عجوہ کی فضیلت احادیث صحیحہ کی روشنی میں
==================
(1)عَنْ سَعْد بْن أَبِي وَقَّاص رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صلى الله عليه وسلم: «مَنْ تَصَبَّحَ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعَ تَمَرَاتٍ عَجْوَةً، لَمْ يَضرَّهُ فِي ذَلِكَ اليَوْمِ سُمٌّ وَلا سِحْرٌ». متفق عليه.
ترجمہ: سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
جو شخص ہر روز صبح کے وقت سات عجوہ کھجوریں کھا لیا کرے، اس دن اسے زہر اور جادو ضرر نہ پہنچا سکے گا۔
(2)إنَّ في العَجْوَةِ العاليةِ شفاءً ، أو إنها تِرْياقٌ ، أولَ البَكْرَةِ(مسلم:2048)
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:عالیہ کی عجوہ کھجوروں میں شفاء ہے اور وہ زہر وغیرہ کے لئے تریاق کی خاصیت رکھتی ہیں‘ جب کہ اس کو دن کے ابتدائی حصہ میں یعنی نہار منہ کھایا جائے"۔
(3)العجوَةُ منَ الجنَّةِ ، وفيها شِفاءٌ منَ السُّمِّ . والكمَأَةُ منَ المنِّ وماؤُها شِفاءٌ للعينِ(صحیح الترمذی :2066)
ترجمہ:حضرت ابو ہریرہرضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ا نے فرمایا : عجوہ جنت کی کھجور ہے اور اس میں زہر سے شفاء ہے اور کمأة (کھنبی) من (کی ایک قسم) اور اس کا پانی آنکھ کے لئے شفاء ہے۔
(4)حَدَّثَنَا عَلِيٌّ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ أَخْبَرَنَا هَاشِمٌ أَخْبَرَنَا عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللہُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اصْطَبَحَ کُلَّ يَوْمٍ تَمَرَاتٍ عَجْوَةً لَمْ يَضُرَّهٗ سُمٌّ وَلَا سِحْرٌ ذٰلِکَ الْيَوْمَ إِلَی اللَّيْلِ ۔(صحيح البخاري:5768)
ترجمہ:علی، مروان، ہاشم، عامر بن سعدؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمای:اٰہ جس نے ہر صبح چند عجوہ کجھوریں کھالیں اسے رات تک کوئی زہر اور نہ کوئی جادو نقصان پہنچائے گا۔
(5)الكَمَأةُ من المنِّ وماؤُها شفاءٌ للعينِ والعَجوةُ من الجنَّةِ وهي شفاءٌ من الجنَّةِ(صحيح ابن ماجة:2798)
ترجمه: آپﷺنے فرمایا: کمأة (کھنبی) من (کی ایک قسم) اور اس کا پانی آنکھ کے لئے شفاء ہے۔اورعجوہ جنت سے ہے اور اس میں جنون سے شفا ہے“۔
٭ یہاں صحیح لفظ "وهي شفاء من السم" ہے یعنی یہ زہر سے شفا ہے ۔
(6)ليس في الأرض من الجنةِ إلا ثلاثةُ أشياءَ : غرسُ العَجوةِ ، وأواقٍ تنزل في الفُراتِ كلَّ يومٍ من بركة الجنَّةِ ، والحَجَرُ(السلسلۃ الصحیحہ :3111)
ترجمہ:زمین پر جنت کی چیزوں میں سے تین چیزوں کے علاوہ کچھ نہیں․عجوہ کھجور کا درخت،وہ برکت کی مقدار کثیر جو روزانہ جنت سے دریائے فرات پر اترتی ہے اور سنگ اسود۔
عجوہ کی فضیلت میں بہت ساری ضعیف روایات بھی ہیں جنہیں میں نے ذکر نہیں کیا۔
مقبول احمد سلفی
اسلامی سنٹر طائف، سعودی عرب
Friday, June 3, 2016
رمضان کا استقبال کیسے کریں
رمضان کا استقبال کیسے کریں؟
================
تحریر: مقبول احمد سلفی
داعی /مرکزالدعوۃ والارشاد طائف،سعودی عرب
رمضان المبارک کی آمد آمد ہے ، ہر طرف مومن کے اندر اس کے تئیں اظہار مسرت ہے ۔ یہ وہ مبارک مہینہ ہےجس کا انتظار مومن آدمی سال بھر کرتاہے کیونکہ یہ نیکی،برکت،بخشش،عنایت،توفیق،عبادت،زہد،تقوی،مروت،خاکساری،مساوات، صدقہ وخیرات،رضائے مولی،جنت کی بشارت،جہنم سے گلوخلاصی کا مہینہ ہے ۔ اس ماہ مقدس میں مومن کے اندرفکرآخرت کے ذریعہ رب سے ملاقات کی خواہش بیدار ہوتی ہے ۔سبحان اللہ اس قدر پاکیزہ ومحترم مہینہ ۔یہ رب کی طرف سے اس پر ایمان لانے والوں کے لئے عظیم تحفہ ہے ۔ اب ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ اس ماہ عظیم الشان کا کیسے استقبال کریں اور کس عمدگی سے اس مہینے کے فیوض وبرکات سے اپنے دامن کو نیکیوں کے موتی بھرلیں؟
رمضان کا استقبال کیسے کریں؟
اپنے ذہن میں ذرا تصور پیدا کریں کہ جب آپ کے گھر کسی اعلی مہمان کی آمد ہوتی ہے تو آپ کیا کرتے ہیں؟ آپ کا جواب ہوگا۔ہم بہت ساری تیاریاں کرتے ہیں۔ گھرآنگن کو خوب سجاتے ہیں، خود بھی ان کے لئے زینت اختیار کرتے ہیں، پورے گھر میں خوشی کا ماحول ہوتاہے ، بچوں کے لب پہ نغمے،چہرے پہ خوشی کے آثار ہوتے ہیں۔ مہمان کی خاطرتواضع کےلئے ان گنت پرتکلف سامان تیار کئے جاتے ہیں۔ جب ایک مہمان کے لئے اس قدر تیاری تو مہمانوں میں سب سے اعلی اور رب کی طرف سے بھیجا ہوا مہمان ہو تو اس کی تیاری کس قدر پرزور ہونی چاہئے ؟ آئیے اس تیاری سے متعلق آپ کے لئے ایک مختصر خاکہ پیش کرتا ہوں ۔
(1)عظمت کا احساس
رمضان کا مہینہ بیحد عظیم ہے ، اس کی عظمت کا احساس اور قدرومنزلت کا لحاظ آمد رمضان سے قبل ہی ذہن ودماغ میں پیوست کرلیاجائے تاکہ جب رمضان میں داخل ہوں تو غفلت،سستی،بے اعتنائی،ناقدری،ناشکری، احسان فراموشی اور صیام وقیام سے بے رغبتی کے اوصاف رذیلہ نہ پیدا ہوں۔
یہ اتنی عظمت وقدر والا مہینہ ہے کہ اس کی ایک رات کا نام ہی قدرومنزلت ہے ۔
إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ (1) وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ (2) لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ (3) تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ (4) سَلَامٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ (5) (سورة القدر)
ترجمہ: بیشک ہم نے قرآن کو لیلة القدر یعنی باعزت وخیروبرکت والی رات میں نازل کیا ہے ۔اورآپ کو کیا معلوم کہ لیلةالقدرکیا ہے ۔لیلة القدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔اس رات میں فرشتے اور جبریل روح الامین اپنے رب کے حکم سے ہر حکم لے کر آترتے ہیں۔ وہ رات سلامتی والی ہوتی ہے طلوع فجر تک ۔
آپ یہ نہ سمجھیں کہ رمضان کی ایک رات ہی قدر کی رات ہے بلکہ اس کا ہردن اور ہررات قدرومنزلت کا حامل ہے ۔
(2) نعمت کا احساس
رمضان جہاں رب کا مہمان ہے وہیں اس کی طرف سے ایک عظیم نعمت بھی ہے ۔ عام طور سے انسان کو اس نعمت کا احساس کم ہی ہوتا ہے جو حاصل ہوجاتی ہے لیکن جو نہیں مل پاتی اس کے لئے تڑپتا رہتا ہے ۔ ایک بینا کو آنکھ کی نعمت کا احساس کم ہوتا ہے اس لئے اس کا استعمال فلم بینی اور برائی کے مشاہدے میں کرتاہے ۔ اگر اسے یہ احساس ہو کہ یہ رب کی بہت بڑی نعمت ہے اس کی قدرکرنی چاہئے تو کبھی اپنی آنکھ سے برائی کا ادراک نہ کرے ۔ بینا کی بنسبت اندھے کو آنکھ کی نعمت کا احساس زیادہ ہوتا ہے ۔ یہ فرق ایمان میں کمی کا سبب ہے ۔ جس کا ایمان مضبوط ہوگا وہ ہرنعمت کی قدر کرے گا ۔ایمان کا تقاضہ ہے کہ ہم رمضان جیسے مقدس مہینے کی نعمت کا احساس کریں ۔ اور اس احساس کا تقاضہ ہے کہ اس نعمت پہ رب کی شکرگذاری ہوجیساکہ اللہ کا فرمان ہے ۔
وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ(ابراهيم: 7)
ترجمہ: اور جب تمہارے پروردگار نے تمہیں آگاه کر دیا کہ اگر تم شکر گزاری کرو گے, تو بیشک میں تمہیں زیاده دوں گا اوراگر تم ناشکری کرو گے تو یقیناً میرا عذاب بہت سخت ہے۔
اللہ کا فرمان ہے : أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُواْ نِعْمَةَ اللّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّواْ قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ، جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا وَبِئْسَ الْقَرَارُ{ابراہیم :28-29}
ترجمہ : کیا آپ نے انکی طرف نظر نہیں ڈالی جنھوں نے اللہ تعالی کی نعمت کے بدلے ناشکری کی اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں لا اتارا ،یعنی جہنم میں جسمیں یہ سب جائیں گے جوبدترین ٹھکانہ ہے ۔
نعمت میں رمضان جیسا مہینہ نصیب ہونے کی بھی نعمت ہے اور صحت وتندرستی اس پہ مستزاد ہے۔ان نعمتوں کا احساس کیوں نہ کریں ، کہ ان نعمتوں کے بدلے ہمیں ہرقسم کی نیکی کی توفیق ملتی ہے ۔ روزہ،نماز،صدقہ،خیرات،دعا،ذکر،انابت الی اللہ ،توبہ،تلاوت، مغفرت،رحمت وغیرہ ان نعمتوں کی دین ہے ۔
(3) انابت الی اللہ
جب ہم نے اپنے دل میں مہمان کی عظمت بحال کرلی، اس عظیم نعمت کی قدرومنزلت کا بھی احساس کرلیا تو اب ہمارا یہ فریضہ بنتا ہے کہ دنیا سے رخ موڑ کے اللہ کی طرف لوٹ جائیں ۔ "انابت الی اللہ" عظمت اور نعمت کے احساس میں مزید قوت پیدا کرے گی۔ اللہ کی طرف لوٹنا صرف رمضان کے لئے نہیں ہے بلکہ مومن کی زندگی ہمیشہ اللہ کے حوالے اور اس کی مرضی کے حساب سے گذرنی چاہئے ۔ یہاں صرف بطور تذکیر ذکر کیا جارہاہے کہ کہیں ایسا نہ ہو بندہ رب سے دور ہوکر روزہ کے نام پہ صرف بھوک اور پیاس برداشت کرے ۔ اگر ایسا ہے تو روزے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ پہلے رب کی طرف لوٹیں ، اس سے تعلق جوڑیں اور اس کو راضی کریں پھر ہماری ساری نیکی قبول ہوں گی ۔
