غیب کی پانچ کنجیاں ہیں، جنہیں اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔
@@@@@@@@@@@@@@@@@
ahih Bukhari Hadees # 7379
حدثنا خالد بن مخلد ، حدثنا سليمان بن بلال ، حدثني عبد الله بن دينار ، عن ابن عمر ـ رضى الله عنهما ـ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال مفاتيح الغيب خمس لا يعلمها إلا الله ، لا يعلم ما تغيض الأرحام إلا الله ، ولا يعلم ما في غد إلا الله ، ولا يعلم متى يأتي المطر أحد إلا الله ، ولا تدري نفس بأى أرض تموت إلا الله ، ولا يعلم متى تقوم الساعة إلا الله .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”غیب کی پانچ کنجیاں ہیں، جنہیں اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا کہ رحم مادر میں کیا ہے، اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا ہو گا، اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا کہ بارش کب آئے گی، اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا کہ کس جگہ کوئی مرے گا اور اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کب قائم ہو گی۔“
Friday, June 10, 2016
کیا معراج کی رات میں نبی ﷺ اپنے رب کو دیکھا تھا؟
کیا معراج کی رات میں نبی ﷺ اپنے رب کو دیکھا تھا؟
@@@@@@@@@@@@@@@@@
Sahih Bukhari Hadees # 4855
حدثنا يحيى ، حدثنا وكيع ، عن إسماعيل بن أبي خالد ، عن عامر ، عن مسروق ، قال قلت لعائشة ـ رضى الله عنها ـ يا أمتاه هل رأى محمد صلى الله عليه وسلم ربه فقالت لقد قف شعري مما قلت ، أين أنت من ثلاث من حدثكهن فقد كذب ، من حدثك أن محمدا صلى الله عليه وسلم رأى ربه فقد كذب. ثم قرأت { لا تدركه الأبصار وهو يدرك الأبصار وهو اللطيف الخبير} { وما كان لبشر أن يكلمه الله إلا وحيا أو من وراء حجاب} ومن حدثك أنه يعلم ما في غد فقد كذب ثم قرأت { وما تدري نفس ماذا تكسب غدا} ومن حدثك أنه كتم فقد كذب ثم قرأت { يا أيها الرسول بلغ ما أنزل إليك من ربك} الآية ، ولكنه رأى جبريل ـ عليه السلام ـ في صورته مرتين.
میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: اے ایمان والوں کی ماں! کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات میں اپنے رب کو دیکھا تھا؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا تم نے ایسی بات کہی کہ میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے کیا تم ان تین باتوں سے بھی ناواقف ہو؟ جو شخص بھی تم میں سے یہ تین باتیں بیان کرے وہ جھوٹا ہے جو شخص یہ کہتا ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے شب معراج میں اپنے رب کو دیکھا تھا وہ جھوٹا ہے۔ پھر انہوں نے آیت «لا تدركه الأبصار وهو يدرك الأبصار وهو اللطيف الخبير» سے لے کر «من وراء حجاب» تک کی تلاوت کی اور کہا کہ کسی انسان کے لیے ممکن نہیں کہ اللہ سے بات کرے سوا اس کے کہ وحی کے ذریعہ ہو یا پھر پردے کے پیچھے سے ہو اور جو شخص تم سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آنے والے کل کی بات جانتے تھے وہ بھی جھوٹا ہے۔ اس کے لیے انہوں نے آیت «وما تدري نفس ماذا تكسب غدا» یعنی ”اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ کل کیا کرے گا۔“ کی تلاوت فرمائی۔ اور جو شخص تم میں سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغ دین میں کوئی بات چھپائی تھی وہ بھی جھوٹا ہے۔ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی «يا أيها الرسول بلغ ما أنزل إليك من ربك» یعنی اے رسول! پہنچا دیجئیے وہ سب کچھ جو آپ کے رب کی طرف سے آپ پر اتارا گیا ہے۔ ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصل صورت میں دو مرتبہ دیکھا تھا۔
@@@@@@@@@@@@@@@@@
6 : سورة الأنعام 103
لَا تُدۡرِکُہُ الۡاَبۡصَارُ ۫ وَ ہُوَ یُدۡرِکُ الۡاَبۡصَارَ ۚ وَ ہُوَ اللَّطِیۡفُ الۡخَبِیۡرُ ﴿۱۰۳﴾
نگاہیں اس کو نہیں پاسکتیں اور وہ نگاہوں کو پالیتا ہے، وہ نہایت باریک بیں اور باخبر ہے۔
@@@@@@@@@@@@@@@@@
Sahih Bukhari Hadees # 4855
حدثنا يحيى ، حدثنا وكيع ، عن إسماعيل بن أبي خالد ، عن عامر ، عن مسروق ، قال قلت لعائشة ـ رضى الله عنها ـ يا أمتاه هل رأى محمد صلى الله عليه وسلم ربه فقالت لقد قف شعري مما قلت ، أين أنت من ثلاث من حدثكهن فقد كذب ، من حدثك أن محمدا صلى الله عليه وسلم رأى ربه فقد كذب. ثم قرأت { لا تدركه الأبصار وهو يدرك الأبصار وهو اللطيف الخبير} { وما كان لبشر أن يكلمه الله إلا وحيا أو من وراء حجاب} ومن حدثك أنه يعلم ما في غد فقد كذب ثم قرأت { وما تدري نفس ماذا تكسب غدا} ومن حدثك أنه كتم فقد كذب ثم قرأت { يا أيها الرسول بلغ ما أنزل إليك من ربك} الآية ، ولكنه رأى جبريل ـ عليه السلام ـ في صورته مرتين.
میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: اے ایمان والوں کی ماں! کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات میں اپنے رب کو دیکھا تھا؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا تم نے ایسی بات کہی کہ میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے کیا تم ان تین باتوں سے بھی ناواقف ہو؟ جو شخص بھی تم میں سے یہ تین باتیں بیان کرے وہ جھوٹا ہے جو شخص یہ کہتا ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے شب معراج میں اپنے رب کو دیکھا تھا وہ جھوٹا ہے۔ پھر انہوں نے آیت «لا تدركه الأبصار وهو يدرك الأبصار وهو اللطيف الخبير» سے لے کر «من وراء حجاب» تک کی تلاوت کی اور کہا کہ کسی انسان کے لیے ممکن نہیں کہ اللہ سے بات کرے سوا اس کے کہ وحی کے ذریعہ ہو یا پھر پردے کے پیچھے سے ہو اور جو شخص تم سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آنے والے کل کی بات جانتے تھے وہ بھی جھوٹا ہے۔ اس کے لیے انہوں نے آیت «وما تدري نفس ماذا تكسب غدا» یعنی ”اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ کل کیا کرے گا۔“ کی تلاوت فرمائی۔ اور جو شخص تم میں سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغ دین میں کوئی بات چھپائی تھی وہ بھی جھوٹا ہے۔ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی «يا أيها الرسول بلغ ما أنزل إليك من ربك» یعنی اے رسول! پہنچا دیجئیے وہ سب کچھ جو آپ کے رب کی طرف سے آپ پر اتارا گیا ہے۔ ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصل صورت میں دو مرتبہ دیکھا تھا۔
@@@@@@@@@@@@@@@@@
6 : سورة الأنعام 103
لَا تُدۡرِکُہُ الۡاَبۡصَارُ ۫ وَ ہُوَ یُدۡرِکُ الۡاَبۡصَارَ ۚ وَ ہُوَ اللَّطِیۡفُ الۡخَبِیۡرُ ﴿۱۰۳﴾
نگاہیں اس کو نہیں پاسکتیں اور وہ نگاہوں کو پالیتا ہے، وہ نہایت باریک بیں اور باخبر ہے۔
Thursday, June 9, 2016
مسئلہ تراویح اور سعودی علماء
مسئلہ تراویح اور سعودی علماء
====================
مکہ مکرمہ کی مسجد ِ حرام میں 20 تراویح کے بارے میں اکثر وبیشتر سوال کیا جاتا ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت آٹھ سے زیادہ تراویح نہیں ہیں ، تو پھر بیت اللہ میں اس پر عمل کیوں نہیں کیا جاتا۔ ایک طرف سعودی عرب کی تمام مساجد میں جواکثر وبیشتر حکومت کے ہی زیر نگرانی ہیں ، آٹھ تراویح پڑھی جاتی ہیں ، پھر بیت اللہ میں کیوں 20 تراویح پڑھائی جاتی ہیں ؟ آئیے اس کی حقیقت اور تراویح کے بارے میں سعودی عرب کے جید علما کا موقف جانتے ہیں ۔
صحیح بخاری میں مروی ہے کہ ابو سلمہ بن عبد الرحمن نے حضرت عائشہ ؓسے پوچھا :
رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کیسے تھی ؟تو اُنہوں نے جواباًکہا :
''ما کان یزید في رمضان ولا في غیرہ علی إحدٰی عشرة رکعة''(صحیح بخاری: 2013)
''رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں اوردیگر مہینوں میں گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔ ''
حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں رمضان میں آٹھ رکعات اور وتر پڑھائے، اگلی رات آئی تو ہم جمع ہوگئے، اور ہمیں امید تھی کہ آپؐ گھر سے باہر نکلیں گے لیکن ہم صبح تک انتظار کرتے رہ گئے۔ پھر ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں بات کی تو آپؐ نے فرمایا: مجھے خطرہ تھا کہ کہیں تم پر فرض نہ کردیا جائے۔ ''(صحیح ابن خزیمہ :1070،ابن حبان2401، ابویعلی 3؍336، صحیح بخاری 2012)
اس حدیث کی سند کو شیخ البانی رحمة اللہ علیہ نے تخریج صحیح ابن خزیمہ میں حسن قرار دیا ہے، اس کے راوی عیسیٰ بن جاریہ پر کچھ محدثین نے جرح کی ہے جو مبہم ہے، اور اس کے مقابلے میں ابوزرعہ رحمة اللہ علیہ اورابن حبان رحمة اللہ علیہ نے اس کی تو ثیق کی ہے ،لہٰذا اسے جرحِ مبہم پر مقدم کیا جائے گا۔
امام مالک نے سائب بن یزید سے روایت کیا ہے کہ ''حضرت عمر ؓ نے اُبی بن کعبؓ اور تمیم داری ؓ کو گیارہ رکعات پڑھانے کا حکم دیا۔'(موطأ: 1؍73،مصنف ابن ابی شیبہ 2؍391)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ
• رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رمضان اوردیگر مہینوں میں رات کی نمازگیارہ رکعات تھی ۔
• یہی گیارہ رکعات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں صحابہ کرامؓ کو بھی باجماعت پڑھائیں ۔
• پھر جب حضرت عمرؓ نے نمازِ تراویح کے لئے لوگوں کو جمع کیا، تو اُنہوں نے بھی دوصحابہ کرام اُبی بن کعب ؓ اور تمیم داری ؓکو گیارہ رکعات ہی پڑھانے کا حکم دیا ۔
سعودی علماء اور مسئلہ تراویح
--------------------------
سعودی علما کا مسئلہ تراویح میں بالکل وہی موقف ہے ان کی تصریحات حسب ِذیل ہیں :
(1) شیخ ابن باز رحمة اللہ علیہ
''والأفضل ما کان النبيﷺ یفعله غالبًا وھو أن یقوم بثمان رکعات یسلم من کل رکعتین، ویوتر بثلاث مع الخشوع والطمأنینة وترتیل القراء ة، لما ثبت فی الصحیحین من عائشة رضی اﷲ عنھا قالت: کان رسول اﷲ ﷺ لا یزید في رمضان ولا في غیرہ علی إحدٰی عشرة رکعة...''(فتاوٰی اللجنة الدائمة 7؍212)
''اور افضل وہ ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اکثر و بیشتر کرتے تھے، اور وہ یہ کہ انسان آٹھ رکعات پڑھے، اور ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرے، پھر تین وتر ادا کرے اور پوری نماز میں خشوع، اطمینان اور ترتیل قرآن ضروری ہے۔ بخاری و مسلم میں حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان اور دیگر مہینوں میں گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے...''
(2) سعودی عرب کی فتویٰ کونسل کا فتویٰ
''صلاة التراویح سنة سَنَّھا رسول اﷲ ﷺ، وقد دلَّت الأدلة علی أنه ﷺ ما کان یزید في رمضان ولا في غیرہ علی إحدی عشرة رکعة''( فتاوٰی اللجنة الدائمة : 7؍194)
''نماز تراویح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے،اور دلائل یہ بتاتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان اور اس کے علاوہ پورے سال میں گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔''
اس فتوے پر چار سعودی علما کے دستخط ہیں :
شیخ عبداللہ بن قعود،
شیخ عبداللہ بن غدیان
شیخ عبدالرزاق عفیفی
شیخ ابن باز
(3)شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمة اللہ علیہ
''واختلف السلف الصالح في عدد الرکعات في صلاة التراویح والوتر معها، فقیل: إحدی وأربعون رکعة، وقیل: تسع وثلاثون، وقیل: تسع وعشرون، وقیل ثلاث وعشرون، وقیل: تسع عشرة، وقیل: ثلاث عشرة، وقیل: إحدٰی عشرة، وقیل: غیر ذلك، وأرجح ھذہ الأقوال أنها إحدی عشرة أوثلاث عشرة لما في الصحیحین عن عائشة رضي اﷲ عنها... وعن ابن عباس رضی اﷲ عنهما قال: کانت صلاة النبي ﷺ ثلاث عشرة رکعة، یعني من اللیل (رواہ البخاري) وفي الموطأ عن السائب بن یزید رضي اﷲ عنه قال: أمر عمر بن الخطاب رضي اﷲ عنه أبي بن کعب وتمیم الداري أن یقوما للناس بإحدی عشرة رکعة''( مجالس شہر رمضان: ص19)
''سلف صالحین نے نمازِ تراویح مع نمازِ وتر کی رکعات میں اختلاف کیا ہے، بعض نے اکتالیس، بعض نے اُنتالیس، بعض نے اُنتیس، بعض نے تیئس، بعض نے اُنیس، بعض نے تیرہ اور بعض نے گیارہ رکعات بیان کی ہیں اور بعض نے ان اقوال کے علاوہ دوسری تعداد بھی نقل کی ہے، لیکن ان سب اقوال میں سے سب سے زیادہ راجح گیارہ یا تیرہ رکعات والا قول ہے، کیونکہ صحیحین (بخاری و مسلم) میں حضرت عائشہؓ نے گیارہ رکعات بیان کی ہیں ، اور بخاری کی ایک اور روایت میں ابن عباس ؓنے تیرہ رکعات ذکر کی ہیں ، اور موطأ امام مالک میں سائب بن یزید کا بیان ہے کہ حضرت عمرؓ نے اُبی بن کعب اور تمیم داری رضی اللہ عنہما دونوں کو گیارہ رکعات پڑھانے کا حکم دیا تھا۔''
سعودی علماء کے مندرجہ بالا اقتباسات سے معلوم ہوا کہ یہ علما نمازِ تراویح کی رکعات کے مسئلے میں حضرت عائشہؓ والی حدیث پر اعتماد کرتے ہیں ، اور اس میں مذکور گیارہ رکعات سے وہ نمازِ تراویح کی گیارہ رکعات ہی مراد لیتے ہیں ۔
مسئلہ تراویح میں افضل یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ تعداد رکعات پر عمل کیا جائے، اور وہ ہے: گیارہ رکعات مع وتر۔
سعودی علما اسی بات کے قائل ہیں کہ حضرت عمرؓ نے بھی گیارہ رکعات ہی پڑھانے کا حکم دیا تھا۔
نوٹ:شیخ ابن عثیمین رحمة اللہ علیہ نے جو تیرہ رکعات کا ذکر کیا ہے، دراصل ان میں دو رکعات وہ ہیں جنہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دو مرتبہ وتر کے بعد پڑھا تھا، اور علما کا کہنا ہے کہ چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصے میں وتر پڑھتے تھے اور اس کے بعد فجر کی اذان ہوجاتی تھی، تو شاید آپؐ نے فجر کی دو سنتیں پڑھی تھیں ، جنہیں ابن عباس ؓ نے رات کی نماز میں شامل سمجھا، یا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر کے بعد یہ دو رکعات اس لئے پڑھی تھیں کہ وتر کے بعد بھی نفل نماز پڑھنے کا جواز باقی رہے۔ واللہ أعلم!
