Tuesday, June 7, 2016

وتر

Sahih Bukhari Hadees # 473

حدثنا أبو النعمان ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قال حدثنا حماد ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن أيوب ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن نافع ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن ابن عمر ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أن رجلا ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم وهو يخطب فقال كيف صلاة الليل فقال ‏  ‏ مثنى مثنى ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فإذا خشيت الصبح فأوتر بواحدة ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ توتر لك ما قد صليت ‏  ‏‏.‏ قال الوليد بن كثير حدثني عبيد الله بن عبد الله أن ابن عمر حدثهم أن رجلا نادى النبي صلى الله عليه وسلم وهو في المسجد‏.‏

ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خطبہ دے رہے تھے آنے والے نے پوچھا کہ رات کی نماز کس طرح پڑھی جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو دو رکعت پھر جب طلوع صبح صادق کا اندیشہ ہو تو ایک رکعت وتر کی پڑھ لے تاکہ تو نے جو نماز پڑھی ہے اسے یہ رکعت طاق بنا دے اور امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ولید بن کثیر نے کہا کہ مجھ سے عبیداللہ بن عبداللہ عمری نے بیان کیا، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے بیان کیا کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دی جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے۔

@@@@@@@@@@@@@@@@@

                        2

Sahih Bukhari Hadees # 991

وعن نافع ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أن عبد الله بن عمر ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ كان يسلم بين الركعة والركعتين في الوتر ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حتى يأمر ببعض حاجته‏.

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما وتر کی جب تین رکعتیں پڑھتے تو دو رکعت پڑھ کر سلام پھیرتے یہاں تک کہ ضرورت سے بات بھی کرتے۔

@@@@@@@@@@@@@@@@@

                      3

Sahih Bukhari Hadees # 993

حدثنا يحيى بن سليمان ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قال حدثني ابن وهب ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قال أخبرني عمرو ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أن عبد الرحمن بن القاسم ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثه عن أبيه ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن عبد الله بن عمر ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قال قال النبي صلى الله عليه وسلم ‏  ‏ صلاة الليل مثنى مثنى ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فإذا أردت أن تنصرف فاركع ركعة توتر لك ما صليت ‏  ‏‏.‏ قال القاسم ورأينا أناسا منذ أدركنا يوترون بثلاث ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وإن كلا لواسع أرجو أن لا يكون بشىء منه بأس‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، رات کی نماز دو، دو رکعتیں ہے اور جب تو ختم کرنا چاہے تو ایک رکعت وتر پڑھ لے جو ساری نماز کو طاق بنا دے گی۔ قاسم بن محمد نے بیان کیا کہ ہم نے بہت سوں کو تین رکعت وتر پڑھتے بھی پایا ہے اور تین یا ایک (رکعت وتر) سب جائز اور مجھ کو امید ہے کہ کسی میں قباحت نہ ہو گی۔

                         4

Sahih Bukhari Hadees # 996

حدثنا عمر بن حفص ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قال حدثنا أبي قال ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا الأعمش ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قال حدثني مسلم ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن مسروق ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن عائشة ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قالت كل الليل أوتر رسول الله صلى الله عليه وسلم وانتهى وتره إلى السحر‏.‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ہر حصہ میں بھی وتر پڑھی ہے اور آخیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وتر صبح کے قریب پہنچا۔

                         5

Sahih Muslim Hadees # 1617

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِيمَا بَيْنَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَائِ وَهِيَ الَّتِي يَدْعُو النَّاسُ الْعَتَمَةَ إِلَی الْفَجْرِ إِحْدَی عَشْرَةَ رَکْعَةً يُسَلِّمُ بَيْنَ کُلِّ رَکْعَتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ فَإِذَا سَکَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَتَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ وَجَائَهُ الْمُؤَذِّنُ قَامَ فَرَکَعَ رَکْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَی شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّی يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ لِلْإِقَامَةِ

حرملہ بن یحیی، ابن وہب، عمرو بن حارث، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ مطہرہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ عشاء کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد سے فجر کی نماز کے درمیان تک گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے اور ہر دو رکعتوں کے بعد سلام پھیرتے اور ایک رکعت کے ذریعہ وتر بنا لیتے پھر جب مؤذن فجر کی اذان دے کر خاموش ہو جاتا تو فجر ظاہر ہو جاتی اور مؤذن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو کر ہلکی ہلکی دو رکعت پڑھتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دائیں کروٹ پر لیٹ جاتے یہاں تک کہ مؤذن اقامت کہنے کے لئے آتا۔


                       6


Sunday, June 5, 2016

فرقہ ناجیہ


                                     فرقہ ناجیہ
                                """"""""""""""""