انابت الی اللہ سے میری مراد، ہم رب پر صحیح طور ایمان لائیں، ایمان باللہ کو مضبوط کریں، عبادت کو اللہ کے لئے خالص کریں، رب پہ مکمل اعتماد کریں، اللہ کو سارے جہاں کا حاکم مانیں، خود کو اس کا فقیر اور محتاج جانیں ، کسی غریب ومسکین کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھیں ،ناداروں کی اعانت کریں،بیماری ومصیبت میں اسی کی طرف رجوع کریں۔ یہ ساری باتیں انابت الی اللہ میں داخل ہیں۔ بہت سے لوگ ہیں جو نماز بھی پڑھتے ہیں،روزہ بھی رکھتے ہیں، لمبے لمبے قیام اللیل کرتے ہیں مگر غیراللہ کوپکارتے ہیں، اللہ کو چھوڑ کو اوروں کو مشکل کشا سمجھتے ہیں ۔ بیماری اور مصیبت میں مردوں سے استغاثہ کرتے ہیں۔ ان لوگوں کا روزہ کیسے قبول ہوگا؟ گویا ایسے عقیدے والوں کا مکمل رمضان اور اس کی نیکیاں ضائع ہوگئیں۔ اللہ تعالی کا فرمان لاریب ہے ۔
وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ (الزمر:65)
ترجمہ : یقیناً تیری طرف بھی اور تجھ سے پہلے (کے تمام نبیوں) کی طرف بھی وحی کی گئی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو بلاشبہ تیرا عمل ضائع ہو جائے گا اور بالیقین تو زیاں کاروں میں سے ہو جائے گا۔
اس لئے اس بات کو اچھی طرح ذہن نشیں کرلیں۔
(4) پیش قدمی
اس کے دو پہلو ہیں ۔ (الف)منکر سے اجتناب (ب) معروف کی رغبت
(الف) منکر سے اجتناب: رمضان کے استقبال میں ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ہم پہلے اپنے گذشتہ گناہوں سے سچی توبہ کریں اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزم مصمم کرلیں۔ دیکھا جاتا ہے لوگ ایک طرف نیکی کرتے ہیں تو دوسری طرف بدی کرتے ہیں ۔ اس طرح اعمال کا ذخیرہ نہیں بن پاتا بلکہ بدی کے سمندر میں ہماری نیکیاں ڈوب جاتی ہیں ۔ ویسے بھی ہمارے پاس نیکی کی کمی ہے وہ بھی ضائع ہوجائے تو نیکی کرنے کا فائدہ کیا؟ اس لئے نیکی کو اگر بچانا چاہتے ہیں اور رمضان المبارک کی برکتوں، رحمتوں، نعمتوں، بخششوں اور نیکیوں کو بچانا چاہتے ہیں تو بدی سے مکمل اجتناب کرنا پڑے گا۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے ۔
قُلْ أَنْفِقُوا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا لَنْ يُتَقَبَّلَ مِنْكُمْ إِنَّكُمْ كُنْتُمْ قَوْمًا فَاسِقِينَ (التوبة:53)
ترجمہ: کہہ دیجئے کہ تم خوشی یا ناخوشی کسی بھی طرح خرچ کروقبول تو ہرگز نہ کیا جائے گا، یقینا تم فاسق لوگ ہو۔
اس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالی فسق وفجور اور ناپسندیدگی سے خرچ کرنےکی وجہ سے صدقہ کو قبول نہیں کرتا۔
اورحدیث میں ہے صحابہ بیان کرتے ہیں :
كنا معَ بُرَيدَةَ في يومٍ ذي غَيمٍ، فقال : بَكِّروا بالصلاةِ، فإن النبيَّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم قال : مَن ترَك صلاةَ العصرِ حَبِط عملُه(صحيح البخاري:594)
کہ ہم لوگ بریدہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کسی غزوۂ میں بارش والے دن تھے تو انہوں نے کہا کہ نماز عصر جلدی پڑھو، اس لیے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا ہے : جو شخص عصر کی نماز چھوڑ دے تو اس کا (نیک) عمل ضائع ہو جاتا ہے۔
جو آدمی عبادت بھی کرے اور گناہ کا کام بھی کرے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کا نیک عمل مردود ہے ۔" إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاء وَالْمُنكَرِ "(العنکبوت :45)
اس میں کوئی شک نہیں کہ نماز بےحیائی وبرائی کے کام سے روکتی ہے توجونمازیا روزہ بے حیائی سے نہ روکے وہ اللہ کے یہاں قابل رد ہے ۔
(ب) معروف کی رغبت
رمضان بھلائی کمانے کے واسطے ہے ، اللہ تعالی مومنوں کو متعدد طریقے سے اس مہینے میں بھلائی سے نوازتاہے ، ہمیں ان بھلائیوں کے حصول کی خاطر رمضان سے پہلے ہی کمربستہ ہوجانا چاہئے اور مواقع حسنات سے مستفید ہونے کے لئے برضا ورغبت ایک خاکہ تیار کرنا چاہئے تاکہ ہرقسم کی بھلائیاں سمیٹ سکیں ۔ سمجھ کر قرآن پڑھنے کا اہتمام(کم از کم ایک ختم) ، پنچ وقتہ نمازوں کے علاوہ نفلی عبادات ، صدقہ وخیرات، ذکرواذکار، دعاومناجات، طلب عفوودرگذر، قیام اللیل کا خاص خیال،روزے کے مسائل کی معرفت بشمول رمضان کے مستحب اعمال، دروس وبیانات میں شرکت، اعمال صالحہ پہ محنت ومشقت اور زہدوتقوی سے مسلح ہونے کا مکمل خاکہ ترتیب دیں اور اس خاکے کے مطابق رمضان المبارک کا روحانی ومقدس مہینہ گذاریں ۔
رمضان میں ہرچیز کا ثواب دوچندہوجاتا ہے اور روزے کی حالت میں کارثواب کرنا مزید اضافہ حسنات کا باعث ہے ، اس لئے اس موسم میں معمولی نیکی بھی گرانقدر ہے خواہ مسکواک کی سنت ہی کیوں نہ ہو۔ ہر نماز کے لئے مسکواک کرنا، اذان کا انتظار کرنا بلکہ پہلے سے مسجد میں حاضررہنا،تراویح میں پیش پیش رہنا، نیکی کی طرف دوسروں کو دعوت دینا، دروس ومحاضرات کا اہتمام کرنا،منکر ات کے خلاف مہم جوئی کرنا اور صالح معاشرہ کی تشکیل کے لئے جدوجہد کرنا سبھی ہمارے خاکے کا حصہ ہوں۔
(5) بہتر تبدیلی
استقبال رمضان کے لئے خود کو مکمل تیار کریں، نیکی کا جذبہ وافر مقدار میں ہواور اپنے اندر اچھائی کے تئیں ابھی سے ہی بدلاؤ نظر آئے ۔ پہلے سے زیادہ سچائی اور نیکی کی راہ اختیار کرے ۔ رمضان چونکہ رمضان ہے اس لئے اس سے قبل ہی بہتری کااظہارشروع ہونے لگ جائے ۔ تقوی کے اسباب اپنائے اور خود کو متقی انسان بنانے پہ عبادت کے ذریعہ جہد کرنے کا مخلصانہ جذبہ بیدار کرے ۔ یہاں یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہئے کہ اپنے اندر بہتری پیداکرنے کی خوبی اور خاصہ صرف رمضان کے لئے نہیں بلکہ سال بھر کے لئے پیدا کرے ۔ ایسے بہت سے لوگ ہیں جو رمضان کے نمازی ہواکرتے ہیں اور رمضان رخصت ہوتے ہی نماز سے بلکہ یہ کہیں اللہ سے ہی غافل ہوجاتے ہیں ۔اس لئے ابھی سے ہی یہ راہ مہیارہے کہ اچھائی کے لئے بدلاؤ مہینہ بھر کے لئے نہیں سال بھر بلکہ زندگی بھر کے لئے ہو۔ اسی طرح کا بدلاؤ رمضان کے سارے اعمال کو اللہ کے حضور شرف قبولیت سے نوازے گا اورآپ کی اخروی زندگی کو بہتر سے بہترکرے گا ۔
آخری پیغام
رمضان کے استقبال کے لئے کوئی خاص دعا، خاص عبادت وروزہ یا کوئی مخصوص ومتعین طریقہ شریعت میں وارد نہیں ہواہے ۔ حدیث میں رمضان کے استقبال میں ایک دو دن پہلے کا روزہ رکھنا منع ہے ۔ لہذا دین میں کسی طرح کی بدعت کے ارتکاب سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں ۔
اللہ تعالی ہمیں رمضان کا بہترین استقبال کرنے ، اس مہینے سے ہرطرح کا فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کرے اور رمضان میں بکثرت اعمال صالحہ انجام دینے کی توفیق دے اور ان اعمال کو آخرت میں نجات کا ذریعہ بنائے ۔ آمین
http://maquboolahmad.blogspot.com/2016/05/blog-post_31.html
================
تحریر: مقبول احمد سلفی
داعی /مرکزالدعوۃ والارشاد طائف،سعودی عرب
رمضان المبارک کی آمد آمد ہے ، ہر طرف مومن کے اندر اس کے تئیں اظہار مسرت ہے ۔ یہ وہ مبارک مہینہ ہےجس کا انتظار مومن آدمی سال بھر کرتاہے کیونکہ یہ نیکی،برکت،بخشش،عنایت،توفیق،عبادت،زہد،تقوی،مروت،خاکساری،مساوات، صدقہ وخیرات،رضائے مولی،جنت کی بشارت،جہنم سے گلوخلاصی کا مہینہ ہے ۔ اس ماہ مقدس میں مومن کے اندرفکرآخرت کے ذریعہ رب سے ملاقات کی خواہش بیدار ہوتی ہے ۔سبحان اللہ اس قدر پاکیزہ ومحترم مہینہ ۔یہ رب کی طرف سے اس پر ایمان لانے والوں کے لئے عظیم تحفہ ہے ۔ اب ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ اس ماہ عظیم الشان کا کیسے استقبال کریں اور کس عمدگی سے اس مہینے کے فیوض وبرکات سے اپنے دامن کو نیکیوں کے موتی بھرلیں؟
رمضان کا استقبال کیسے کریں؟
اپنے ذہن میں ذرا تصور پیدا کریں کہ جب آپ کے گھر کسی اعلی مہمان کی آمد ہوتی ہے تو آپ کیا کرتے ہیں؟ آپ کا جواب ہوگا۔ہم بہت ساری تیاریاں کرتے ہیں۔ گھرآنگن کو خوب سجاتے ہیں، خود بھی ان کے لئے زینت اختیار کرتے ہیں، پورے گھر میں خوشی کا ماحول ہوتاہے ، بچوں کے لب پہ نغمے،چہرے پہ خوشی کے آثار ہوتے ہیں۔ مہمان کی خاطرتواضع کےلئے ان گنت پرتکلف سامان تیار کئے جاتے ہیں۔ جب ایک مہمان کے لئے اس قدر تیاری تو مہمانوں میں سب سے اعلی اور رب کی طرف سے بھیجا ہوا مہمان ہو تو اس کی تیاری کس قدر پرزور ہونی چاہئے ؟ آئیے اس تیاری سے متعلق آپ کے لئے ایک مختصر خاکہ پیش کرتا ہوں ۔
(1)عظمت کا احساس
رمضان کا مہینہ بیحد عظیم ہے ، اس کی عظمت کا احساس اور قدرومنزلت کا لحاظ آمد رمضان سے قبل ہی ذہن ودماغ میں پیوست کرلیاجائے تاکہ جب رمضان میں داخل ہوں تو غفلت،سستی،بے اعتنائی،ناقدری،ناشکری، احسان فراموشی اور صیام وقیام سے بے رغبتی کے اوصاف رذیلہ نہ پیدا ہوں۔