سعودی عرب کے ائمہ حرمین شریفین کے متعلق بھی یہ بات ہر ایک کو معلوم ہے کہ خانۂ کعبہ میں دو امام تراویح پڑھاتے ہیں ، ایک دس رکعات پڑھا کر چلاجاتاہے ، پھر دوسرا آتاہے اور وہ بھی دس رکعات تراویح پڑھاتاہے ، علاوہ ازیں سعودی عرب کی دیگر جمیع مساجد میں آٹھ رکعات ہی پڑھائی جاتی ہیں جو اس بات کی دلیل ہے کہ سعودی علماءبھی اسی موقف کو مستند سمجھتے ہیں کہ آٹھ تراویح ہی سنت اور افضل ہیں ۔
منقول از محدث میگزین بترمیم
✳✳✳✳✳✳✳✳
گياره ركعت تراويح علمائے احناف كى عدالت ميں
✳✳✳✳✳✳✳✳
1⃣دليل مقلداورحنفى مذهب كے بانى ومؤسس امام ابوحنيفہ رحمہ الله كے نزديک بهى نمازتراويح(قيام الليل) آٹه ركعت ہی هے جيساكہ امام ابويوسف ابوحنيفہ سے نقل كرتے ہوئے رقمطرازہيں:
"عن أبي حنيفة عن أبي جعفرمحمد بن علي عن النبيّ صلى الله عليه وسلم أنّه كان يصلي بعدالعشاء الآخرة إلى الفجرفيمابين ذلك ثماني ركعات ويوتربثلاث ، ويصلي ركعتي الفجر"
[الحاوي للفتاوى ازامام سيوطى ،بحواله سنن سعيد بن منصور 1/416].
امام ابوحنيفہ اپنے استاذابوجعفركى سند سے رسول كريم صلى الله عليہ وسلم كاطريقہ نقل كرتے ہيں كہ آپ صلى الله عليه وسلم عشاء كے بعد آخرى حصہ ميں فجرتک گياره ركعت مع الوترہى پڑهاكرتے تهے اوردوركعت صبح كى سنتيں آذان كے بعد ادافرماتے تهے.
2⃣دليل نمبرــ امام ابوحنيفہ رحمہ الله كے تيسرے بڑے شاگرد محمد بن الحسن الشيبانى جن پرفقہ كى اكثرعمارت كهڑى ہے اپنى كتاب "مؤطاامام محمد" ميں"باب التراويح" حديث عائشہ صديقہ رضى الله عنها سے صحيح بخارى ومسلم والى گياره ركعت مع الوتركى روايت نقل كرنے كے بعدرقمرطراز ہيں:
"وبهذانأخذ كله" كہ ہمارا بهى اس گياره ركعت مع الوتروالى حديث پرہى عمل ہے"
[حواله:مؤطاامام محمد ص نمبر93]
3⃣دليل نمبرــ ملاعلى قارى حنفى ماتريدى فرماتے ہيں:
"إن التراويح في الأصل إحدى عشرركعة بالوترفي جماعة فعله رسول الله صلى الله عليه وسلّم" [مرقاة شرح مشكوة ج3/ص نمبر382].
كہ مسئلہ تراويح ميں حقيقت يہى ہے كہ گياره ركعت مع الوترہى مسنون ہےجنكا اہتمام رسول الله صلى الله عليہ وسلّم نے كيا تها.
4⃣دليل نمبرــ امام ابن همام خنفى فرماتے ہيں:
"فتحصل من هذا كله أن قيام رمضان سنة إحدى عشرركعة بالوترفي جماعة فعله صلى الله عليه وسلّم" [فتح القديرشرح الهدايه( حنفى قرآن) ج1/ ص نمبر468].
كہ مسنون تعداد تراويح گياره ركعت مع الوترہى ہے جس كا اہتمام رسول الله صلى اللہ عليہ وسلم نے كيا.
5⃣دليل نمبرــ امام ابن نجيم حنفى نعمانى فرماتے ہيں:
"وقدثبت أن ذلك كان إحدى عشرة ركعة بالوتركما ثبت في الصحيحين من حديث عائشة رضي الله عنها فإذن يكون المسنون على اصول مشا ئخنا ثمانية منها والمستحب إثناعشر" [البحرالرائق شرح كنز الدقائق ج2/ ص نمبر66،67].
"اس مسئلہ ميں صحيحين كی حديث كے مطابق گياره (11) ركعت مع الوترہى ثابت ہيں پس ہمارے مشائخ كے عقيدے كے مطابق آٹہ ركعت مسنون اورباقى بيس ميں سے باره(12) مستحب ہے.
6⃣دليل نمبرــ صاحب شرح الوقايہ رقمطراز ہيں:
"نتيجہ يہ ہے كہ آٹه ركعت تراويح سنت ہيں اوربيس مستحب"
[شرح وقايه جلد1/ص نمبر132، مطبوعه زراقى لكهنو].
7⃣دليل نمبر ــ ابوالاخلاص الحسن بن عمارشرنبلانى حنفى (المتوفى 1069هـ) فرماتے ہيں:
"لمّا ثبت أنّه صلى بالجماعة إحدى عشرة ركعة بالوتر"
[ مراقى الفلاح شرح نورالايضاح (404)].
جب يہى بات ثابت ہے كہ رسول اللہ صلى الله عليہ وسلم نے باجماعت گياره ركعت مع الوترپڑهائيں پهراس سنيت سے انحراف يقيناسنت نبوى سے دائمى عداوت كى دليل ہے.
8⃣دليل نمبرــ ايک اورجگہ موصوف لكهتے ہيں:
"نبى صلى اللہ عليہ وسلم نے گياره ركعتيں مع وتر باجماعت پڑهائى ہيں اوربيس ركعتوں والى روايت ضعيف ہے" [ديكهئے:فتاوى شرنبلالى].
9⃣دليل نمبرــ جناب خليل احمدسهارنپورى ديوبندى حنفى (1269ــ1346) فرماتے ہيں:
"سنت مؤكده ہونا تراويح آٹه ركعت تو بالاتفاق ہے اگرخلاف ہے توباره ميں". [براهين القارى 1/402].
🔟دليل نمبر ــ مزيدسهارنپورى صاحب تحرير فرماتے ہيں:
"فتحصل من هذا كلّه أنّ قيام رمضان سنة إحدى عشرة ركعة بالوترفعله صلى الله عليه وسلّم" [حاشية على صحيح البخاري ج1/ص نمبر154].
كہ اس مسئلہ كا خلاصہ ونتيجہ يہ ہے كہ رمضان كا قيام (نمازتراويح) رسول اكرم صلى اللہ عليہ وسلّم سے سنت گياره ركعت مع الوترہى ثابت ہے.
1⃣1⃣دليل نمبرــ مشہورحنفى عالم امام طحاوى اورمولوى ابوالسعودحنفى اورمولوى احمد حموى نے بهى آٹه ركعت تراويح كوسنت قرارديا ہے:
"رسول اكرم صلى الله عليه وسلّم نے بيس(20) ركعت تراويح نہيں بلكہ آٹه ركعت تراويح ہى پڑهيں" ▪حوالے....
[1] :شرح ردّ المختارص نمبر296 ، مطبوعه مصر.
[2] شرح كنزص نمبر565مطبوه مصر.
[3] شرح الاشباه والنظائر].
2⃣1⃣دليل نمبرــ ملا عينى حنفى فرماتے ہيں:
"فإن قلت لم يبين في الروايات المذكورة عدد الصلاة الّتي صلها رسول الله صلى الله عليه وسلّم في تلك الليالي ، قلت رواه ابن خزيمة وابن حبّان من حديث جابررضي الله عنه قال صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلّم في رمضان ثمان ركعات ثمّ أوتر"
[عمدة القاري شرح صحيح البخاري ج3/ص نمبر597
اس حديث جابركوامام زيلعى حنفى صوفى نے اپنى شہره آفاق كتاب "نصب الرأية في تخريج احاديث الهداية ج1/ ص نمبر293 پرنقل كيا ہے].
"اگرتويہ اعتراض كرے كہ آپ صلى الله عليه وسلم نے رمضان كى تين راتوں ميں باجماعت جونمازپڑهائى اس كى تعداد واضح نہيں توميں جواب ميں ابن خزيمہ اورابن حبان ميں حضرت جابروالى روايت بيان كروں گاكہ آپ نے هم كو رمضان ميں آٹه ركعت تراويح اور پهر وتر پڑهائے".
♻مولانا انورشاه كشميرى كے بعض اقوال:
3⃣1⃣دليل نمبرــ مشہورحنفى عالم مولانا انورشاه كشميرفرماتے ہيں:
"لامناص من تسليم أن تراويحه عليه الصلاة والسلام كانت ثمانية ركعات" [العرف الشذّي حاشية على الجامع الترمذي ج1/177].
كہ اس بات كوتسليم كئے بغيرجان خلاصى ناممكن ہے كہ آپ عليہ السلام كى نماز تراويح آٹه ركعت ہى بدون وترتهى.
🎯( يعنى اهل حديث كا جومسلک ہے كہ آٹہ ركعت ہى نبى عليہ السلام كى سنت ہے وہى صحيح ہے).
4⃣1⃣دليل نمبرــ ايک اورجگہ موصوف فرماتے ہيں:
"كہ نبى صلى الله عليہ وسلم سے صحيح سند كے آٹه تراويح ہى ثابت ہيں اوربيس ركعتوں والى حديث ضعيف ہے اوراسكے ضعف پرتمام محدثين كا اتفاق ہےـ
[ديكهئے:العرف الشذي ص:309].
5⃣1⃣دليل نمبرـ اسى طرح موصوف اپنى كتاب"فيض البارى" ميں اس طرح رقمطرازہيں:
"نبى صلى الله عليہ وسلم سے كسى مرفوع حديث ميں تيره ركعتوں سے زياده نمازتراويح ثابت ہى نہيں ہے"ـ [فيض البارى 1/420].
6⃣1⃣دليل نمبرــ ايک اورجگہ رقمطرازہيں:
"كہ نبى صلى الله عليہ وسلم نے صحابہ كرام كو ماه رمضان ميں آٹه ركعت تراويح اورتين وتركى جماعت كروائى تهى جيساكہ ابن خزيمہ و ابن حبان نے اپنى اپنى صحيح ميں اورمحمد بن نصرمروزى نے قيام الليل ميں حضرت جابر كى حديث بيان كى ہے ـ
[كشف السترص:27].
7⃣1⃣دليل نمبرــ تبليغى جماعت كے بانى مولانازكريا تبليغى ديوبندى صوفى صاحب فرماتے ہيں:
"لاشك في أنّ تحديد التراويح في عشرين ركعة لم يثبت مرفوعا عن النبيّ صلى الله عليه وسلم بطريق صحيح على أصول المحدثين وماورد فيه من رواية ابن عباس رضي الله عنهمامتكلّم فيها على أصولهم" [اوجزالمسالك شرح مؤطاامام مالك ج2/ص نمبر304].
كہ يقينا محدثين كے اصولوں كے مطابق بيس(20) ركعت نمازتراويح نبى كريم صلى الله عليہ وسلم سے مرفوعا ثابت نہيں بلكہ ابن عباس والى روايت محدثين كے اصولوں كے مطابق مجروح ہے ثابت نہيں.
8⃣1⃣دليل نمبرــ مولوى احمديار نعيمى بريلوى اپنى معروف كتاب "جاء الحق" ميں مدارج النبوة كے حوالے سے مولوى عبد الحق حنفى ديوبندى دہلوى كاقول نقل كرتے ہيں كہ مولوى عبد الحق حنفى آٹه ركعت تراويح كى سنت كااعتراف كرتے ہوئے لكهتے ہيں:
"تحقيق آنست كہ صلاة آنحضرت دررمضان هماں نمازمعتادبوديازده ركعت كہ دائم درتہجدمے گزارد" [مدارج النبوة ج1/ ص نمبر400].
تحقيق يہ كہ آنحضرت صلى الله عليہ وسلم كى رمضان ميں وہى گياره ركعت ہى تهى كہ جو عام حالات ميں ہميشہ تہجد كى نماز پڑها كرتے تهے.
9⃣1⃣دليل نمبرــ مزيدعبد الحق دہلوى فرماتے ہيں:
"والصحيح ماوردته عائشة رضي الله عنهاأنّه صلى الله عليه وسلّم كان يصلي إحدى عشرة ركعة كما هوعادته في قيام الليل"
[ماثبت بالسنة ازدهلوى ص217].
