- پیشاب کے چھینٹوں سے غسل اور عذاب قبر
=====================
پیشاب کے چھینٹے اگر سستی اور غفلت کی وجہ سے جسم یا کپڑوں پر پڑیں تو اس کے لیے عذاب قبر کی وعید ہے۔ شیخ صالح المنجد اس بارے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
صحيح بخارى اور صحيح مسلم ميں ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما سے مروى ہے وہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم مدينہ يا مكہ كے باغوں ميں سے ايك باغ كے پاس سے گزرے تو دو انسانوں كو ان كى قبر ميں عذاب ديے جانے كى آواز سنى تو نبى صلى اللہ عليہ وسلم فرمانے لگے:
" ان دونوں كو عذاب ہو رہا ہے، اور انہيں عذاب كسى بڑى چيز كى بنا پر نہيں ہو رہا، پھر فرمايا: كيوں نہيں، ان ميں سے ايك شخص تو اپنے پيشاب سے بچتا نہيں تھا، اور دوسرا چغلى اور غيب كرتا تھا، پھر رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے كھجور كى ايك سبز ٹہنى منگوائى اور اسے دو ٹكڑے كر كے ہر قبر پر ايك ٹكڑا ركھ ديا.
كسى نے عرض كيا اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم آپ نے ايسا كيوں كيا ؟
تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: اميد ہے كہ جب تك يہ خشك نہ ہو گى يا ان كے خشك ہونے تك ان پر تخفيف كى جائيگى "
صحيح بخارى حديث نمبر ( 216 ) صحيح مسلم حديث نمبر( 292 )
اور مسلم كى ايك روايت ميں يہ الفاظ ہيں:
" لا يستنزہ عن البول او من البول "
اور نسائى كى روايت ميں ہے:
" لا يستبرء من بوله "
علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح نسائى ميں اسے صحيح كہا ہے.
امام نووى رحمہ اللہ كہتے ہيں:
نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان: " لا يستتر من بوله " اس ميں تين روايات ہيں: " يستتر " دو تاء كے ساتھ اور " يستنزہ " زاء اور ہاء كے ساتھ اور " يستبرء " باء اور ہمزہ كے ساتھ، يہ سب روايات صحيح ہيں اور ان كا معنى يہ ہے كہ وہ پيشاب كے چھينٹوں سے اجتناب اور احتراز نہيں كرتا تھا.
ديكھيں: شرح مسلم للنووى ( 3 / 201 ) اختصار كے ساتھ.
اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كہتے ہيں:
قولہ: " لا يستتر " اكثر روايات ميں ايسا ہى ہے، اور ابن عساكر كى روايت ميں " يستبرء " كے لفظ ہيں، اور مسلم اور ابو داود كى اعمش سے مروى روايت ميں " يستنزہ "كے لفظ ہيں.
اكثر روايات كى بنا پر " يستتر " كا معنى يہ ہو گا كہ: وہ اپنے اور پيشاب كے درميان آڑ نہيں كرتا تھا يعنى وہ اس كے چھينٹوں حفاظت نہيں كرتا تھا، تو لا يستنزہ والى روايت كے موافق ہو جائيگا كيونكہ تنزہ ابعاد كو كہا جاتا ہے.
اور ابو نعيم كى المستخرج ميں وكيع عن الاعمش كے طريق سے روايت ميں ہے كہ: " لا يتوقع " اور يہ تفسير ہے كہ اس سے كيا مراد ہے، اور بعض علماء نے اسے اپنے ظاہر پر ہى ركھتے ہوئے كہا ہے كہ اس كا معنى ہے كہ: وہ اپنى شرمگاہ نہيں چھپاتا تھا ....
اور " الاستبراء " والى روايت تو بچاؤ كے اعتبار سے زيادہ بليغ ہے.
ابن دقيق العيد ك
Thursday, May 26, 2016
قبور میں داخل ہوتے وقت اہل قبور کے لئے کیا دعا پڑھی جائے
قبور میں داخل ہوتے وقت اہل قبور کے لئے کیا دعا پڑھی جائے
???????????????????
