشرکین پر گراں گزرتی ہے اللہ تعالٰی جسے چاہتا ہے اپنا برگزیدہ بناتا ہے اور جو بھی اس کی طرف رجوع کرے وہ اس کی صحیح راہنمائی کرتا ہے ۔
شَرَعَ لَکُمۡ مِّنَ الدِّیۡنِ مَا وَصّٰی بِہٖ نُوۡحًا وَّ الَّذِیۡۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ وَ مَا وَصَّیۡنَا بِہٖۤ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ مُوۡسٰی وَ عِیۡسٰۤی اَنۡ اَقِیۡمُوا الدِّیۡنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوۡا فِیۡہِ ؕ کَبُرَ عَلَی الۡمُشۡرِکِیۡنَ مَا تَدۡعُوۡہُمۡ اِلَیۡہِ ؕ اَللّٰہُ یَجۡتَبِیۡۤ اِلَیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ وَ یَہۡدِیۡۤ اِلَیۡہِ مَنۡ یُّنِیۡبُ ﴿۱۳﴾
اللہ تعالٰی نے تمہارے لئے وہی دین مقرر کر دیا ہے جس کے قائم کرنے کا اس نے نوح (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا اور جو (بذریعہ وحی) ہم نے تیری طرف بھیج دی ہے، اور جس کا تاکیدی حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو دیا تھا کہ اس دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا جس چیز کی طرف آپ انہیں بلا رہے ہیں وہ تو (ان) مشرکین پر گراں گزرتی ہے اللہ تعالٰی جسے چاہتا ہے اپنا برگزیدہ بناتا ہے اور جو بھی اس کی طرف رجوع کرے وہ اس کی صحیح راہنمائی کرتا ہے ۔
Friday, July 1, 2016
عصر کے بعد کی دو رکعات کو کبھی ترک نہیں فرمایا ،
عصر کے بعد کی دو رکعات کو کبھی ترک نہیں فرمایا ،
صحیح بخاری 590
حدثنا أبو نعيم ، قال حدثنا عبد الواحد بن أيمن ، قال حدثني أبي أنه ، سمع عائشة ، قالت والذي ذهب به ما تركهما حتى لقي الله ، وما لقي الله تعالى حتى ثقل عن الصلاة ، وكان يصلي كثيرا من صلاته قاعدا ـ تعني الركعتين بعد العصر ـ وكان النبي صلى الله عليه وسلم يصليهما ، ولا يصليهما في المسجد مخافة أن يثقل على أمته ، وكان يحب ما يخفف عنهم.
ترجمہ
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا ، کہ کہا ہم سے عبدالواحد بن ایمن نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے میرے باپ ایمن نے حدیث بیان کی کہ انھوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ۔ آپ نے فرمایا کہ خدا کی قسم ! جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے یہاں بلا لیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد کی دو رکعات کو کبھی ترک نہیں فرمایا ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ پاک سے جا ملے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات سے پہلے نماز پڑھنے میں بڑی دشواری پیش آتی تھی ۔ پھر اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز ادا فرمایا کرتے تھے ۔ اگرچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پوری پابندی کے ساتھ پڑھتے تھے لیکن اس خوف سے کہ کہیں ( صحابہ بھی پڑھنے لگیں اور اس طرح ) امت کو گراں باری ہو ، انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں نہیں پڑھتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کا ہلکا رکھنا پسند تھا ۔
صحیح بخاری 590
حدثنا أبو نعيم ، قال حدثنا عبد الواحد بن أيمن ، قال حدثني أبي أنه ، سمع عائشة ، قالت والذي ذهب به ما تركهما حتى لقي الله ، وما لقي الله تعالى حتى ثقل عن الصلاة ، وكان يصلي كثيرا من صلاته قاعدا ـ تعني الركعتين بعد العصر ـ وكان النبي صلى الله عليه وسلم يصليهما ، ولا يصليهما في المسجد مخافة أن يثقل على أمته ، وكان يحب ما يخفف عنهم.