یہ اتنی عظمت وقدر والا مہینہ ہے کہ اس کی ایک رات کا نام ہی قدرومنزلت ہے ۔
إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ (1) وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ (2) لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ (3) تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ (4) سَلَامٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ (5) (سورة القدر)
ترجمہ: بیشک ہم نے قرآن کو لیلة القدر یعنی باعزت وخیروبرکت والی رات میں نازل کیا ہے ۔اورآپ کو کیا معلوم کہ لیلةالقدرکیا ہے ۔لیلة القدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔اس رات میں فرشتے اور جبریل روح الامین اپنے رب کے حکم سے ہر حکم لے کر آترتے ہیں۔ وہ رات سلامتی والی ہوتی ہے طلوع فجر تک ۔
آپ یہ نہ سمجھیں کہ رمضان کی ایک رات ہی قدر کی رات ہے بلکہ اس کا ہردن اور ہررات قدرومنزلت کا حامل ہے ۔
(2) نعمت کا احساس
رمضان جہاں رب کا مہمان ہے وہیں اس کی طرف سے ایک عظیم نعمت بھی ہے ۔ عام طور سے انسان کو اس نعمت کا احساس کم ہی ہوتا ہے جو حاصل ہوجاتی ہے لیکن جو نہیں مل پاتی اس کے لئے تڑپتا رہتا ہے ۔ ایک بینا کو آنکھ کی نعمت کا احساس کم ہوتا ہے اس لئے اس کا استعمال فلم بینی اور برائی کے مشاہدے میں کرتاہے ۔ اگر اسے یہ احساس ہو کہ یہ رب کی بہت بڑی نعمت ہے اس کی قدرکرنی چاہئے تو کبھی اپنی آنکھ سے برائی کا ادراک نہ کرے ۔ بینا کی بنسبت اندھے کو آنکھ کی نعمت کا احساس زیادہ ہوتا ہے ۔ یہ فرق ایمان میں کمی کا سبب ہے ۔ جس کا ایمان مضبوط ہوگا وہ ہرنعمت کی قدر کرے گا ۔ایمان کا تقاضہ ہے کہ ہم رمضان جیسے مقدس مہینے کی نعمت کا احساس کریں ۔ اور اس احساس کا تقاضہ ہے کہ اس نعمت پہ رب کی شکرگذاری ہوجیساکہ اللہ کا فرمان ہے ۔
وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ(ابراهيم: 7)
ترجمہ: اور جب تمہارے پروردگار نے تمہیں آگاه کر دیا کہ اگر تم شکر گزاری کرو گے, تو بیشک میں تمہیں زیاده دوں گا اوراگر تم ناشکری کرو گے تو یقیناً میرا عذاب بہت سخت ہے۔
اللہ کا فرمان ہے : أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُواْ نِعْمَةَ اللّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّواْ قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ، جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا وَبِئْسَ الْقَرَارُ{ابراہیم :28-29}
ترجمہ : کیا آپ نے انکی طرف نظر نہیں ڈالی جنھوں نے اللہ تعالی کی نعمت کے بدلے ناشکری کی اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں لا اتارا ،یعنی جہنم میں جسمیں یہ سب جائیں گے جوبدترین ٹھکانہ ہے ۔
نعمت میں رمضان جیسا مہینہ نصیب ہونے کی بھی نعمت ہے اور صحت وتندرستی اس پہ مستزاد ہے۔ان نعمتوں کا احساس کیوں نہ کریں ، کہ ان نعمتوں کے بدلے ہمیں ہرقسم کی نیکی کی توفیق ملتی ہے ۔ روزہ،نماز،صدقہ،خیرات،دعا،ذکر،انابت الی اللہ ،توبہ،تلاوت، مغفرت،رحمت وغیرہ ان نعمتوں کی دین ہے ۔
(3) انابت الی اللہ
جب ہم نے اپنے دل میں مہمان کی عظمت بحال کرلی، اس عظیم نعمت کی قدرومنزلت کا بھی احساس کرلیا تو اب ہمارا یہ فریضہ بنتا ہے کہ دنیا سے رخ موڑ کے اللہ کی طرف لوٹ جائیں ۔ "انابت الی اللہ" عظمت اور نعمت کے احساس میں مزید قوت پیدا کرے گی۔ اللہ کی طرف لوٹنا صرف رمضان کے لئے نہیں ہے بلکہ مومن کی زندگی ہمیشہ اللہ کے حوالے اور اس کی مرضی کے حساب سے گذرنی چاہئے ۔ یہاں صرف بطور تذکیر ذکر کیا جارہاہے کہ کہیں ایسا نہ ہو بندہ رب سے دور ہوکر روزہ کے نام پہ صرف بھوک اور پیاس برداشت کرے ۔ اگر ایسا ہے تو روزے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ پہلے رب کی طرف لوٹیں ، اس سے تعلق جوڑیں اور اس کو راضی کریں پھر ہماری ساری نیکی قبول ہوں گی ۔
انابت الی اللہ سے میری مراد، ہم رب پر صحیح طور ایمان لائیں، ایمان باللہ کو مضبوط کریں، عبادت کو اللہ کے لئے خالص کریں، رب پہ مکمل اعتماد کریں، اللہ کو سارے جہاں کا حاکم مانیں، خود کو اس کا فقیر اور محتاج جانیں ، کسی غریب ومسکین کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھیں ،ناداروں کی اعانت کریں،بیماری ومصیبت میں اسی کی طرف رجوع کریں۔ یہ ساری باتیں انابت الی اللہ میں داخل ہیں۔ بہت سے لوگ ہیں جو نماز بھی پڑھتے ہیں،روزہ بھی رکھتے ہیں، لمبے لمبے قیام اللیل کرتے ہیں مگر غیراللہ کوپکارتے ہیں، اللہ کو چھوڑ کو اوروں کو مشکل کشا سمجھتے ہیں ۔ بیماری اور مصیبت میں مردوں سے استغاثہ کرتے ہیں۔ ان لوگوں کا روزہ کیسے قبول ہوگا؟ گویا ایسے عقیدے والوں کا مکمل رمضان اور اس کی نیکیاں ضائع ہوگئیں۔ اللہ تعالی کا فرمان لاریب ہے ۔
وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ (الزمر:65)
ترجمہ : یقیناً تیری طرف بھی اور تجھ سے پہلے (کے تمام نبیوں) کی طرف بھی وحی کی گئی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو بلاشبہ تیرا عمل ضائع ہو جائے گا اور بالیقین تو زیاں کاروں میں سے ہو جائے گا۔
اس لئے اس بات کو اچھی طرح ذہن نشیں کرلیں۔
(4) پیش قدمی
اس کے دو پہلو ہیں ۔ (الف)منکر سے اجتناب (ب) معروف کی رغبت
(الف) منکر سے اجتناب: رمضان کے استقبال میں ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ہم پہلے اپنے گذشتہ گناہوں سے سچی توبہ کریں اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزم مصمم کرلیں۔ دیکھا جاتا ہے لوگ ایک طرف نیکی کرتے ہیں تو دوسری طرف بدی کرتے ہیں ۔ اس طرح اعمال کا ذخیرہ نہیں بن پاتا بلکہ بدی کے سمندر میں ہماری نیکیاں ڈوب جاتی ہیں ۔ ویسے بھی ہمارے پاس نیکی کی کمی ہے وہ بھی ضائع ہوجائے تو نیکی کرنے کا فائدہ کیا؟ اس لئے نیکی کو اگر بچانا چاہتے ہیں اور رمضان المبارک کی برکتوں، رحمتوں، نعمتوں، بخششوں اور نیکیوں کو بچانا چاہتے ہیں تو بدی سے مکمل اجتناب کرنا پڑے گا۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے ۔
قُلْ أَنْفِقُوا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا لَنْ يُتَقَبَّلَ مِنْكُمْ إِنَّكُمْ كُنْتُمْ قَوْمًا فَاسِقِينَ (التوبة:53)
ترجمہ: کہہ دیجئے کہ تم خوشی یا ناخوشی کسی بھی طرح خرچ کروقبول تو ہرگز نہ کیا جائے گا، یقینا تم فاسق لوگ ہو۔
اس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالی فسق وفجور اور ناپسندیدگی سے خرچ کرنےکی وجہ سے صدقہ کو قبول نہیں کرتا۔
اورحدیث میں ہے صحابہ بیان کرتے ہیں :
كنا معَ بُرَيدَةَ في يومٍ ذي غَيمٍ، فقال : بَكِّروا بالصلاةِ، فإن النبيَّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم قال : مَن ترَك صلاةَ العصرِ حَبِط عملُه(صحيح البخاري:594)
کہ ہم لوگ بریدہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کسی غزوۂ میں بارش والے دن تھے تو انہوں نے کہا کہ نماز عصر جلدی پڑھو، اس لیے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا ہے : جو شخص عصر کی نماز چھوڑ دے تو اس کا (نیک) عمل ضائع ہو جاتا ہے۔
جو آدمی عبادت بھی کرے اور گناہ کا کام بھی کرے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کا نیک عمل مردود ہے ۔" إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاء وَالْمُنكَرِ "(العنکبوت :45)
اس میں کوئی شک نہیں کہ نماز بےحیائی وبرائی کے کام سے روکتی ہے توجونمازیا روزہ بے حیائی سے نہ روکے وہ اللہ کے یہاں قابل رد ہے ۔
(ب) معروف کی رغبت
رمضان بھلائی کمانے کے واسطے ہے ، اللہ تعالی مومنوں کو متعدد طریقے سے اس مہینے میں بھلائی سے نوازتاہے ، ہمیں ان بھلائیوں کے حصول کی خاطر رمضان سے پہلے ہی کمربستہ ہوجانا چاہئے اور مواقع حسنات سے مستفید ہونے کے لئے برضا ورغبت ایک خاکہ تیار کرنا چاہئے تاکہ ہرقسم کی بھلائیاں سمیٹ سکیں ۔ سمجھ کر قرآن پڑھنے کا اہتمام(کم از کم ایک ختم) ، پنچ وقتہ نمازوں کے علاوہ نفلی عبادات ، صدقہ وخیرات، ذکرواذکار، دعاومناجات، طلب عفوودرگذر، قیام اللیل کا خاص خیال،روزے کے مسائل کی معرفت بشمول رمضان کے مستحب اعمال، دروس وبیانات میں شرکت، اعمال صالحہ پہ محنت ومشقت اور زہدوتقوی سے مسلح ہونے کا مکمل خاکہ ترتیب دیں اور اس خاکے کے مطابق رمضان المبارک کا روحانی ومقدس مہینہ گذاریں ۔