Book Name
صحیح مسلم
Kitab Name
جنازوں کا بیان
Baab
قبور میں داخل ہوتے وقت اہل قبور کے لئے کیا دعا پڑھی جائے ۔
Hadees Number
2155
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُمْ إِذَا خَرَجُوا إِلَی الْمَقَابِرِ فَکَانَ قَائِلُهُمْ يَقُولُ فِي رِوَايَةِ أَبِي بَکْرٍ السَّلَامُ عَلَی أَهْلِ الدِّيَارِ وَفِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ السَّلَامُ عَلَيْکُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَإِنَّا إِنْ شَائَ اللَّهُ لَلَاحِقُونَ أَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَکُمْ الْعَافِيَة
ترجمہ
َ
ابوبکر بن ابوشیبہ، زہیر بن حرب، محمد بن عبداللہ اسدی، سفیان، علقمہ بن مرثد، سلیمان بن بریدہ، حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا سکھاتے تھے جب صحابہ قبر ستان کی طرف جاتے تھے پس ان میں سے کہنے والے کہتے ابوبکر کی روایت میں ( السَّلَامُ عَلَی أَهْلِ الدِّيَارِ) اور زہیر کی روایت میں (أَهْلَ الدِّيَارِ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَلَاحِقُونَ أَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَکُمْ الْعَافِيَةَ) تم پر سلامتی ہو اے مومنوں اور مسلمانوں کے گھروں والے اور ہم تم سے إِنْ شَاءَ اللَّهُ ملنے والے ہیں ہم اپنے اور تمہارے لئے عافیت مانگتے ہیں۔
Ajmat ali
???????????????????
Book Name
صحیح مسلم
Kitab Name
جنازوں کا بیان
Baab
قبور میں داخل ہوتے وقت اہل قبور کے لئے کیا دعا پڑھی جائے ۔
Hadees Number
2155
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُمْ إِذَا خَرَجُوا إِلَی الْمَقَابِرِ فَکَانَ قَائِلُهُمْ يَقُولُ فِي رِوَايَةِ أَبِي بَکْرٍ السَّلَامُ عَلَی أَهْلِ الدِّيَارِ وَفِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ السَّلَامُ عَلَيْکُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَإِنَّا إِنْ شَائَ اللَّهُ لَلَاحِقُونَ أَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَکُمْ الْعَافِيَة
ترجمہ
َ
ابوبکر بن ابوشیبہ، زہیر بن حرب، محمد بن عبداللہ اسدی، سفیان، علقمہ بن مرثد، سلیمان بن بریدہ، حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا سکھاتے تھے جب صحابہ قبر ستان کی طرف جاتے تھے پس ان میں سے کہنے والے کہتے ابوبکر کی روایت میں ( السَّلَامُ عَلَی أَهْلِ الدِّيَارِ) اور زہیر کی روایت میں (أَهْلَ الدِّيَارِ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَلَاحِقُونَ أَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَکُمْ الْعَافِيَةَ) تم پر سلامتی ہو اے مومنوں اور مسلمانوں کے گھروں والے اور ہم تم سے إِنْ شَاءَ اللَّهُ ملنے والے ہیں ہم اپنے اور تمہارے لئے عافیت مانگتے ہیں۔
Ajmat ali
آگ کی لگام
آگ کی لگام
-----------------------
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَکَمِ عَنْ عَطَائٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَکَتَمَهُ أَلْجَمَهُ اللَّهُ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ يَوْمَ الْقِيَامَة
ترجمہ
ِ
موسی بن اسماعیل، حماد علی بن حکم، عطاء، ابوہریرہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایات کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ جس شخص سے کسی علم کے بارے میں سوال کیا گیا اور اس نے باوجود علم کے اسے چھپایا اللہ تعالیٰ قیامت میں آگ کی لگام ڈالیں گے۔
ِ
Book Name
سنن ابوداؤد
Kitab Name
علم کا بیان
Baab
علم سے روکنے کی کراہت کا بیان
Hadees Number
3642
-----------------------
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَکَمِ عَنْ عَطَائٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَکَتَمَهُ أَلْجَمَهُ اللَّهُ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ يَوْمَ الْقِيَامَة
ترجمہ
ِ
موسی بن اسماعیل، حماد علی بن حکم، عطاء، ابوہریرہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایات کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ جس شخص سے کسی علم کے بارے میں سوال کیا گیا اور اس نے باوجود علم کے اسے چھپایا اللہ تعالیٰ قیامت میں آگ کی لگام ڈالیں گے۔