ترجمہ
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا ، کہ کہا ہم سے عبدالواحد بن ایمن نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے میرے باپ ایمن نے حدیث بیان کی کہ انھوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ۔ آپ نے فرمایا کہ خدا کی قسم ! جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے یہاں بلا لیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد کی دو رکعات کو کبھی ترک نہیں فرمایا ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ پاک سے جا ملے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات سے پہلے نماز پڑھنے میں بڑی دشواری پیش آتی تھی ۔ پھر اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز ادا فرمایا کرتے تھے ۔ اگرچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پوری پابندی کے ساتھ پڑھتے تھے لیکن اس خوف سے کہ کہیں ( صحابہ بھی پڑھنے لگیں اور اس طرح ) امت کو گراں باری ہو ، انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں نہیں پڑھتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کا ہلکا رکھنا پسند تھا ۔
کاش ہم اللہ تعالٰی اور رسول کی اطاعت کرتے
Quraan
کاش ہم اللہ تعالٰی اور رسول کی اطاعت کرتے۔
Jo musalman emamo ke chkkar me nabi ke sunnat ko thukrate hae
يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُوْلُوْنَ يٰلَيْتَنَآ اَطَعْنَا اللّٰهَ وَاَطَعْنَا الرَّسُوْلَا
sura ahzaab 66
ترجمہ
اس دن ان کے چہرے آگ میں الٹ پلٹ کئے جائیں گے۔ (حسرت و افسوس سے) کہیں کہ کاش ہم اللہ تعالٰی اور رسول کی اطاعت کرتے۔
کاش ہم اللہ تعالٰی اور رسول کی اطاعت کرتے۔
Jo musalman emamo ke chkkar me nabi ke sunnat ko thukrate hae
يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُوْلُوْنَ يٰلَيْتَنَآ اَطَعْنَا اللّٰهَ وَاَطَعْنَا الرَّسُوْلَا
sura ahzaab 66
ترجمہ
اس دن ان کے چہرے آگ میں الٹ پلٹ کئے جائیں گے۔ (حسرت و افسوس سے) کہیں کہ کاش ہم اللہ تعالٰی اور رسول کی اطاعت کرتے۔
نظر بد کا شرعی علاج
٭٭٭٭٭٭٭٭ نظر بد کا شرعی علاج ٭٭٭٭٭٭٭٭٭
==============
📗مقبول احمد سلفی
اکثر لوگ جو کسی کام میں مہارت رکھتے ہیں یا خوب رو ہوتے ہیں، انہیں کسی کی نظر لگ جاتی ہے ، اور مشاہدے میں آیا ہے بڑوں کی نسبت کو بچوں کو نظر جلدی اور اکثر لگ جاتی ہے ۔ نظر کا انکار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ حسی اور شرعی دونوں طریقے سے ثابت ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَإِن يَكَادُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَيُزۡلِقُونَكَ بِأَبۡصَٰرِهِمۡ (القلم:51)
ترجمہ : اور کافر (جب یہ نصیحت کی کتاب سنتے ہیں تو) یوں لگتا ہے کہ تم کو اپنی (بری) نگاہوں سے پھسلا دیں گے۔
٭حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ وہ آپ کو نظر لگا دیں گے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الْعَيْنُ حَقٌّ وَلَوْ كَانَ شَىْءٌ سَابَقَ الْقَدَرَ سَبَقَتْهُ الْعَيْنُ وَإِذَا اسْتُغْسِلْتُمْ فَاغْسِلُوا۔(صحیح مُسلم حدیث :5831)
ترجمہ :نظر بد لگنا حق ہے اور اگر تقدیر پر کوئی حاوی ہو سکتا ہوتا تو یقیناً نظربد حاوی ہو جاتی ،اور اگر تُم لوگوں کو (خُود کو)غسل دینے کا کہا جائے تو غُسل دو ۔
نظر بد لگنے کے بعد لوگوں میں اس کے علاج کے متعلق بڑی بدعقیدگی اور رسومات ہیں جنہیں عام مسلمان شرعی علاج سمجھتے ہیں ۔ لوگوں میں جادو ٹونہ یا نظر بد کے علاج کے لئے کالی چیز کو ڈھال بنایا جاتا ہے جیسے کوئی گاڑی کو نظر بد بچانے کی خاطر کالا کپڑا باندھ دیتے ہیں، نیا گھر بناتے ہیں تو اس کے اوپر کالی ہانڈی رکھ دیتے ہیں ، یا خود کو نظر سے بچانے کے لئے بدن پہ کالا دھاگہ باندھتے ہیں ۔ اسی طرح نظر بد کے علاج میں کالی مرچ جلا کر اس کی دھونی دیتے ہیں ۔ اس کے علاوہ بہت سے عمل ہیں جو نظر اتارنے کے لئے کئے جاتے ہیں جبکہ ہمیں اسلام نے نظر بد کا شرعی طریقہ بتایا ہے ۔ اس لئے رسم و رواج سے پرہیز کریں اور اپنے اندر سے ضعیف الاعتقادی ختم کریں ۔