0⃣2⃣دليل نمبرــ ايک اورجگہ عبدالحق صاحب فرماتے ہيں:
"تحقيق اورصحيح يہى ہے كہ نبى صلى الله عليہ وسلم ماه رمضان ميں گياره ركعت(تراويح) ہى پڑهاكرتے تهے جو كہ آپ صلى الله عليہ وسلم تہجد ميں ہميشہ پڑهاكرتے تهے جيساكہ معروف ہے"
[حواله:مدارج النبوة1/465].
1⃣2⃣دليل نمبرــ نفحات رشيد ميں لكها ہے:
"نبى صلى الله عليہ وسلم سے ثابت ہے كہ آپ صلى الله عليہ وسلم نے وترسميت گياره ركعت تراويح سے زياده نہيں پڑهيں ، نہ رمضان ميں نہ غيررمضان ميں"
[بحواله:مسلک الختام1/289].
صحيح مسئلہ يہى ہے كہ گياره ركعت ہى تراويح ہے جيساكہ آپ صلى اللہ كى قيام الليل ميں عادت تهى.
👆مولوى عبد الحق حنفى دہلوى كے كلام سے يہ بهى ثابت ہوا كہ نماز تہجد ، قيام الليل اورتراويح ايک ہى نمازہے.
2⃣2⃣دليل نمبرــ بانى مذهب ديوبند مولوى قاسم نانوتوى ديوبندى فرماتے ہيں:
"ويازده از فعل سرورعالم صلى الله عليه وسلم اكدازيست"
[لطائف قاسميه،مكتوب سوئم ص 18].
كہ رسول الله صلى الله عليه سے جوگياره ركعت ثابت ہيں وه بيس (20) سے زياده معتبرہيں.
👆آل ديوبند كواپنے بانى كى لاج ركهتے ہوئے بيس ركعت(20) سنت اورآٹه ركعت كو بدعت كى اشتہار بازى سے رک جانا چاہئے.
3⃣2⃣دليل نمبرــ ايک اورجگہ فتح سرالمنان في تأئيد مذهب النعمان ميں لكهتے ہيں:
"جيسا كہ آج كل بيس(20) ركعت تراويح كو سنت بتاياجارهاہے ، يہ رسول صلى الله عليہ وسلم سے ثابت نہيں ہے ، آپ صلى الله عليہ وسلم كے زمانہ مبارک ميں آپ كے حكم كے بموجب حضرت عائشہ رضى الله عنها كى حديث پرعمل رہا جيساكہ بخارى شريف ميں موجود ہے كہ رسول الله صلى الله عليہ وسلم نے رمضان ميں گياره ركعات مع الوتر سے زياده نماز تراويح نہيں پڑهى اورحضرت عائشہ رضى الله عنها رسول الله صلى الله عليہ وسلم كے حال سے خوب واقف تهيں ـ
[ فتح سرّ المنان في تأئيد مذهب النعمان ص:327 والحق الصريح للقاسمى ـ].
4⃣2⃣دليل نمبرــ علامہ حموى حاشية الاشباه ميں لكهتے ہيں:
"بلاشبہ نبى صلى الله عليه وسلم نے بيس ركعتيں نہيں بلكہ آٹه ركعات تراويح پڑهى ہيں"
[حاشية الاشباه ص:9].
5⃣2⃣دليل نمبرــ ابو السعود كنزالدقائق ميں مرقوم ہے:
"نبى صلى الله عليہ وسلم نے تراويح بيس ركعت نہيں بلكہ آٹه ركعتيں پڑهى ہيں"
[شرح كنزالدقائق ص:265].
6⃣2⃣دلیل نمبرــ مولانا محمد احسن نانوتوى رقمطراز ہيں:
"نبى صلى الله عليہ وسلم نے تراويح كى بيس(20) ركعتيں نہيں بلكہ صرف آٹه رکعت پڑهی ہیں.
7⃣2⃣دليل نمبرــ مولوى رشيداحمدگنگوہى فرماتے ہيں:
"براہل علم پوشيده نيست كہ قيام رمضان و قيام الليل في الواقع يک نماز است كہ دررمضان برائے تيسيرمسلمين دراول شب مقرركرده شدوهنوزعزيمت دراداشيں آخرشب است ودرقيام الليل فخرعليہ الصلاة والسلام چنانچہ ايازده ركعت وكم ازاں ثابت شده اندسيزده ركعت سوائے سنت فجريم صحيحين موداند"
[الحق الصريح في اثبات التراويح (فارسى) ص:1].
كسى بهى اہل علم سے يہ بات مخفى نہيں كہ قيام رمضان(تراويح) اورقيام الليل درحقيت ايک ہى چيز ہيں رمضان ميں صرف مسلمانوں كى سہولت كے لئے قيام شروع رات ميں مقرركياگيا اورعام حالات ميں برائے عزيمت آخرى رات ميں مقرر ہوگيا رسول كريم صلى الله عليہ وسلم سے گياره ركعت ہى قيام الليل ثابت ہے بلكہ كم بهى ثابت ہے ــ تيره ركعت صبح كى دو سنتوں کے علاوه بخارى ومسلم ميں موجود ہيں.
8⃣2⃣دليل نمبرــ بانى جماعت
اسلامى و مؤسس مولانا ابوالاعلى مودودى حنفى فرماتےہيں:
"تمام روايات جمع كرنے سے جو چيزحقيقت كے قريب ترمعلوم ہوتى ہے وه يہ ہے كہ حضورصلى الله عليہ وسلم نے خودجماعت كے ساته رمضان ميں جونمازپڑهائى وه اول وقت ميں تهى نہ كہ آخروقت ميں اوروه آٹه ركعات تهيں نہ كہ بيس(20) ركعات، اگرچہ ايک روايت (20) بيس ركعات كى بهی ہے مگروه آٹه والى كى نسبت ضعيف ہے"
[رسائل ومسائل (2/167].
9⃣2⃣دليل نمبر ــ مولانا كفايت الله ديوبندى حنفى رقمطراز ہيں:
"اكثرروايتوں سے حضورصلى الله عليہ وسلم كاآٹه ركعتيں(تراويح) پڑہناثابت ہے.
[وكفايت المفتى 3/363].
0⃣3⃣دليل نمبر ــ قاضى شمس الدين ديوبندى حنفى فرماتے ہيں:
"ميرايہ موقف ہے كہ مجهے نہ آٹه ركعت كى سنت سے انكارہے اورنہ عملا اسكے ترک كومستحسن سمهتا ہوں اور نہ ہی حتى المقدوراسكو ترک كرتا ہوں اورنہ كسى كو تلقين كرتاہوں كہ وه ترک كردے اورنہ ہى ميرى جماعت حنفيہ آٹه كى سنت كے منكروتارک ہيں بلكہ ہم كهتے ہيں كہ آٹه ركعت سنت ہے ، سنت هے" [القول الفصيح ص:5].
1⃣3⃣دليل نمبرــ علامہ شامى فرماتے ہيں:
"دليل كے لحاظ سے صرف آٹه تراويح ہى سنت ہے اورباقى ركعتيں مستحب ہیں"
[ديكهئے:ردالمختارالمعروف فتاوى شامى،ج1ص :495].
2⃣3⃣دلیل نمبر ــ مولانا احمد على سهارنپورى فرماتے هيں:
"قيام رمضان(تراويح)گياره ركعت مع وترسنت ہے، جسے نبى صلى اللہ علي وسلم نے باجماعت اداكيا ہے" [حاشيه بخارى شريف ازسهارنپورى1/154].
3⃣3⃣دليل نمبرــ اسى طرح موصوف نے ايک اورجگہ لكهاہے:
"صحيح حديث كى روسے وترسميت نماز تراويح كى صرف گياره ركعتيں ہى ثابت ہيں"
[بحواله:عين الهداية شرح ص، 562، والمفاتيح الأسرارالتراويح، ص:9 ].
4⃣3⃣دليل نمبر ــ علامہ شاه ولى الله محدث دہلوى فرماتے هيں:
"رسول الله صلى الله عليه وسلم كے عمل سے(تراويح كى) گياره ركعتيں ايک ثابت شده حقيقت ہے" [بحوالہ: مصطفى شرح مؤطافارسى مع مسوى1/177].
♻ان تمام ادلہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ تراویح کی صحیح تعداد وتر کے ساته گیارہ رکعت ہی ہے ، اور یہ علمائے احناف کے یہاں بهی مسلم ہے....
====================
مکہ مکرمہ کی مسجد ِ حرام میں 20 تراویح کے بارے میں اکثر وبیشتر سوال کیا جاتا ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت آٹھ سے زیادہ تراویح نہیں ہیں ، تو پھر بیت اللہ میں اس پر عمل کیوں نہیں کیا جاتا۔ ایک طرف سعودی عرب کی تمام مساجد میں جواکثر وبیشتر حکومت کے ہی زیر نگرانی ہیں ، آٹھ تراویح پڑھی جاتی ہیں ، پھر بیت اللہ میں کیوں 20 تراویح پڑھائی جاتی ہیں ؟ آئیے اس کی حقیقت اور تراویح کے بارے میں سعودی عرب کے جید علما کا موقف جانتے ہیں ۔
صحیح بخاری میں مروی ہے کہ ابو سلمہ بن عبد الرحمن نے حضرت عائشہ ؓسے پوچھا :
رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کیسے تھی ؟تو اُنہوں نے جواباًکہا :
''ما کان یزید في رمضان ولا في غیرہ علی إحدٰی عشرة رکعة''(صحیح بخاری: 2013)
''رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں اوردیگر مہینوں میں گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔ ''
حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں رمضان میں آٹھ رکعات اور وتر پڑھائے، اگلی رات آئی تو ہم جمع ہوگئے، اور ہمیں امید تھی کہ آپؐ گھر سے باہر نکلیں گے لیکن ہم صبح تک انتظار کرتے رہ گئے۔ پھر ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں بات کی تو آپؐ نے فرمایا: مجھے خطرہ تھا کہ کہیں تم پر فرض نہ کردیا جائے۔ ''(صحیح ابن خزیمہ :1070،ابن حبان2401، ابویعلی 3؍336، صحیح بخاری 2012)
اس حدیث کی سند کو شیخ البانی رحمة اللہ علیہ نے تخریج صحیح ابن خزیمہ میں حسن قرار دیا ہے، اس کے راوی عیسیٰ بن جاریہ پر کچھ محدثین نے جرح کی ہے جو مبہم ہے، اور اس کے مقابلے میں ابوزرعہ رحمة اللہ علیہ اورابن حبان رحمة اللہ علیہ نے اس کی تو ثیق کی ہے ،لہٰذا اسے جرحِ مبہم پر مقدم کیا جائے گا۔
امام مالک نے سائب بن یزید سے روایت کیا ہے کہ ''حضرت عمر ؓ نے اُبی بن کعبؓ اور تمیم داری ؓ کو گیارہ رکعات پڑھانے کا حکم دیا۔'(موطأ: 1؍73،مصنف ابن ابی شیبہ 2؍391)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ
• رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رمضان اوردیگر مہینوں میں رات کی نمازگیارہ رکعات تھی ۔
• یہی گیارہ رکعات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں صحابہ کرامؓ کو بھی باجماعت پڑھائیں ۔
• پھر جب حضرت عمرؓ نے نمازِ تراویح کے لئے لوگوں کو جمع کیا، تو اُنہوں نے بھی دوصحابہ کرام اُبی بن کعب ؓ اور تمیم داری ؓکو گیارہ رکعات ہی پڑھانے کا حکم دیا ۔
سعودی علماء اور مسئلہ تراویح
--------------------------
سعودی علما کا مسئلہ تراویح میں بالکل وہی موقف ہے ان کی تصریحات حسب ِذیل ہیں :
(1) شیخ ابن باز رحمة اللہ علیہ
''والأفضل ما کان النبيﷺ یفعله غالبًا وھو أن یقوم بثمان رکعات یسلم من کل رکعتین، ویوتر بثلاث مع الخشوع والطمأنینة وترتیل القراء ة، لما ثبت فی الصحیحین من عائشة رضی اﷲ عنھا قالت: کان رسول اﷲ ﷺ لا یزید في رمضان ولا في غیرہ علی إحدٰی عشرة رکعة...''(فتاوٰی اللجنة الدائمة 7؍212)
''اور افضل وہ ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اکثر و بیشتر کرتے تھے، اور وہ یہ کہ انسان آٹھ رکعات پڑھے، اور ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرے، پھر تین وتر ادا کرے اور پوری نماز میں خشوع، اطمینان اور ترتیل قرآن ضروری ہے۔ بخاری و مسلم میں حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان اور دیگر مہینوں میں گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے...''