رمضان میں ہرچیز کا ثواب دوچندہوجاتا ہے اور روزے کی حالت میں کارثواب کرنا مزید اضافہ حسنات کا باعث ہے ، اس لئے اس موسم میں معمولی نیکی بھی گرانقدر ہے خواہ مسکواک کی سنت ہی کیوں نہ ہو۔ ہر نماز کے لئے مسکواک کرنا، اذان کا انتظار کرنا بلکہ پہلے سے مسجد میں حاضررہنا،تراویح میں پیش پیش رہنا، نیکی کی طرف دوسروں کو دعوت دینا، دروس ومحاضرات کا اہتمام کرنا،منکر ات کے خلاف مہم جوئی کرنا اور صالح معاشرہ کی تشکیل کے لئے جدوجہد کرنا سبھی ہمارے خاکے کا حصہ ہوں۔
(5) بہتر تبدیلی
استقبال رمضان کے لئے خود کو مکمل تیار کریں، نیکی کا جذبہ وافر مقدار میں ہواور اپنے اندر اچھائی کے تئیں ابھی سے ہی بدلاؤ نظر آئے ۔ پہلے سے زیادہ سچائی اور نیکی کی راہ اختیار کرے ۔ رمضان چونکہ رمضان ہے اس لئے اس سے قبل ہی بہتری کااظہارشروع ہونے لگ جائے ۔ تقوی کے اسباب اپنائے اور خود کو متقی انسان بنانے پہ عبادت کے ذریعہ جہد کرنے کا مخلصانہ جذبہ بیدار کرے ۔ یہاں یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہئے کہ اپنے اندر بہتری پیداکرنے کی خوبی اور خاصہ صرف رمضان کے لئے نہیں بلکہ سال بھر کے لئے پیدا کرے ۔ ایسے بہت سے لوگ ہیں جو رمضان کے نمازی ہواکرتے ہیں اور رمضان رخصت ہوتے ہی نماز سے بلکہ یہ کہیں اللہ سے ہی غافل ہوجاتے ہیں ۔اس لئے ابھی سے ہی یہ راہ مہیارہے کہ اچھائی کے لئے بدلاؤ مہینہ بھر کے لئے نہیں سال بھر بلکہ زندگی بھر کے لئے ہو۔ اسی طرح کا بدلاؤ رمضان کے سارے اعمال کو اللہ کے حضور شرف قبولیت سے نوازے گا اورآپ کی اخروی زندگی کو بہتر سے بہترکرے گا ۔
آخری پیغام
رمضان کے استقبال کے لئے کوئی خاص دعا، خاص عبادت وروزہ یا کوئی مخصوص ومتعین طریقہ شریعت میں وارد نہیں ہواہے ۔ حدیث میں رمضان کے استقبال میں ایک دو دن پہلے کا روزہ رکھنا منع ہے ۔ لہذا دین میں کسی طرح کی بدعت کے ارتکاب سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں ۔
اللہ تعالی ہمیں رمضان کا بہترین استقبال کرنے ، اس مہینے سے ہرطرح کا فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کرے اور رمضان میں بکثرت اعمال صالحہ انجام دینے کی توفیق دے اور ان اعمال کو آخرت میں نجات کا ذریعہ بنائے ۔ آمین
http://maquboolahmad.blogspot.com/2016/05/blog-post_31.html
اگر كوئى شخص نماز جمعہ كى تشھد ميں ملے تو كيا كرے
اگر كوئى شخص نماز جمعہ كى تشھد ميں ملے تو كيا كرے ؟
================
اگر كوئى مسلمان شخص نماز جمعہ كى صرف تشھد ہى پائے تو اسے كيا كرنا چاہيے ؟
اور اگر كسى شخص كو نماز جمعہ كى ادائيگى سے روك ديا جائے يا پھر كسى ايسے سبب كى بنا پر وہ نماز جمعہ ادا نہ كر سكے جس كا باعث وہ خود نہيں، مثلا جس بس اور گاڑى پرسوار تھا وہ خراب ہو گئى تو كيا اس پر كوئى گناہ ہو گا ؟
كيا اسے جو اجروثواب اور دعاء كى قبوليت كے جو لحظات حاصل ہونا تھے وہ سب ضائع ہو جائيگا ؟
الحمد للہ :
اگر امام كے ساتھ ايك ركعت ملے تو پھر نماز جمعہ حاصل ہو گى، اور ايك ركعت اس وقت ملے گى جب امام كے ساتھ ركوع سے قبل ملے اور ركوع حاصل كر لے، اور اگر وہ دوسرى ركعت ميں امام كے ساتھ ركوع سے قبل مل جائے تو اس نے نماز جمعہ پالى، تو اس وقت امام كے سلام پھيرنے كے بعد وہ اٹھ كر ايك ركعت ادا كر كے نماز جمعہ مكمل كرے گا.
ليكن اگر وہ امام كے ركوع سے اٹھنے كے بعد امام كے ساتھ ملتا ہے تو اس كى نماز جمعہ رہ جائيگى، اور اس طرح وہ ظہر كى نماز ادا كرے گا، اور امام كے سلام پھيرنے كے بعد اٹھ كر چار ركعت نماز ظہر ادا كرے گا نہ كہ نماز جمعہ، جمہور علماء كرام: امام مالك، امام شافعى، امام احمد رحمہم اللہ كا مسلك يہى ہے.
ديكھيں: المجموع للنووى ( 4 / 558 ).
ان كے دلائل يہ ہيں:
1 - نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" جس نے نماز كى ايك ركعت پالى اس نے نماز پالى "
صحيح بخارى حديث نمبر ( 580 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 607 ).
2 - نسائى رحمہ اللہ نے عبد اللہ بن عمر رضى اللہ تعالى عنہما سے بيان كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" جس نے نماز جمعہ يا دوسرى نماز كى ايك ركعت پالى تو وہ اس كے ساتھ دوسرى ركعات بھى ادا كر تو اس كى نماز مكمل ہو گئى "
علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے الارواء ( 622 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.
اور اگر انسان كسى ايسے عذر كے باعث نماز ميں شامل نہ ہو سكے جس كا باعث وہ خود نہيں بلكہ وہ غير ارادى طور پر ہوا ہو مثلا جيسا سائل نے ذكر كيا كہ گاڑى خراب ہو جائے يا كوئى اور عذر مثلا نيند يا پھر بھول جانا، تو اس ميں كوئى حرج نہيں، اور نہ ہى اس پركوئى گناہ ہے، كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:
﴿تم سے جو بھول چوك ہو جائے اس ميں تم پر كوئى حرج نہيں، ليكن گناہ اس ميں ہے ہے جو تمہارے دل كے ارادے سے ہو ﴾الاحزاب ( 5 ).
اور اس طرح كا شخص جان بوجھ كر عمدا نماز ضائع نہيں كرتا.
اور اس ليے بھى كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" يقينا اللہ تعالى نے ميرى امت سے خطاء، نسيان، اور جس پر انہيں مجبور كر ديا گيا ہو معاف كر ديا ہے "
اسے ابن ماجہ نے روايت كيا ہے، اور علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے ارواء الغليل ( 82 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.
اگر وہ اس حالت ميں نماز كى ادائيگى كا عزم ركھتا كہ اگر عذر نہ ہوتا تو وہ ضرور نماز ادا كرتا، تو اسے مكمل اجروثواب حاصل ہوگا، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" اعمال كا دارومدار نيتوں پر ہے، اور ہر شخص كے ليے وہى ہے جو اس نے نيت كى ہو "
صحيح بخارى حديث نمبر ( 1 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1907 ).
اور اس ليے بھى كہ جب رسول كريم صلى اللہ عليہ غزوہ تبوك سے واپس آرہے تھے تو آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے صحابہ كرام كو فرمايا تھا:
" بلا شبہ مدينہ ميں كچھ لوگ ايسے بھى ہيں جو مدينہ ميں رہنے كے باوجود تمہارے ساتھ ہرگھاٹى اور وادى اور سفر ميں تمہارے ساتھ رہے، اور اجروثواب ميں شريك ہوئے، انہيں بيمارى نے روك ليا تھا "
صحيح مسلح حديث نمبر ( 1911 ).
واللہ اعلم .
الشيخ محمد صالح المنجد
================
اگر كوئى مسلمان شخص نماز جمعہ كى صرف تشھد ہى پائے تو اسے كيا كرنا چاہيے ؟
اور اگر كسى شخص كو نماز جمعہ كى ادائيگى سے روك ديا جائے يا پھر كسى ايسے سبب كى بنا پر وہ نماز جمعہ ادا نہ كر سكے جس كا باعث وہ خود نہيں، مثلا جس بس اور گاڑى پرسوار تھا وہ خراب ہو گئى تو كيا اس پر كوئى گناہ ہو گا ؟
كيا اسے جو اجروثواب اور دعاء كى قبوليت كے جو لحظات حاصل ہونا تھے وہ سب ضائع ہو جائيگا ؟
الحمد للہ :
اگر امام كے ساتھ ايك ركعت ملے تو پھر نماز جمعہ حاصل ہو گى، اور ايك ركعت اس وقت ملے گى جب امام كے ساتھ ركوع سے قبل ملے اور ركوع حاصل كر لے، اور اگر وہ دوسرى ركعت ميں امام كے ساتھ ركوع سے قبل مل جائے تو اس نے نماز جمعہ پالى، تو اس وقت امام كے سلام پھيرنے كے بعد وہ اٹھ كر ايك ركعت ادا كر كے نماز جمعہ مكمل كرے گا.
ليكن اگر وہ امام كے ركوع سے اٹھنے كے بعد امام كے ساتھ ملتا ہے تو اس كى نماز جمعہ رہ جائيگى، اور اس طرح وہ ظہر كى نماز ادا كرے گا، اور امام كے سلام پھيرنے كے بعد اٹھ كر چار ركعت نماز ظہر ادا كرے گا نہ كہ نماز جمعہ، جمہور علماء كرام: امام مالك، امام شافعى، امام احمد رحمہم اللہ كا مسلك يہى ہے.
ديكھيں: المجموع للنووى ( 4 / 558 ).
ان كے دلائل يہ ہيں:
1 - نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" جس نے نماز كى ايك ركعت پالى اس نے نماز پالى "
صحيح بخارى حديث نمبر ( 580 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 607 ).
2 - نسائى رحمہ اللہ نے عبد اللہ بن عمر رضى اللہ تعالى عنہما سے بيان كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" جس نے نماز جمعہ يا دوسرى نماز كى ايك ركعت پالى تو وہ اس كے ساتھ دوسرى ركعات بھى ادا كر تو اس كى نماز مكمل ہو گئى "
علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے الارواء ( 622 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.
اور اگر انسان كسى ايسے عذر كے باعث نماز ميں شامل نہ ہو سكے جس كا باعث وہ خود نہيں بلكہ وہ غير ارادى طور پر ہوا ہو مثلا جيسا سائل نے ذكر كيا كہ گاڑى خراب ہو جائے يا كوئى اور عذر مثلا نيند يا پھر بھول جانا، تو اس ميں كوئى حرج نہيں، اور نہ ہى اس پركوئى گناہ ہے، كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:
﴿تم سے جو بھول چوك ہو جائے اس ميں تم پر كوئى حرج نہيں، ليكن گناہ اس ميں ہے ہے جو تمہارے دل كے ارادے سے ہو ﴾الاحزاب ( 5 ).