ِ
Book Name
سنن ابوداؤد
Kitab Name
علم کا بیان
Baab
علم سے روکنے کی کراہت کا بیان
Hadees Number
3642
شادی کے بعد شوہر کا نام اپنے نام کیساتھ لگانا کیسا ہے؟
شادی کے بعد شوہر کا نام اپنے نام کیساتھ لگانا کیسا ہے؟
=======================
حدیث میں جس کام سے منع کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے اصل والد کی جگہ کسی دوسرے کو اپنا باپ ظاہر کرے۔ سیدنا واثلہ بن الاَسْقَع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : إِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الفِرَى أَنْ يَدَّعِيَ الرَّجُلُ إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ بڑے بڑے جھوٹوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کوئی بھی شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی اور (کا بیٹا ہونے) کا دعوى کرے۔ صحیح بخاری:3509 اسی طرح سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: «مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ، فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ» جس نے اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنے نسب کا دعوى کیا‘ حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ اسکا باپ نہیں ہے‘ تو اس پر جنت حرام ہے۔ صحیح البخاری:6766 اسی بات سے قرآن مجید میں اللہ تعالى نے بھی بایں طور منع فرمایا ہے: ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ اللَّهِ فَإِن لَّمْ تَعْلَمُوا آبَاءهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ ان (منہ بولے بیٹوں ) کو انکے (اصل) باپوں کے نام سے پکارو ‘ یہی اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف والی بات ہے۔ اگر تمہیں انکے آباء کا علم نہیں ہے تو وہ تمہارے دینی بھائی اور دوست(یا غلام) ہیں۔ [الأحزاب : 5] البتہ اپنے نام کے ساتھ والد کے سوا کسی کا نام لگانا یا اسکی طرف نسبت کرنا اس انداز سے ہو جس سے ولدیت تبدیل نہ ہو ‘ تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ خود رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے اپنی نسبت اپنے داد کی طرف کرتے ہوئے فرمایا: «أَنَا النَّبِيُّ لاَ كَذِبْ، أَنَا ابْنُ عَبْدِ المُطَّلِبْ» میں نبی ہوں‘ اس میں کوئی جھوٹ نہیں.. . میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں صحیح البخاری: 2864 اسی طرح سیدنا مقداد بن الاسود رضی اللہ عنہ الاسود بن عبد یغوث الزہری کے زیر پرورش تھے‘ جس بناء پر وہ مقداد بن الاسود مشہور ہوگئے حالانکہ انکے والد کا نام عمرو بن ثعلبہ بن مالک البہرانی الکندی تھا۔ چونکہ انکی ولدیت معروف تھی کہ یہ کس کے بیٹے ہیں ‘ سو اسلام نے مقداد بن الاسود کہنے یا کہلانے پر کوئی نکیر نہیں کی۔ یاد رہے کہ یہ بدری صحابی ہیں‘ اور چھٹے مسلمان ہیں۔ انکی وفات مدینہ سے قریب جرف نامی جگہ پر 33 ہجری کو ہوئی۔ اسی طرح اسلام میں خواتین کی نسبت خاوند کی طرف کرنا بھی ممنوع نہیں ہے جیسا کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا جب زکاۃ کے بارہ میں مسئلہ پوچھنے کے لیے آئیں تو رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ زینب مسئلہ پوچھنے کے لیے آئی ہے اور وہ اندر آنے کی اجازت چاہتی ہے۔ آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے استفسار فرمایا کہ کونسی زینب ہے؟ تو جواب دیا گیا « امْرَأَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ » ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں۔ صحیح البخاری: 1462 یہاں بھی زینب رضی اللہ عنہا کی نسبت انکے خاوند عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف کی گئی۔اس طرح اور بھی بہت سی مثالیں ملتی ہیں کہ عورت کی نسبت اسکے خاوند کی طرف دور نبوی میں بھی کی جاتی تھی ۔ بالخصوص رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کا تذکرہ ہوتا تو انکے نام کے ساتھ والد کا نام ذکر کرنے کی بجائے زوجہ رسول کہہ کر تذکرہ کیا جاتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خاوند کانام اپنے نام کے ساتھ لگانا کوئی عیب نہیں‘ اصل عیب اور ممنوع اور حرام کام اپنے والد کے سوا کسی اور کو اپنا باپ قرار دے لینا ہے۔ اور پھر ہمارے معاشرہ میں عورتوں کے نام عموما باپ کے نام سے خالی ہوتے ہیں مثلا " مریم بی بی‘ ثمینہ کوثر‘ زبیدہ خاتون" وغیرہ اور شادی کے بعد اپنے نام کا دوسرا حصہ ختم کرکے وہ اسکی جگہ خاوند کانام لگا لیتی ہیں جیسے " مریم رشید‘ ثمینہ طالب‘ زبیدہ ارشد" وغیرہ۔ تو اس سے کسی قسم کا اشتباہ پیدا ہی نہیں ہوتا۔ بلکہ عورت کو جاننے والے سبھی جانتے ہیں کہ اسکے نام کا دوسرا حصہ اسکے خاوند کانام ہے جو کہ اس نے خاوند کی محبت میں اپنے نام کے ساتھ ملا لیا ہے۔ بعض لڑکیوں کے نام ابتداء میں والد کے نام کے لاحقہ پر مشتمل ہوتے ہیں جیسے " حمنہ اسلم‘ عائشہ اختر‘ آمنہ آصف" ان ناموں میں اسلم ‘ اختر‘ آصف انکے والد کانام ہوتا ہے اور شادی کے بعد وہ اس کی جگہ اپنے خاوند کا نام لگا لیتی ہیں جیسے "حمنہ اشرف‘ عائشہ افضل‘ آمنہ اکرم" وغیرہ۔ تو یہ بھی انکے جاننے والوں سبھی کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ انکے خاوندوں کے نام ہیں۔ اور اس طرح کرنا ولدیت تبدیل کرنا نہیں بلکہ نام تبدیل کرنا کہلاتا ہے۔ اور نام عمر کے کسی بھی حصہ میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ شریعت میں اس بارہ کوئی ممانعت نہیں ہے۔ بلکہ خود رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے مناسب موقعوں پر مختلف لوگوں کے نام تبدیل فرمائے ہیں۔ اور اپنے نام کے ساتھ خاوند کا نام لگانے کو مغربی معاشرہ کی روایت قرار دینا سراسر نا انصافی ہے۔ کیونکہ اہل مغرب کی روایت میاں بیوی والی نہیں بلکہ انکی روایت تو بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ والی ہے۔ جنکی دوستیاں صرف شہوت رانی کے لیے ہوتی ہیں یا کسی اور مطلب کی حدتک۔ فتدبر!
مصدر: http://www.rafeeqtahir.com/ur/play-ahkam-o-msael-665.html
=======================
حدیث میں جس کام سے منع کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے اصل والد کی جگہ کسی دوسرے کو اپنا باپ ظاہر کرے۔ سیدنا واثلہ بن الاَسْقَع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : إِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الفِرَى أَنْ يَدَّعِيَ الرَّجُلُ إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ بڑے بڑے جھوٹوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کوئی بھی شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی اور (کا بیٹا ہونے) کا دعوى کرے۔ صحیح بخاری:3509 اسی طرح سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: «مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ، فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ» جس نے اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنے نسب کا دعوى کیا‘ حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ اسکا باپ نہیں ہے‘ تو اس پر جنت حرام ہے۔ صحیح البخاری:6766 اسی بات سے قرآن مجید میں اللہ تعالى نے بھی بایں طور منع فرمایا ہے: ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ اللَّهِ فَإِن لَّمْ تَعْلَمُوا آبَاءهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ ان (منہ بولے بیٹوں ) کو انکے (اصل) باپوں کے نام سے پکارو ‘ یہی اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف والی بات ہے۔ اگر تمہیں انکے آباء کا علم نہیں ہے تو وہ تمہارے دینی بھائی اور دوست(یا غلام) ہیں۔ [الأحزاب : 5] البتہ اپنے نام کے ساتھ والد کے سوا کسی کا نام لگانا یا اسکی طرف نسبت کرنا اس انداز سے ہو جس سے ولدیت تبدیل نہ ہو ‘ تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ خود رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے اپنی نسبت اپنے داد کی طرف کرتے ہوئے فرمایا: «أَنَا النَّبِيُّ لاَ كَذِبْ، أَنَا ابْنُ عَبْدِ المُطَّلِبْ» میں نبی ہوں‘ اس میں کوئی جھوٹ نہیں.. . میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں صحیح البخاری: 2864 اسی طرح سیدنا مقداد بن الاسود رضی اللہ عنہ الاسود بن عبد یغوث الزہری کے زیر پرورش تھے‘ جس بناء پر وہ مقداد بن الاسود مشہور ہوگئے حالانکہ انکے والد کا نام عمرو بن ثعلبہ بن مالک البہرانی الکندی تھا۔ چونکہ انکی ولدیت معروف تھی کہ یہ کس کے بیٹے ہیں ‘ سو اسلام نے مقداد بن الاسود کہنے یا کہلانے پر کوئی نکیر نہیں کی۔ یاد رہے کہ یہ بدری صحابی ہیں‘ اور چھٹے مسلمان ہیں۔ انکی وفات مدینہ سے قریب جرف نامی جگہ پر 33 ہجری کو ہوئی۔ اسی طرح اسلام میں خواتین کی نسبت خاوند کی طرف کرنا بھی ممنوع نہیں ہے جیسا کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا جب زکاۃ کے بارہ میں مسئلہ پوچھنے کے لیے آئیں تو رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ زینب مسئلہ پوچھنے کے لیے آئی ہے اور وہ اندر آنے کی اجازت چاہتی ہے۔ آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے استفسار فرمایا کہ کونسی زینب ہے؟ تو جواب دیا گیا « امْرَأَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ » ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں۔ صحیح البخاری: 1462 یہاں بھی زینب رضی اللہ عنہا کی نسبت انکے خاوند عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف کی گئی۔اس طرح اور بھی بہت سی مثالیں ملتی ہیں کہ عورت کی نسبت اسکے خاوند کی طرف دور نبوی میں بھی کی جاتی تھی ۔ بالخصوص رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کا تذکرہ ہوتا تو انکے نام کے ساتھ والد کا نام ذکر کرنے کی بجائے زوجہ رسول کہہ کر تذکرہ کیا جاتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خاوند کانام اپنے نام کے ساتھ لگانا کوئی عیب نہیں‘ اصل عیب اور ممنوع اور حرام کام اپنے والد کے سوا کسی اور کو اپنا باپ قرار دے لینا ہے۔ اور پھر ہمارے معاشرہ میں عورتوں کے نام عموما باپ کے نام سے خالی ہوتے ہیں مثلا " مریم بی بی‘ ثمینہ کوثر‘ زبیدہ خاتون" وغیرہ اور شادی کے بعد اپنے نام کا دوسرا حصہ ختم کرکے وہ اسکی جگہ خاوند کانام لگا لیتی ہیں جیسے " مریم رشید‘ ثمینہ طالب‘ زبیدہ ارشد" وغیرہ۔ تو اس سے کسی قسم کا اشتباہ پیدا ہی نہیں ہوتا۔ بلکہ عورت کو جاننے والے سبھی جانتے ہیں کہ اسکے نام کا دوسرا حصہ اسکے خاوند کانام ہے جو کہ اس نے خاوند کی محبت میں اپنے نام کے ساتھ ملا لیا ہے۔ بعض لڑکیوں کے نام ابتداء میں والد کے نام کے لاحقہ پر مشتمل ہوتے ہیں جیسے " حمنہ اسلم‘ عائشہ اختر‘ آمنہ آصف" ان ناموں میں اسلم ‘ اختر‘ آصف انکے والد کانام ہوتا ہے اور شادی کے بعد وہ اس کی جگہ اپنے خاوند کا نام لگا لیتی ہیں جیسے "حمنہ اشرف‘ عائشہ افضل‘ آمنہ اکرم" وغیرہ۔ تو یہ بھی انکے جاننے والوں سبھی کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ انکے خاوندوں کے نام ہیں۔ اور اس طرح کرنا ولدیت تبدیل کرنا نہیں بلکہ نام تبدیل کرنا کہلاتا ہے۔ اور نام عمر کے کسی بھی حصہ میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ شریعت میں اس بارہ کوئی ممانعت نہیں ہے۔ بلکہ خود رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے مناسب موقعوں پر مختلف لوگوں کے نام تبدیل فرمائے ہیں۔ اور اپنے نام کے ساتھ خاوند کا نام لگانے کو مغربی معاشرہ کی روایت قرار دینا سراسر نا انصافی ہے۔ کیونکہ اہل مغرب کی روایت میاں بیوی والی نہیں بلکہ انکی روایت تو بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ والی ہے۔ جنکی دوستیاں صرف شہوت رانی کے لیے ہوتی ہیں یا کسی اور مطلب کی حدتک۔ فتدبر!
مصدر: http://www.rafeeqtahir.com/ur/play-ahkam-o-msael-665.html
حسان رضی اللہ عنہ کی بصارت آخر عمر میں چلی گئی
( حسان رضی اللہ عنہ کی بصارت آخر عمر میں چلی گئی)
*************************
Book Name
صحیح بخاری شریف
Kitab Name
کتاب غزوات کے بیان میں
Baab
واقعہ افک کا بیان
Hadees Number
4146
حدثني بشر بن خالد ، أخبرنا محمد بن جعفر ، عن شعبة ، عن سليمان ، عن أبي الضحى ، عن مسروق ، قال دخلنا على عائشة ـ رضى الله عنها ـ وعندها حسان بن ثابت ينشدها شعرا ، يشبب بأبيات له وقال حصان رزان ما تزن بريبة وتصبح غرثى من لحوم الغوافل فقالت له عائشة لكنك لست كذلك. قال مسروق فقلت لها لم تأذنين له أن يدخل عليك. وقد قال الله تعالى { والذي تولى كبره منهم له عذاب عظيم}. فقالت وأى عذاب أشد من العمى. قالت له إنه كان ينافح ـ أو يهاجي ـ عن رسول الله صلى الله عليه وسلم.