(2) سعودی عرب کی فتویٰ کونسل کا فتویٰ
''صلاة التراویح سنة سَنَّھا رسول اﷲ ﷺ، وقد دلَّت الأدلة علی أنه ﷺ ما کان یزید في رمضان ولا في غیرہ علی إحدی عشرة رکعة''( فتاوٰی اللجنة الدائمة : 7؍194)
''نماز تراویح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے،اور دلائل یہ بتاتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان اور اس کے علاوہ پورے سال میں گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔''
اس فتوے پر چار سعودی علما کے دستخط ہیں :
شیخ عبداللہ بن قعود،
شیخ عبداللہ بن غدیان
شیخ عبدالرزاق عفیفی
شیخ ابن باز
(3)شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمة اللہ علیہ
''واختلف السلف الصالح في عدد الرکعات في صلاة التراویح والوتر معها، فقیل: إحدی وأربعون رکعة، وقیل: تسع وثلاثون، وقیل: تسع وعشرون، وقیل ثلاث وعشرون، وقیل: تسع عشرة، وقیل: ثلاث عشرة، وقیل: إحدٰی عشرة، وقیل: غیر ذلك، وأرجح ھذہ الأقوال أنها إحدی عشرة أوثلاث عشرة لما في الصحیحین عن عائشة رضي اﷲ عنها... وعن ابن عباس رضی اﷲ عنهما قال: کانت صلاة النبي ﷺ ثلاث عشرة رکعة، یعني من اللیل (رواہ البخاري) وفي الموطأ عن السائب بن یزید رضي اﷲ عنه قال: أمر عمر بن الخطاب رضي اﷲ عنه أبي بن کعب وتمیم الداري أن یقوما للناس بإحدی عشرة رکعة''( مجالس شہر رمضان: ص19)
''سلف صالحین نے نمازِ تراویح مع نمازِ وتر کی رکعات میں اختلاف کیا ہے، بعض نے اکتالیس، بعض نے اُنتالیس، بعض نے اُنتیس، بعض نے تیئس، بعض نے اُنیس، بعض نے تیرہ اور بعض نے گیارہ رکعات بیان کی ہیں اور بعض نے ان اقوال کے علاوہ دوسری تعداد بھی نقل کی ہے، لیکن ان سب اقوال میں سے سب سے زیادہ راجح گیارہ یا تیرہ رکعات والا قول ہے، کیونکہ صحیحین (بخاری و مسلم) میں حضرت عائشہؓ نے گیارہ رکعات بیان کی ہیں ، اور بخاری کی ایک اور روایت میں ابن عباس ؓنے تیرہ رکعات ذکر کی ہیں ، اور موطأ امام مالک میں سائب بن یزید کا بیان ہے کہ حضرت عمرؓ نے اُبی بن کعب اور تمیم داری رضی اللہ عنہما دونوں کو گیارہ رکعات پڑھانے کا حکم دیا تھا۔''
سعودی علماء کے مندرجہ بالا اقتباسات سے معلوم ہوا کہ یہ علما نمازِ تراویح کی رکعات کے مسئلے میں حضرت عائشہؓ والی حدیث پر اعتماد کرتے ہیں ، اور اس میں مذکور گیارہ رکعات سے وہ نمازِ تراویح کی گیارہ رکعات ہی مراد لیتے ہیں ۔
مسئلہ تراویح میں افضل یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ تعداد رکعات پر عمل کیا جائے، اور وہ ہے: گیارہ رکعات مع وتر۔
سعودی علما اسی بات کے قائل ہیں کہ حضرت عمرؓ نے بھی گیارہ رکعات ہی پڑھانے کا حکم دیا تھا۔
نوٹ:شیخ ابن عثیمین رحمة اللہ علیہ نے جو تیرہ رکعات کا ذکر کیا ہے، دراصل ان میں دو رکعات وہ ہیں جنہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دو مرتبہ وتر کے بعد پڑھا تھا، اور علما کا کہنا ہے کہ چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصے میں وتر پڑھتے تھے اور اس کے بعد فجر کی اذان ہوجاتی تھی، تو شاید آپؐ نے فجر کی دو سنتیں پڑھی تھیں ، جنہیں ابن عباس ؓ نے رات کی نماز میں شامل سمجھا، یا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر کے بعد یہ دو رکعات اس لئے پڑھی تھیں کہ وتر کے بعد بھی نفل نماز پڑھنے کا جواز باقی رہے۔ واللہ أعلم!
سعودی عرب کے ائمہ حرمین شریفین کے متعلق بھی یہ بات ہر ایک کو معلوم ہے کہ خانۂ کعبہ میں دو امام تراویح پڑھاتے ہیں ، ایک دس رکعات پڑھا کر چلاجاتاہے ، پھر دوسرا آتاہے اور وہ بھی دس رکعات تراویح پڑھاتاہے ، علاوہ ازیں سعودی عرب کی دیگر جمیع مساجد میں آٹھ رکعات ہی پڑھائی جاتی ہیں جو اس بات کی دلیل ہے کہ سعودی علماءبھی اسی موقف کو مستند سمجھتے ہیں کہ آٹھ تراویح ہی سنت اور افضل ہیں ۔
منقول از محدث میگزین بترمیم
✳✳✳✳✳✳✳✳
گياره ركعت تراويح علمائے احناف كى عدالت ميں
✳✳✳✳✳✳✳✳
1⃣دليل مقلداورحنفى مذهب كے بانى ومؤسس امام ابوحنيفہ رحمہ الله كے نزديک بهى نمازتراويح(قيام الليل) آٹه ركعت ہی هے جيساكہ امام ابويوسف ابوحنيفہ سے نقل كرتے ہوئے رقمطرازہيں:
"عن أبي حنيفة عن أبي جعفرمحمد بن علي عن النبيّ صلى الله عليه وسلم أنّه كان يصلي بعدالعشاء الآخرة إلى الفجرفيمابين ذلك ثماني ركعات ويوتربثلاث ، ويصلي ركعتي الفجر"
[الحاوي للفتاوى ازامام سيوطى ،بحواله سنن سعيد بن منصور 1/416].
امام ابوحنيفہ اپنے استاذابوجعفركى سند سے رسول كريم صلى الله عليہ وسلم كاطريقہ نقل كرتے ہيں كہ آپ صلى الله عليه وسلم عشاء كے بعد آخرى حصہ ميں فجرتک گياره ركعت مع الوترہى پڑهاكرتے تهے اوردوركعت صبح كى سنتيں آذان كے بعد ادافرماتے تهے.
2⃣دليل نمبرــ امام ابوحنيفہ رحمہ الله كے تيسرے بڑے شاگرد محمد بن الحسن الشيبانى جن پرفقہ كى اكثرعمارت كهڑى ہے اپنى كتاب "مؤطاامام محمد" ميں"باب التراويح" حديث عائشہ صديقہ رضى الله عنها سے صحيح بخارى ومسلم والى گياره ركعت مع الوتركى روايت نقل كرنے كے بعدرقمرطراز ہيں:
"وبهذانأخذ كله" كہ ہمارا بهى اس گياره ركعت مع الوتروالى حديث پرہى عمل ہے"
[حواله:مؤطاامام محمد ص نمبر93]
3⃣دليل نمبرــ ملاعلى قارى حنفى ماتريدى فرماتے ہيں:
"إن التراويح في الأصل إحدى عشرركعة بالوترفي جماعة فعله رسول الله صلى الله عليه وسلّم" [مرقاة شرح مشكوة ج3/ص نمبر382].
كہ مسئلہ تراويح ميں حقيقت يہى ہے كہ گياره ركعت مع الوترہى مسنون ہےجنكا اہتمام رسول الله صلى الله عليہ وسلّم نے كيا تها.
4⃣دليل نمبرــ امام ابن همام خنفى فرماتے ہيں:
"فتحصل من هذا كله أن قيام رمضان سنة إحدى عشرركعة بالوترفي جماعة فعله صلى الله عليه وسلّم" [فتح القديرشرح الهدايه( حنفى قرآن) ج1/ ص نمبر468].
كہ مسنون تعداد تراويح گياره ركعت مع الوترہى ہے جس كا اہتمام رسول الله صلى اللہ عليہ وسلم نے كيا.
5⃣دليل نمبرــ امام ابن نجيم حنفى نعمانى فرماتے ہيں:
"وقدثبت أن ذلك كان إحدى عشرة ركعة بالوتركما ثبت في الصحيحين من حديث عائشة رضي الله عنها فإذن يكون المسنون على اصول مشا ئخنا ثمانية منها والمستحب إثناعشر" [البحرالرائق شرح كنز الدقائق ج2/ ص نمبر66،67].
"اس مسئلہ ميں صحيحين كی حديث كے مطابق گياره (11) ركعت مع الوترہى ثابت ہيں پس ہمارے مشائخ كے عقيدے كے مطابق آٹہ ركعت مسنون اورباقى بيس ميں سے باره(12) مستحب ہے.
6⃣دليل نمبرــ صاحب شرح الوقايہ رقمطراز ہيں:
"نتيجہ يہ ہے كہ آٹه ركعت تراويح سنت ہيں اوربيس مستحب"
[شرح وقايه جلد1/ص نمبر132، مطبوعه زراقى لكهنو].
7⃣دليل نمبر ــ ابوالاخلاص الحسن بن عمارشرنبلانى حنفى (المتوفى 1069هـ) فرماتے ہيں:
"لمّا ثبت أنّه صلى بالجماعة إحدى عشرة ركعة بالوتر"
[ مراقى الفلاح شرح نورالايضاح (404)].
جب يہى بات ثابت ہے كہ رسول اللہ صلى الله عليہ وسلم نے باجماعت گياره ركعت مع الوترپڑهائيں پهراس سنيت سے انحراف يقيناسنت نبوى سے دائمى عداوت كى دليل ہے.
8⃣دليل نمبرــ ايک اورجگہ موصوف لكهتے ہيں:
"نبى صلى اللہ عليہ وسلم نے گياره ركعتيں مع وتر باجماعت پڑهائى ہيں اوربيس ركعتوں والى روايت ضعيف ہے" [ديكهئے:فتاوى شرنبلالى].
9⃣دليل نمبرــ جناب خليل احمدسهارنپورى ديوبندى حنفى (1269ــ1346) فرماتے ہيں:
"سنت مؤكده ہونا تراويح آٹه ركعت تو بالاتفاق ہے اگرخلاف ہے توباره ميں". [براهين القارى 1/402].
🔟دليل نمبر ــ مزيدسهارنپورى صاحب تحرير فرماتے ہيں:
"فتحصل من هذا كلّه أنّ قيام رمضان سنة إحدى عشرة ركعة بالوترفعله صلى الله عليه وسلّم" [حاشية على صحيح البخاري ج1/ص نمبر154].
كہ اس مسئلہ كا خلاصہ ونتيجہ يہ ہے كہ رمضان كا قيام (نمازتراويح) رسول اكرم صلى اللہ عليہ وسلّم سے سنت گياره ركعت مع الوترہى ثابت ہے.
1⃣1⃣دليل نمبرــ مشہورحنفى عالم امام طحاوى اورمولوى ابوالسعودحنفى اورمولوى احمد حموى نے بهى آٹه ركعت تراويح كوسنت قرارديا ہے:
"رسول اكرم صلى الله عليه وسلّم نے بيس(20) ركعت تراويح نہيں بلكہ آٹه ركعت تراويح ہى پڑهيں" ▪حوالے....
[1] :شرح ردّ المختارص نمبر296 ، مطبوعه مصر.
[2] شرح كنزص نمبر565مطبوه مصر.
[3] شرح الاشباه والنظائر].
2⃣1⃣دليل نمبرــ ملا عينى حنفى فرماتے ہيں:
"فإن قلت لم يبين في الروايات المذكورة عدد الصلاة الّتي صلها رسول الله صلى الله عليه وسلّم في تلك الليالي ، قلت رواه ابن خزيمة وابن حبّان من حديث جابررضي الله عنه قال صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلّم في رمضان ثمان ركعات ثمّ أوتر"
[عمدة القاري شرح صحيح البخاري ج3/ص نمبر597
اس حديث جابركوامام زيلعى حنفى صوفى نے اپنى شہره آفاق كتاب "نصب الرأية في تخريج احاديث الهداية ج1/ ص نمبر293 پرنقل كيا ہے].
"اگرتويہ اعتراض كرے كہ آپ صلى الله عليه وسلم نے رمضان كى تين راتوں ميں باجماعت جونمازپڑهائى اس كى تعداد واضح نہيں توميں جواب ميں ابن خزيمہ اورابن حبان ميں حضرت جابروالى روايت بيان كروں گاكہ آپ نے هم كو رمضان ميں آٹه ركعت تراويح اور پهر وتر پڑهائے".
♻مولانا انورشاه كشميرى كے بعض اقوال:
3⃣1⃣دليل نمبرــ مشہورحنفى عالم مولانا انورشاه كشميرفرماتے ہيں:
"لامناص من تسليم أن تراويحه عليه الصلاة والسلام كانت ثمانية ركعات" [العرف الشذّي حاشية على الجامع الترمذي ج1/177].
كہ اس بات كوتسليم كئے بغيرجان خلاصى ناممكن ہے كہ آپ عليہ السلام كى نماز تراويح آٹه ركعت ہى بدون وترتهى.
🎯( يعنى اهل حديث كا جومسلک ہے كہ آٹہ ركعت ہى نبى عليہ السلام كى سنت ہے وہى صحيح ہے).
4⃣1⃣دليل نمبرــ ايک اورجگہ موصوف فرماتے ہيں:
"كہ نبى صلى الله عليہ وسلم سے صحيح سند كے آٹه تراويح ہى ثابت ہيں اوربيس ركعتوں والى حديث ضعيف ہے اوراسكے ضعف پرتمام محدثين كا اتفاق ہےـ
[ديكهئے:العرف الشذي ص:309].
5⃣1⃣دليل نمبرـ اسى طرح موصوف اپنى كتاب"فيض البارى" ميں اس طرح رقمطرازہيں:
"نبى صلى الله عليہ وسلم سے كسى مرفوع حديث ميں تيره ركعتوں سے زياده نمازتراويح ثابت ہى نہيں ہے"ـ [فيض البارى 1/420].
6⃣1⃣دليل نمبرــ ايک اورجگہ رقمطرازہيں:
"كہ نبى صلى الله عليہ وسلم نے صحابہ كرام كو ماه رمضان ميں آٹه ركعت تراويح اورتين وتركى جماعت كروائى تهى جيساكہ ابن خزيمہ و ابن حبان نے اپنى اپنى صحيح ميں اورمحمد بن نصرمروزى نے قيام الليل ميں حضرت جابر كى حديث بيان كى ہے ـ
[كشف السترص:27].
7⃣1⃣دليل نمبرــ تبليغى جماعت كے بانى مولانازكريا تبليغى ديوبندى صوفى صاحب فرماتے ہيں:
"لاشك في أنّ تحديد التراويح في عشرين ركعة لم يثبت مرفوعا عن النبيّ صلى الله عليه وسلم بطريق صحيح على أصول المحدثين وماورد فيه من رواية ابن عباس رضي الله عنهمامتكلّم فيها على أصولهم" [اوجزالمسالك شرح مؤطاامام مالك ج2/ص نمبر304].
كہ يقينا محدثين كے اصولوں كے مطابق بيس(20) ركعت نمازتراويح نبى كريم صلى الله عليہ وسلم سے مرفوعا ثابت نہيں بلكہ ابن عباس والى روايت محدثين كے اصولوں كے مطابق مجروح ہے ثابت نہيں.
8⃣1⃣دليل نمبرــ مولوى احمديار نعيمى بريلوى اپنى معروف كتاب "جاء الحق" ميں مدارج النبوة كے حوالے سے مولوى عبد الحق حنفى ديوبندى دہلوى كاقول نقل كرتے ہيں كہ مولوى عبد الحق حنفى آٹه ركعت تراويح كى سنت كااعتراف كرتے ہوئے لكهتے ہيں:
"تحقيق آنست كہ صلاة آنحضرت دررمضان هماں نمازمعتادبوديازده ركعت كہ دائم درتہجدمے گزارد" [مدارج النبوة ج1/ ص نمبر400].