اور اس طرح كا شخص جان بوجھ كر عمدا نماز ضائع نہيں كرتا.
اور اس ليے بھى كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" يقينا اللہ تعالى نے ميرى امت سے خطاء، نسيان، اور جس پر انہيں مجبور كر ديا گيا ہو معاف كر ديا ہے "
اسے ابن ماجہ نے روايت كيا ہے، اور علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے ارواء الغليل ( 82 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.
اگر وہ اس حالت ميں نماز كى ادائيگى كا عزم ركھتا كہ اگر عذر نہ ہوتا تو وہ ضرور نماز ادا كرتا، تو اسے مكمل اجروثواب حاصل ہوگا، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" اعمال كا دارومدار نيتوں پر ہے، اور ہر شخص كے ليے وہى ہے جو اس نے نيت كى ہو "
صحيح بخارى حديث نمبر ( 1 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1907 ).
اور اس ليے بھى كہ جب رسول كريم صلى اللہ عليہ غزوہ تبوك سے واپس آرہے تھے تو آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے صحابہ كرام كو فرمايا تھا:
" بلا شبہ مدينہ ميں كچھ لوگ ايسے بھى ہيں جو مدينہ ميں رہنے كے باوجود تمہارے ساتھ ہرگھاٹى اور وادى اور سفر ميں تمہارے ساتھ رہے، اور اجروثواب ميں شريك ہوئے، انہيں بيمارى نے روك ليا تھا "
صحيح مسلح حديث نمبر ( 1911 ).
واللہ اعلم .
الشيخ محمد صالح المنجد
عقیقہ کرنے کا مستحب وقت
عقیقہ کرنے کا مستحب وقت
================
بچہ کی ولادت کے ساتویں دن عقیقہ کرنا افضل اور مسنون ہے۔ جیسا کہ حضرت سمرۃ بن جندبؓ کی حدیث میںمروی اور رسول اللہ ﷺ کے فعل مبارک سے ثابت ہے:
(1) ''کل غلام رھین بعقیقته تذبح عنه یوم سابعه و یحلق و یسقیٰ'' (سنن أبي داود و ترمذي والنسائي و ابن ماجة)
(2) ''عق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عن حسن و حسین یوم السابع و سماھما و أمر أن یماط عن رؤو سھما الأذٰی'' (تربیة الأولاد في الإسلام تالیف أستاد عبداللہ ناصح علوان)
مندرجہ بالا دونوں احادیث پچھلے صفحات میں گزر چکی ہیں، ان احادیث کی روشنی میں عقیقہ کے ذبیحہ کے لیے ولادت کا ساتواں دن بلا شک و شبہ مستحب قرار پاتا ہے۔ لیکن بعض احادیث سے ثابت ہے کہ اگر ولادت کے ساتویں دن عقیقہ نہ کیا جاسکے تو چودہویں دن کیا جائے اور اگر چودہویں دن بھی نہ کیا جاسکے تو اکیسویں دن کیا جائے۔
حضرت بریدہؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے عقیقہ کے بارے میں فرمایا:
''تذبح لسبع ولأ ربع عشرة ولإ حدیٰ و عشرین'' (سنن بیہقی ج9 صفحہ303 و إسنادہ ضعیف)
''ساتویں، چودہویں او راکیسویں دن ذبح کیا جائے گا۔''
حضرت اُم کرز اور ابوکرزؓ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ نے عقیقہ کےمتعلق فرمایا:
''ولکن ذاك یوم السابع فإن لم يکن ففي أربعة عشر فإن لم یکن ففي إحدیٰ عشرین'' (مستدرک حاکم ج4 صفحہ 238۔239)
''یہ (عقیقہ) ساتویں دن ہونا چاہیے اور اگر نہ ہوسکے تو چودہویں دن اور پھربھی نہ ہوسکے تو اکیسویں دن''
میمونی کا قول ہے : ''میں نے عبداللہ سے سوال کیا کہ لڑکے پر عقیقہ کب کیا جاتا ہے ؟'' انہوں نے جواب دیا: ''حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:
''(في) سبعة أیام و أربعة عشر ولأ حدو عشرین''
یعنی ''ساتویں دن، چودہویں دن اور اکیسویں دن۔''
صالح بن احمد فرماتے ہیں : ''میں نے اپنے والد سے عقیقہ کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا:
''تذبح یوم السابع وإن لم یفعل ففي أربعة عشر فإن لم یفعل ففي إحدیٰ و عشرین''
یعنی ''ساتویں دن ذبح کیا جائےگا پس اگر ایسا نہ کرسکے تو چودہویں دن اور اگر چودہویں دن بھی نہ کرسکے توپھر اکیسویں دن''
دن کی اس تعیین کے سلسلہ میں محققین کی رائے ہے کہ ''عقیقہ ساتویں دن کئے جانے کی قید لزوم کے باب سے نہیں بلکہ استحباب کی وجہ سے ہے۔ پس اگر ساتویں دن کے بجائے چودہویں او راکیسویں دن اور بعض کے نزدیک چوتھے، آٹھویں ، دسویں یا اس کے بعد کبھی بھی کرلے تو عقیقہ ہوجاتا ہے۔ چنانچہ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
''والظاھر أن التقید بالیوم السابع إنما ھو علیٰ وجه الاستحباب وإلا فلو ذبح عنه الیوم الرابع أو الثامن أو العاشر أو مابعدہ أجزأت العقیقة''(تربیة الأولاد في الإسلام تألیف استاذ شیخ عبداللہ ناصح علوان)
''او ریہ ظاہر ہے کہ ساتویں دن کی قید محض استحباب کی وجہ سے ہے، اگر بچہ کی طرف سے چوتھے یا آٹھویں یا دسویں یا اس کے بعد کسی اور دن ذبیحہ کیا جائے تو بھی عقیقہ ہوجاتا ہے۔''
خلاصہ کلام یہ ہےکہ اگرباب اپنی اولاد کے ساتویں دن قدرت و استطاعت رکھتا ہو تو مستحب طریقہ پر ا س کا عقیقہ کرکے رسول اللہ ﷺ کی اس سنت کو زندہ رکھے اور اس کی فضیلت و برکات نیز اللہ تعالیٰ کے اجر وثواب سے بہرہ مند ہو۔ اگر کسی مجبوی کی وجہ سے ساتویں دن نہ کرسکتا ہو تو چودہویں دن کرلے، اگر ایسا بھی کرنا ممکن نہ ہو تو اکیسویں دن کرلے۔ اگر اکیسویں دن کی استطاعت بھی نہ ہو تو جب بھی اللہ تعالیٰ استطاعت بخشے، بلاتاخیر عقیقہ کر ڈالے۔
''يُرِيدُ ٱللَّهُ بِكُمُ ٱلْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ ٱلْعُسْرَ...﴿١٨٥﴾...سورۃ البقرۃ''
اور ''وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِى ٱلدِّينِ مِنْ حَرَجٍ...﴿٧٨﴾...سورۃ الحج''
کا یہی تقاضا ہے۔
ایسی صورت میں نفس عقیقہ تو ہوجائے گا، لیکن ساتویں یا چودہویں او راکیسویں دن، عقیقہ کرنے میں جو اجر و ثواب ہے ، وہ حاصل نہ ہوگا بلکہ سید قاسم محمود صاحب تو یہاں تک لکھتے ہیں کہ ''اگر والدین (عقیقہ) نہ دے سکیں تو بچہ جوان ہوکر خود کرے۔ ''(شاہکار اسلامی انسائیکلو پیڈیا مرتبہ سید قاسم محمود صفحہ 1082 )
واللہ اعلم
محدث میگزین
================
بچہ کی ولادت کے ساتویں دن عقیقہ کرنا افضل اور مسنون ہے۔ جیسا کہ حضرت سمرۃ بن جندبؓ کی حدیث میںمروی اور رسول اللہ ﷺ کے فعل مبارک سے ثابت ہے:
(1) ''کل غلام رھین بعقیقته تذبح عنه یوم سابعه و یحلق و یسقیٰ'' (سنن أبي داود و ترمذي والنسائي و ابن ماجة)
(2) ''عق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عن حسن و حسین یوم السابع و سماھما و أمر أن یماط عن رؤو سھما الأذٰی'' (تربیة الأولاد في الإسلام تالیف أستاد عبداللہ ناصح علوان)
مندرجہ بالا دونوں احادیث پچھلے صفحات میں گزر چکی ہیں، ان احادیث کی روشنی میں عقیقہ کے ذبیحہ کے لیے ولادت کا ساتواں دن بلا شک و شبہ مستحب قرار پاتا ہے۔ لیکن بعض احادیث سے ثابت ہے کہ اگر ولادت کے ساتویں دن عقیقہ نہ کیا جاسکے تو چودہویں دن کیا جائے اور اگر چودہویں دن بھی نہ کیا جاسکے تو اکیسویں دن کیا جائے۔
حضرت بریدہؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے عقیقہ کے بارے میں فرمایا:
''تذبح لسبع ولأ ربع عشرة ولإ حدیٰ و عشرین'' (سنن بیہقی ج9 صفحہ303 و إسنادہ ضعیف)
''ساتویں، چودہویں او راکیسویں دن ذبح کیا جائے گا۔''
حضرت اُم کرز اور ابوکرزؓ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ نے عقیقہ کےمتعلق فرمایا:
''ولکن ذاك یوم السابع فإن لم يکن ففي أربعة عشر فإن لم یکن ففي إحدیٰ عشرین'' (مستدرک حاکم ج4 صفحہ 238۔239)
''یہ (عقیقہ) ساتویں دن ہونا چاہیے اور اگر نہ ہوسکے تو چودہویں دن اور پھربھی نہ ہوسکے تو اکیسویں دن''
میمونی کا قول ہے : ''میں نے عبداللہ سے سوال کیا کہ لڑکے پر عقیقہ کب کیا جاتا ہے ؟'' انہوں نے جواب دیا: ''حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:
''(في) سبعة أیام و أربعة عشر ولأ حدو عشرین''
یعنی ''ساتویں دن، چودہویں دن اور اکیسویں دن۔''
صالح بن احمد فرماتے ہیں : ''میں نے اپنے والد سے عقیقہ کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا:
''تذبح یوم السابع وإن لم یفعل ففي أربعة عشر فإن لم یفعل ففي إحدیٰ و عشرین''
یعنی ''ساتویں دن ذبح کیا جائےگا پس اگر ایسا نہ کرسکے تو چودہویں دن اور اگر چودہویں دن بھی نہ کرسکے توپھر اکیسویں دن''
دن کی اس تعیین کے سلسلہ میں محققین کی رائے ہے کہ ''عقیقہ ساتویں دن کئے جانے کی قید لزوم کے باب سے نہیں بلکہ استحباب کی وجہ سے ہے۔ پس اگر ساتویں دن کے بجائے چودہویں او راکیسویں دن اور بعض کے نزدیک چوتھے، آٹھویں ، دسویں یا اس کے بعد کبھی بھی کرلے تو عقیقہ ہوجاتا ہے۔ چنانچہ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
''والظاھر أن التقید بالیوم السابع إنما ھو علیٰ وجه الاستحباب وإلا فلو ذبح عنه الیوم الرابع أو الثامن أو العاشر أو مابعدہ أجزأت العقیقة''(تربیة الأولاد في الإسلام تألیف استاذ شیخ عبداللہ ناصح علوان)