جماعت کا صحیح مفہوم

بہت سارے لوگ لفظ " جماعۃ  " سے ہی گمراہ ہوئے ، کوئی اپنا ہم خیال گروپ تیار کرکے جماعت کا دعوی کرتا ہے،تو کچھ لوگ دعوتی تنظیم ، فاونڈیشن ، ادارہ ، لیگ وغیرہ بنا کر جماعت کا دعوی کرتے ہیں ، جو ان کا ممبر بنے  اسے جماعت (فرقہ ناجیہ ) میں شامل کرلیتے ہیں ، اور جو ممبر نہ ہواسے اسی بنا پر گمراہ سمجھ کر  اپنےفتوی سے جہنم کا ایندھن بنادیتے ہیں اگر چہ وہ سلف صالحین کے خالص منہج پر گامزن بھی کیوں نہ ، سبحان اللہ !!!
ایسا کہنا کھلی گمراہی ہے ، ایسے لوگ غزو فکری کے شکار ہیں ، جو لفظ جماعت کے عظیم اور وسیع معنی کو اپنی تنظیم کے دائرے میں محدود کردیتے ہيں، یہی دور جدید کا جدید فتنہ ہے جسے علماء حق نے حزبیت کا نام دیا ہے اور اس کی سخت ترین مزمت کی ہے ۔
معاویہ بن ابی سفیان  رضی اللہ عنہما سے روایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: "أَلاَ إِنَّ مَنْ قَبْلَكُمْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ افْتَرَقُوا عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً وَإِنَّ هَذِهِ الْمِلَّةَ سَتَفْتَرِقُ عَلَى ثَلاَثٍ وَسَبْعِينَ ثِنْتَانِ وَسَبْعُونَ فِى النَّارِ وَوَاحِدَةٌ فِى الْجَنَّةِ وَهِىَ الْجَمَاعَةُ " (ابو دادو / 4597 / امام البانی نے اسے حسن کہا ہے)
یعنی : خبردار ! جو تم سے پہلے اہل کتاب تھے وہ بہتر (72) فرقوں میں بٹ گئے ، اور یقینا یہ امت تہتَّر  (73 ) فرقوں میں بٹ جائے گی ، ان میں سے بہتر ( 72 )جہنم میں جائيں گے اور ایک جنت میں جائے گا ، وہ  " جماعت " ہے ۔
اب لوگوں نے اس لفظ " جماعت " میں گمراہ کن فتوی سازی کی ، جس سے وہ خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کر رہے ہیں۔تحریف لفظی کو مشکل پاکر تحریف معنوی کا سہار لیا ۔  چونکہ یہ اصول متفق علیہ ہے کہ اگر قرآن اور حدیث میں کہیں پر کوئی لفظ ہو جس کی پوری وضاحت وہاں پر نہ ہو تو قرآن اور حدیث ہی کی دوسری نصوص سے اس کا مفہوم سمجھا جاتا ہے لہذا اس لفظ"جماعت" کی وضاحت اس حدیث سے ہوتی ہے :
"۔۔۔ قَالُوا وَمَنْ هِىَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِى " (ترمذی / 2641 /امام البانی نے اسے حسن کہا ہے  // شیخ الاسلام نے اس سے کئی جگہوں میں استشہاد کیا ہے جیسے : مجموع فتاوی ج 3 ، ص 159)
یعنی: انہوں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم ) ! وہ ( فرقہ ناجیہ ) کون ہے ؟ انہوں نے فرمایا : ( جو اس راہ پر ہوں گے ) جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں ۔
اس سوال اور جواب کے عموم میں ہر وہ شخص شامل ہوا جو قرآن ، حدیث ، اور منہج صحابہ رضی اللہ عنہم پر قائم ہوگا ، لہذا جو شخص ، تنظیم ، فاونڈیشن ، ادارہ اس حدیث میں بتائے ہوئے منہج پر قائم ہوگا تو وہ جماعت  ( فرقہ ناجیہ ) میں شامل ہے ، اور اگر وہ اس منہج پر قائم نہیں ہے تو وہ جماعت میں شامل نہیں ہے ، پھر یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ بیک وقت صرف ایک ہی شخص یا ایک ہی تنظیم یا ایک ہی ادارہ جماعت میں شامل نہیں ہوں گے ، بلکہ جتنی تنظیمیں ، ادارے ، اشخاص ، حديث میں بتائے ہوئے منہج پر ہوں گے وہ سب جماعت میں شامل ہیں ۔ پھر یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ بعض لوگ اکثرت میں ہونے کی وجہ سے دھوکہ کھاتے ہیں یا جان بوجھ کر دوسروں کو دھوکہ دیتے ہیں کہ جو اکثر ہوں گے وہی حق پر ہوں گے ، ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس کا فیصلہ  یوں مروی ہے  :
عمرو بن میمون الأودی نے کہا : میں نے لوگوں میں سب سے زیادہ فقیہ عبد اللہ بن مسعود ( رضی اللہ عنہ )کی صحبت اختیار کی ، تو میں نے اس سے سنا:  "عَليكم بالجماعةِ فإن يَدَّ اللهِ مَعَ الجماعةِ " یعنی: تم جماعت کو لازم پکڑو ، پس یقینا اللہ کا ہاتھ جماعت کے ساتھ ہوتا ہے۔   پھر ایک دن میں نے اسے کہتے سنا کہ:  عنقریب تم پر ایسے حکمران ہوں گے جو نمازمیں اپنے اوقات سے  تاخیر کریں گے،تم نماز کو اپنےاوقات ہی میں ادا کرنا وہ تمہارے لیے فرض ادا ہوگی ، اور ان (حکمرانوں) کے ساتھ بھی نماز ادا کرنا وہ تمہارے لیے نفل ادا ہوگی ، تو میں نے کہا :اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کے صحابہ!  مجھے سمجھ نہیں آتا ہے کہ تم کیا کہتے ہو ؟ ! تو اس نے کہا: کیا بات ہے ؟ میں نے کہا : تو مجھے جماعت ( کو لازم پکڑنے ) کا حکم دیتے ہو اور اس پر مجھے ابھارتے ہو ، پھر مجھے کہتے ہو کہ (اپنے وقت پر)اکیلے ہی نماز پڑھو وہ فرض ہوگی ، اور جماعت کے ساتھ نماز پڑھو وہ نفل ہوگی ؟ ! اس نے کہا : اے عمرو بن میمون ! میں تو سمجھتا تھا کہ تو اس گاؤں میں سب سے زیادہ سمجھ دار ہے !کیا تجھے معلوم ہے کہ جما‏عت کیا ہوتی ہے  ؟ میں نے کہا : نہیں ، اس نے کہا :جماعت کے اکثر لوگوں نے تو جماعت ہی چھوڑ دی ہے ، "الجماعةُ ما وافَقَ الحق وإن كنتَ وَحدَك " یعنی : جماعت وہ ہے جس کے ساتھ حق ہو اگرچہ تو اکیلا ہی ہو ۔ (اعلام الموقعین / ج 3 / ص 397 // اس سے بہت سارے علماء نے استشہاد کیا ہے جیسے:امام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ نے ،ابن باز نے مجموع فتاوی ج 8 / ص 180 میں ،  صالح الفوزان نے شرح العقيدة الواسطية ص 6 میں ، وغیرہ)
علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے کہا : ابو محمد عبد الرحمن بن اسماعیل المعروف ابو شامہ نے کتاب (الباعث على إنكار) الحوادث و البدع میں کیا ہی بہترین بات کہی ہے : جماعت لازم پکڑنے کا حکم آیا ہے ، اس سے مراد " لزوم الحق وأتباعه "حق اور اس کے پیروکاروں کو لازم پکڑنا ہے ، اگرچہ اس پر کاربند کم ہی ہوں  اور اس کے مخالفین زیادہ ہی ہوں ، کیوں کہ حق ہی پر پہلی جماعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے زمانے میں تھی ، ان کے ( زمانے کے ) بعد اہل بدعت کی کثرت کو نہیں دیکھا جائے گا (إغاثة اللهفان من مصائد الشيطان / ج 1 / ص 69)۔
 محدث نُعَيْم بن حَمَّاد رحمہ اللہ نے کہا : " إذا فَسدَتِ الجماعةُ فَعَليكَ بما كانت عَليهِ الجماعَةُ قَبلَ أَن تَفسِدَ وإِنْ كُنتَ وَحْدَكَ؛ فَإنَّكَ أنتَ الجماعَةُ حِينئذٍ " ( المدخل للبیقھي، بحوالہ : إتحاف الجماعة بما جاء في الفتن والملاحم وأشراط الساعة ج 1 / ص 265 / تالیف: الشیخ حمود بن عبد الله التويجري) یعنی : جب  جماعت فساد کی شکار ہوجائے تو آپ پر لازم ہےکہ اسے لازم پکڑے جس پر جماعت فساد سے قبل تھی، اگرچہ تو اکیلا ہی ہو ، تب اس وقت تو ہی جماعت ہو ۔