تحقيق يہ كہ آنحضرت صلى الله عليہ وسلم كى رمضان ميں وہى گياره ركعت ہى تهى كہ جو عام حالات ميں ہميشہ تہجد كى نماز پڑها كرتے تهے.
9⃣1⃣دليل نمبرــ مزيدعبد الحق دہلوى فرماتے ہيں:
"والصحيح ماوردته عائشة رضي الله عنهاأنّه صلى الله عليه وسلّم كان يصلي إحدى عشرة ركعة كما هوعادته في قيام الليل"
[ماثبت بالسنة ازدهلوى ص217].
0⃣2⃣دليل نمبرــ ايک اورجگہ عبدالحق صاحب فرماتے ہيں:
"تحقيق اورصحيح يہى ہے كہ نبى صلى الله عليہ وسلم ماه رمضان ميں گياره ركعت(تراويح) ہى پڑهاكرتے تهے جو كہ آپ صلى الله عليہ وسلم تہجد ميں ہميشہ پڑهاكرتے تهے جيساكہ معروف ہے"
[حواله:مدارج النبوة1/465].
1⃣2⃣دليل نمبرــ نفحات رشيد ميں لكها ہے:
"نبى صلى الله عليہ وسلم سے ثابت ہے كہ آپ صلى الله عليہ وسلم نے وترسميت گياره ركعت تراويح سے زياده نہيں پڑهيں ، نہ رمضان ميں نہ غيررمضان ميں"
[بحواله:مسلک الختام1/289].
صحيح مسئلہ يہى ہے كہ گياره ركعت ہى تراويح ہے جيساكہ آپ صلى اللہ كى قيام الليل ميں عادت تهى.
👆مولوى عبد الحق حنفى دہلوى كے كلام سے يہ بهى ثابت ہوا كہ نماز تہجد ، قيام الليل اورتراويح ايک ہى نمازہے.
2⃣2⃣دليل نمبرــ بانى مذهب ديوبند مولوى قاسم نانوتوى ديوبندى فرماتے ہيں:
"ويازده از فعل سرورعالم صلى الله عليه وسلم اكدازيست"
[لطائف قاسميه،مكتوب سوئم ص 18].
كہ رسول الله صلى الله عليه سے جوگياره ركعت ثابت ہيں وه بيس (20) سے زياده معتبرہيں.
👆آل ديوبند كواپنے بانى كى لاج ركهتے ہوئے بيس ركعت(20) سنت اورآٹه ركعت كو بدعت كى اشتہار بازى سے رک جانا چاہئے.
3⃣2⃣دليل نمبرــ ايک اورجگہ فتح سرالمنان في تأئيد مذهب النعمان ميں لكهتے ہيں:
"جيسا كہ آج كل بيس(20) ركعت تراويح كو سنت بتاياجارهاہے ، يہ رسول صلى الله عليہ وسلم سے ثابت نہيں ہے ، آپ صلى الله عليہ وسلم كے زمانہ مبارک ميں آپ كے حكم كے بموجب حضرت عائشہ رضى الله عنها كى حديث پرعمل رہا جيساكہ بخارى شريف ميں موجود ہے كہ رسول الله صلى الله عليہ وسلم نے رمضان ميں گياره ركعات مع الوتر سے زياده نماز تراويح نہيں پڑهى اورحضرت عائشہ رضى الله عنها رسول الله صلى الله عليہ وسلم كے حال سے خوب واقف تهيں ـ
[ فتح سرّ المنان في تأئيد مذهب النعمان ص:327 والحق الصريح للقاسمى ـ].
4⃣2⃣دليل نمبرــ علامہ حموى حاشية الاشباه ميں لكهتے ہيں:
"بلاشبہ نبى صلى الله عليه وسلم نے بيس ركعتيں نہيں بلكہ آٹه ركعات تراويح پڑهى ہيں"
[حاشية الاشباه ص:9].
5⃣2⃣دليل نمبرــ ابو السعود كنزالدقائق ميں مرقوم ہے:
"نبى صلى الله عليہ وسلم نے تراويح بيس ركعت نہيں بلكہ آٹه ركعتيں پڑهى ہيں"
[شرح كنزالدقائق ص:265].
6⃣2⃣دلیل نمبرــ مولانا محمد احسن نانوتوى رقمطراز ہيں:
"نبى صلى الله عليہ وسلم نے تراويح كى بيس(20) ركعتيں نہيں بلكہ صرف آٹه رکعت پڑهی ہیں.
7⃣2⃣دليل نمبرــ مولوى رشيداحمدگنگوہى فرماتے ہيں:
"براہل علم پوشيده نيست كہ قيام رمضان و قيام الليل في الواقع يک نماز است كہ دررمضان برائے تيسيرمسلمين دراول شب مقرركرده شدوهنوزعزيمت دراداشيں آخرشب است ودرقيام الليل فخرعليہ الصلاة والسلام چنانچہ ايازده ركعت وكم ازاں ثابت شده اندسيزده ركعت سوائے سنت فجريم صحيحين موداند"
[الحق الصريح في اثبات التراويح (فارسى) ص:1].
كسى بهى اہل علم سے يہ بات مخفى نہيں كہ قيام رمضان(تراويح) اورقيام الليل درحقيت ايک ہى چيز ہيں رمضان ميں صرف مسلمانوں كى سہولت كے لئے قيام شروع رات ميں مقرركياگيا اورعام حالات ميں برائے عزيمت آخرى رات ميں مقرر ہوگيا رسول كريم صلى الله عليہ وسلم سے گياره ركعت ہى قيام الليل ثابت ہے بلكہ كم بهى ثابت ہے ــ تيره ركعت صبح كى دو سنتوں کے علاوه بخارى ومسلم ميں موجود ہيں.
8⃣2⃣دليل نمبرــ بانى جماعت
اسلامى و مؤسس مولانا ابوالاعلى مودودى حنفى فرماتےہيں:
"تمام روايات جمع كرنے سے جو چيزحقيقت كے قريب ترمعلوم ہوتى ہے وه يہ ہے كہ حضورصلى الله عليہ وسلم نے خودجماعت كے ساته رمضان ميں جونمازپڑهائى وه اول وقت ميں تهى نہ كہ آخروقت ميں اوروه آٹه ركعات تهيں نہ كہ بيس(20) ركعات، اگرچہ ايک روايت (20) بيس ركعات كى بهی ہے مگروه آٹه والى كى نسبت ضعيف ہے"
[رسائل ومسائل (2/167].
9⃣2⃣دليل نمبر ــ مولانا كفايت الله ديوبندى حنفى رقمطراز ہيں:
"اكثرروايتوں سے حضورصلى الله عليہ وسلم كاآٹه ركعتيں(تراويح) پڑہناثابت ہے.
[وكفايت المفتى 3/363].
0⃣3⃣دليل نمبر ــ قاضى شمس الدين ديوبندى حنفى فرماتے ہيں:
"ميرايہ موقف ہے كہ مجهے نہ آٹه ركعت كى سنت سے انكارہے اورنہ عملا اسكے ترک كومستحسن سمهتا ہوں اور نہ ہی حتى المقدوراسكو ترک كرتا ہوں اورنہ كسى كو تلقين كرتاہوں كہ وه ترک كردے اورنہ ہى ميرى جماعت حنفيہ آٹه كى سنت كے منكروتارک ہيں بلكہ ہم كهتے ہيں كہ آٹه ركعت سنت ہے ، سنت هے" [القول الفصيح ص:5].
1⃣3⃣دليل نمبرــ علامہ شامى فرماتے ہيں:
"دليل كے لحاظ سے صرف آٹه تراويح ہى سنت ہے اورباقى ركعتيں مستحب ہیں"
[ديكهئے:ردالمختارالمعروف فتاوى شامى،ج1ص :495].
2⃣3⃣دلیل نمبر ــ مولانا احمد على سهارنپورى فرماتے هيں:
"قيام رمضان(تراويح)گياره ركعت مع وترسنت ہے، جسے نبى صلى اللہ علي وسلم نے باجماعت اداكيا ہے" [حاشيه بخارى شريف ازسهارنپورى1/154].
3⃣3⃣دليل نمبرــ اسى طرح موصوف نے ايک اورجگہ لكهاہے:
"صحيح حديث كى روسے وترسميت نماز تراويح كى صرف گياره ركعتيں ہى ثابت ہيں"
[بحواله:عين الهداية شرح ص، 562، والمفاتيح الأسرارالتراويح، ص:9 ].
4⃣3⃣دليل نمبر ــ علامہ شاه ولى الله محدث دہلوى فرماتے هيں:
"رسول الله صلى الله عليه وسلم كے عمل سے(تراويح كى) گياره ركعتيں ايک ثابت شده حقيقت ہے" [بحوالہ: مصطفى شرح مؤطافارسى مع مسوى1/177].
♻ان تمام ادلہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ تراویح کی صحیح تعداد وتر کے ساته گیارہ رکعت ہی ہے ، اور یہ علمائے احناف کے یہاں بهی مسلم ہے....
Tuesday, June 7, 2016
وتر
Sahih Bukhari Hadees # 473
حدثنا أبو النعمان ، قال حدثنا حماد ، عن أيوب ، عن نافع ، عن ابن عمر ، أن رجلا ، جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم وهو يخطب فقال كيف صلاة الليل فقال مثنى مثنى ، فإذا خشيت الصبح فأوتر بواحدة ، توتر لك ما قد صليت . قال الوليد بن كثير حدثني عبيد الله بن عبد الله أن ابن عمر حدثهم أن رجلا نادى النبي صلى الله عليه وسلم وهو في المسجد.
ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خطبہ دے رہے تھے آنے والے نے پوچھا کہ رات کی نماز کس طرح پڑھی جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو دو رکعت پھر جب طلوع صبح صادق کا اندیشہ ہو تو ایک رکعت وتر کی پڑھ لے تاکہ تو نے جو نماز پڑھی ہے اسے یہ رکعت طاق بنا دے اور امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ولید بن کثیر نے کہا کہ مجھ سے عبیداللہ بن عبداللہ عمری نے بیان کیا، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے بیان کیا کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دی جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے۔
@@@@@@@@@@@@@@@@@
2
Sahih Bukhari Hadees # 991
وعن نافع ، أن عبد الله بن عمر ، كان يسلم بين الركعة والركعتين في الوتر ، حتى يأمر ببعض حاجته.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما وتر کی جب تین رکعتیں پڑھتے تو دو رکعت پڑھ کر سلام پھیرتے یہاں تک کہ ضرورت سے بات بھی کرتے۔
@@@@@@@@@@@@@@@@@
3
Sahih Bukhari Hadees # 993
حدثنا يحيى بن سليمان ، قال حدثني ابن وهب ، قال أخبرني عمرو ، أن عبد الرحمن بن القاسم ، حدثه عن أبيه ، عن عبد الله بن عمر ، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم صلاة الليل مثنى مثنى ، فإذا أردت أن تنصرف فاركع ركعة توتر لك ما صليت . قال القاسم ورأينا أناسا منذ أدركنا يوترون بثلاث ، وإن كلا لواسع أرجو أن لا يكون بشىء منه بأس.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، رات کی نماز دو، دو رکعتیں ہے اور جب تو ختم کرنا چاہے تو ایک رکعت وتر پڑھ لے جو ساری نماز کو طاق بنا دے گی۔ قاسم بن محمد نے بیان کیا کہ ہم نے بہت سوں کو تین رکعت وتر پڑھتے بھی پایا ہے اور تین یا ایک (رکعت وتر) سب جائز اور مجھ کو امید ہے کہ کسی میں قباحت نہ ہو گی۔
4
Sahih Bukhari Hadees # 996
حدثنا عمر بن حفص ، قال حدثنا أبي قال ، حدثنا الأعمش ، قال حدثني مسلم ، عن مسروق ، عن عائشة ، قالت كل الليل أوتر رسول الله صلى الله عليه وسلم وانتهى وتره إلى السحر.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ہر حصہ میں بھی وتر پڑھی ہے اور آخیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وتر صبح کے قریب پہنچا۔
5
Sahih Muslim Hadees # 1617
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِيمَا بَيْنَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَائِ وَهِيَ الَّتِي يَدْعُو النَّاسُ الْعَتَمَةَ إِلَی الْفَجْرِ إِحْدَی عَشْرَةَ رَکْعَةً يُسَلِّمُ بَيْنَ کُلِّ رَکْعَتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ فَإِذَا سَکَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَتَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ وَجَائَهُ الْمُؤَذِّنُ قَامَ فَرَکَعَ رَکْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَی شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّی يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ لِلْإِقَامَةِ
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، عمرو بن حارث، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ مطہرہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ عشاء کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد سے فجر کی نماز کے درمیان تک گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے اور ہر دو رکعتوں کے بعد سلام پھیرتے اور ایک رکعت کے ذریعہ وتر بنا لیتے پھر جب مؤذن فجر کی اذان دے کر خاموش ہو جاتا تو فجر ظاہر ہو جاتی اور مؤذن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو کر ہلکی ہلکی دو رکعت پڑھتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دائیں کروٹ پر لیٹ جاتے یہاں تک کہ مؤذن اقامت کہنے کے لئے آتا۔
6
حدثنا أبو النعمان ، قال حدثنا حماد ، عن أيوب ، عن نافع ، عن ابن عمر ، أن رجلا ، جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم وهو يخطب فقال كيف صلاة الليل فقال مثنى مثنى ، فإذا خشيت الصبح فأوتر بواحدة ، توتر لك ما قد صليت . قال الوليد بن كثير حدثني عبيد الله بن عبد الله أن ابن عمر حدثهم أن رجلا نادى النبي صلى الله عليه وسلم وهو في المسجد.
ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خطبہ دے رہے تھے آنے والے نے پوچھا کہ رات کی نماز کس طرح پڑھی جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو دو رکعت پھر جب طلوع صبح صادق کا اندیشہ ہو تو ایک رکعت وتر کی پڑھ لے تاکہ تو نے جو نماز پڑھی ہے اسے یہ رکعت طاق بنا دے اور امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ولید بن کثیر نے کہا کہ مجھ سے عبیداللہ بن عبداللہ عمری نے بیان کیا، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے بیان کیا کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دی جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے۔
@@@@@@@@@@@@@@@@@
2
Sahih Bukhari Hadees # 991
وعن نافع ، أن عبد الله بن عمر ، كان يسلم بين الركعة والركعتين في الوتر ، حتى يأمر ببعض حاجته.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما وتر کی جب تین رکعتیں پڑھتے تو دو رکعت پڑھ کر سلام پھیرتے یہاں تک کہ ضرورت سے بات بھی کرتے۔
@@@@@@@@@@@@@@@@@
3
Sahih Bukhari Hadees # 993
حدثنا يحيى بن سليمان ، قال حدثني ابن وهب ، قال أخبرني عمرو ، أن عبد الرحمن بن القاسم ، حدثه عن أبيه ، عن عبد الله بن عمر ، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم صلاة الليل مثنى مثنى ، فإذا أردت أن تنصرف فاركع ركعة توتر لك ما صليت . قال القاسم ورأينا أناسا منذ أدركنا يوترون بثلاث ، وإن كلا لواسع أرجو أن لا يكون بشىء منه بأس.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، رات کی نماز دو، دو رکعتیں ہے اور جب تو ختم کرنا چاہے تو ایک رکعت وتر پڑھ لے جو ساری نماز کو طاق بنا دے گی۔ قاسم بن محمد نے بیان کیا کہ ہم نے بہت سوں کو تین رکعت وتر پڑھتے بھی پایا ہے اور تین یا ایک (رکعت وتر) سب جائز اور مجھ کو امید ہے کہ کسی میں قباحت نہ ہو گی۔
4
Sahih Bukhari Hadees # 996
حدثنا عمر بن حفص ، قال حدثنا أبي قال ، حدثنا الأعمش ، قال حدثني مسلم ، عن مسروق ، عن عائشة ، قالت كل الليل أوتر رسول الله صلى الله عليه وسلم وانتهى وتره إلى السحر.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ہر حصہ میں بھی وتر پڑھی ہے اور آخیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وتر صبح کے قریب پہنچا۔
5
Sahih Muslim Hadees # 1617
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِيمَا بَيْنَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَائِ وَهِيَ الَّتِي يَدْعُو النَّاسُ الْعَتَمَةَ إِلَی الْفَجْرِ إِحْدَی عَشْرَةَ رَکْعَةً يُسَلِّمُ بَيْنَ کُلِّ رَکْعَتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ فَإِذَا سَکَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَتَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ وَجَائَهُ الْمُؤَذِّنُ قَامَ فَرَکَعَ رَکْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَی شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّی يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ لِلْإِقَامَةِ
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، عمرو بن حارث، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ مطہرہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ عشاء کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد سے فجر کی نماز کے درمیان تک گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے اور ہر دو رکعتوں کے بعد سلام پھیرتے اور ایک رکعت کے ذریعہ وتر بنا لیتے پھر جب مؤذن فجر کی اذان دے کر خاموش ہو جاتا تو فجر ظاہر ہو جاتی اور مؤذن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو کر ہلکی ہلکی دو رکعت پڑھتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دائیں کروٹ پر لیٹ جاتے یہاں تک کہ مؤذن اقامت کہنے کے لئے آتا۔
6
Sunday, June 5, 2016
فرقہ ناجیہ
فرقہ ناجیہ
""""""""""""""""
جماعت کا صحیح مفہوم
بہت سارے لوگ لفظ " جماعۃ " سے ہی گمراہ ہوئے ، کوئی اپنا ہم خیال گروپ تیار کرکے جماعت کا دعوی کرتا ہے،تو کچھ لوگ دعوتی تنظیم ، فاونڈیشن ، ادارہ ، لیگ وغیرہ بنا کر جماعت کا دعوی کرتے ہیں ، جو ان کا ممبر بنے اسے جماعت (فرقہ ناجیہ ) میں شامل کرلیتے ہیں ، اور جو ممبر نہ ہواسے اسی بنا پر گمراہ سمجھ کر اپنےفتوی سے جہنم کا ایندھن بنادیتے ہیں اگر چہ وہ سلف صالحین کے خالص منہج پر گامزن بھی کیوں نہ ، سبحان اللہ !!!
ایسا کہنا کھلی گمراہی ہے ، ایسے لوگ غزو فکری کے شکار ہیں ، جو لفظ جماعت کے عظیم اور وسیع معنی کو اپنی تنظیم کے دائرے میں محدود کردیتے ہيں، یہی دور جدید کا جدید فتنہ ہے جسے علماء حق نے حزبیت کا نام دیا ہے اور اس کی سخت ترین مزمت کی ہے ۔
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے روایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: "أَلاَ إِنَّ مَنْ قَبْلَكُمْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ افْتَرَقُوا عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً وَإِنَّ هَذِهِ الْمِلَّةَ سَتَفْتَرِقُ عَلَى ثَلاَثٍ وَسَبْعِينَ ثِنْتَانِ وَسَبْعُونَ فِى النَّارِ وَوَاحِدَةٌ فِى الْجَنَّةِ وَهِىَ الْجَمَاعَةُ " (ابو دادو / 4597 / امام البانی نے اسے حسن کہا ہے)
یعنی : خبردار ! جو تم سے پہلے اہل کتاب تھے وہ بہتر (72) فرقوں میں بٹ گئے ، اور یقینا یہ امت تہتَّر (73 ) فرقوں میں بٹ جائے گی ، ان میں سے بہتر ( 72 )جہنم میں جائيں گے اور ایک جنت میں جائے گا ، وہ " جماعت " ہے ۔
اب لوگوں نے اس لفظ " جماعت " میں گمراہ کن فتوی سازی کی ، جس سے وہ خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کر رہے ہیں۔تحریف لفظی کو مشکل پاکر تحریف معنوی کا سہار لیا ۔ چونکہ یہ اصول متفق علیہ ہے کہ اگر قرآن اور حدیث میں کہیں پر کوئی لفظ ہو جس کی پوری وضاحت وہاں پر نہ ہو تو قرآن اور حدیث ہی کی دوسری نصوص سے اس کا مفہوم سمجھا جاتا ہے لہذا اس لفظ"جماعت" کی وضاحت اس حدیث سے ہوتی ہے :
"۔۔۔ قَالُوا وَمَنْ هِىَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِى " (ترمذی / 2641 /امام البانی نے اسے حسن کہا ہے // شیخ الاسلام نے اس سے کئی جگہوں میں استشہاد کیا ہے جیسے : مجموع فتاوی ج 3 ، ص 159)
یعنی: انہوں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم ) ! وہ ( فرقہ ناجیہ ) کون ہے ؟ انہوں نے فرمایا : ( جو اس راہ پر ہوں گے ) جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں ۔
اس سوال اور جواب کے عموم میں ہر وہ شخص شامل ہوا جو قرآن ، حدیث ، اور منہج صحابہ رضی اللہ عنہم پر قائم ہوگا ، لہذا جو شخص ، تنظیم ، فاونڈیشن ، ادارہ اس حدیث میں بتائے ہوئے منہج پر قائم ہوگا تو وہ جماعت ( فرقہ ناجیہ ) میں شامل ہے ، اور اگر وہ اس منہج پر قائم نہیں ہے تو وہ جماعت میں شامل نہیں ہے ، پھر یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ بیک وقت صرف ایک ہی شخص یا ایک ہی تنظیم یا ایک ہی ادارہ جماعت میں شامل نہیں ہوں گے ، بلکہ جتنی تنظیمیں ، ادارے ، اشخاص ، حديث میں بتائے ہوئے منہج پر ہوں گے وہ سب جماعت میں شامل ہیں ۔ پھر یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ بعض لوگ اکثرت میں ہونے کی وجہ سے دھوکہ کھاتے ہیں یا جان بوجھ کر دوسروں کو دھوکہ دیتے ہیں کہ جو اکثر ہوں گے وہی حق پر ہوں گے ، ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس کا فیصلہ یوں مروی ہے :
عمرو بن میمون الأودی نے کہا : میں نے لوگوں میں سب سے زیادہ فقیہ عبد اللہ بن مسعود ( رضی اللہ عنہ )کی صحبت اختیار کی ، تو میں نے اس سے سنا: "عَليكم بالجماعةِ فإن يَدَّ اللهِ مَعَ الجماعةِ " یعنی: تم جماعت کو لازم پکڑو ، پس یقینا اللہ کا ہاتھ جماعت کے ساتھ ہوتا ہے۔ پھر ایک دن میں نے اسے کہتے سنا کہ: عنقریب تم پر ایسے حکمران ہوں گے جو نمازمیں اپنے اوقات سے تاخیر کریں گے،تم نماز کو اپنےاوقات ہی میں ادا کرنا وہ تمہارے لیے فرض ادا ہوگی ، اور ان (حکمرانوں) کے ساتھ بھی نماز ادا کرنا وہ تمہارے لیے نفل ادا ہوگی ، تو میں نے کہا :اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کے صحابہ! مجھے سمجھ نہیں آتا ہے کہ تم کیا کہتے ہو ؟ ! تو اس نے کہا: کیا بات ہے ؟ میں نے کہا : تو مجھے جماعت ( کو لازم پکڑنے ) کا حکم دیتے ہو اور اس پر مجھے ابھارتے ہو ، پھر مجھے کہتے ہو کہ (اپنے وقت پر)اکیلے ہی نماز پڑھو وہ فرض ہوگی ، اور جماعت کے ساتھ نماز پڑھو وہ نفل ہوگی ؟ ! اس نے کہا : اے عمرو بن میمون ! میں تو سمجھتا تھا کہ تو اس گاؤں میں سب سے زیادہ سمجھ دار ہے !کیا تجھے معلوم ہے کہ جماعت کیا ہوتی ہے ؟ میں نے کہا : نہیں ، اس نے کہا :جماعت کے اکثر لوگوں نے تو جماعت ہی چھوڑ دی ہے ، "الجماعةُ ما وافَقَ الحق وإن كنتَ وَحدَك " یعنی : جماعت وہ ہے جس کے ساتھ حق ہو اگرچہ تو اکیلا ہی ہو ۔ (اعلام الموقعین / ج 3 / ص 397 // اس سے بہت سارے علماء نے استشہاد کیا ہے جیسے:امام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ نے ،ابن باز نے مجموع فتاوی ج 8 / ص 180 میں ، صالح الفوزان نے شرح العقيدة الواسطية ص 6 میں ، وغیرہ)
علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے کہا : ابو محمد عبد الرحمن بن اسماعیل المعروف ابو شامہ نے کتاب (الباعث على إنكار) الحوادث و البدع میں کیا ہی بہترین بات کہی ہے : جماعت لازم پکڑنے کا حکم آیا ہے ، اس سے مراد " لزوم الحق وأتباعه "حق اور اس کے پیروکاروں کو لازم پکڑنا ہے ، اگرچہ اس پر کاربند کم ہی ہوں اور اس کے مخالفین زیادہ ہی ہوں ، کیوں کہ حق ہی پر پہلی جماعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے زمانے میں تھی ، ان کے ( زمانے کے ) بعد اہل بدعت کی کثرت کو نہیں دیکھا جائے گا (إغاثة اللهفان من مصائد الشيطان / ج 1 / ص 69)۔
محدث نُعَيْم بن حَمَّاد رحمہ اللہ نے کہا : " إذا فَسدَتِ الجماعةُ فَعَليكَ بما كانت عَليهِ الجماعَةُ قَبلَ أَن تَفسِدَ وإِنْ كُنتَ وَحْدَكَ؛ فَإنَّكَ أنتَ الجماعَةُ حِينئذٍ " ( المدخل للبیقھي، بحوالہ : إتحاف الجماعة بما جاء في الفتن والملاحم وأشراط الساعة ج 1 / ص 265 / تالیف: الشیخ حمود بن عبد الله التويجري) یعنی : جب جماعت فساد کی شکار ہوجائے تو آپ پر لازم ہےکہ اسے لازم پکڑے جس پر جماعت فساد سے قبل تھی، اگرچہ تو اکیلا ہی ہو ، تب اس وقت تو ہی جماعت ہو ۔
کچھ لوگ قرآن و سنت اور منہج صحابہ رضی اللہ عنہم پر گامزن داعیوں کی دعوت میں رخنہ ڈالنے کے لیےلفظ "جماعت" کی معنوی تحریف کرکے حزبیت کا راستہ اختیار کرتے ہیں ، انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ راستہ ہرگز بھی سلف صالحین کا راستہ نہیں ہے ، انہیں چاہیے کہ جو سبز باغ وہ دیکھتے ہیں یا انہیں مخصوص مقاصد کے تحت دکھایا جارہا ہے اس سے باہر نکلیں اور سلف صالحین کا راستہ علماء حق سے معلوم کریں ، ذیل میں علماء حق کے چند حوالہ جات درج کیے جاتے ہیں تاکہ حق کےمتلاشی کو حق تلاش کرنے میں آسانی ہوسکے :
1۔ شیخ الاسلام ابن تیمیۃ رحمہ اللہ : انہوں نے حزبیت کو قرآن اور حدیث میں مزموم فرقہ بندی سے تشبیہ دی ہے ، اور کسی شخص کے کہنے پر دشمنی اور دوستی قائم کرنے کو اس آيت کا مصداق قرار دیا جس میں آیا ہے " مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا " (30 / الروم / 32) تفصیل کےلیے دیکھئے : مجموع فتاوی ابن تیمیۃ ج 11 / ص 92 اور ج 20 ص 8 ۔ اور اسے بدعتیوں کا طریقہ قرار دیا ہے (مجموع فتاوی ابن تیمیۃ ج 20 / ص 164)۔ حزبیت سے لوگوں میں عداوت پیدا کرنے کو چنگیزیت قرار دیا ہے (مجموع فتاوی ابن تیمیۃ ج 28 / ص 16) ۔ کسی شیخ کی طرف اپنی نسبت کرکے اس کی پیروی میں دوستی اور دشمنی قائم کرنے کو ناجائز قرار دیتے ہوئے اہل ایمان کے ساتھ دوستی قائم کرنے کو واجب گردانا ہے (مجموع فتاوی ابن تیمیۃ ج 11 / ص 512)