''او ریہ ظاہر ہے کہ ساتویں دن کی قید محض استحباب کی وجہ سے ہے، اگر بچہ کی طرف سے چوتھے یا آٹھویں یا دسویں یا اس کے بعد کسی اور دن ذبیحہ کیا جائے تو بھی عقیقہ ہوجاتا ہے۔''
خلاصہ کلام یہ ہےکہ اگرباب اپنی اولاد کے ساتویں دن قدرت و استطاعت رکھتا ہو تو مستحب طریقہ پر ا س کا عقیقہ کرکے رسول اللہ ﷺ کی اس سنت کو زندہ رکھے اور اس کی فضیلت و برکات نیز اللہ تعالیٰ کے اجر وثواب سے بہرہ مند ہو۔ اگر کسی مجبوی کی وجہ سے ساتویں دن نہ کرسکتا ہو تو چودہویں دن کرلے، اگر ایسا بھی کرنا ممکن نہ ہو تو اکیسویں دن کرلے۔ اگر اکیسویں دن کی استطاعت بھی نہ ہو تو جب بھی اللہ تعالیٰ استطاعت بخشے، بلاتاخیر عقیقہ کر ڈالے۔
''يُرِيدُ ٱللَّهُ بِكُمُ ٱلْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ ٱلْعُسْرَ...﴿١٨٥﴾...سورۃ البقرۃ''
اور ''وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِى ٱلدِّينِ مِنْ حَرَجٍ...﴿٧٨﴾...سورۃ الحج''
کا یہی تقاضا ہے۔
ایسی صورت میں نفس عقیقہ تو ہوجائے گا، لیکن ساتویں یا چودہویں او راکیسویں دن، عقیقہ کرنے میں جو اجر و ثواب ہے ، وہ حاصل نہ ہوگا بلکہ سید قاسم محمود صاحب تو یہاں تک لکھتے ہیں کہ ''اگر والدین (عقیقہ) نہ دے سکیں تو بچہ جوان ہوکر خود کرے۔ ''(شاہکار اسلامی انسائیکلو پیڈیا مرتبہ سید قاسم محمود صفحہ 1082 )
واللہ اعلم
محدث میگزین
Thursday, June 2, 2016
زنا کے نتیجہ میں ہونے والے حمل کا اسقاط
13331: زنا کے نتیجہ میں ہونے والے حمل کا اسقاط
اگرعورت زنا کرلے توکیا اس کے لیے حمل ساقط کروانا جائز ہے ؟
Published Date: 2004-01-12
الحمد للہ
فقھاء کرام کی عمومی طور پر اسقاط حمل اوراس کے حکم اوراس سے پیدا ہونے والے مسائل میں بہت ساری جھود و اجتھادات پاۓ جاتےہیں ، لیکن انہوں نےغیرشرعی حمل میں تفاصیل کا اہتمام نہیں کیا ۔
اورہوسکتا ہے انہوں نے اسے نکاح صحیح سے ہونے والے حمل کے اسقاط کے تابع اوراس میں شریک ہی سمجھا ہو ، تواگر نکاح صحیح سے ہونے والے حمل کا اسقاط عمومی حالت میں حرام ہے توغیرشرعی طریقے سے ہونے والےحمل کی حرمت توبالاولی زیادہ اورشدید ہوگی ۔
اس لیے کہ غیرشرعی طریقے سے ہونے والے حمل کے اسقاط کومباح کرنے سے فحاشی اوررذیل کام کرنے کی تشجیع ہوگی اوراس کا راستہ کھلے گا ، اورشریعت اسلامیہ کے قواعد میں یہ شامل ہے کہ اسلام ہراس وسیلہ اورسبب کوبھی حرام کرتا ہے جوفحاشی اورگناہ کا باعث ہو مثلا بے پردگی اور مرد وعورت کا آپس میں اختلاط و میل جول وغیرہ ۔
اوراس پر مستزاد یہ کہ ایک ایسے پیدا ہونے والے بے گناہ بچے کوکسی دوسرے کے گناہ پر ذبح نہیں کیا جاۓ گا ۔
اورپھر اللہ سبحانہ وتعالی کا بھی فرمان ہے :
{ کوئی بھی کسی دوسرے کا بوجھـ نہیں اٹھاۓ گا } الاسراء ( 15 ) ۔
اوریہ بھی معلوم ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےغامدی قبیلہ کی زنا سے حاملہ عورت کوواپس کردیا تھا کہ وہ ولادت کے بعد آۓ اورجب وہ ولادت کے بعد آئي تونبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے پھر دوبارہ واپس کردیا کہ اس بچے کودودھ پلاؤ حتی کہ یہ کھانے پینے کے قابل ہوجاۓ اوردودھ چھوڑ دے ۔
جب وہ تیسری مرتبہ آئي توبچے کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا لھذا اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کوایک صحابی کے سپرد کردیا اورپھر اسے رجم کا حکم دیا گیا تواس کے سینہ تک ایک گڑھا کھود کر لوگوں اسے سنگسار کرنے کا حکم دیا ۔
امام نووی رحمہ اللہ تعالی اس حدیث کے بارہ میں کہتے ہیں :
حاملہ عورت کووضع حمل سے قبل سنگسار نہیں کیا جاۓ گا چاہے وہ حمل زنا کا ہو یا زنا کے بغیر ۔ اسی پر علماء کا اتفاق ہے تا کہ اس کا بچہ قتل نہ ہو ، اوراسی طرح اگر اس کی حد کوڑے ہيں توحمل کی حالت میں بھی اسےبالاجماع وضع حمل سے قبل کوڑے نہیں لگاۓ جائيں گے ۔
دیکھیں صحیح مسلم شرح نووی ( 11 / 202 ) ۔
اس واقعہ سے ہمیں شریعت اسلامیہ کا بچے کے بارہ میں اہتمام ظاہر ہوتا ہے اگرچہ وہ بچہ زنا سے ہی کیوں نہ ہو ، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کی حفاظت کے لیے اس کی ماں سے حد کو مؤخر کردیا تا کہ بچے کی زندگی کو خطرہ نہ پیدا ہو ۔
توکیا اس کے بعد بھی یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ شارع لوگوں کی خواہشات و شھوات اورغلط رغبات کوپورا کرنے کے لیے اسقاط حمل کے ساتھ بچوں کے قتل کوجائز قرار دے سکتا ہے ؟
اس پر ہم یہ اضافہ کرتے جائيں کہ جن لوگوں نے صحیح نکاح کی حالت میں ہونے والے حمل کے پہلے چالیس روز کے اندر اندر حمل کے اسقاط کی اجازت دی ہے انہوں نے مشروع رخصت کولیتے ہوۓ اس پر اجتھاد کیا ہے مثلا رمضان المبارک میں شرعی عذر والے کورخصت ہے کہ وہ روزہ نہ رکھے ، اوراسی طرح مسافر کے لیے رخصت ہے کہ وہ چار رکعتی نماز کوقصر کرے ۔
لیکن یہ بات توشریعت میں مقرر شدہ ہے کہ معاصی اورگناہ کے لیے رخصتوں کا سہارا نہیں لیا جاسکتا ۔
امام قرافی رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے :
معاصی اورگناہ رخصتوں کے لیے سبب نہيں بن سکتیں ، اسی لیے گناہ کرنے کے لیے جانے والا مسافر نماز قصر نہيں کرے گا اورنہ ہی وہ روزہ افطار کرے گا اس لیے کہ اس صورت میں سبب معصیت ہے لھذا رخصت پر عمل کرنا مناسب نہيں ۔
کیونکہ مکلف کواس کی رخصت دینا اس معصیت کی زیادتی اورتکثیر کا باعث بنے گی اوراس میں وسعت کی کوشش ہے ۔ الفروق ( 2 / 33 ) ۔
تواس طرح شریعت اسلامیہ کے قواعد زنا سے حاملہ عورت کو وہی رخصت نہيں دیتے جوکہ نکاح صحیح سے حاملہ عورت کوملتی ہیں تا کہ وہ اس معصیت اورگناہ پر معاون و ممد ثابت نہ ہو ، اورنہ ہی اس شنیع اور قبیح کام سےخلاصی حاصل کرنے کے راستے ہی آسان کرتی ہے ۔
اس حالت میں بچہ والدین کی ولایت بھی کھو بیٹھے گا اوراس کا کوئی ولی نہيں اس لیے کہ شریعت میں والد کا اطلاق اس پر ہوتا ہے جس کا عورت کے ساتھ صحیح اورشرعی نکاح ہونےکی بنا پر بچہ پیدا ہو اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا بھی یہی معنی ہے :
فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :
( بچہ بستر والے کے لیے ہے اورزانی کے لیے پتھر ہیں ) صحیح بخاری و صحیح مسلم ۔
تواس حالت میں اس بچے کا ولی حکمران ہوگا کیونکہ جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کا ولی حکمران ہوتا ہے ، اورحکمران کا تصرف مصلحت کے ساتھ منسلق ہے ، والدہ کی مصلحت کی حفاظت کی بنا پر بچے کی روح کوختم کرنے میں کوئی بھی مصلحت نہیں پائي جاتی ، اس لیے کہ اس میں اس قبیح اورشنیع فعل کرنے والی عورت کواس فعل کے کرنے پر ابھارنا ہے جوکہ صحیح نہیں ۔
اورزانی عورت جوکہ اس قبیح اورشنیع فعل کی مرتکب ہوئي ہے اس کا اسقاط حمل اس وقت کروانا ممکن ہے جب وہ صحیح اورسچی توبہ کرنے کا ارادہ کرے اوراسے بہت ہی شدید قسم کا خوف ہو جوکہ شریعیت اسلامیہ کا ایک بہت ہی سنہرا اصول اورقاعدہ ہے ۔
دیکھیں کتاب : احکام الجنین فی الفقہ الاسلامی تالیف عمربن محمد بن ابراھیم غانم ۔
اگرعورت زنا کرلے توکیا اس کے لیے حمل ساقط کروانا جائز ہے ؟
Published Date: 2004-01-12
الحمد للہ
فقھاء کرام کی عمومی طور پر اسقاط حمل اوراس کے حکم اوراس سے پیدا ہونے والے مسائل میں بہت ساری جھود و اجتھادات پاۓ جاتےہیں ، لیکن انہوں نےغیرشرعی حمل میں تفاصیل کا اہتمام نہیں کیا ۔
اورہوسکتا ہے انہوں نے اسے نکاح صحیح سے ہونے والے حمل کے اسقاط کے تابع اوراس میں شریک ہی سمجھا ہو ، تواگر نکاح صحیح سے ہونے والے حمل کا اسقاط عمومی حالت میں حرام ہے توغیرشرعی طریقے سے ہونے والےحمل کی حرمت توبالاولی زیادہ اورشدید ہوگی ۔
اس لیے کہ غیرشرعی طریقے سے ہونے والے حمل کے اسقاط کومباح کرنے سے فحاشی اوررذیل کام کرنے کی تشجیع ہوگی اوراس کا راستہ کھلے گا ، اورشریعت اسلامیہ کے قواعد میں یہ شامل ہے کہ اسلام ہراس وسیلہ اورسبب کوبھی حرام کرتا ہے جوفحاشی اورگناہ کا باعث ہو مثلا بے پردگی اور مرد وعورت کا آپس میں اختلاط و میل جول وغیرہ ۔
اوراس پر مستزاد یہ کہ ایک ایسے پیدا ہونے والے بے گناہ بچے کوکسی دوسرے کے گناہ پر ذبح نہیں کیا جاۓ گا ۔
اورپھر اللہ سبحانہ وتعالی کا بھی فرمان ہے :
{ کوئی بھی کسی دوسرے کا بوجھـ نہیں اٹھاۓ گا } الاسراء ( 15 ) ۔
اوریہ بھی معلوم ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےغامدی قبیلہ کی زنا سے حاملہ عورت کوواپس کردیا تھا کہ وہ ولادت کے بعد آۓ اورجب وہ ولادت کے بعد آئي تونبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے پھر دوبارہ واپس کردیا کہ اس بچے کودودھ پلاؤ حتی کہ یہ کھانے پینے کے قابل ہوجاۓ اوردودھ چھوڑ دے ۔