کچھ لوگ قرآن و سنت اور منہج صحابہ رضی اللہ عنہم پر گامزن داعیوں کی دعوت میں رخنہ ڈالنے کے لیےلفظ "جماعت" کی معنوی تحریف کرکے حزبیت کا راستہ اختیار کرتے ہیں ، انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ راستہ ہرگز بھی سلف صالحین کا راستہ نہیں ہے ، انہیں چاہیے کہ جو سبز باغ وہ دیکھتے ہیں یا انہیں مخصوص مقاصد کے تحت دکھایا جارہا ہے اس سے باہر نکلیں اور سلف صالحین کا راستہ علماء حق سے معلوم کریں ، ذیل میں علماء حق کے چند حوالہ جات درج کیے جاتے ہیں تاکہ حق کےمتلاشی کو حق تلاش کرنے میں آسانی ہوسکے :
1۔ شیخ الاسلام ابن تیمیۃ رحمہ اللہ : انہوں نے  حزبیت کو قرآن اور حدیث میں مزموم فرقہ بندی سے تشبیہ دی ہے ، اور کسی شخص کے کہنے پر دشمنی اور دوستی قائم کرنے کو اس آيت کا مصداق قرار دیا جس میں آیا ہے " مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا " (30 / الروم / 32) تفصیل کےلیے دیکھئے : مجموع فتاوی ابن تیمیۃ ج 11 / ص 92 اور ج 20 ص 8 ۔ اور اسے بدعتیوں کا طریقہ قرار دیا ہے (مجموع فتاوی ابن تیمیۃ ج 20 / ص 164)۔ حزبیت سے لوگوں میں عداوت پیدا کرنے کو چنگیزیت قرار دیا ہے (مجموع فتاوی ابن تیمیۃ ج 28 / ص 16) ۔ کسی شیخ کی طرف اپنی نسبت کرکے اس کی پیروی میں دوستی اور دشمنی قائم کرنے کو ناجائز قرار دیتے ہوئے اہل ایمان کے ساتھ دوستی قائم کرنے کو واجب گردانا ہے (مجموع فتاوی ابن تیمیۃ ج 11 / ص 512)
2۔علامہ  ابن باز رحمہ اللہ : انہوں نے قرآن اور حدیث پر مبنی ادارے قائم کرنے کو صالح منہج قرار دیا ( مجموع فتاوی ابن باز/ ج 8 / ص 434 ) اور جس شہر میں ایسے ادارے زیادہ سے زیادہ قائم ہوں تو اسے خیر اور برکت قرار دیا ۔  جو شخص تعصب کرتے ہوئے دعوتی کام کرنے والوں کو بدنام کرنے کی کوشش کرے تو ایسے شخص کی نقاب کشائی کرنے کو واجب قرار دیا (مجموع فتاوی ابن باز /ج 4 / ص 136) اور حزبیت کو ترک کرنا واجب قرار دیا ، اور کسی بھی تنظیم کی اندھی تائید کو ناجائز قرار دیا  (مجموع فتاوی ابن باز /ج 7 / ص 182 -184), اور تعصب کیے بغیر قرآن و حدیث کے دائرے میں رہتے ہوئے کسی تنظیم کے ساتھ دعوتی کام کرنے کو جائز قرار دیا (مجموع فتاوی ابن باز /ج 8 / ص 237)۔
3۔علماء سعودی دائمی فتوی کمیٹی : انہوں نے اس جماعت ( تنظیم ، ادارہ ، فاونڈیشن وغیرہ ) کے ساتھ تعاون کرنے کو واجب قرار دیا جوقرآن، سنت ، منہج سلف کے مطابق دعوتی کام کرتی ہو (مجموع فتاوی اللجنۃ الدائمۃ / ج 2 / ص 41 / المجموعۃ الثانیۃ بمطابق المکتبۃ الشاملۃ ) اور دیکھئے : ج 2  ص 237 – 239 ۔ دعوتی کام کرنے کے لیے کسی امیر کی بیعت کو ناجائز قرار دیتے ہوئے اسے نصاری کے عمل کے ساتھ تشبیہ دی ہے  (مجموع فتاوی اللجنۃ الدائمۃ / ج 2 / ص 74 / دستخط علماء : بكر أبو زيد ، صالح الفوزان ، عبد الله بن غديان ، عبد العزيز آل الشيخ ، عبد الرزاق عفيفي ، عبد العزيز بن عبد الله بن باز)۔
4۔ ڈاکٹر صالح الفوزان : تنظیم کی بنیاد پر دوستی اور دشمنی قائم کرنے کو انہوں نے حزبیت قرار دیا (اعانۃ المستفید / ج 1 / ص 34، 104) کسی بھی امام ، عالم ، مفتی کی رائے کی اندھی تائید کرنے کو ناجائز قرار دیا ، اور  کسی جماعت ، تنظیم ، دعوتی کام کے لیے بنائے ہوئے(تنظیمی) آئین کی اندھی تائید کرنے کو قرآن اور سنت کے خلاف قرار دیا ہے  (إعانۃ المستفید / ج 1 / ص 119) ۔ کسی جماعت کی بیعت کو بدعت قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیعت صرف مسلمانوں کے ولی امر ( حاکم ) کی جائز ہے (المنتقى من فتاوى الشيخ صالح الفوزان/ ص213 ) ۔
5۔ علامہ بکر ابو زيد  رحمہ اللہ : تنظیم کی بنیاد پر دوستی اور دشمنی قائم کرنے کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عین مخالفت اور تمام آفات کی جڑ  قرار دیا  ، اور اسے اسی فرقہ پرستی سے تشبیہ دی جسے اسلام نے مٹادیا ہے ۔ مزید  انہوں نے حزبیت کی بیماریوں میں یہ بھی شمار کیا ہے کہ اس سے نوجوانوں میں یہ بات پیدا ہوتی ہے کہ تنظیم کے بغیر کوئی کام نہیں کیا جاسکتا ہے  ( حکم الانتماء إلی الفرق و الأحزاب  والجماعات الإسلامیۃ / ص 118 ، 119)
6۔ فقیہ العصر  علامہ ابن العثیمین رحمہ اللہ : تنظیم کی بنیاد پر دوستی اور دشمنی قائم کرنے کو سلف کے منہج کے خلاف قرار دیتے ہوئے طالب علم کے لیے اس سے دور رہناواجب قرار دیا ہے، اور بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ جو ہماری تنظیم میں نہیں ہے وہ ہمارا دشمن ہے  ، اس بات کو انہوں نے خبیث اصول بتایا ہے  (شرح حلیۃ طالب العلم / ص 406 ، 407) ۔ حزبیت والی جماعت کے ساتھ تعاون کو ناجائز قرار دیا ہے ، اور اس کو وہ فرقہ بندی قرار دیا جس نے امت کو بکھیر دیا ہے ( فتاوى نور على الدرب / الطبعة:.الإصدار الأول[1427-2006] / أهل السنة) وہ حزبی بیعت اور عہد نامہ کو غیر ضروری قرار دیتے ہیں ،ان کے نزدیک طالب علم کے لیے کافی ہے کہ جس شیخ کے علم ، امانت داری ، دینداری پر اسے بھروسہ ہو اس سے علم حاصل کرے جیسا کہ اسلاف کا طریقہ تھا۔ انہوں نے کہا: احمد ، شافعی ، مالک ، ابو حنیفہ ، سفیان ثوری جیسے ا ئمہ اپنے شاگردوں اور ساتھیوں سے کسی طرح کی بیعت اور عہد نامہ نہیں لیتے تھے۔ خوارج کے سوا کوئی بھی اس طرح کی بیعت یا عہد نامہ نہیں لیتا تھا جس کے تحت وہ  سختی اور آرام ، جنگ اور امن میں پابند رہے۔  (کیسٹ بعنوان :" أسئلة أبي الحسن للشيخين ابن باز وابن العثيمين" یہ ریکاڑنگ مکہ مکرمہ میں 6 ذو الحجہ سن 1416 ھ میں ہوئی ہے ) تنظیموں کی طرف بلانے والے اپنے آپ پر اور اپنے بھائیوں ( ساتھیوں ) پر جنایہ (زیادتی)  کرتے ہیں (لقاء الباب المفتوح / ملاقات نمبر 60 / ص 33) ۔