ترجمہ
مجھ سے بشر بنخالد نے بیان کیا ‘ ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی ‘ انہیں شعبہ نے ‘ انہیں سلیمان نے ‘ انہیں ابوالضحیٰ نے اور ان سے مسروق نے بیان کیا کہ ہم عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کے یہاں حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ موجود تھے اور امالمؤمنین رضی اللہ عنہا کو اپنے اشعار سنا رہے تھے ۔ ایک شعر تھا جس کا ترجمہ یہ ہے ۔ وہ سنجیدہ اور پاک دامن ہیں جس پر کبھی تہمت نہیں لگائی گئی ‘ وہ ہر صبح بھوکی ہو کر نادان بہنوں کا گوشت نہیں کھاتی ۔ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا لیکن تم تو ایسے نہیں ثابت ہوئے ۔ مسروق نے بیان کیا کہ پھر میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا ‘ آپ انہیں اپنے یہاں آنے کی اجازت کیوں دیتی ہیں ۔ جبکہ اللہ تعالیٰ ان کے متعلق فرما چکا ہے ” اور ان میں وہ شخص جو تہمت لگانے میں سب سے زیادہ ذمہدار ہے اس کے لیے بڑا عذاب ہو گا “ اس پر امالمؤمنین نے فرمایا کہ نابینا ہو جانے سے سخت عذاب اور کیا ہو گا ( حسان رضی اللہ عنہ کی بصارت آخر عمر میں چلی گئی تھی ) عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا کہ حسان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت کیا کرتے تھے ۔
*************************
Book Name
صحیح بخاری شریف
Kitab Name
کتاب غزوات کے بیان میں
Baab
واقعہ افک کا بیان
Hadees Number
4146
حدثني بشر بن خالد ، أخبرنا محمد بن جعفر ، عن شعبة ، عن سليمان ، عن أبي الضحى ، عن مسروق ، قال دخلنا على عائشة ـ رضى الله عنها ـ وعندها حسان بن ثابت ينشدها شعرا ، يشبب بأبيات له وقال حصان رزان ما تزن بريبة وتصبح غرثى من لحوم الغوافل فقالت له عائشة لكنك لست كذلك. قال مسروق فقلت لها لم تأذنين له أن يدخل عليك. وقد قال الله تعالى { والذي تولى كبره منهم له عذاب عظيم}. فقالت وأى عذاب أشد من العمى. قالت له إنه كان ينافح ـ أو يهاجي ـ عن رسول الله صلى الله عليه وسلم.
ترجمہ
مجھ سے بشر بنخالد نے بیان کیا ‘ ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی ‘ انہیں شعبہ نے ‘ انہیں سلیمان نے ‘ انہیں ابوالضحیٰ نے اور ان سے مسروق نے بیان کیا کہ ہم عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کے یہاں حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ موجود تھے اور امالمؤمنین رضی اللہ عنہا کو اپنے اشعار سنا رہے تھے ۔ ایک شعر تھا جس کا ترجمہ یہ ہے ۔ وہ سنجیدہ اور پاک دامن ہیں جس پر کبھی تہمت نہیں لگائی گئی ‘ وہ ہر صبح بھوکی ہو کر نادان بہنوں کا گوشت نہیں کھاتی ۔ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا لیکن تم تو ایسے نہیں ثابت ہوئے ۔ مسروق نے بیان کیا کہ پھر میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا ‘ آپ انہیں اپنے یہاں آنے کی اجازت کیوں دیتی ہیں ۔ جبکہ اللہ تعالیٰ ان کے متعلق فرما چکا ہے ” اور ان میں وہ شخص جو تہمت لگانے میں سب سے زیادہ ذمہدار ہے اس کے لیے بڑا عذاب ہو گا “ اس پر امالمؤمنین نے فرمایا کہ نابینا ہو جانے سے سخت عذاب اور کیا ہو گا ( حسان رضی اللہ عنہ کی بصارت آخر عمر میں چلی گئی تھی ) عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا کہ حسان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت کیا کرتے تھے ۔
نبی ﷺ کو پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئی
Sahih Bukhari Hadees # 335