جب وہ تیسری مرتبہ آئي توبچے کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا لھذا اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کوایک صحابی کے سپرد کردیا اورپھر اسے رجم کا حکم دیا گیا تواس کے سینہ تک ایک گڑھا کھود کر لوگوں اسے سنگسار کرنے کا حکم دیا ۔
امام نووی رحمہ اللہ تعالی اس حدیث کے بارہ میں کہتے ہیں :
حاملہ عورت کووضع حمل سے قبل سنگسار نہیں کیا جاۓ گا چاہے وہ حمل زنا کا ہو یا زنا کے بغیر ۔ اسی پر علماء کا اتفاق ہے تا کہ اس کا بچہ قتل نہ ہو ، اوراسی طرح اگر اس کی حد کوڑے ہيں توحمل کی حالت میں بھی اسےبالاجماع وضع حمل سے قبل کوڑے نہیں لگاۓ جائيں گے ۔
دیکھیں صحیح مسلم شرح نووی ( 11 / 202 ) ۔
اس واقعہ سے ہمیں شریعت اسلامیہ کا بچے کے بارہ میں اہتمام ظاہر ہوتا ہے اگرچہ وہ بچہ زنا سے ہی کیوں نہ ہو ، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کی حفاظت کے لیے اس کی ماں سے حد کو مؤخر کردیا تا کہ بچے کی زندگی کو خطرہ نہ پیدا ہو ۔
توکیا اس کے بعد بھی یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ شارع لوگوں کی خواہشات و شھوات اورغلط رغبات کوپورا کرنے کے لیے اسقاط حمل کے ساتھ بچوں کے قتل کوجائز قرار دے سکتا ہے ؟
اس پر ہم یہ اضافہ کرتے جائيں کہ جن لوگوں نے صحیح نکاح کی حالت میں ہونے والے حمل کے پہلے چالیس روز کے اندر اندر حمل کے اسقاط کی اجازت دی ہے انہوں نے مشروع رخصت کولیتے ہوۓ اس پر اجتھاد کیا ہے مثلا رمضان المبارک میں شرعی عذر والے کورخصت ہے کہ وہ روزہ نہ رکھے ، اوراسی طرح مسافر کے لیے رخصت ہے کہ وہ چار رکعتی نماز کوقصر کرے ۔
لیکن یہ بات توشریعت میں مقرر شدہ ہے کہ معاصی اورگناہ کے لیے رخصتوں کا سہارا نہیں لیا جاسکتا ۔
امام قرافی رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے :
معاصی اورگناہ رخصتوں کے لیے سبب نہيں بن سکتیں ، اسی لیے گناہ کرنے کے لیے جانے والا مسافر نماز قصر نہيں کرے گا اورنہ ہی وہ روزہ افطار کرے گا اس لیے کہ اس صورت میں سبب معصیت ہے لھذا رخصت پر عمل کرنا مناسب نہيں ۔
کیونکہ مکلف کواس کی رخصت دینا اس معصیت کی زیادتی اورتکثیر کا باعث بنے گی اوراس میں وسعت کی کوشش ہے ۔ الفروق ( 2 / 33 ) ۔
تواس طرح شریعت اسلامیہ کے قواعد زنا سے حاملہ عورت کو وہی رخصت نہيں دیتے جوکہ نکاح صحیح سے حاملہ عورت کوملتی ہیں تا کہ وہ اس معصیت اورگناہ پر معاون و ممد ثابت نہ ہو ، اورنہ ہی اس شنیع اور قبیح کام سےخلاصی حاصل کرنے کے راستے ہی آسان کرتی ہے ۔
اس حالت میں بچہ والدین کی ولایت بھی کھو بیٹھے گا اوراس کا کوئی ولی نہيں اس لیے کہ شریعت میں والد کا اطلاق اس پر ہوتا ہے جس کا عورت کے ساتھ صحیح اورشرعی نکاح ہونےکی بنا پر بچہ پیدا ہو اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا بھی یہی معنی ہے :
فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :
( بچہ بستر والے کے لیے ہے اورزانی کے لیے پتھر ہیں ) صحیح بخاری و صحیح مسلم ۔
تواس حالت میں اس بچے کا ولی حکمران ہوگا کیونکہ جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کا ولی حکمران ہوتا ہے ، اورحکمران کا تصرف مصلحت کے ساتھ منسلق ہے ، والدہ کی مصلحت کی حفاظت کی بنا پر بچے کی روح کوختم کرنے میں کوئی بھی مصلحت نہیں پائي جاتی ، اس لیے کہ اس میں اس قبیح اورشنیع فعل کرنے والی عورت کواس فعل کے کرنے پر ابھارنا ہے جوکہ صحیح نہیں ۔
اورزانی عورت جوکہ اس قبیح اورشنیع فعل کی مرتکب ہوئي ہے اس کا اسقاط حمل اس وقت کروانا ممکن ہے جب وہ صحیح اورسچی توبہ کرنے کا ارادہ کرے اوراسے بہت ہی شدید قسم کا خوف ہو جوکہ شریعیت اسلامیہ کا ایک بہت ہی سنہرا اصول اورقاعدہ ہے ۔
دیکھیں کتاب : احکام الجنین فی الفقہ الاسلامی تالیف عمربن محمد بن ابراھیم غانم ۔
Wednesday, June 1, 2016
آیتوں پر غور و فکر کریں
38 : سورة ص (29)
آیتوں پر غور و فکر کریں
$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$
کِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰہُ اِلَیۡکَ مُبٰرَکٌ لِّیَدَّبَّرُوۡۤا اٰیٰتِہٖ وَ لِیَتَذَکَّرَ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴿۲۹﴾
یہ بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف اس لئے نازل فرمایا ہے کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور و فکر کریں اور عقلمند اس سے نصیحت حاصل کریں۔
آیتوں پر غور و فکر کریں
$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$$
کِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰہُ اِلَیۡکَ مُبٰرَکٌ لِّیَدَّبَّرُوۡۤا اٰیٰتِہٖ وَ لِیَتَذَکَّرَ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴿۲۹﴾
یہ بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف اس لئے نازل فرمایا ہے کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور و فکر کریں اور عقلمند اس سے نصیحت حاصل کریں۔
تراویح سے متعلق چند سوالات کے جواب
تراویح سے متعلق چند سوالات کے جواب
ترتیب : مقبول احمد سلفی
رمضان کا مہینہ آتے ہی لوگوں میں قسم قسم کے سوالات اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور تنازع کا سبب بن جاتے ہیں۔ تراویح سے متعلق چند سوالات واٹس اپ کچھ دنوں سے گردش میں ہیں، مجھ سے بھی ان سوالات کے جواب طلب کئے گئے ۔ میں مختصرا جواب تیار کیا ہے تاکہ لوگوں کے لئے آسانی ہو۔
سوال نمبر 1: آٹھ رکعت تراویح کیوں پڑھتے ہیں ؟
جواب : آٹھ رکعت تراویح نبی ﷺ کی سنت ہے اور یہ صحیح حدیث سے ثابت ہے ۔
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا کَيْفَ کَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ فَقَالَتْ مَا کَانَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلَا فِي غَيْرِهِ عَلَی إِحْدَی عَشْرَةَ رَکْعَةً يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّي ثَلَاثًا(متفق علیہ صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1887)
ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے (ابوسلمہ) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز رمضان میں کیسی تھی۔ انہوں نے جواب دیا کہ رمضان میں اور اس کے علاوہ دونوں میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہ بڑھتے تھے۔ چار رکعتیں پڑھتے تھے۔ ان کے طول و حسن کو نہ پوچھو۔ پھر چار رکعتیں پڑھتے جن کے طول و حسن کا کیا کہنا۔ پھر تین رکعتیں پڑھتے تھے۔
سوال نمبر2: تراویح باجماعت کیوں پڑھی جاتی ہے ؟
جواب :نبی ﷺ سے تراویح کی نماز باجماعت پڑھنا متعدد صحیح احادیث سے ثابت ہے ، بطورنمونہ ایک حدیث:
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم لوگوں کو رمضان کے مہینے میں (تراویح ) آٹھ رکعت نماز پڑھائی اِس کے بعد وتر پڑھا دوسرے روز جب رات ہوئی تو ہم لوگ پھر مسجد میں جمع ہوگئے امید کہ آپ نکلیں گے اور نماز پڑھائیں گے مگر آپ نہ نکلے ہم صبح تک مسجد میں رہ گئے پھر ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ بات بیان کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے خطرہ ہو ا کہ کہیں یہ نماز تم لوگوں پر فرض نہ ہوجائے (اس لئے میں گھر سے نہیں نکلا) (ابنِ حبان ،ابنِ خزیمہ،طبرانی فی الصغیر،محمد بن نصر مروزی فی قیام اللیل ص ۹۰)
سوال نمبر 3: پورا مہینہ تراویح پڑھنے کا ثبوت ؟
جواب : نبی ﷺنے خود تو یہ نماز ہمیشہ پڑھی جیساکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے واضح ہے، البتہ رمضان میں تین دن ، صحابہؓ کو بھی باجماعت پڑھائی۔
اس پر یہ سوال کہ''پھر ہم مہینہ بھر کیوں پڑھتے ہیں؟'' تو اس کا جواب یہ ہے کہ آپؐ کی تمنا بہرحال مہینہ بھر یہ نماز پڑھانے کی تھی۔ اس کے باوجود اگر آپؐ نے تین دن سے زائد نہیں پڑھائی ، تو اس کی وجہ بھی آپؐ نے خود ہی بیان فرما دی:
''إني خشیت أن تفترض علیکم فتعجزواعنھا'' (صحیح بخاری، کتاب الصوم، باب فضل من قام رمضان)
کہ ''(اللہ رب العزت کے ہاں یہ عمل انتہائی پسندیدہ ہونےکی بناء پر) میں ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ تم پرفرض نہ ہوجائے او رتم (اس کی ادائیگی سے )عاجز رہ جاؤ۔''
اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اگر اس کے فرض ہوجانے کاڈر آپؐ کو نہ ہوتا تو آپ ؐ مہینہ بھر یہ نماز پڑھاتے۔لہٰذا جب یہ وجہ زائل ہوگئی، تو اس کے بعد آپؐ کی تمنا کے پیش نظر ، مہینہ بھر اس نماز کاادا کرناسنت ہے۔
سوال نمبر4: ہر مسجد میں تراویح کیوں پڑھی جاتی ہے؟