7 ۔ محدث العصر  امام البانی رحمہ اللہ :   حزبیت پر رد کرتے ہوئے انہوں کہا کہ ہم صراحت کے ساتھ حزبیت کے خلاف لڑ رہے ہیں (شرح حلیۃ طالب العلم / ص 407)۔  ان سے ایک سوال کیا گیا کہ بعض اسلامی جماعتیں سلفی عقیدہ کی طرف دعوت دیتی ہیں ، اور ایک عمومی امیر منتخب کرتی ہیں پھر اس کے تحت ذیلی امراء ہوتے ہیں پھر اپنے ممبروں کو ان امیروں کی اطاعت لازمی قرار دیتی ہیں ، وہ یہ کہتی ہیں کہ یہ شرعی امارت ہے ، اس کی اطاعت واجب ہے اس کی نافرمانی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی ہے، اور اس حدیث  سے استدلال کرتے ہیں : "وَمَنْ عَصَى أَمِيرِي فَقَدْ عَصَانِي " ( بخاری / 7135) یعنی: جس نے میرے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی ۔ تو  امام البانی نے اسے یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ضعیف استدلال ہے ، کیوں کہ اس کو کس نے امیر بنایا ہے ؟!( ان کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے امیر نہیں بنایا ہے لہذا اس طرح کا استدلال کرنا صحیح نہیں ہے) ۔  اس طرح کرنے سے امت میں تفرقہ اور بگاڑ پیدا ہوتا ہے، اور انہوں نے مختلف قسم کے اہداف والی  متعدد تنظیمیں بنانے کی تائيد کی بشرطیکہ وہ قرآن اور سنت کے منہج کے مطابق ہوں ۔ (المنھج السلفي عند الشیخ ناصر الدین الالباني / ص  230-233) اور دیکھئے :  سلسلة الهدى والنور (کیسٹ نمبر/371)   (http://kulalsalafiyeen.com/vb/showthread.php?t=43935)
حزبی اگرچہ یہ اعتراف نہ بھی کرے کہ وہ حزبیت چلا رہا ہے لیکن پھر بھی اس کے کاموں سے اس کی حزبیت صاف عیاں ہوتی ہے (کیسٹ نمبر840)
8 ۔  الشیخ أبو عبدالرحمن عقيل بن محمد بن زيد المقطري:
تنظیموں کا ایک دوسرے سے آگے جانے کے لیے ( خلافت کی ) بیعت والی احادیث سے لوگوں کو ڈرا کر اپنی تنظیم میں شامل کرنا صحیح نہیں ہے (قواعد الاعتدال لمَن أرادَ تقويم الجماعات وَالرِجَال/ ص 24) ۔
9 ۔الشیخ مقبل بن هادي الوادعي رحمه الله تعالى : وہ حزبیت سے دور رہنے کی نصیحت کرتے ہیں ، اور بدعتی ،اور حزبی ( تنظیمی مقلد ) کی اچھائیوں کو بیان نہ کرنے کو کہتے ہیں (تحفة المجيب على أسئلة الحاضر والغريب/ ص 65 ، 135) ۔ جو شخص اپنی جماعت کے ساتھ دوستی اور دوسروں کے ساتھ دشمنی کرے وہ گمراہ بدعتی ہے (غارة الأشرطة/2/28) ۔
10 ۔  الشيخ عبيد الجابري(اسلامک یونیورسٹی مدینہ طیبہ کے سابق استاد ): وہ تنظیم کی بنیاد پر دوستی اور دشمنی قائم کرکے یہ کہنے سے منع کرتے ہیں کہ کوئی یہ کہے کہ یہ فلاں تنظیم یا ادارہ سے تعلق رکھتا ہے لہذا وہ ہمارے پاس نہ آئے ۔ (http://kulalsalafiyeen.com/vb/showthread.php?t=43935)
11 ۔  الشيخ أبي عبد المعز فركوس حفظه الله (اسلامک یونیورسٹی  الجزائر کے مدرس ) : جو تنظیم  دوستی اور دشمنی کا معیار تنظیمی بنیاد پر قائم کرے، یا امیر کی باتوں کو بلا دلیل اصول بنا لے ، اور تنظیم کی آراء کو قطعیۃ الثبوت بنادے جن میں نقد  ممکن نہ ہو تو وہ حزبی تنظیم ہے  اگر چہ اس کا نام اسلامی بھی ہو ،  اس اعتبار سے یہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی کھلی مخالفت  اور دشمنی ہے کیوں کہ دوستی اور دشمنی کا معیار اللہ اور اس کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر ایمان کی بنیاد ہے ۔ (http://kulalsalafiyeen.com/vb/showthread.php?t=39127)
12۔  الشیخ اسعد اعظمي بن محمد انصاری ( جامعہ سلفیہ بنارس ، ہند کے استاد ) : حزبیت مسلمانوں کی جماعتوں اور صفوں میں گھس گئي ہے  ، وہ ان کے ذہنوں اور دلوں پر چھا چکی ہے  جس کی وجہ سے ایمانی بھائی چارہ اور اسلامی وحدت کا کوئی معنی باقی نہ رہا  (صوت الخریجین  ، عدد 4 / فروری 2014 / ص 47 )
13 ۔  ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری رحمہ اللہ : موجودہ دور میں مشاہدہ بتلاتا ہے کہ جماعت کے بہت سے افراد میں گروہ بندی و تحزب کا مزاج پیدا ہوگیا ہے ، جماعت سے ایسے لوگوں کی وابستگی حق پرستی اور صلاحیت کردار کی بنیاد پر نہیں بلکہ جماعت کے ساتھ دینے اور ہمنوائی کی بنیاد پر ہے ، جماعت کے لئے یہ مرض بیحد مہلک ہے  ۔۔۔ (ہندوستان میں تحریک اہل حدیث اور جدید تقاضے ص 26 -28 )
14 ۔  الشیخ علامہ احمدبن یحیی النجمي رحمہ اللہ (المعہد العلمی جازان سعودی عرب کے مدرس ، اور شیخ ربیع بن ہادی کے استاد): انہوں نے حزبیت کو بدعت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مرتکب اہل سنت و جماعت سے خارج ہے (الفتاوى الجلية عن المناهج الدعوية " (2/249) حزبیت کی بدعت کی مزمت قرآن اور حدیث میں بہت سی جگہوں میں آئی ہے۔ حزبیت کو انبیاء علیہم السلام کے طریقے سے خارج قرار دیا ہے (المورد العذب الزلال /ص150)
15 ۔ الشیخ علامہ ربيع بن هادي المدخلي حفظه الله : وہ اللہ کی قسم کھاکر  حزبیت کو بدعت قرار دیتے ہیں ، بلکہ حزبی کو عام بدعتیوں سے بھی سخت شر قرار دیتے ہیں کیوں کہ جو حزبی ہوتا ہے وہ اہل سنت و جماعت کو ستانے سے اور اہل بدعت اور اہل باطل کی دوستی سے باز نہیں رہتا ہے، ایسا شخص کسی طرح سلفی نہیں ہوسکتا ہے ۔ (مجموع كتب ورسائل وفتاوى العلامة المجاهد ربيع المدخلي / 14/161 ،162)۔
16 ۔  الشيخ علامہ زيد بن محمد بن هادي المدخلي حفظه الله(المعھد العلمي سامطۃ جازان سعودی عرب کے استاد، اور شیخ احمد النجمی کا شاگر) : تنظیم (حزب ) میں الولاء و البراء ( دوستی اور دشمنی ) کی بدعت قائم کرنے،  اور جو تنظیم کے آئین کی دفعات سے اتفاق نہ کرے اسے برا سمجھنے وغیرہ کو منہج اہل سنت و جماعت سے خارج قرار دیا ہے (الأجوبة المختصرة على الأسئلة العشرة "ص96)۔
17 ۔  الشیخ عبد اللہ غدیان (عضو سعودی دائمی فتوی کمیٹی): دعوتی کام کرنے کے لیے کسی امیر کی بیعت کو ناجائز قرار دیتے ہوئے اسے نصاری کے عمل کے ساتھ تشبیہ دی ہے  ( فتوی کمیٹی کا مشترکہ فیصلہ ، ملاحظہ ہو:  مجموع فتاوی اللجنۃ الدائمۃ / ج 2 / ص 74 )
18 ۔  الشیخ عبد العزیز آل شیخ (صدر سعودی دائمی فتوی کمیٹی ) : دعوتی کام کرنے کے لیے کسی امیر کی بیعت کو ناجائز قرار دیتے ہوئے اسے نصاری کے عمل کے ساتھ تشبیہ دی ہے  ( فتوی کمیٹی کا مشترکہ فیصلہ ، ملاحظہ ہو:  مجموع فتاوی اللجنۃ الدائمۃ / ج 2 / ص 74 )
19 ۔   الشیخ عبد الرزاق عفیفی(عضو سعودی دائمی فتوی کمیٹی) : دعوتی کام کرنے کے لیے کسی امیر کی بیعت کو ناجائز قرار دیتے ہوئے اسے نصاری کے عمل کے ساتھ تشبیہ دی ہے  ( فتوی کمیٹی کا مشترکہ فیصلہ ، ملاحظہ ہو:  مجموع فتاوی اللجنۃ الدائمۃ / ج 2 / ص 74)
20 ۔ ڈاکٹر صالح بن عبد الله بن حميد: اللہ کے لیے ایمانی بھائی چارہ قائم کرنے کو داعی کے اہم صفات میں گردانا ، اور تعصب و حزبیت سے دور رہنا لازمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دعوت اور داعیوں کے آپسی تعاون پر حزبیت سے کوئی اور چیز زیادہ ضرر رساں نہيں ہے ۔ حزبیت کے عیوب کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تنظیم پرست  صرف اپنی تنظیم کی کتابیں پڑھتا ہے اور تنظیم کے شیخ کے بغیر کسی کا شاگرد نہیں بنتا ہے (مجلة البحوث الإسلامية/ ج 51 / ص216 ، 221 ، 222)۔