حدثنا محمد بن سنان ، قال حدثنا هشيم ، ح قال وحدثني سعيد بن النضر ، قال أخبرنا هشيم ، قال أخبرنا سيار ، قال حدثنا يزيد ـ هو ابن صهيب الفقير ـ قال أخبرنا جابر بن عبد الله ، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال أعطيت خمسا لم يعطهن أحد قبلي نصرت بالرعب مسيرة شهر ، وجعلت لي الأرض مسجدا وطهورا ، فأيما رجل من أمتي أدركته الصلاة فليصل ، وأحلت لي المغانم ولم تحل لأحد قبلي ، وأعطيت الشفاعة ، وكان النبي يبعث إلى قومه خاصة ، وبعثت إلى الناس عامة .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئی تھیں۔ ایک مہینہ کی مسافت سے رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی ہے اور تمام زمین میرے لیے سجدہ گاہ اور پاکی کے لائق بنائی گئی۔ پس میری امت کا جو انسان نماز کے وقت کو (جہاں بھی) پالے اسے وہاں ہی نماز ادا کر لینی چاہیے۔ اور میرے لیے غنیمت کا مال حلال کیا گیا ہے۔ مجھ سے پہلے یہ کسی کے لیے بھی حلال نہ تھا۔ اور مجھے شفاعت عطا کی گئی۔ اور تمام انبیاء اپنی اپنی قوم کے لیے مبعوث ہوتے تھے لیکن میں تمام انسانوں کے لیے عام طور پر نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔
جوتے پہن کر نماز پڑھنا
جوتے پہن کر نماز پڑھنا
===============
اللہ عزوجل کا ارشاد ہے کہ :
{لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيراً }الأحزاب21
یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم میں عمده نمونہ (موجود) ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے
1- انس بن مالک رضی اللہ عنہ سوال کیا گیا ؟
أكان النبي ـ صلى الله عليه وسلم ـ يصلي في نعليه؟ قال: (( نعم )) [ رواه البخاري: 386 ]
’’کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جوتوں میں نماز پڑھتے تھے ، کہنے لگے ہاں۔‘‘
2- سیدنا ابوسعیدالخدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ :
بينما رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي بأصحابه إذ خلع نعليه فوضعهما عن يساره فلما رأى ذلك القوم ألقوا نعالهم فلما قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاته قال ما حملكم على إلقاء نعالكم قالوا رأيناك ألقيت نعليك فألقينا نعالنا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن جبريل صلى الله عليه وسلم أتاني فأخبرني أن فيهما قذرا أو قال أذى وقال إذا جاء أحدكم إلى المسجد فلينظر فإن رأى في نعليه قذرا أو أذى فليمسحه وليصل فيهما
ایک مرتبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ علیھم اجمعین کو نماز پڑھا رہے تھے کہ اچانک نعلین مبارک اتار کر بائیں طرف رکھ دیں ـ یہ دیکھتے ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی اپنے جوتے اتار دئیے ـنماز ختم ہونے پر رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا :''آپ کو کون سی چیز نے جوتے اتارنے پر آمادہ کیا ہے ؟'' عرض کرنے لگے ـ'' ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو دیکھا ، آپ نے اپنےجوتے مبارک اتار دیے ہیں تو ہم نے بھی اپنے جوتے اتار دیے ''تو اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے فرمایا :'' کہ مجھے جبریل نے آکر بتایا ہے کہ آپ کے جوتوں کے نیچے گندگی لگی ہے ـ''(تو میں نے جوتے اتار دیے )پھرفرمایا :'' جب بھی تم میں سے کوئی مسجد کو آئے ، تو اپنے جوتے دیکھ لے ـ اگر کوئی گندگی وغیرہ لگی ہو تو صاف کرلے! اور جوتوں کے ساتھ نماز پڑھ لے ـ ''
صحيح سنن أبي داود
اس حدیث سے معلوم ہوا ہے کہ اگر جوتے صاف ہوں تو نماز پڑھنے کی اجازت ہے ، اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم مسجد میں جوتے پہن کر جماعت کرایا کرتے تھے ـ
3-سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا :
(خَالِفُوا الْيَهُودَ فَإِنَّهُمْ لَا يُصَلُّونَ فِي نِعَالِهِمْ وَلاَخِفَافِهِم)
یہودیوں کی مخالفت کرو ! وہ جوتے اور موزے پہن کر نماز نہیں پڑھتے "
صحيح سنن أبي داود
4-عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ـ
رأيت رسول ﷲ يصلي حافيا منتعلاً
’’ میں نے اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم کو ننگے پاؤں اور جوتے سمیت نماز پڑھتے دیکھا ہے۔‘‘