جواب : جب تراویح پڑھنے کا ثبوت ملتاہے اور پورے مہینہ پڑھنے کی مشروعیت ثابت ہے اور تراویح کی اہمیت و فضلیت بھی اپنی جگہ مسلم ہے تو ہرجگہ یہ نماز پڑھی جائے گی ۔ جہاں جہاں لوگ نماز قائم کرتے ہیں وہاں وہاں تراویح کی نماز جماعت سے پورے رمضان پڑھ سکتے ہیں۔
سوال نمبر5: تراویح میں ختم قرآن کرنا کیوں ضروری ہے ؟
جواب : تراویح میں پورا قرآن کریم ختم کرنا ضروری نہیں ہے، اور نہ ہی ہمارے کسی عالم دین نے قرآن ختم کرنا لازم قرار دیا ہے البتہ حافظ قرآن ہو تو پورا قرآن ختم کرنا بہتر ہے ۔
سوال نمبر6: تراویح دو دو رکعت کرکے پڑھنے کا ثبوت ؟
جواب : ابن عمر رضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارہ میں سوال کیا تورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :"رات کی نماز دو دو رکعت ہے اورجب تم میں سےکوئي صبح ہونے کا خدشہ محسوس کرے تو اپنی نماز کے لیے ایک رکعت وتر ادا کرلے "۔(صحیح بخاری ح:946 صحیح مسلم ح:749 ) ۔
سوال نمبر 7: عشاء کی نماز کے بعد تراویح پڑھنے کا ثبوت ؟
جواب :اس میں کس کا اختلاف نہیں کہ تہجد کا وقت عشاء کے بعد سے لے کر فجر تک ہے اور ہم لوگ اسی وقت کے اندر تراویح کی نماز پڑھتے ہیں۔
دلیل بھی ملاحظہ فرمائیں ۔
صحیح مسلم میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاروایت کرتی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے رات کے ہر حصہ میں تہجد کی نماز پڑھی ہے ۔ کبھی شروع رات میں ، کبھی درمیان رات میں اور کبھی اخیر رات میں ۔
سوال نمبر8: رمضان کا چاند دیکھ کر تراویح کیوں شروع کی جاتی ہے ؟
جواب : قیام اللیل صرف رمضان کے چاند کے ساتھ ہی خاص نہیں پورے سال کو شامل ہے مگر چونکہ رمضان میں قیام کا ثواب دیگر تمام مہینوں سے زیادہ ہے ۔ قیام سابقہ تمام گناہوں کو مٹادیتا ہے جبکہ یہ ثواب دیگر مہینوں میں نہیں ہے۔ اس لئے لوگ رمضان شروع ہوتے ہی جیسے دیگر عبادات میں مشغول ہوجاتے ہیں ویسے ہی قیام اللیل (تراویح ) میں بھی مشغول ہوجاتے ہیں ۔
سوال نمبر9: عید کے چاند پر کیوں تراویح ختم کردی جاتی ہے؟
جواب : یہ تیسرے نمبر کے سوال کی دوسری شکل ہے ، مگر اتنا جان لیں کہ عید کے چاند سے قیام کا وہ ثواب نہیں باقی رہ جاتا جو رمضان میں تھا، پھر بھی ہم سب کو رمضان یا غیر رمضان دونوں میں قیام کا اہتمام کرنا چاہئے ۔ اور الحمد امت میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو رسول اللہ ﷺ کی اس سنت کا پورے سال خیال رکھتے ہیں۔
http://maquboolahmad.blogspot.com/2015/06/blog-post_9.html
ترتیب : مقبول احمد سلفی
رمضان کا مہینہ آتے ہی لوگوں میں قسم قسم کے سوالات اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور تنازع کا سبب بن جاتے ہیں۔ تراویح سے متعلق چند سوالات واٹس اپ کچھ دنوں سے گردش میں ہیں، مجھ سے بھی ان سوالات کے جواب طلب کئے گئے ۔ میں مختصرا جواب تیار کیا ہے تاکہ لوگوں کے لئے آسانی ہو۔
سوال نمبر 1: آٹھ رکعت تراویح کیوں پڑھتے ہیں ؟
جواب : آٹھ رکعت تراویح نبی ﷺ کی سنت ہے اور یہ صحیح حدیث سے ثابت ہے ۔
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا کَيْفَ کَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ فَقَالَتْ مَا کَانَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلَا فِي غَيْرِهِ عَلَی إِحْدَی عَشْرَةَ رَکْعَةً يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّي ثَلَاثًا(متفق علیہ صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1887)
ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے (ابوسلمہ) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز رمضان میں کیسی تھی۔ انہوں نے جواب دیا کہ رمضان میں اور اس کے علاوہ دونوں میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہ بڑھتے تھے۔ چار رکعتیں پڑھتے تھے۔ ان کے طول و حسن کو نہ پوچھو۔ پھر چار رکعتیں پڑھتے جن کے طول و حسن کا کیا کہنا۔ پھر تین رکعتیں پڑھتے تھے۔
سوال نمبر2: تراویح باجماعت کیوں پڑھی جاتی ہے ؟
جواب :نبی ﷺ سے تراویح کی نماز باجماعت پڑھنا متعدد صحیح احادیث سے ثابت ہے ، بطورنمونہ ایک حدیث:
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم لوگوں کو رمضان کے مہینے میں (تراویح ) آٹھ رکعت نماز پڑھائی اِس کے بعد وتر پڑھا دوسرے روز جب رات ہوئی تو ہم لوگ پھر مسجد میں جمع ہوگئے امید کہ آپ نکلیں گے اور نماز پڑھائیں گے مگر آپ نہ نکلے ہم صبح تک مسجد میں رہ گئے پھر ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ بات بیان کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے خطرہ ہو ا کہ کہیں یہ نماز تم لوگوں پر فرض نہ ہوجائے (اس لئے میں گھر سے نہیں نکلا) (ابنِ حبان ،ابنِ خزیمہ،طبرانی فی الصغیر،محمد بن نصر مروزی فی قیام اللیل ص ۹۰)
سوال نمبر 3: پورا مہینہ تراویح پڑھنے کا ثبوت ؟
جواب : نبی ﷺنے خود تو یہ نماز ہمیشہ پڑھی جیساکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے واضح ہے، البتہ رمضان میں تین دن ، صحابہؓ کو بھی باجماعت پڑھائی۔
اس پر یہ سوال کہ''پھر ہم مہینہ بھر کیوں پڑھتے ہیں؟'' تو اس کا جواب یہ ہے کہ آپؐ کی تمنا بہرحال مہینہ بھر یہ نماز پڑھانے کی تھی۔ اس کے باوجود اگر آپؐ نے تین دن سے زائد نہیں پڑھائی ، تو اس کی وجہ بھی آپؐ نے خود ہی بیان فرما دی:
''إني خشیت أن تفترض علیکم فتعجزواعنھا'' (صحیح بخاری، کتاب الصوم، باب فضل من قام رمضان)
کہ ''(اللہ رب العزت کے ہاں یہ عمل انتہائی پسندیدہ ہونےکی بناء پر) میں ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ تم پرفرض نہ ہوجائے او رتم (اس کی ادائیگی سے )عاجز رہ جاؤ۔''
اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اگر اس کے فرض ہوجانے کاڈر آپؐ کو نہ ہوتا تو آپ ؐ مہینہ بھر یہ نماز پڑھاتے۔لہٰذا جب یہ وجہ زائل ہوگئی، تو اس کے بعد آپؐ کی تمنا کے پیش نظر ، مہینہ بھر اس نماز کاادا کرناسنت ہے۔
سوال نمبر4: ہر مسجد میں تراویح کیوں پڑھی جاتی ہے؟
جواب : جب تراویح پڑھنے کا ثبوت ملتاہے اور پورے مہینہ پڑھنے کی مشروعیت ثابت ہے اور تراویح کی اہمیت و فضلیت بھی اپنی جگہ مسلم ہے تو ہرجگہ یہ نماز پڑھی جائے گی ۔ جہاں جہاں لوگ نماز قائم کرتے ہیں وہاں وہاں تراویح کی نماز جماعت سے پورے رمضان پڑھ سکتے ہیں۔
سوال نمبر5: تراویح میں ختم قرآن کرنا کیوں ضروری ہے ؟
جواب : تراویح میں پورا قرآن کریم ختم کرنا ضروری نہیں ہے، اور نہ ہی ہمارے کسی عالم دین نے قرآن ختم کرنا لازم قرار دیا ہے البتہ حافظ قرآن ہو تو پورا قرآن ختم کرنا بہتر ہے ۔
سوال نمبر6: تراویح دو دو رکعت کرکے پڑھنے کا ثبوت ؟
جواب : ابن عمر رضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارہ میں سوال کیا تورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :"رات کی نماز دو دو رکعت ہے اورجب تم میں سےکوئي صبح ہونے کا خدشہ محسوس کرے تو اپنی نماز کے لیے ایک رکعت وتر ادا کرلے "۔(صحیح بخاری ح:946 صحیح مسلم ح:749 ) ۔
سوال نمبر 7: عشاء کی نماز کے بعد تراویح پڑھنے کا ثبوت ؟
جواب :اس میں کس کا اختلاف نہیں کہ تہجد کا وقت عشاء کے بعد سے لے کر فجر تک ہے اور ہم لوگ اسی وقت کے اندر تراویح کی نماز پڑھتے ہیں۔
دلیل بھی ملاحظہ فرمائیں ۔
صحیح مسلم میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاروایت کرتی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے رات کے ہر حصہ میں تہجد کی نماز پڑھی ہے ۔ کبھی شروع رات میں ، کبھی درمیان رات میں اور کبھی اخیر رات میں ۔
سوال نمبر8: رمضان کا چاند دیکھ کر تراویح کیوں شروع کی جاتی ہے ؟
جواب : قیام اللیل صرف رمضان کے چاند کے ساتھ ہی خاص نہیں پورے سال کو شامل ہے مگر چونکہ رمضان میں قیام کا ثواب دیگر تمام مہینوں سے زیادہ ہے ۔ قیام سابقہ تمام گناہوں کو مٹادیتا ہے جبکہ یہ ثواب دیگر مہینوں میں نہیں ہے۔ اس لئے لوگ رمضان شروع ہوتے ہی جیسے دیگر عبادات میں مشغول ہوجاتے ہیں ویسے ہی قیام اللیل (تراویح ) میں بھی مشغول ہوجاتے ہیں ۔
سوال نمبر9: عید کے چاند پر کیوں تراویح ختم کردی جاتی ہے؟
جواب : یہ تیسرے نمبر کے سوال کی دوسری شکل ہے ، مگر اتنا جان لیں کہ عید کے چاند سے قیام کا وہ ثواب نہیں باقی رہ جاتا جو رمضان میں تھا، پھر بھی ہم سب کو رمضان یا غیر رمضان دونوں میں قیام کا اہتمام کرنا چاہئے ۔ اور الحمد امت میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو رسول اللہ ﷺ کی اس سنت کا پورے سال خیال رکھتے ہیں۔
http://maquboolahmad.blogspot.com/2015/06/blog-post_9.html
Subscribe to:
Posts (Atom)