Friday, June 3, 2016

ماں

ماں!!!
_______________

بقلم: عبدالغفار زاہد بنارسی

مری ماں اپنے آنچل میں مرا ہر غم چھپاتی ہے
مرے عیبوں پہ پردہ ڈال کر مجھ کو بچاتی ہے

کبھی دل میں اداسی کا سمندر جب امنڈتا ہے
مری ماں دیکھ کر چہرہ مرے سب غم بتاتی ہے

جنہیں پالا تھا ماں نے ایک دن جب وہ ستاتے ہیں
وہ کچھ کہتی نہیں تنہائی میں آنسو بہاتی ہے

دُکھا کر ماں کا دل میں کون سی جنت میں جاؤں گا؟
یہ ماں ہے جو اگر خوش ہو مجھے جنت دلاتی ہے

لگا کر جان کو داؤں پہ مجھ کو جنم دیتی ہے
پھر اپنا خون مجھ کو دودھ کی صورت پلاتی ہے

وہ بھوکی رہ کے سوتی ہے مگر مجھ کو کھلاتی ہے
مجھے تکلیف ہو جائے تو آنسو وہ بہاتی ہے

مگر وہ ماں بڑھاپے کی حدوں کو جب پہنچتی ہے
تو اس بوڑھے سراپے سے مجھے اک گھن سی آتی ہے

تب اس کی بات بھی مجھ کو زہر معلوم ہوتی ہے
ہر اک لمحہ وہ بوڑھی ماں مجھے غصہ دلاتی ہے

میں جب غصے میں کچھ کہتا ہوں وہ چپ چاپ سنتی ہے
اور اک دن چھوڑ کر سب کچھ وہ رب کے پاس جاتی ہے

اور اب تنہائی میں جب بیٹھ کر کچھ سوچتا ہوں میں
تو ہر لمحہ مجھے اس ماں کی صورت یاد آتی ہے

میں جب بھی روٹھتا تھا ماں مجھے کیسے مناتی تھی
یہی سب سوچ کر وہ ماں ہر اک پل یاد آتی ہے

مرے درد والم میں اک سہارا تھی مری ماں تو
میں جب بھی درد سہتا ہوں تو تیری یاد آتی ہے

دُکھا کر ماں کا نازک دل کوئی خوش ہو نہیں سکتا
اگر ماں بددعا کر دے فلک کے پار جاتی ہے

جو ماں کے دامنِ شفقت سے ہو محروم اے زاہد
وہ محرومِ زمانہ ہے یتیمی یہ بتاتی ہے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت قرآن کریم میں ثابت ہے

بی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت قرآن کریم میں ثابت ہے
=================
شفاعت كی قسمیں

سوال نمبر 6 - فتوی نمبر 9184

س 6: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے لئے قیامت کے دن رب العالمین کے یہاں کیسے سفارش کریں گے، اسی طرح صحابہ کرام، صلحاء اور فرشتے گناہگاروں کے لئے کیسے سفارش کریں گے؟ اور یہ حدیث: میری شفاعت میری امت کے اہل کبائر کے لئے ہے۔کیا اس کی سند صحیح ہے، اگر حدیث صحیح ہے تو اس کا کیا مفہوم ہے؟

ج 6: بروز قیامت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت اور صلحاء کی شفاعت قرآن کریم سے ثابت ہے، اس سلسلے میں صحیح احادیث قرآن کریم کی تفسیر ووضاحت کرتی ہیں، ان میں سے ایک حدیث ہے جس کی طرف آپ نے سوال میں اشارہ کیا ہے، یہ شفاعت مختلف نوعیت کی ہیں، شیخ عبد الرحمن بن حسن رحمہ اللہ نے اپنی کتاب (فتح المجید) میں کہا: ابن قیم رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے کہ شفاعت کی 6 قسمیں ہیں:
1- شفاعت کبری، جس میں اولی العزم انبیاء علیہم السلام بھی پیچھے رہیں گے، یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کى جب بارى آئیں گى تو آپ کہیں گے: میں یہ سفارش کروں گا، یہ اس وقت ہوگا جب تمام مخلوقات انبیاء کی سفارش کی خواہش کریں گے تاکہ رب العالمین انہیں محشر کی ہولناکی سے آرام دے، یہ سفارش صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھـ مخصوص ہے، اس میں کوئی شریک نہیں ہوگا۔
2- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جنتیوں کے لئے جنت میں داخلہ کی سفارش، اسے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی ایک طویل حدیث میں ذکر کیا ہے، متفق علیہ۔
3- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی امت کے نافرمان بندوں کی سفارش، جن پران کے گناہوں کی وجہ سے جہنم واجب کی گئی ہوگی، لہذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے جہنم میں داخل نہ کرنے کے لئے سفارش کریں گے۔
4- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل توحید میں سے نافرمان بندوں کی سفارش، جو اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں داخل کیے جائیں گے، اس سفارش کے سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے متواتر احادیث وارد ہیں، اس پر صحابہ کرام اور اہل سنت وجماعت کا اجماع ہے، اس شفاعت سے انکار کرنے والے بدعتی كو كہا گيا، اسے انكار كرنے سے باز آنے كو كہا گيا اور اس كو گمراہ قرار ديا گيا۔
5- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش جنتیوں کے درجات بلند کرنے اور مزید ثواب ملنے کے لئے، یہ سفارش ایسی ہے جس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے، یہ ان مخلص موحدین کے ساتھـ مخصوص ہے جنہوں نے اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کو اپنا دوست اور سفارشی نہیں بنایا، جیساکہ ارشاد الہی ہے:    ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻛﻮ ﮈﺭﺍﺋﯿﮯ ﺟﻮ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﺳﮯ ﺍﻧﺪﯾﺸﮧ ﺭﻛﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻛﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﻛﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﯾﺴﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﻛﺌﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﻛﮧ ﺟﺘﻨﮯ ﻏﯿﺮ ﺍللہ ﮨﯿﮟ ﻧﮧ ﻛﻮﺋﯽ ﺍﻥ کا ﻣﺪﺩﮔﺎﺭ ﮨﻮﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﻛﻮﺋﯽ ﺷﻔﯿﻊ،
6- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش آپ کے خاندان کے بعض کافر جہنمیوں کے لئے تاکہ ہلکا عذاب ہو، یہ سفارش خاص طور پر ابو طالب کے لئے ہے۔

وبالله التوفيق۔ وصلى الله على نبينا محمد، وآله وصحبه وسلَّم۔

علمی تحقیقات اور فتاوی جات کی دائمی کمیٹی

عجوہ کی فضیلت احادیث صحیحہ کی روشنی میں

عجوہ کی فضیلت احادیث صحیحہ کی روشنی میں
==================
(1)عَنْ سَعْد بْن أَبِي وَقَّاص رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صلى الله عليه وسلم: «مَنْ تَصَبَّحَ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعَ تَمَرَاتٍ عَجْوَةً، لَمْ يَضرَّهُ فِي ذَلِكَ اليَوْمِ سُمٌّ وَلا سِحْرٌ». متفق عليه.
ترجمہ: سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
جو شخص ہر روز صبح کے وقت سات عجوہ کھجوریں کھا لیا کرے، اس دن اسے زہر اور جادو ضرر نہ پہنچا سکے گا۔

(2)إنَّ في العَجْوَةِ العاليةِ شفاءً ، أو إنها تِرْياقٌ ، أولَ البَكْرَةِ(مسلم:2048)
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:عالیہ کی عجوہ کھجوروں میں شفاء ہے اور وہ زہر وغیرہ کے لئے تریاق کی خاصیت رکھتی ہیں‘ جب کہ اس کو دن کے ابتدائی حصہ میں یعنی نہار منہ کھایا جائے"۔

(3)العجوَةُ منَ الجنَّةِ ، وفيها شِفاءٌ منَ السُّمِّ . والكمَأَةُ منَ المنِّ وماؤُها شِفاءٌ للعينِ(صحیح الترمذی :2066)
ترجمہ:حضرت ابو ہریرہرضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ا نے فرمایا : عجوہ جنت کی کھجور ہے اور اس میں زہر سے شفاء ہے اور کمأة (کھنبی) من (کی ایک قسم) اور اس کا پانی آنکھ کے لئے شفاء ہے۔