2۔علامہ ابن باز رحمہ اللہ : انہوں نے قرآن اور حدیث پر مبنی ادارے قائم کرنے کو صالح منہج قرار دیا ( مجموع فتاوی ابن باز/ ج 8 / ص 434 ) اور جس شہر میں ایسے ادارے زیادہ سے زیادہ قائم ہوں تو اسے خیر اور برکت قرار دیا ۔ جو شخص تعصب کرتے ہوئے دعوتی کام کرنے والوں کو بدنام کرنے کی کوشش کرے تو ایسے شخص کی نقاب کشائی کرنے کو واجب قرار دیا (مجموع فتاوی ابن باز /ج 4 / ص 136) اور حزبیت کو ترک کرنا واجب قرار دیا ، اور کسی بھی تنظیم کی اندھی تائید کو ناجائز قرار دیا (مجموع فتاوی ابن باز /ج 7 / ص 182 -184), اور تعصب کیے بغیر قرآن و حدیث کے دائرے میں رہتے ہوئے کسی تنظیم کے ساتھ دعوتی کام کرنے کو جائز قرار دیا (مجموع فتاوی ابن باز /ج 8 / ص 237)۔
3۔علماء سعودی دائمی فتوی کمیٹی : انہوں نے اس جماعت ( تنظیم ، ادارہ ، فاونڈیشن وغیرہ ) کے ساتھ تعاون کرنے کو واجب قرار دیا جوقرآن، سنت ، منہج سلف کے مطابق دعوتی کام کرتی ہو (مجموع فتاوی اللجنۃ الدائمۃ / ج 2 / ص 41 / المجموعۃ الثانیۃ بمطابق المکتبۃ الشاملۃ ) اور دیکھئے : ج 2 ص 237 – 239 ۔ دعوتی کام کرنے کے لیے کسی امیر کی بیعت کو ناجائز قرار دیتے ہوئے اسے نصاری کے عمل کے ساتھ تشبیہ دی ہے (مجموع فتاوی اللجنۃ الدائمۃ / ج 2 / ص 74 / دستخط علماء : بكر أبو زيد ، صالح الفوزان ، عبد الله بن غديان ، عبد العزيز آل الشيخ ، عبد الرزاق عفيفي ، عبد العزيز بن عبد الله بن باز)۔
4۔ ڈاکٹر صالح الفوزان : تنظیم کی بنیاد پر دوستی اور دشمنی قائم کرنے کو انہوں نے حزبیت قرار دیا (اعانۃ المستفید / ج 1 / ص 34، 104) کسی بھی امام ، عالم ، مفتی کی رائے کی اندھی تائید کرنے کو ناجائز قرار دیا ، اور کسی جماعت ، تنظیم ، دعوتی کام کے لیے بنائے ہوئے(تنظیمی) آئین کی اندھی تائید کرنے کو قرآن اور سنت کے خلاف قرار دیا ہے (إعانۃ المستفید / ج 1 / ص 119) ۔ کسی جماعت کی بیعت کو بدعت قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیعت صرف مسلمانوں کے ولی امر ( حاکم ) کی جائز ہے (المنتقى من فتاوى الشيخ صالح الفوزان/ ص213 ) ۔
5۔ علامہ بکر ابو زيد رحمہ اللہ : تنظیم کی بنیاد پر دوستی اور دشمنی قائم کرنے کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عین مخالفت اور تمام آفات کی جڑ قرار دیا ، اور اسے اسی فرقہ پرستی سے تشبیہ دی جسے اسلام نے مٹادیا ہے ۔ مزید انہوں نے حزبیت کی بیماریوں میں یہ بھی شمار کیا ہے کہ اس سے نوجوانوں میں یہ بات پیدا ہوتی ہے کہ تنظیم کے بغیر کوئی کام نہیں کیا جاسکتا ہے ( حکم الانتماء إلی الفرق و الأحزاب والجماعات الإسلامیۃ / ص 118 ، 119)
6۔ فقیہ العصر علامہ ابن العثیمین رحمہ اللہ : تنظیم کی بنیاد پر دوستی اور دشمنی قائم کرنے کو سلف کے منہج کے خلاف قرار دیتے ہوئے طالب علم کے لیے اس سے دور رہناواجب قرار دیا ہے، اور بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ جو ہماری تنظیم میں نہیں ہے وہ ہمارا دشمن ہے ، اس بات کو انہوں نے خبیث اصول بتایا ہے (شرح حلیۃ طالب العلم / ص 406 ، 407) ۔ حزبیت والی جماعت کے ساتھ تعاون کو ناجائز قرار دیا ہے ، اور اس کو وہ فرقہ بندی قرار دیا جس نے امت کو بکھیر دیا ہے ( فتاوى نور على الدرب / الطبعة:.الإصدار الأول[1427-2006] / أهل السنة) وہ حزبی بیعت اور عہد نامہ کو غیر ضروری قرار دیتے ہیں ،ان کے نزدیک طالب علم کے لیے کافی ہے کہ جس شیخ کے علم ، امانت داری ، دینداری پر اسے بھروسہ ہو اس سے علم حاصل کرے جیسا کہ اسلاف کا طریقہ تھا۔ انہوں نے کہا: احمد ، شافعی ، مالک ، ابو حنیفہ ، سفیان ثوری جیسے ا ئمہ اپنے شاگردوں اور ساتھیوں سے کسی طرح کی بیعت اور عہد نامہ نہیں لیتے تھے۔ خوارج کے سوا کوئی بھی اس طرح کی بیعت یا عہد نامہ نہیں لیتا تھا جس کے تحت وہ سختی اور آرام ، جنگ اور امن میں پابند رہے۔ (کیسٹ بعنوان :" أسئلة أبي الحسن للشيخين ابن باز وابن العثيمين" یہ ریکاڑنگ مکہ مکرمہ میں 6 ذو الحجہ سن 1416 ھ میں ہوئی ہے ) تنظیموں کی طرف بلانے والے اپنے آپ پر اور اپنے بھائیوں ( ساتھیوں ) پر جنایہ (زیادتی) کرتے ہیں (لقاء الباب المفتوح / ملاقات نمبر 60 / ص 33) ۔
7 ۔ محدث العصر امام البانی رحمہ اللہ : حزبیت پر رد کرتے ہوئے انہوں کہا کہ ہم صراحت کے ساتھ حزبیت کے خلاف لڑ رہے ہیں (شرح حلیۃ طالب العلم / ص 407)۔ ان سے ایک سوال کیا گیا کہ بعض اسلامی جماعتیں سلفی عقیدہ کی طرف دعوت دیتی ہیں ، اور ایک عمومی امیر منتخب کرتی ہیں پھر اس کے تحت ذیلی امراء ہوتے ہیں پھر اپنے ممبروں کو ان امیروں کی اطاعت لازمی قرار دیتی ہیں ، وہ یہ کہتی ہیں کہ یہ شرعی امارت ہے ، اس کی اطاعت واجب ہے اس کی نافرمانی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی ہے، اور اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں : "وَمَنْ عَصَى أَمِيرِي فَقَدْ عَصَانِي " ( بخاری / 7135) یعنی: جس نے میرے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی ۔ تو امام البانی نے اسے یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ضعیف استدلال ہے ، کیوں کہ اس کو کس نے امیر بنایا ہے ؟!( ان کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے امیر نہیں بنایا ہے لہذا اس طرح کا استدلال کرنا صحیح نہیں ہے) ۔ اس طرح کرنے سے امت میں تفرقہ اور بگاڑ پیدا ہوتا ہے، اور انہوں نے مختلف قسم کے اہداف والی متعدد تنظیمیں بنانے کی تائيد کی بشرطیکہ وہ قرآن اور سنت کے منہج کے مطابق ہوں ۔ (المنھج السلفي عند الشیخ ناصر الدین الالباني / ص 230-233) اور دیکھئے : سلسلة الهدى والنور (کیسٹ نمبر/371) (http://kulalsalafiyeen.com/vb/showthread.php?t=43935)
حزبی اگرچہ یہ اعتراف نہ بھی کرے کہ وہ حزبیت چلا رہا ہے لیکن پھر بھی اس کے کاموں سے اس کی حزبیت صاف عیاں ہوتی ہے (کیسٹ نمبر840)
8 ۔ الشیخ أبو عبدالرحمن عقيل بن محمد بن زيد المقطري:
تنظیموں کا ایک دوسرے سے آگے جانے کے لیے ( خلافت کی ) بیعت والی احادیث سے لوگوں کو ڈرا کر اپنی تنظیم میں شامل کرنا صحیح نہیں ہے (قواعد الاعتدال لمَن أرادَ تقويم الجماعات وَالرِجَال/ ص 24) ۔
9 ۔الشیخ مقبل بن هادي الوادعي رحمه الله تعالى : وہ حزبیت سے دور رہنے کی نصیحت کرتے ہیں ، اور بدعتی ،اور حزبی ( تنظیمی مقلد ) کی اچھائیوں کو بیان نہ کرنے کو کہتے ہیں (تحفة المجيب على أسئلة الحاضر والغريب/ ص 65 ، 135) ۔ جو شخص اپنی جماعت کے ساتھ دوستی اور دوسروں کے ساتھ دشمنی کرے وہ گمراہ بدعتی ہے (غارة الأشرطة/2/28) ۔
10 ۔ الشيخ عبيد الجابري(اسلامک یونیورسٹی مدینہ طیبہ کے سابق استاد ): وہ تنظیم کی بنیاد پر دوستی اور دشمنی قائم کرکے یہ کہنے سے منع کرتے ہیں کہ کوئی یہ کہے کہ یہ فلاں تنظیم یا ادارہ سے تعلق رکھتا ہے لہذا وہ ہمارے پاس نہ آئے ۔ (http://kulalsalafiyeen.com/vb/showthread.php?t=43935)
11 ۔ الشيخ أبي عبد المعز فركوس حفظه الله (اسلامک یونیورسٹی الجزائر کے مدرس ) : جو تنظیم دوستی اور دشمنی کا معیار تنظیمی بنیاد پر قائم کرے، یا امیر کی باتوں کو بلا دلیل اصول بنا لے ، اور تنظیم کی آراء کو قطعیۃ الثبوت بنادے جن میں نقد ممکن نہ ہو تو وہ حزبی تنظیم ہے اگر چہ اس کا نام اسلامی بھی ہو ، اس اعتبار سے یہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی کھلی مخالفت اور دشمنی ہے کیوں کہ دوستی اور دشمنی کا معیار اللہ اور اس کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر ایمان کی بنیاد ہے ۔ (http://kulalsalafiyeen.com/vb/showthread.php?t=39127)
12۔ الشیخ اسعد اعظمي بن محمد انصاری ( جامعہ سلفیہ بنارس ، ہند کے استاد ) : حزبیت مسلمانوں کی جماعتوں اور صفوں میں گھس گئي ہے ، وہ ان کے ذہنوں اور دلوں پر چھا چکی ہے جس کی وجہ سے ایمانی بھائی چارہ اور اسلامی وحدت کا کوئی معنی باقی نہ رہا (صوت الخریجین ، عدد 4 / فروری 2014 / ص 47 )
13 ۔ ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری رحمہ اللہ : موجودہ دور میں مشاہدہ بتلاتا ہے کہ جماعت کے بہت سے افراد میں گروہ بندی و تحزب کا مزاج پیدا ہوگیا ہے ، جماعت سے ایسے لوگوں کی وابستگی حق پرستی اور صلاحیت کردار کی بنیاد پر نہیں بلکہ جماعت کے ساتھ دینے اور ہمنوائی کی بنیاد پر ہے ، جماعت کے لئے یہ مرض بیحد مہلک ہے ۔۔۔ (ہندوستان میں تحریک اہل حدیث اور جدید تقاضے ص 26 -28 )
14 ۔ الشیخ علامہ احمدبن یحیی النجمي رحمہ اللہ (المعہد العلمی جازان سعودی عرب کے مدرس ، اور شیخ ربیع بن ہادی کے استاد): انہوں نے حزبیت کو بدعت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مرتکب اہل سنت و جماعت سے خارج ہے (الفتاوى الجلية عن المناهج الدعوية " (2/249) حزبیت کی بدعت کی مزمت قرآن اور حدیث میں بہت سی جگہوں میں آئی ہے۔ حزبیت کو انبیاء علیہم السلام کے طریقے سے خارج قرار دیا ہے (المورد العذب الزلال /ص150)
15 ۔ الشیخ علامہ ربيع بن هادي المدخلي حفظه الله : وہ اللہ کی قسم کھاکر حزبیت کو بدعت قرار دیتے ہیں ، بلکہ حزبی کو عام بدعتیوں سے بھی سخت شر قرار دیتے ہیں کیوں کہ جو حزبی ہوتا ہے وہ اہل سنت و جماعت کو ستانے سے اور اہل بدعت اور اہل باطل کی دوستی سے باز نہیں رہتا ہے، ایسا شخص کسی طرح سلفی نہیں ہوسکتا ہے ۔ (مجموع كتب ورسائل وفتاوى العلامة المجاهد ربيع المدخلي / 14/161 ،162)۔
16 ۔ الشيخ علامہ زيد بن محمد بن هادي المدخلي حفظه الله(المعھد العلمي سامطۃ جازان سعودی عرب کے استاد، اور شیخ احمد النجمی کا شاگر) : تنظیم (حزب ) میں الولاء و البراء ( دوستی اور دشمنی ) کی بدعت قائم کرنے، اور جو تنظیم کے آئین کی دفعات سے اتفاق نہ کرے اسے برا سمجھنے وغیرہ کو منہج اہل سنت و جماعت سے خارج قرار دیا ہے (الأجوبة المختصرة على الأسئلة العشرة "ص96)۔
17 ۔ الشیخ عبد اللہ غدیان (عضو سعودی دائمی فتوی کمیٹی): دعوتی کام کرنے کے لیے کسی امیر کی بیعت کو ناجائز قرار دیتے ہوئے اسے نصاری کے عمل کے ساتھ تشبیہ دی ہے ( فتوی کمیٹی کا مشترکہ فیصلہ ، ملاحظہ ہو: مجموع فتاوی اللجنۃ الدائمۃ / ج 2 / ص 74 )
18 ۔ الشیخ عبد العزیز آل شیخ (صدر سعودی دائمی فتوی کمیٹی ) : دعوتی کام کرنے کے لیے کسی امیر کی بیعت کو ناجائز قرار دیتے ہوئے اسے نصاری کے عمل کے ساتھ تشبیہ دی ہے ( فتوی کمیٹی کا مشترکہ فیصلہ ، ملاحظہ ہو: مجموع فتاوی اللجنۃ الدائمۃ / ج 2 / ص 74 )
19 ۔ الشیخ عبد الرزاق عفیفی(عضو سعودی دائمی فتوی کمیٹی) : دعوتی کام کرنے کے لیے کسی امیر کی بیعت کو ناجائز قرار دیتے ہوئے اسے نصاری کے عمل کے ساتھ تشبیہ دی ہے ( فتوی کمیٹی کا مشترکہ فیصلہ ، ملاحظہ ہو: مجموع فتاوی اللجنۃ الدائمۃ / ج 2 / ص 74)
20 ۔ ڈاکٹر صالح بن عبد الله بن حميد: اللہ کے لیے ایمانی بھائی چارہ قائم کرنے کو داعی کے اہم صفات میں گردانا ، اور تعصب و حزبیت سے دور رہنا لازمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دعوت اور داعیوں کے آپسی تعاون پر حزبیت سے کوئی اور چیز زیادہ ضرر رساں نہيں ہے ۔ حزبیت کے عیوب کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تنظیم پرست صرف اپنی تنظیم کی کتابیں پڑھتا ہے اور تنظیم کے شیخ کے بغیر کسی کا شاگرد نہیں بنتا ہے (مجلة البحوث الإسلامية/ ج 51 / ص216 ، 221 ، 222)۔
Friday, June 3, 2016
ماں
ماں!!!