نظر بد کا شرعی علاج :::
سب سے پہلے طبی اور نفسیاتی معائنے کے ذریعہ یہ جان لینا از حد ضروری ہے کہ نظر لگی ہے ، اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بیماری کچھ نہیں ہوتی محض وہم و گمان ہوتا ہے اور وھم ایسی خوفناک بیماری ہے جو بہت سے بیماریوں کا سبب بن جاتی ہے اور بسا اوقات انسان کو موت تک لے جاتی ہے۔
(1) نبى کرىم ﷺ اپنے بىٹوں، اپنے نواسوں ، حسن وحسىن رضى اللہ عنہما کو دم کرتے اور فرماتےکہ تمہارے باپ ابراہىم علىہ السلام اپنے بىٹوں کو ىہى دم کىا کرتے تھے۔ وہ دم کىا تھا:
أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ
[جامع ترمذی:2060] ۔
(2) اگر عائن یعنی نظر لگانے والے ، یا جس کی نظر لگی ہو اُس کا پتہ ہو تو اُسے وضوء کرنے اور اپنی کمر سے نیچے والے حصوں کو دھونے کا حکم دِیا جائے ، اور ج�
==============
📗مقبول احمد سلفی
اکثر لوگ جو کسی کام میں مہارت رکھتے ہیں یا خوب رو ہوتے ہیں، انہیں کسی کی نظر لگ جاتی ہے ، اور مشاہدے میں آیا ہے بڑوں کی نسبت کو بچوں کو نظر جلدی اور اکثر لگ جاتی ہے ۔ نظر کا انکار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ حسی اور شرعی دونوں طریقے سے ثابت ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَإِن يَكَادُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَيُزۡلِقُونَكَ بِأَبۡصَٰرِهِمۡ (القلم:51)
ترجمہ : اور کافر (جب یہ نصیحت کی کتاب سنتے ہیں تو) یوں لگتا ہے کہ تم کو اپنی (بری) نگاہوں سے پھسلا دیں گے۔
٭حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ وہ آپ کو نظر لگا دیں گے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الْعَيْنُ حَقٌّ وَلَوْ كَانَ شَىْءٌ سَابَقَ الْقَدَرَ سَبَقَتْهُ الْعَيْنُ وَإِذَا اسْتُغْسِلْتُمْ فَاغْسِلُوا۔(صحیح مُسلم حدیث :5831)
ترجمہ :نظر بد لگنا حق ہے اور اگر تقدیر پر کوئی حاوی ہو سکتا ہوتا تو یقیناً نظربد حاوی ہو جاتی ،اور اگر تُم لوگوں کو (خُود کو)غسل دینے کا کہا جائے تو غُسل دو ۔
نظر بد لگنے کے بعد لوگوں میں اس کے علاج کے متعلق بڑی بدعقیدگی اور رسومات ہیں جنہیں عام مسلمان شرعی علاج سمجھتے ہیں ۔ لوگوں میں جادو ٹونہ یا نظر بد کے علاج کے لئے کالی چیز کو ڈھال بنایا جاتا ہے جیسے کوئی گاڑی کو نظر بد بچانے کی خاطر کالا کپڑا باندھ دیتے ہیں، نیا گھر بناتے ہیں تو اس کے اوپر کالی ہانڈی رکھ دیتے ہیں ، یا خود کو نظر سے بچانے کے لئے بدن پہ کالا دھاگہ باندھتے ہیں ۔ اسی طرح نظر بد کے علاج میں کالی مرچ جلا کر اس کی دھونی دیتے ہیں ۔ اس کے علاوہ بہت سے عمل ہیں جو نظر اتارنے کے لئے کئے جاتے ہیں جبکہ ہمیں اسلام نے نظر بد کا شرعی طریقہ بتایا ہے ۔ اس لئے رسم و رواج سے پرہیز کریں اور اپنے اندر سے ضعیف الاعتقادی ختم کریں ۔
نظر بد کا شرعی علاج :::
سب سے پہلے طبی اور نفسیاتی معائنے کے ذریعہ یہ جان لینا از حد ضروری ہے کہ نظر لگی ہے ، اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بیماری کچھ نہیں ہوتی محض وہم و گمان ہوتا ہے اور وھم ایسی خوفناک بیماری ہے جو بہت سے بیماریوں کا سبب بن جاتی ہے اور بسا اوقات انسان کو موت تک لے جاتی ہے۔
(1) نبى کرىم ﷺ اپنے بىٹوں، اپنے نواسوں ، حسن وحسىن رضى اللہ عنہما کو دم کرتے اور فرماتےکہ تمہارے باپ ابراہىم علىہ السلام اپنے بىٹوں کو ىہى دم کىا کرتے تھے۔ وہ دم کىا تھا:
أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ
[جامع ترمذی:2060] ۔
(2) اگر عائن یعنی نظر لگانے والے ، یا جس کی نظر لگی ہو اُس کا پتہ ہو تو اُسے وضوء کرنے اور اپنی کمر سے نیچے والے حصوں کو دھونے کا حکم دِیا جائے ، اور ج�
Subscribe to:
Posts (Atom)