(4)حَدَّثَنَا عَلِيٌّ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ أَخْبَرَنَا هَاشِمٌ أَخْبَرَنَا عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللہُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اصْطَبَحَ کُلَّ يَوْمٍ تَمَرَاتٍ عَجْوَةً لَمْ يَضُرَّهٗ سُمٌّ وَلَا سِحْرٌ ذٰلِکَ الْيَوْمَ إِلَی اللَّيْلِ ۔(صحيح البخاري:5768)
ترجمہ:علی، مروان، ہاشم، عامر بن سعدؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمای:اٰہ جس نے ہر صبح چند عجوہ کجھوریں کھالیں اسے رات تک کوئی زہر اور نہ کوئی جادو نقصان پہنچائے گا۔

(5)الكَمَأةُ من المنِّ وماؤُها شفاءٌ للعينِ والعَجوةُ من الجنَّةِ وهي شفاءٌ من الجنَّةِ(صحيح ابن ماجة:2798)
ترجمه: آپﷺنے فرمایا: کمأة (کھنبی) من (کی ایک قسم) اور اس کا پانی آنکھ کے لئے شفاء ہے۔اورعجوہ جنت سے ہے اور اس میں جنون سے شفا ہے“۔
٭ یہاں صحیح لفظ "وهي شفاء من السم" ہے یعنی یہ زہر سے شفا ہے ۔

(6)ليس في الأرض من الجنةِ إلا ثلاثةُ أشياءَ : غرسُ العَجوةِ ، وأواقٍ تنزل في الفُراتِ كلَّ يومٍ من بركة الجنَّةِ ، والحَجَرُ(السلسلۃ الصحیحہ :3111)
ترجمہ:زمین پر جنت کی چیزوں میں سے تین چیزوں کے علاوہ کچھ نہیں․عجوہ کھجور کا درخت،وہ برکت کی مقدار کثیر جو روزانہ جنت سے دریائے فرات پر اترتی ہے اور سنگ اسود۔

عجوہ کی فضیلت میں بہت ساری ضعیف روایات بھی ہیں جنہیں میں نے ذکر نہیں کیا۔
مقبول احمد سلفی
اسلامی سنٹر طائف، سعودی عرب

رمضان کا استقبال کیسے کریں

رمضان کا استقبال کیسے کریں؟
================
تحریر: مقبول احمد سلفی
داعی /مرکزالدعوۃ والارشاد طائف،سعودی عرب

رمضان المبارک  کی آمد آمد  ہے ، ہر طرف مومن کے اندر اس کے تئیں اظہار مسرت ہے ۔ یہ وہ مبارک مہینہ  ہےجس کا انتظار مومن آدمی سال بھر کرتاہے کیونکہ یہ نیکی،برکت،بخشش،عنایت،توفیق،عبادت،زہد،تقوی،مروت،خاکساری،مساوات، صدقہ وخیرات،رضائے مولی،جنت کی بشارت،جہنم سے گلوخلاصی  کا مہینہ ہے ۔ اس ماہ مقدس میں مومن کے اندرفکرآخرت کے ذریعہ رب سے ملاقات کی خواہش بیدار ہوتی ہے ۔سبحان اللہ اس قدر پاکیزہ ومحترم مہینہ ۔یہ رب کی طرف سے اس پر ایمان لانے والوں کے لئے عظیم تحفہ ہے ۔ اب ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ اس ماہ عظیم الشان کا کیسے استقبال کریں اور کس عمدگی سے اس مہینے کے فیوض وبرکات سے اپنے دامن کو نیکیوں کے موتی بھرلیں؟
رمضان کا استقبال کیسے کریں؟
اپنے ذہن میں ذرا تصور پیدا کریں کہ جب آپ کے گھر کسی اعلی مہمان کی آمد ہوتی ہے تو آپ کیا کرتے ہیں؟   آپ کا جواب ہوگا۔ہم بہت ساری تیاریاں کرتے ہیں۔ گھرآنگن  کو خوب سجاتے ہیں، خود بھی ان کے لئے زینت اختیار کرتے ہیں، پورے گھر میں خوشی کا ماحول ہوتاہے ، بچوں کے لب پہ نغمے،چہرے پہ خوشی کے آثار ہوتے ہیں۔ مہمان کی خاطرتواضع کےلئے ان گنت پرتکلف سامان تیار کئے جاتے ہیں۔ جب ایک مہمان کے لئے اس قدر تیاری تو مہمانوں میں سب سے اعلی اور رب کی طرف سے بھیجا ہوا مہمان ہو تو اس کی تیاری کس قدر پرزور ہونی چاہئے ؟  آئیے اس تیاری سے متعلق آپ کے لئے ایک مختصر خاکہ پیش کرتا ہوں ۔
(1)عظمت کا احساس
رمضان کا مہینہ بیحد عظیم ہے ، اس کی عظمت کا احساس اور قدرومنزلت کا لحاظ آمد رمضان سے قبل ہی ذہن ودماغ میں پیوست کرلیاجائے تاکہ جب رمضان میں داخل ہوں تو غفلت،سستی،بے اعتنائی،ناقدری،ناشکری، احسان فراموشی  اور صیام وقیام سے بے رغبتی کے اوصاف رذیلہ نہ پیدا ہوں۔
یہ اتنی عظمت وقدر والا مہینہ ہے کہ اس کی ایک رات کا نام ہی قدرومنزلت ہے ۔
إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ (1) وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ (2) لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ (3) تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ (4) سَلَامٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ (5) (سورة القدر)
ترجمہ: بیشک ہم نے قرآن کو لیلة القدر یعنی باعزت وخیروبرکت والی رات میں نازل کیا ہے ۔اورآپ کو کیا معلوم کہ لیلةالقدرکیا ہے ۔لیلة القدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔اس رات میں فرشتے اور جبریل روح الامین اپنے رب کے حکم سے ہر حکم لے کر آترتے ہیں۔ وہ رات سلامتی والی ہوتی ہے طلوع فجر تک ۔
آپ یہ نہ سمجھیں کہ رمضان کی ایک رات ہی قدر کی رات ہے بلکہ اس کا ہردن اور ہررات قدرومنزلت کا حامل ہے ۔

(2) نعمت کا احساس
رمضان جہاں رب کا مہمان ہے وہیں اس کی طرف سے ایک عظیم نعمت بھی ہے ۔ عام طور سے انسان کو اس نعمت کا احساس کم ہی ہوتا ہے جو حاصل ہوجاتی ہے لیکن جو نہیں مل پاتی اس کے لئے تڑپتا رہتا ہے ۔ ایک بینا کو آنکھ کی نعمت کا احساس کم ہوتا ہے اس لئے اس کا استعمال فلم بینی اور برائی کے مشاہدے میں کرتاہے ۔ اگر اسے یہ احساس ہو کہ یہ رب کی بہت بڑی نعمت ہے اس کی قدرکرنی چاہئے تو کبھی اپنی آنکھ سے برائی کا ادراک نہ کرے ۔ بینا کی بنسبت اندھے کو آنکھ کی نعمت کا احساس زیادہ ہوتا ہے ۔ یہ فرق ایمان میں کمی کا سبب ہے ۔ جس کا ایمان مضبوط ہوگا وہ ہرنعمت کی قدر کرے گا ۔ایمان کا تقاضہ ہے کہ ہم رمضان جیسے مقدس مہینے کی نعمت کا احساس کریں ۔ اور اس احساس کا تقاضہ ہے کہ اس نعمت پہ رب کی شکرگذاری ہوجیساکہ اللہ کا فرمان ہے ۔
وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ(ابراهيم: 7)
ترجمہ: اور جب تمہارے پروردگار نے تمہیں آگاه کر دیا کہ اگر تم شکر گزاری کرو گے, تو بیشک میں تمہیں زیاده دوں گا اوراگر تم ناشکری کرو گے تو یقیناً میرا عذاب بہت سخت ہے۔
اللہ کا فرمان ہے : أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُواْ نِعْمَةَ اللّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّواْ قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ، جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا وَبِئْسَ الْقَرَارُ{ابراہیم :28-29}
ترجمہ : کیا آپ نے انکی طرف نظر نہیں ڈالی جنھوں نے اللہ تعالی کی نعمت کے بدلے ناشکری کی اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں لا اتارا ،یعنی جہنم میں جسمیں یہ سب جائیں گے جوبدترین ٹھکانہ ہے ۔
نعمت میں رمضان جیسا مہینہ نصیب ہونے کی بھی نعمت ہے اور صحت وتندرستی  اس پہ مستزاد ہے۔ان نعمتوں کا احساس کیوں نہ کریں ، کہ ان نعمتوں کے بدلے ہمیں ہرقسم کی نیکی کی توفیق ملتی ہے ۔ روزہ،نماز،صدقہ،خیرات،دعا،ذکر،انابت الی اللہ ،توبہ،تلاوت، مغفرت،رحمت وغیرہ ان نعمتوں کی دین ہے ۔