_______________
بقلم: عبدالغفار زاہد بنارسی
مری ماں اپنے آنچل میں مرا ہر غم چھپاتی ہے
مرے عیبوں پہ پردہ ڈال کر مجھ کو بچاتی ہے
کبھی دل میں اداسی کا سمندر جب امنڈتا ہے
مری ماں دیکھ کر چہرہ مرے سب غم بتاتی ہے
جنہیں پالا تھا ماں نے ایک دن جب وہ ستاتے ہیں
وہ کچھ کہتی نہیں تنہائی میں آنسو بہاتی ہے
دُکھا کر ماں کا دل میں کون سی جنت میں جاؤں گا؟
یہ ماں ہے جو اگر خوش ہو مجھے جنت دلاتی ہے
لگا کر جان کو داؤں پہ مجھ کو جنم دیتی ہے
پھر اپنا خون مجھ کو دودھ کی صورت پلاتی ہے
وہ بھوکی رہ کے سوتی ہے مگر مجھ کو کھلاتی ہے
مجھے تکلیف ہو جائے تو آنسو وہ بہاتی ہے
مگر وہ ماں بڑھاپے کی حدوں کو جب پہنچتی ہے
تو اس بوڑھے سراپے سے مجھے اک گھن سی آتی ہے
تب اس کی بات بھی مجھ کو زہر معلوم ہوتی ہے
ہر اک لمحہ وہ بوڑھی ماں مجھے غصہ دلاتی ہے
میں جب غصے میں کچھ کہتا ہوں وہ چپ چاپ سنتی ہے
اور اک دن چھوڑ کر سب کچھ وہ رب کے پاس جاتی ہے
اور اب تنہائی میں جب بیٹھ کر کچھ سوچتا ہوں میں
تو ہر لمحہ مجھے اس ماں کی صورت یاد آتی ہے
میں جب بھی روٹھتا تھا ماں مجھے کیسے مناتی تھی
یہی سب سوچ کر وہ ماں ہر اک پل یاد آتی ہے
مرے درد والم میں اک سہارا تھی مری ماں تو
میں جب بھی درد سہتا ہوں تو تیری یاد آتی ہے
دُکھا کر ماں کا نازک دل کوئی خوش ہو نہیں سکتا
اگر ماں بددعا کر دے فلک کے پار جاتی ہے
جو ماں کے دامنِ شفقت سے ہو محروم اے زاہد
وہ محرومِ زمانہ ہے یتیمی یہ بتاتی ہے
_______________
بقلم: عبدالغفار زاہد بنارسی
مری ماں اپنے آنچل میں مرا ہر غم چھپاتی ہے
مرے عیبوں پہ پردہ ڈال کر مجھ کو بچاتی ہے
کبھی دل میں اداسی کا سمندر جب امنڈتا ہے
مری ماں دیکھ کر چہرہ مرے سب غم بتاتی ہے
جنہیں پالا تھا ماں نے ایک دن جب وہ ستاتے ہیں
وہ کچھ کہتی نہیں تنہائی میں آنسو بہاتی ہے
دُکھا کر ماں کا دل میں کون سی جنت میں جاؤں گا؟
یہ ماں ہے جو اگر خوش ہو مجھے جنت دلاتی ہے
لگا کر جان کو داؤں پہ مجھ کو جنم دیتی ہے
پھر اپنا خون مجھ کو دودھ کی صورت پلاتی ہے
وہ بھوکی رہ کے سوتی ہے مگر مجھ کو کھلاتی ہے
مجھے تکلیف ہو جائے تو آنسو وہ بہاتی ہے
مگر وہ ماں بڑھاپے کی حدوں کو جب پہنچتی ہے
تو اس بوڑھے سراپے سے مجھے اک گھن سی آتی ہے
تب اس کی بات بھی مجھ کو زہر معلوم ہوتی ہے
ہر اک لمحہ وہ بوڑھی ماں مجھے غصہ دلاتی ہے
میں جب غصے میں کچھ کہتا ہوں وہ چپ چاپ سنتی ہے
اور اک دن چھوڑ کر سب کچھ وہ رب کے پاس جاتی ہے
اور اب تنہائی میں جب بیٹھ کر کچھ سوچتا ہوں میں
تو ہر لمحہ مجھے اس ماں کی صورت یاد آتی ہے
میں جب بھی روٹھتا تھا ماں مجھے کیسے مناتی تھی
یہی سب سوچ کر وہ ماں ہر اک پل یاد آتی ہے
مرے درد والم میں اک سہارا تھی مری ماں تو
میں جب بھی درد سہتا ہوں تو تیری یاد آتی ہے
دُکھا کر ماں کا نازک دل کوئی خوش ہو نہیں سکتا
اگر ماں بددعا کر دے فلک کے پار جاتی ہے
جو ماں کے دامنِ شفقت سے ہو محروم اے زاہد
وہ محرومِ زمانہ ہے یتیمی یہ بتاتی ہے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت قرآن کریم میں ثابت ہے
بی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت قرآن کریم میں ثابت ہے
=================
شفاعت كی قسمیں
سوال نمبر 6 - فتوی نمبر 9184
س 6: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے لئے قیامت کے دن رب العالمین کے یہاں کیسے سفارش کریں گے، اسی طرح صحابہ کرام، صلحاء اور فرشتے گناہگاروں کے لئے کیسے سفارش کریں گے؟ اور یہ حدیث: میری شفاعت میری امت کے اہل کبائر کے لئے ہے۔کیا اس کی سند صحیح ہے، اگر حدیث صحیح ہے تو اس کا کیا مفہوم ہے؟
ج 6: بروز قیامت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت اور صلحاء کی شفاعت قرآن کریم سے ثابت ہے، اس سلسلے میں صحیح احادیث قرآن کریم کی تفسیر ووضاحت کرتی ہیں، ان میں سے ایک حدیث ہے جس کی طرف آپ نے سوال میں اشارہ کیا ہے، یہ شفاعت مختلف نوعیت کی ہیں، شیخ عبد الرحمن بن حسن رحمہ اللہ نے اپنی کتاب (فتح المجید) میں کہا: ابن قیم رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے کہ شفاعت کی 6 قسمیں ہیں:
1- شفاعت کبری، جس میں اولی العزم انبیاء علیہم السلام بھی پیچھے رہیں گے، یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کى جب بارى آئیں گى تو آپ کہیں گے: میں یہ سفارش کروں گا، یہ اس وقت ہوگا جب تمام مخلوقات انبیاء کی سفارش کی خواہش کریں گے تاکہ رب العالمین انہیں محشر کی ہولناکی سے آرام دے، یہ سفارش صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھـ مخصوص ہے، اس میں کوئی شریک نہیں ہوگا۔
2- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جنتیوں کے لئے جنت میں داخلہ کی سفارش، اسے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی ایک طویل حدیث میں ذکر کیا ہے، متفق علیہ۔
3- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی امت کے نافرمان بندوں کی سفارش، جن پران کے گناہوں کی وجہ سے جہنم واجب کی گئی ہوگی، لہذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے جہنم میں داخل نہ کرنے کے لئے سفارش کریں گے۔
4- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل توحید میں سے نافرمان بندوں کی سفارش، جو اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں داخل کیے جائیں گے، اس سفارش کے سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے متواتر احادیث وارد ہیں، اس پر صحابہ کرام اور اہل سنت وجماعت کا اجماع ہے، اس شفاعت سے انکار کرنے والے بدعتی كو كہا گيا، اسے انكار كرنے سے باز آنے كو كہا گيا اور اس كو گمراہ قرار ديا گيا۔
5- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش جنتیوں کے درجات بلند کرنے اور مزید ثواب ملنے کے لئے، یہ سفارش ایسی ہے جس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے، یہ ان مخلص موحدین کے ساتھـ مخصوص ہے جنہوں نے اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کو اپنا دوست اور سفارشی نہیں بنایا، جیساکہ ارشاد الہی ہے: ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻛﻮ ﮈﺭﺍﺋﯿﮯ ﺟﻮ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﺳﮯ ﺍﻧﺪﯾﺸﮧ ﺭﻛﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻛﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﻛﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﯾﺴﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﻛﺌﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﻛﮧ ﺟﺘﻨﮯ ﻏﯿﺮ ﺍللہ ﮨﯿﮟ ﻧﮧ ﻛﻮﺋﯽ ﺍﻥ کا ﻣﺪﺩﮔﺎﺭ ﮨﻮﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﻛﻮﺋﯽ ﺷﻔﯿﻊ،
6- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش آپ کے خاندان کے بعض کافر جہنمیوں کے لئے تاکہ ہلکا عذاب ہو، یہ سفارش خاص طور پر ابو طالب کے لئے ہے۔
وبالله التوفيق۔ وصلى الله على نبينا محمد، وآله وصحبه وسلَّم۔
علمی تحقیقات اور فتاوی جات کی دائمی کمیٹی
=================
شفاعت كی قسمیں
سوال نمبر 6 - فتوی نمبر 9184
س 6: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے لئے قیامت کے دن رب العالمین کے یہاں کیسے سفارش کریں گے، اسی طرح صحابہ کرام، صلحاء اور فرشتے گناہگاروں کے لئے کیسے سفارش کریں گے؟ اور یہ حدیث: میری شفاعت میری امت کے اہل کبائر کے لئے ہے۔کیا اس کی سند صحیح ہے، اگر حدیث صحیح ہے تو اس کا کیا مفہوم ہے؟
ج 6: بروز قیامت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت اور صلحاء کی شفاعت قرآن کریم سے ثابت ہے، اس سلسلے میں صحیح احادیث قرآن کریم کی تفسیر ووضاحت کرتی ہیں، ان میں سے ایک حدیث ہے جس کی طرف آپ نے سوال میں اشارہ کیا ہے، یہ شفاعت مختلف نوعیت کی ہیں، شیخ عبد الرحمن بن حسن رحمہ اللہ نے اپنی کتاب (فتح المجید) میں کہا: ابن قیم رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے کہ شفاعت کی 6 قسمیں ہیں:
1- شفاعت کبری، جس میں اولی العزم انبیاء علیہم السلام بھی پیچھے رہیں گے، یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کى جب بارى آئیں گى تو آپ کہیں گے: میں یہ سفارش کروں گا، یہ اس وقت ہوگا جب تمام مخلوقات انبیاء کی سفارش کی خواہش کریں گے تاکہ رب العالمین انہیں محشر کی ہولناکی سے آرام دے، یہ سفارش صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھـ مخصوص ہے، اس میں کوئی شریک نہیں ہوگا۔
2- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جنتیوں کے لئے جنت میں داخلہ کی سفارش، اسے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی ایک طویل حدیث میں ذکر کیا ہے، متفق علیہ۔
3- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی امت کے نافرمان بندوں کی سفارش، جن پران کے گناہوں کی وجہ سے جہنم واجب کی گئی ہوگی، لہذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے جہنم میں داخل نہ کرنے کے لئے سفارش کریں گے۔
4- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل توحید میں سے نافرمان بندوں کی سفارش، جو اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں داخل کیے جائیں گے، اس سفارش کے سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے متواتر احادیث وارد ہیں، اس پر صحابہ کرام اور اہل سنت وجماعت کا اجماع ہے، اس شفاعت سے انکار کرنے والے بدعتی كو كہا گيا، اسے انكار كرنے سے باز آنے كو كہا گيا اور اس كو گمراہ قرار ديا گيا۔
5- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش جنتیوں کے درجات بلند کرنے اور مزید ثواب ملنے کے لئے، یہ سفارش ایسی ہے جس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے، یہ ان مخلص موحدین کے ساتھـ مخصوص ہے جنہوں نے اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کو اپنا دوست اور سفارشی نہیں بنایا، جیساکہ ارشاد الہی ہے: ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻛﻮ ﮈﺭﺍﺋﯿﮯ ﺟﻮ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﺳﮯ ﺍﻧﺪﯾﺸﮧ ﺭﻛﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻛﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﻛﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﯾﺴﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﻛﺌﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﻛﮧ ﺟﺘﻨﮯ ﻏﯿﺮ ﺍللہ ﮨﯿﮟ ﻧﮧ ﻛﻮﺋﯽ ﺍﻥ کا ﻣﺪﺩﮔﺎﺭ ﮨﻮﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﻛﻮﺋﯽ ﺷﻔﯿﻊ،
6- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش آپ کے خاندان کے بعض کافر جہنمیوں کے لئے تاکہ ہلکا عذاب ہو، یہ سفارش خاص طور پر ابو طالب کے لئے ہے۔
وبالله التوفيق۔ وصلى الله على نبينا محمد، وآله وصحبه وسلَّم۔
علمی تحقیقات اور فتاوی جات کی دائمی کمیٹی
Subscribe to:
Posts (Atom)