صحيح سنن أبي داود
ان احادیث سے ثابت ہوا ہے کہ جوتوں میں نماز پڑھ سکتے ہیں ـ صاف جوتوں میں نماز جائز ہے تو طواف اور صفا مروہ کی سعی بھی کر سکتے ہیں۔ بعض مذاہب میں ہے کہ حالت جنگ اور ایمرجنسی میں جوتے پہن کرنمازپڑھ سکتے ہیں ورنہ نہیں ـ یہ شرط صحیح نہیں ـ احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عام حالات میں بھی جوتے پہن کر نماز پڑھتے تھے ـ
اللہ اعلم ـ
===============
اللہ عزوجل کا ارشاد ہے کہ :
{لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيراً }الأحزاب21
یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم میں عمده نمونہ (موجود) ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے
1- انس بن مالک رضی اللہ عنہ سوال کیا گیا ؟
أكان النبي ـ صلى الله عليه وسلم ـ يصلي في نعليه؟ قال: (( نعم )) [ رواه البخاري: 386 ]
’’کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جوتوں میں نماز پڑھتے تھے ، کہنے لگے ہاں۔‘‘
2- سیدنا ابوسعیدالخدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ :
بينما رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي بأصحابه إذ خلع نعليه فوضعهما عن يساره فلما رأى ذلك القوم ألقوا نعالهم فلما قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاته قال ما حملكم على إلقاء نعالكم قالوا رأيناك ألقيت نعليك فألقينا نعالنا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن جبريل صلى الله عليه وسلم أتاني فأخبرني أن فيهما قذرا أو قال أذى وقال إذا جاء أحدكم إلى المسجد فلينظر فإن رأى في نعليه قذرا أو أذى فليمسحه وليصل فيهما
ایک مرتبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ علیھم اجمعین کو نماز پڑھا رہے تھے کہ اچانک نعلین مبارک اتار کر بائیں طرف رکھ دیں ـ یہ دیکھتے ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی اپنے جوتے اتار دئیے ـنماز ختم ہونے پر رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا :''آپ کو کون سی چیز نے جوتے اتارنے پر آمادہ کیا ہے ؟'' عرض کرنے لگے ـ'' ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو دیکھا ، آپ نے اپنےجوتے مبارک اتار دیے ہیں تو ہم نے بھی اپنے جوتے اتار دیے ''تو اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے فرمایا :'' کہ مجھے جبریل نے آکر بتایا ہے کہ آپ کے جوتوں کے نیچے گندگی لگی ہے ـ''(تو میں نے جوتے اتار دیے )پھرفرمایا :'' جب بھی تم میں سے کوئی مسجد کو آئے ، تو اپنے جوتے دیکھ لے ـ اگر کوئی گندگی وغیرہ لگی ہو تو صاف کرلے! اور جوتوں کے ساتھ نماز پڑھ لے ـ ''
صحيح سنن أبي داود
اس حدیث سے معلوم ہوا ہے کہ اگر جوتے صاف ہوں تو نماز پڑھنے کی اجازت ہے ، اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم مسجد میں جوتے پہن کر جماعت کرایا کرتے تھے ـ
3-سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا :
(خَالِفُوا الْيَهُودَ فَإِنَّهُمْ لَا يُصَلُّونَ فِي نِعَالِهِمْ وَلاَخِفَافِهِم)
یہودیوں کی مخالفت کرو ! وہ جوتے اور موزے پہن کر نماز نہیں پڑھتے "
صحيح سنن أبي داود
4-عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ـ
رأيت رسول ﷲ يصلي حافيا منتعلاً
’’ میں نے اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم کو ننگے پاؤں اور جوتے سمیت نماز پڑھتے دیکھا ہے۔‘‘
صحيح سنن أبي داود
ان احادیث سے ثابت ہوا ہے کہ جوتوں میں نماز پڑھ سکتے ہیں ـ صاف جوتوں میں نماز جائز ہے تو طواف اور صفا مروہ کی سعی بھی کر سکتے ہیں۔ بعض مذاہب میں ہے کہ حالت جنگ اور ایمرجنسی میں جوتے پہن کرنمازپڑھ سکتے ہیں ورنہ نہیں ـ یہ شرط صحیح نہیں ـ احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عام حالات میں بھی جوتے پہن کر نماز پڑھتے تھے ـ
اللہ اعلم ـ
Subscribe to:
Posts (Atom)