(3) انابت الی اللہ
جب ہم نے اپنے دل میں مہمان کی عظمت بحال کرلی، اس عظیم نعمت کی قدرومنزلت کا بھی احساس کرلیا تو اب ہمارا یہ فریضہ بنتا ہے کہ دنیا سے رخ موڑ کے اللہ کی طرف لوٹ جائیں ۔ "انابت الی اللہ" عظمت اور نعمت کے احساس میں مزید قوت پیدا کرے گی۔ اللہ کی طرف لوٹنا صرف رمضان کے لئے نہیں ہے بلکہ مومن کی زندگی ہمیشہ اللہ کے حوالے اور اس کی مرضی کے حساب سے گذرنی چاہئے ۔ یہاں صرف بطور تذکیر ذکر کیا جارہاہے کہ کہیں ایسا نہ ہو بندہ رب سے دور ہوکر روزہ کے نام پہ صرف بھوک اور پیاس برداشت کرے ۔ اگر ایسا ہے تو روزے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ پہلے رب کی طرف لوٹیں ، اس سے تعلق جوڑیں اور اس کو راضی کریں پھر ہماری ساری نیکی قبول ہوں گی ۔
انابت الی اللہ سے میری مراد، ہم رب پر صحیح طور ایمان لائیں، ایمان باللہ کو مضبوط کریں، عبادت کو اللہ کے لئے خالص کریں، رب پہ مکمل اعتماد کریں، اللہ کو سارے جہاں کا حاکم مانیں، خود کو اس کا فقیر اور محتاج جانیں ، کسی غریب ومسکین کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھیں ،ناداروں کی اعانت کریں،بیماری ومصیبت میں اسی کی طرف رجوع کریں۔ یہ ساری باتیں انابت الی اللہ میں داخل ہیں۔ بہت سے لوگ ہیں جو نماز بھی پڑھتے ہیں،روزہ بھی رکھتے ہیں، لمبے لمبے قیام اللیل کرتے ہیں مگر غیراللہ کوپکارتے ہیں، اللہ کو چھوڑ کو اوروں کو مشکل کشا سمجھتے ہیں ۔ بیماری اور مصیبت میں مردوں سے استغاثہ کرتے ہیں۔ ان لوگوں کا روزہ کیسے قبول ہوگا؟ گویا ایسے عقیدے والوں کا مکمل رمضان اور اس کی نیکیاں ضائع ہوگئیں۔ اللہ تعالی کا فرمان لاریب ہے ۔
وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ (الزمر:65)
ترجمہ : یقیناً تیری طرف بھی اور تجھ سے پہلے (کے تمام نبیوں) کی طرف بھی وحی کی گئی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو بلاشبہ تیرا عمل ضائع ہو جائے گا اور بالیقین تو زیاں کاروں میں سے ہو جائے گا۔
اس لئے اس بات کو اچھی طرح ذہن نشیں کرلیں۔

(4) پیش قدمی
اس کے دو پہلو ہیں ۔ (الف)منکر سے اجتناب (ب) معروف کی رغبت
(الف) منکر سے اجتناب: رمضان کے استقبال میں ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ہم پہلے اپنے گذشتہ گناہوں سے سچی توبہ کریں اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزم مصمم کرلیں۔ دیکھا جاتا ہے لوگ ایک طرف نیکی کرتے ہیں تو دوسری طرف بدی کرتے ہیں ۔ اس طرح اعمال کا ذخیرہ نہیں بن پاتا بلکہ بدی کے سمندر میں ہماری نیکیاں ڈوب جاتی ہیں ۔ ویسے بھی ہمارے پاس نیکی کی کمی ہے وہ بھی ضائع ہوجائے تو نیکی کرنے کا فائدہ کیا؟ اس لئے نیکی کو اگر بچانا چاہتے ہیں اور رمضان المبارک کی برکتوں، رحمتوں، نعمتوں، بخششوں اور نیکیوں کو بچانا چاہتے ہیں تو بدی سے مکمل اجتناب کرنا پڑے گا۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے ۔
قُلْ أَنْفِقُوا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا لَنْ يُتَقَبَّلَ مِنْكُمْ إِنَّكُمْ كُنْتُمْ قَوْمًا فَاسِقِينَ (التوبة:53)
ترجمہ: کہہ دیجئے کہ تم خوشی یا ناخوشی کسی بھی طرح خرچ کروقبول تو ہرگز نہ کیا جائے گا، یقینا تم فاسق لوگ ہو۔
اس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالی فسق وفجور اور ناپسندیدگی سے خرچ کرنےکی وجہ سے صدقہ کو قبول نہیں کرتا۔
اورحدیث میں ہے صحابہ بیان کرتے ہیں :
كنا معَ بُرَيدَةَ في يومٍ ذي غَيمٍ، فقال : بَكِّروا بالصلاةِ، فإن النبيَّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم قال : مَن ترَك صلاةَ العصرِ حَبِط عملُه(صحيح البخاري:594)
کہ ہم لوگ بریدہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کسی غزوۂ میں بارش والے دن تھے تو انہوں نے کہا کہ نماز عصر جلدی پڑھو، اس لیے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا ہے : جو شخص عصر کی نماز چھوڑ دے تو اس کا (نیک) عمل ضائع ہو جاتا ہے۔
جو آدمی عبادت بھی کرے اور گناہ کا کام بھی کرے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کا نیک عمل مردود ہے ۔" إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاء وَالْمُنكَرِ "(العنکبوت :45)
اس میں کوئی شک نہیں کہ نماز بےحیائی وبرائی کے کام سے روکتی ہے توجونمازیا روزہ بے حیائی سے نہ روکے وہ اللہ کے یہاں قابل رد ہے ۔
(ب)  معروف کی رغبت
رمضان بھلائی کمانے کے واسطے ہے ، اللہ تعالی مومنوں کو متعدد طریقے سے اس مہینے میں بھلائی سے نوازتاہے ، ہمیں ان بھلائیوں کے حصول کی خاطر رمضان سے پہلے ہی کمربستہ ہوجانا چاہئے اور مواقع حسنات سے مستفید ہونے کے لئے برضا ورغبت ایک خاکہ تیار کرنا چاہئے تاکہ ہرقسم کی بھلائیاں سمیٹ سکیں ۔ سمجھ کر قرآن پڑھنے کا اہتمام(کم از کم ایک ختم) ، پنچ وقتہ نمازوں کے علاوہ نفلی عبادات ، صدقہ وخیرات، ذکرواذکار، دعاومناجات، طلب عفوودرگذر، قیام اللیل کا خاص خیال،روزے کے مسائل کی معرفت بشمول  رمضان کے مستحب اعمال، دروس وبیانات میں شرکت، اعمال صالحہ پہ محنت ومشقت اور زہدوتقوی سے مسلح ہونے کا مکمل خاکہ ترتیب دیں اور اس خاکے کے مطابق رمضان المبارک کا روحانی ومقدس مہینہ گذاریں ۔
رمضان میں ہرچیز کا ثواب دوچندہوجاتا ہے اور روزے کی حالت میں کارثواب کرنا مزید اضافہ حسنات کا باعث ہے ، اس لئے اس موسم میں معمولی نیکی بھی گرانقدر ہے خواہ مسکواک کی سنت ہی کیوں نہ ہو۔ ہر نماز کے لئے مسکواک کرنا، اذان کا انتظار کرنا بلکہ پہلے سے مسجد میں حاضررہنا،تراویح میں پیش پیش رہنا، نیکی کی طرف دوسروں کو دعوت دینا، دروس ومحاضرات کا اہتمام کرنا،منکر ات کے خلاف مہم جوئی کرنا اور صالح معاشرہ کی تشکیل کے لئے جدوجہد کرنا سبھی ہمارے خاکے کا حصہ ہوں۔

(5) بہتر تبدیلی
استقبال رمضان کے لئے خود کو مکمل تیار کریں، نیکی کا جذبہ وافر مقدار میں ہواور اپنے اندر اچھائی کے تئیں ابھی سے ہی بدلاؤ نظر آئے ۔ پہلے سے زیادہ سچائی اور نیکی کی راہ اختیار کرے ۔ رمضان چونکہ رمضان ہے اس لئے اس سے قبل ہی بہتری  کااظہارشروع ہونے لگ جائے ۔ تقوی کے اسباب اپنائے اور خود کو متقی انسان بنانے پہ عبادت کے ذریعہ جہد کرنے کا مخلصانہ جذبہ بیدار کرے ۔ یہاں یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہئے کہ اپنے اندر بہتری پیداکرنے کی خوبی اور خاصہ صرف رمضان کے لئے نہیں بلکہ سال بھر کے لئے پیدا کرے ۔ ایسے بہت سے لوگ ہیں جو رمضان کے نمازی ہواکرتے ہیں اور رمضان رخصت ہوتے ہی نماز سے بلکہ یہ کہیں اللہ سے ہی غافل ہوجاتے ہیں ۔اس لئے ابھی سے ہی یہ راہ مہیارہے کہ اچھائی کے لئے بدلاؤ مہینہ بھر کے لئے نہیں سال بھر بلکہ زندگی بھر کے لئے ہو۔ اسی طرح کا بدلاؤ رمضان کے سارے اعمال کو اللہ کے حضور شرف قبولیت سے نوازے گا اورآپ کی اخروی زندگی کو بہتر سے بہترکرے گا ۔
آخری پیغام
رمضان کے استقبال کے لئے کوئی خاص دعا، خاص عبادت  وروزہ یا کوئی مخصوص ومتعین  طریقہ شریعت میں وارد نہیں ہواہے ۔ حدیث میں رمضان کے استقبال میں ایک دو دن پہلے کا روزہ رکھنا منع ہے ۔ لہذا دین میں کسی طرح کی بدعت کے ارتکاب سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں ۔

اللہ تعالی ہمیں رمضان کا بہترین استقبال کرنے ، اس مہینے سے ہرطرح کا فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کرے اور رمضان میں بکثرت اعمال صالحہ انجام دینے  کی توفیق دے اور ان اعمال کو آخرت میں نجات کا ذریعہ بنائے ۔ آمین
http://maquboolahmad.blogspot.com/2016/05/blog-post_31.html

اگر كوئى شخص نماز جمعہ كى تشھد ميں ملے تو كيا كرے

اگر كوئى شخص نماز جمعہ كى تشھد ميں ملے تو كيا كرے ؟
================
اگر كوئى مسلمان شخص نماز جمعہ كى صرف تشھد ہى پائے تو اسے كيا كرنا چاہيے ؟
اور اگر كسى شخص كو نماز جمعہ كى ادائيگى سے روك ديا جائے يا پھر كسى ايسے سبب كى بنا پر وہ نماز جمعہ ادا نہ كر سكے جس كا باعث وہ خود نہيں، مثلا جس بس اور گاڑى پرسوار تھا وہ خراب ہو گئى تو كيا اس پر كوئى گناہ ہو گا ؟
كيا اسے جو اجروثواب اور دعاء كى قبوليت كے جو لحظات حاصل ہونا تھے وہ سب ضائع ہو جائيگا ؟
الحمد للہ :

اگر امام كے ساتھ ايك ركعت ملے تو پھر نماز جمعہ حاصل ہو گى، اور ايك ركعت اس وقت ملے گى جب امام كے ساتھ ركوع سے قبل ملے اور ركوع حاصل كر لے، اور اگر وہ دوسرى ركعت ميں امام كے ساتھ ركوع سے قبل مل جائے تو اس نے نماز جمعہ پالى، تو اس وقت امام كے سلام پھيرنے كے بعد وہ اٹھ كر ايك ركعت ادا كر كے نماز جمعہ مكمل كرے گا.

ليكن اگر وہ امام كے ركوع سے اٹھنے كے بعد امام كے ساتھ ملتا ہے تو اس كى نماز جمعہ رہ جائيگى، اور اس طرح وہ ظہر كى نماز ادا كرے گا، اور امام كے سلام پھيرنے كے بعد اٹھ كر چار ركعت نماز ظہر ادا كرے گا نہ كہ نماز جمعہ، جمہور علماء كرام: امام مالك، امام شافعى، امام احمد رحمہم اللہ كا مسلك يہى ہے.

ديكھيں: المجموع للنووى ( 4 / 558 ).

ان كے دلائل يہ ہيں:

1 - نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جس نے نماز كى ايك ركعت پالى اس نے نماز پالى "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 580 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 607 ).

2 - نسائى رحمہ اللہ نے عبد اللہ بن عمر رضى اللہ تعالى عنہما سے بيان كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس نے نماز جمعہ يا دوسرى نماز كى ايك ركعت پالى تو وہ اس كے ساتھ دوسرى ركعات بھى ادا كر تو اس كى نماز مكمل ہو گئى "

علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے الارواء ( 622 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

اور اگر انسان كسى ايسے عذر كے باعث نماز ميں شامل نہ ہو سكے جس كا باعث وہ خود نہيں بلكہ وہ غير ارادى طور پر ہوا ہو مثلا جيسا سائل نے ذكر كيا كہ گاڑى خراب ہو جائے يا كوئى اور عذر مثلا نيند يا پھر بھول جانا، تو اس ميں كوئى حرج نہيں، اور نہ ہى اس پركوئى گناہ ہے، كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿تم سے جو بھول چوك ہو جائے اس ميں تم پر كوئى حرج نہيں، ليكن گناہ اس ميں ہے ہے جو تمہارے دل كے ارادے سے ہو ﴾الاحزاب ( 5 ).

اور اس طرح كا شخص جان بوجھ كر عمدا نماز ضائع نہيں كرتا.

اور اس ليے بھى كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" يقينا اللہ تعالى نے ميرى امت سے خطاء، نسيان، اور جس پر انہيں مجبور كر ديا گيا ہو معاف كر ديا ہے "

اسے ابن ماجہ نے روايت كيا ہے، اور علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے ارواء الغليل ( 82 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

اگر وہ اس حالت ميں نماز كى ادائيگى كا عزم ركھتا كہ اگر عذر نہ ہوتا تو وہ ضرور نماز ادا كرتا، تو اسے مكمل اجروثواب حاصل ہوگا، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" اعمال كا دارومدار نيتوں پر ہے، اور ہر شخص كے ليے وہى ہے جو اس نے نيت كى ہو "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 1 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1907 ).

اور اس ليے بھى كہ جب رسول كريم صلى اللہ عليہ غزوہ تبوك سے واپس آرہے تھے تو آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے صحابہ كرام كو فرمايا تھا:

" بلا شبہ مدينہ ميں كچھ لوگ ايسے بھى ہيں جو مدينہ ميں رہنے كے باوجود تمہارے ساتھ ہرگھاٹى اور وادى اور سفر ميں تمہارے ساتھ رہے، اور اجروثواب ميں شريك ہوئے، انہيں بيمارى نے روك ليا تھا "

صحيح مسلح حديث نمبر ( 1911 ).

واللہ اعلم .

الشيخ محمد صالح المنجد